محبت کا سفر کیسا لگا ہے
یہ جذبوں کا بھنور کیسا لگا ہے

بسے ہو دل میں تو یہ بھی بتاؤ
یہ غیر آباد گھر کیسا لگا ہے

یہی شکوہ تھا نا تم کو کہو اب
دیوانہ چشم تر کیسا لگا ہے

گلی کی رونقوں کے درمیاں میں
میرا سنسان در کیسا لگا ہے

میری تو روح تک گھائل ہوئی ہے
تمھیں اجڑا نگر کیسا لگا ہے
***