فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


داعش کی جانب سے اپنی کاروائيوں کے حوالے سے خود ساختہ "مقدس جدوجہد" اور "مذہبی فريضہ" جيسے الفاظ کا استعمال تو بہت کيا جاتا ہے مگر درحقيقت يہ تنظيم مجرموں کا ايک ايسا ٹولہ ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے ليے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

ايک حاليہ رپورٹ ميں داعش کے سرغنہ کی جانب سے تنظيم پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے ليے حاليہ فيصلے کو اجاگر کيا گيا ہے جس کے مطابق البغدادی نے اپنے ہی 300 ساتھیوں کے قتل کا حکم جاری کيا ہے۔

https://www.iraqinews.com/iraq-war/i...yalty-reports/

يہ بھی کوئ اچنبے کی بات نہيں ہے کہ دہشت گرد تنظيموں کے مختلف دھڑوں کے درميان سياسی اثر، طاقت کے حصول اور اپنی اجارہ داری کے ليے جاری مسلسل مڈبھيڑ بالآخر ايک خون آشام لڑائ کی صورت اختيار کر جاۓ اور اس کے ساتھ ہی ان مجرموں اور ان کی خود ساختہ مقدس جدوجہد کی حقيقت بھی سب پر آشکار ہو جاۓ گئ۔

داعش کی قيادت کے مابين بڑھتی ہوئ چپقلش کسی کے ليے بھی باعث حيرت نہيں ہونی چاہيے کيونکہ جس محرک اور سوچ نے انھيں اس بات پر قائل کيا تھا کہ وہ اپنے اہداف يکجا کر ليں وہی يہی تھی کہ اپنے مفادات کا تحفظ کيا جاۓ اور خوف اور دہشت کے ذريعے عوامی سطح پر اپنی سوچ مسلط کی جاۓ۔

اب يہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ان کے خود ساختہ دعوؤں کے برعکس ان کی پرتشدد مہم کے پيچھے صرف يہی سوچ کارفرما ہے کہ عوام پر خوف کے ذريعے سے اپنی مرضی چلائ جاۓ۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ