وصال و ہجر کے جنجال میں پڑا ہوا ہوں
میں عرش رو کہاں پاتال میں پڑا ہوا ہوں

وہی گھٹن، وہی معمول زندگی، وہی غم
کہاں میں جشن نئے سال میں پڑا ہوا ہوں

یہاں سے نکلوں کسی اور کا شکار بنوں
اسی لئے تو ترے جال میں پڑا ہوا ہوں

گریباں چاک، دھواں، جام، ہاتھ میں سگریٹ
شب فراق، عجب حال میں پڑا ہوا ہوں

پہنچ چکا ہے زمانہ زمیں سے چاند تلک
کہاں میں زلف، نظر، گال میں پڑا ہوا ہوں