چاند کے ساتھ مری بات نہ تھی پہلی سی
رات آتی تھی مگر رات نہ تھی پہلی سی

ہم تری یاد سے کل شب بھی ملے تھے لیکن
یہ ملاقات ملاقات نہ تھی پہلی سی

آنکھ کیوں لوٹ گئی خوف سے صحراؤں کو
کیونکہ اس بار تو برسات نہ تھی پہلی سی

اب کسی اور طرح کی تھی اداسی ان میں
چاند تاروں کی یہ بارات نہ تھی پہلی سی

عشق نے پل میں بدل دی مری ساری دنیا
میں نے دیکھا کہ مری ذات نہ تھی پہلی سی
***