Results 1 to 3 of 3

Thread: ~ Mohabbat Aik Nazam ~ 10 May 2018

  1. #1
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    126,373
    Mentioned
    887 Post(s)
    Tagged
    9274 Thread(s)
    Thanked
    1653
    Rep Power
    21474973

    candel ~ Mohabbat Aik Nazam ~ 10 May 2018

    تمہاری چشمِ حیراں میں کہیں ٹہرا ھوا آنسو



    لبوں پر ان کہی سی بات کا پھیلا ھوا جادو
    بہت بے ساختہ ھنستے ھوئے
    خاموش ھو جانے کی اک ھلکی سی بے چینی
    تمہارے دونوں ھاتھوں کی کٹوری میں
    سنہرے خواب کا جگنو
    گلابی شام کی دھلیز پہ رکھا ھوا
    اک ریشمی لمحہ
    تمہاری نرم سی خوشبو سے وہ مہکا ھوا
    اک شبنمی جھونکا
    محبت میں یہی میرے اثاثے ھیں
    نوشی گیلانی

    Main un sheesha garahon se pochta hon
    K toota dil bhi jorra hai kisi ney



  2. The Following User Says Thank You to naz For This Useful Post:


  3. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    1,056
    Mentioned
    17 Post(s)
    Tagged
    16 Thread(s)
    Thanked
    476
    Rep Power
    5

    Default

    نظم - محبت ۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال

    عروسِ شب کی زلفیں تھیں ابھی نا آشنا خم سے
    ستارے آسماںکے بے خبر تھے لذتِ رَم سے

    قمر اپنے لباسِ نو میں بیگانہ سا لگتا تھا
    نہ تھا واقف ابھی گردش کے آئینِ مسلم سے

    ابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیا
    مذاقِ زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سے

    کمالِ نظمِ ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویا
    ہویدا تھی نگینے کی تمنا چشمِ خاتم سے

    سنا ہے عالمِ بالا میں کوئی کیمیا گر تھا
    صفا تھی جس کی خاکِ پا میں بڑھ کر ساغرِ جم سے

    لکھا تھا عرش کے پائے پر اک اکسیر کا نسخہ
    چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشمِ روحِ عالم سے

    نگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیا گر کی
    وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسمِ اعظم سے

    بڑھا تسبیح خوانے کے بہانے عرش کی جانب
    تمنائے دلی آخر بر آئی سعئ پیہم سے

    پھرایا فکرِ اجزا نے اسے میدانِ امکاں میں
    چھپے گی کیا کوئی شے بارگاہِ حق کے محرم سے

    چمک تارے سے مانگی، چاند سے داغِ جگر مانگا
    اڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلفِ برہم سے

    تڑپ بجلی سے پائی، حور سے پاکیزگی پائی
    حرارت لی نفسہائے مسیحِ ابنِ مریم سے

    ذرا سی پھر ربوبیت سے شانِ بے نیازی لی
    مَلک سے عاجزئ افتادگی تقدیرِ شبنم سے

    پھر ان اجزا کو گھولا چشمہء حیواں کے پانی میں
    مرکب نے محبت نام پایا عرشِ اعظم میں

    مہوس نے یہ پانی ہستئ نو خیز پر چھڑکا
    گرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کارِ علام سے

    ہوئی جنبش عیاں ، ذروں نے لطفِ خواب کو چھوڑا
    گلے ملنے لگے اُٹھ اُٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے

    خرامِ ناز پایا آفتابوں نے ، ستاروں نے
    چٹک غنچوں نے پائی، داغ پائے لالہ زاروں نے
    2gvsho3 - ~ Mohabbat Aik Nazam ~ 10 May 2018

  4. #3
    Join Date
    Mar 2011
    Location
    UAE
    Posts
    10,413
    Mentioned
    373 Post(s)
    Tagged
    945 Thread(s)
    Thanked
    1105
    Rep Power
    429515

    Default

    h

    2145129snbixrokmb - ~ Mohabbat Aik Nazam ~ 10 May 2018giphy - ~ Mohabbat Aik Nazam ~ 10 May 2018 2145129snbixrokmb - ~ Mohabbat Aik Nazam ~ 10 May 2018
    10632528 459240774281611 909075002 n?ig cache keyMTIxMjI1NjQ2MTAwMDg3ODMzOA3D3D2 - ~ Mohabbat Aik Nazam ~ 10 May 2018



Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •