خاص کر تم تو نہ آنا
مرے گھر یا مرے دروازے پر
مری دہلیز پہ زنجیر نہیں ہے کوئی
اے محبت! یہ عنایت کرنا
میں بہت تنگ ہوں
تکلیف میں ہوں
اے محبت!
ترا آخر کو بگاڑا کیا ہے؟
میں نے
کیا جرم کیا ہے؟
مجھے کیوں مارتی ہو؟
جان سے مارتی ہو
پھُوٹتا سا
کوئی اِک پیڑ ہوں
جل جاؤنگا
جل کے مَر جاؤنگا
پھل دینے سے پہلے
تری ’’پَستی‘‘ میں اُترجاؤنگا
اے محبت! مرے اعصاب نہیں سہہ سکتے
مری آوارہ دماغی ہی سزا ہے میری
تُو مجھے اور نہ مار!
سُوئیاں پھر سے نکلنے لگیں
سرہانے سے
اِک سحر پھونکی ہوئی گُڑیا
اور اِک سانپ کا سَر
اور ہاں
کانچ کی گُڑیا تھی کھلونا تو نہ تھی
کانچ ہے کانچ میاں!
آنکھ میں چُبھتاہوا کانچ
وہ جگر چیرتا
وہ دل میں اترتاہوا کانچ
کالاجادُو ہے محبت
یہ محبت نہیں ہے
یا کوئی ذہن کا سرطان سا ہوجاتاہے
کتنا انسان کا نقصان سا ہوجاتاہے