سُن مرے اسیرا سُن
خواب ٹوٹ جانے سے
خواب مر نہیں جاتے
آگ کی محبت میں
ہاتھ جل بھی جائیں تو
درد ٹھہر سکتا ہے
پر نشاں نہیں جاتے
سُن مرے فقیرا سُن
رات کے اُجالے لوگ
چاند چہرے والے لوگ
روشنی میں کھو جائیں
پھر کبھی نہیں ملتے
درد کے امیرا سُن
ضبط کے سفیرا سُن
ہاتھ کے ملانے سے
یا گلے لگانے سے
رابطہ تو رہتا ہے
روح مل نہیں جاتی
اور پھر پرانے لوگ
شام سے سہانے لوگ
یاد نہ بھی آتے ہوں
بھول تو نہیں جاتے
اے مرے اسیرا سُن
سُن مرے فقیرا سُن