Results 1 to 2 of 2

Thread: غالب اور غم روزگار

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    10,782
    Mentioned
    587 Post(s)
    Tagged
    19 Thread(s)
    Thanked
    3552
    Rep Power
    15

    candel غالب اور غم روزگار

    غالب اور غم روزگار
    23201 15182998 - غالب اور غم روزگار
    حقانی القاسمی
    اردو کے عظیم شاعر اسدا للہ خاں غالب 7سال کے تھے جب والدین کا انتقال ہوگیا۔13سال کی عمر میں شادی ہوگئی ،پھر کفالت کرنے والے چچا نصراللہ بیگ کا ارتحال اور اس کے بعد ایک اور ایسا مرحلہ آیا جس نے غالب کے پورے وجود کو ہی چکنا چور کردیا۔ جس کی وجہ سے غالب اپنی شکست کی آواز بن کر رہ گئے۔غالب کی سالانہ پنشن صرف ساڑھے 700روپے تک محدود تھی۔غالب کی تمام ذہنی اور معاشی مشکلوں کی جڑ یہی پنشن تھی جس کی واگزاری کے لیے وہ کلکتہ تک گئے، مقدمے لڑے ،مگر کامیابی نہیں ملی۔معاشی پریشانی غالب کی زندگی کے لیے عذاب بن گئی ۔جنگ آزادی کے بعد کے حالات نے غالب کے ذہنی سکون کو اور بھی ختم کردیا۔انہیں احساس تھا کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے انگریز شدت پسندی کا مظاہرہ کریں گے ۔انہوں نے اس جنگِ آزادی کے رخ کو محسوس کرلیاتھا کہ یہ معاشرتی آداب واطوار اور جینے کے سلیقے کو متاثرکرے گی۔ چنانچہ وہی ہوا جو غالب نے سوچا تھا۔ انگریزوں نے پوری قوم کو معاشی تنگدستی کا شکارکر کے اغنیااور امرا کے ازواج واولاد بھیک مانگنے پر مجبورکردیا،انہوں نے پورے معاشی نظام کو جکڑ دیا ،تنگدستی اور مفلسی بڑے بڑے دروازوں پر دستک دینے لگی، حالات ایسے ہوگئے کہ روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کے لالے پڑگئے۔ غالب کی زندگی بھی متاثر ہوئی ، انہوں نے عیش ونشاط کے جو خواب دیکھے تھے وہ سب چکنا چور ہوگئے۔ان کی آرزوئیں ملیامیٹ ہو گئیں۔ غالب کے لیے سب سے بڑا مسئلہ معاش کا تھا۔ غالب غم روزگار کی حقیقت سے آشنا تھے۔اسی لیے غالب نے ایک عام آدمی کی طرح مادی اور معاشی کرب کو محسوس کیا اور اپنی شاعری میں غم روزگار کو اپنے خیال کا پیرہن عطا کیا۔ وہ ہمیشہ معاشی تنگدستی کے شکار رہے۔ ان کی پوری زندگی کرایہ کے کمرے میں گزری،انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے ’’اس ناداری کے زمانے میں جس قدر کپڑا اوڑھنا بچھونا گھر میں تھا بیچ کر کھاگیا،گویا اور لوگ روٹی کھاتے تھے اور میں کپڑا کھاتاتھا۔‘‘ بڑے فنکاروں کی زندگی میں درد کے پیوندلگتے ہی رہتے ہیں۔غالب کی زندگی بھی اسی درد سے گزر رہی تھی۔اس لیے انہوں نے اپنے خطوط میں اس درد کا بغیر کسی تکلف کے اظہار کیا۔ایک خط میں لکھتے ہیں : ایک پیسے کی آمدنہیں بیس آدمی روٹی کھانے والے موجود، مقام معلوم سے کچھ آئے جاتاہے جوبقدر سد رمق ہے۔ ایک اور خط میں اسی طرح اپنی معاشی تنگدستی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’روٹی کھانے کو نہیں ، جاڑے آتے ہیں لحاف توشک کی فکر ہے۔‘‘ان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ خواص کے شاعر تھے ،عوام سے ان کا رشتہ نہیں تھا ، مگر ایسا سوچنا غلط ہے کیونکہ غالب اپنی زندگی میں عام آدمیوں جیسے تجربوں سے گزرے تھے اور ان تجربوں کو انہوں نے اپنی شاعری اور نثر کے ذریعہ شیئر کیا۔ایک جگہ لکھاہے کہ ’’وہ عزت وربط وضبط جو ہم رئیس زادوں کا تھا اب کہاں ،روٹی کا ٹکڑا ہی مل جائے تو غنیمت ہے۔‘‘ عام آدمی کی طرح غالب کے لیے بھی معاش کا مسئلہ ا ن کی زندگی میں بڑی اہمیت کاحامل تھا۔ اسی لیے جب غالب داخل حوالات ہوئے تو ایک شعر کہا: شادم از بند کہ از بند معاش آزادم از کف شحنہ رسد جامہ ونانم دربند (ترجمہ :قید سے خوش ہوں کہ قید معاش سے بری کردیا،اب مجھے روٹی ،کپڑا دروغہ جیل پہنچاتاہے) غالب کے ساتھ معاشی دشواریاں یوں بھی لاحق تھیں کہ وہ خاصے فراخ دل تھے ، کہتے ہیں کہ کوئی فقیر مرزا کے دروازے سے خالی ہاتھ نہیں جاتاتھا، وہ اپنے عزیز واقربا کا خاص خیال رکھتے تھے۔معاشی مجبوری کے باوجود نوکروں کو ملازمت سے برخاست نہیں کیا۔ غالب کی نجی زندگی سب کے لیے سبق آموزہے۔غالب نے بڑی اچھی بات کہی تھی : غم عشق اگر نہ ہوتا،غم روزگار ہوتا اسی غم روزگار نے غالب کی شاعری کو ہمارے عہد کے احساس سے جوڑ دیاہے۔ ٭…٭…٭

    2gvsho3 - غالب اور غم روزگار

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    10,782
    Mentioned
    587 Post(s)
    Tagged
    19 Thread(s)
    Thanked
    3552
    Rep Power
    15

    Default Re: غالب اور غم روزگار

    2gvsho3 - غالب اور غم روزگار

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •