باعثِ ننگ نہیں صرفِ غمِ جاں ہونا
میری قیمت ہے ترے شہر میں ارزاں ہونا

یہ اندھیرے تو سمٹ جائیں گے اک دن اے دوست
یاد آئے گا تجھے مجھ سے گریزاں ہونا

تم مجھے دیکھ کے اس درجہ پریشاں مت ہو
میرے جی کا تو بہلنا ہے پریشاں ہونا

کیسے جیتے ہیں جنھیں طاقتِ اظہار نہیں
اپنے تو درد کا درماں ہے غزل خواں ہونا

مہرباں لوگ مرا نام جو چاہے رکھ لیں
ان کے منہ سے تو مجھے ننگ ہے انساں ہونا

نہ رہا شکوۂ بے مہریِ ایّام کہ اب
اپنی حالت پہ مجھے آ گیا حیراں ہونا

کوئی بتلائے یہ تکمیلِ وفا ہے کہ نہیں
اشک بن کر کسی مژگاں پہ نمایاں ہونا

اُس نے پوچھا ہے بڑے پیار سے کیسے ہو علیمؔ
اے غمِ عشق! ذرا اور فروزاں ہونا