Results 1 to 2 of 2

Thread: Mohabbat Kadah Competition December 2016

  1. #1
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    124,999
    Thanked
    589
    Mentioned
    419 Post(s)
    Tagged
    9173 Thread(s)
    Rep Power
    21474970

    candel Mohabbat Kadah Competition December 2016



    Sawal Yeh Hai.

    "Hum Mohabbat k izhar main gongey aur nafrat k izhar main mooh phat log hain?"
    kia aisa hia ?


    Rules :

    Ek member ek hi baar share karay ga
    Jawab app k apney lafzon main hona chahye
    Last date 28/12/2016 hai.
    Winner Admins decide karen gy.

  2. The Following User Says Thank You to naz For This Useful Post:


  3. #2
    Join Date
    Oct 2013
    Location
    Limits
    Posts
    4,053
    Thanked
    60
    Mentioned
    257 Post(s)
    Tagged
    5579 Thread(s)
    Rep Power
    1509697

    Default

    ہم محبت کے معاملے میں گونگے اور نفرت کے معاملے میں منہ پھٹ کیوں ہوتے ہیں؟

    اظہار دونوں کا ہوتا ہے. میرے نزدیک دونوں متضاد مگر مساوی قوت رکھتی ہیں. اب کوئی احساس سے خالی ہو یا نظرانداز کرنے یا مصلحت سے کام لینا چاہے تو الگ بات ہے. ہم محبت میں گونگے نہیں ہوتی. ایمان کا تعلق بھی دل سے اسی لیے ہے کہ عمل اتنا ہی پختہ ہوگا جتنا کہ دل ایقان کرے گا. محبت بھی خالصتا دل سے منسلک ہے لہذا اسکا اظہار عمل سے ہوجاتا ہے.البتہ اپنی حساسیت کے باعث قولی اظہار نہیں کیا جاتا اسکے پیچھے ایک خوف شامل ہوتا ہے. کہ جواب میں چپیڑ ہی نا پڑ جائی ������ #اچھا سوری... تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ جواب میں انکار یا دھتکار یا ملحوظ حیا آپکو گونگا بنا دیتا ہے. کچھ مینگو پیپل بھی ہوتے ہیں جن کو سرے سے اظہار کرنا ہی عجیب چھچھورا پن لگتا ہے.
    خیر جو بھی ہے. ہم نفرت یا ناپسندیدگی میں بدتمیزی اور بےمروتی کا مظہر بنے سمجھتے ہیں کہ ہم سٹریٹ فارورڈ ہیں مخالف کا دل ٹوٹے یا برین ہیمرج ہوجائے ہم نے دل میں کوئی بات نہیں رکھی صاف کہہ دیتے ہیں...کم عقل...دل میں رکھا تو کسی پل بھی صاف ہوسکتا ہے مگر زبان کا تو ریکارڈ ہوکر تمہیں جہنم کی پاتال میں گرا دے گا..... تو بات ہورہی تھی نفرت میں منہ پھٹ ہونے کی تو دراصل یہ ایک نفسیاتی اور اخلاقی بیماری ہے جو زیادہ تر احساس کمتری یا احساس برتری کے شکار لوگوں میں عام ہوتی ہے. شعوری یا لاشعوری طور پر ہم مخالف شخص کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ نا ہو یا اسکے چیز اس سے چھن جائے تو ہمیں سکون آجائے.
    نفرت کی ہمیشہ وجہ ہوتی ہے جب تک ہم اسے اعلی ظرفی, درگزر, ہمدردی, مروت یا فاصلے سے فکس نہیں کرتے وہ ختم نہیں ہوتی اور جب تک ہماری کم ظرفی کے باعث ختم نہیں ہوتی ہم اظہار کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ وہ چیز ہماری نظروں سے خود دور ہوجائے.
    Last edited by Arosa Hya; 16-12-2016 at 01:00 AM. Reason: font size
    ​World you see
    Looks the only
    But I tell
    There are two
    One you see
    And
    One Within you...
    Close your ears
    Listen what she says...
    I'm a Silence,
    I'm a Depth,
    I'm an Ocean
    Laden with the Wealth,
    Wealth of the Knowledge
    With waves of Altitude
    Disclosed to only seeker
    Oh yes!
    It's my attitude...

    Continued...

    Arosa Hya

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •