ان لوگوں سے خواب میں ملنا ہی اچھا رہتا ہے


تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پر
ہاتھ میں ہاتھ دیے گھومے کہیں دور دراز کے رستے پر
بے پردہ استھانوں پر دوڑاتے ہوئے گیتوں کی طرح
غصے میں کبھی لڑتے ہوئے کبھی لپٹے ہوئے پیڑوں کی طرح
اپنی اپنی راہ چلے پھر آخر شب کے میداں میں
اپنے اپنے گھر کو جاتے ہیں دو حیراں بچوں کی طرح
٭٭٭


منیر نیازی