m18.jpg




آپ آئے نفرتیں سر در گریباں ہو گئیں
بزمِ جاں میں پیار کی شمعیں فروزاں ہو گئیں

آپ کی کملی سے پھوٹی ایک لاہوتی کرن
ہر طرف انوار کی پَریاں پَر افشاں ہو گئیں

اللہ اللہ آپکے نقشِ قدم کی برکتیں
سجدہ گاہِ قدسیاں طیبہ کی گلیاں ہو گئیں

جنتِ تخیل میں گویا دبستاں کھل گیا
میں ہُوا مدحت سرا ، حوریں ثنا خواں ہو گئیں

میرا کیا بگڑا، کہ ہوں آسودۂ عشقِ رسول
گردشیں مجھ سے الجھ کر خود پریشاں ہو گئیں

پھر مدینے کو گئے حُجاج میں پھر رہ گیا
حسرتیں پھر حلقہ ہائے دامِ ہجراں ہو گئیں

کیا دعا مانگیں ایاز اب جالیوں کو چوم کر
" یاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہو گئیں "
٭٭٭