کوئی بھٹکتا بادل


دور اک شہر سے جب کوئی بھٹکتا بادل
میری جلتی ہوئی بستی کی طرف آئے گا
کتنی حسرت سے اسے دیکھیں گی پیاسی آنکھیں
اور وہ وقت کی مانند گزر جائے گا

جانے کس سوچ میں کھو جائے گی دل کی دنیا
جانی کیا کیا مجھے بیتا ہُوا یاد آئے گا
اور اس شہر کا بے فیض بھٹکتا بادل
درد کی آگ کو پھیلا کے چلا جائے گا
٭٭٭