وہی شام کہر سی شام پھر
تیرے نام ہو تو غزل کہیں
وہی شام جس کی رگوں میں تھے
تری خواب آنکھوں کے رت جگے
وہی صبح، دھوپ کی لاڈلی
ترے عارضوں پر کھلے تو پھر
رگ جاں سے نظم کشید ہو
وہی ساعتوں کا جلوس ہو
وہی رنگ ہو وہی روشنی
وہی خوش بوؤں کا ہجوم ہو!
وہی ایک پل تری دید کا
جو ملے تو اشک دمک اٹھیں
جو بجھے ہیں داغ، چمک اٹھیں
جو بجھے ہیں داغ، چمک اٹھیں
وہی ایک پل تری دید کا
جو ملے تو درد کی اوٹ میں
سبھی قہقہے سے چھلک پڑیں
سر لوح شام فراق پھر
غم عشق موج نوید ہو
اے ستارہ شب زندگی
ادھر آ کہ جشن ہو معتبر
نظر آ کہ ڈھنگ سے عید ہو۔ ۔ ۔ ۔