m15.jpg


محوِ کرم ہے چشمِ پیمبر، کہے بغیر
" ظاہر ہے میرا حال سب اُن پر کہے بغیر"

کہنے کے باوجود جو دنیا نہ دے سکے
ملتا ہے اُن کے در سے برابر ، کہے بغیر

مہر و مہ و نجوم ازل سے ہیں کاسہ لیس
جاری ہے اُن کے نور کا لنگر ، کہے بغیر

اللہ رے اوج ، آپ کی تعظیم کے لئے
جھکتا ہے آسمان زمیں پر، کہے بغیر

ملتی ہے بِن کہے شہِ لوح و قلم سے بھیک
کھلتا ہے اُن کے لطف کا دفتر ، کہے بغیر

سرکار کی عطا میں صدا کا گزر نہیں
کر دیتے ہیں گدا کو تونگر ، کہے بغیر

قادر ایاز صنفِ سخن پر سہی مگر
بنتی نہیں ہے نعتِ پیمبر کہے بغیر
٭٭٭