Results 1 to 2 of 2

Thread: ملتا جُلتا تھا حال میر کے ساتھ

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    16,820
    Mentioned
    1421 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5530
    Rep Power
    22

    New5555 ملتا جُلتا تھا حال میر کے ساتھ

    ملتا جُلتا تھا حال میر کے ساتھ
    میں بھی زندہ رہا ضمیر کے ساتھ

    ایک نمرود کی خدائی میں
    زندگی تھی عجب فقیر کے ساتھ

    آنکھ مظلوم کی خدا کی طرف
    ظلم اک ظلمتِ کثیر کے ساتھ

    جرم ہے اب مری محبت بھی
    اپنے اس قادر و قدیر کے ساتھ

    اس نے تنہا کبھی نہیں چھوڑا
    وہ بھی زنداں میں ہے اسیر کے ساتھ

    کس میں طاقت وفا کرے ایسی
    اپنے بھیجے ہوئے سفیر کے ساتھ

    سلسلہ وار ہے وہی چہرہ
    عالم اصغر و کبیر کے ساتھ

    آنے والا ہے اب حساب کا دن
    ہونے والا ہے کچھ شریر کے ساتھ

    تیرے پیچھے ہے جو قضا کی طرح
    کب تلک جنگ ایسے تیر کے ساتھ

    شب دعاؤں میں تر بتر میری
    صبح اک خوابِ دل پذیر کے ساتھ

    اہلِ دل کیوں نہ مانتے آخر
    حرف روشن تھا اس حقیر کے ساتھ



    2gvsho3 - ملتا جُلتا تھا حال میر کے ساتھ

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    16,820
    Mentioned
    1421 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5530
    Rep Power
    22

    Default Re: ملتا جُلتا تھا حال میر کے ساتھ

    2gvsho3 - ملتا جُلتا تھا حال میر کے ساتھ

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •