وفا کے قید خانوں میں سزائیں کب بدلتی ہیں
بدلتا دل کا موسم ہے ہوائیں کب بدلتی ہیں

لبادہ اوڑھ کے غم کا نکل جاتے ہیں صحرا کو
جواب آئے کہ نہ آئے، صدائیں کب بدلتی ہیں

میری ساری دعائیں تم سے ہی منسوب ہیں جاناں
محبت ہو اگر سچی دعائیں کب بدلتی ہیں

کوئی پا کر نبھاتا ہے، کوئی کھو کر نبھاتا ہے
نئے انداز ہوتے ہیں وفائیں کب بدلتی ہیں

گناہوں کو ہمارے ایک ہی مالک بخشتا ہے
عطا اس کی پرانی ہے خطائیں کب بدلتی ہیں