Results 1 to 2 of 2

Thread: حکایت سعدی عادل بادشاہ

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    9,739
    Mentioned
    556 Post(s)
    Tagged
    19 Thread(s)
    Thanked
    3472
    Rep Power
    14

    candel حکایت سعدی عادل بادشاہ

    حکایت سعدی عادل بادشاہ
    23292 23201182 - حکایت سعدی عادل بادشاہ

    بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ معمولی قبا زیب تن کرتا تھا۔ ایک دن اس کے ایک درباری نے کہا کہ حضور والا خزانوں کے مالک ہو کر ایسے معمولی کپڑے کی قبا پہنتے ہیں۔ مناسب تو یہ ہے کہ اپنے لیے بہترین چینی ریشم کی قبائیں تیار کرائیں۔ یہ بات سن کر عادل اور عاقل بادشاہ نے کہا، یقینا میرا دل اس خواہش سے خالی نہیں کہ اپنے لیے اعلیٰ درجے کے لباس تیار کراؤں لیکن کیا کروں، یہ خزانہ صرف میرا نہیں، یہ تو رعایا کا مال ہے اور اس کا سب سے بہتر مصرف یہ ہے کہ اسے مضبوط فوج تیار کرنے کے لیے خرچ کیا جائے تاکہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی جا سکے۔ بادشاہ دہقان سے اس لیے مالیہ وصول کرتا ہے کہ اسے ظالموں کے شر سے بچائے۔ اگر کوئی ظالم اس کا گدھا چھین کر لے جائے تو مالیہ وصول کرنا انصاف کے مطابق نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو بادشاہ دیبا و حریر کی قبائیں پہنتا اور عورتوں کی طرح اپنے جسم کو سجاتا ہے، وہ میدانِ جنگ میں دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ رعایا بادشاہ کے لیے پھل دار درخت کی مانند ہوتی ہے۔ اس کی پرورش اور نگہداشت بادشاہ کا فرض ہے۔ اگر وہ اس درخت کی جڑ پر کلہاڑا چلائے گا تو سائے اور پھلوں سے محروم ہو جائے گا۔ اس سے زیادہ بزدل اور کمینہ کوئی نہیں جو چیونٹی کے سامنے سے دانہ اٹھا لے۔ شجاعت کی قسم، پوری دنیا کی حکومت بھی اس قابل نہیں کہ اس کے لیے ناحق خون کا ایک قطرہ بہایا جائے۔ اگر شاہ پہنے قبائے حریر تو ہو زنگ آلود اس کا ضمیر تعیش سے ہو سرد اس کا لہو کبھی رزم گہ میں ہو سرخرو یہ دولت کا مصرف نہیں زینہار کہ دامن ہو میرا جواہر نگار خزانہ ہے مرے واسطے اک وبال حقیقت میں ہے یہ رعایا کا مال کروں گا خیانت کا گر ارتکاب تو گھیرے گا مجھ کو خدا کا عذاب حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں صاحبِ اختیار لوگوں کو ان کے ایک ایسے گناہ اور عیب سے آگاہ کیا ہے جس نے زمین میں فساد کا گھر بنا رکھا ہے۔ وہ گناہ ہے اپنی وجاہت اور آسائش کو عوام کے آرام و آسائش پر ترجیح دینا۔ صورت حال یہ ہے کہ جن لوگوں کو معمولی سا اختیار بھی حاصل ہو جاتا ہے، وہ اپنے آپ کو ان لوگوں کا آقا خیال کرنے لگتے ہیں، جن کی حفاظت اور خدمت کا حلف اٹھا کر وہ اقتدار حاصل کرتے ہیں۔ بادشاہت کا سب سے بڑا عیب یہی ہے کہ بادشاہ خزانے کو اپنی مِلک اور عوام کو اپنے غلام خیال کرتے رہے ہیں جبکہ کسی بھی حکمران کی حقیقی حیثیت رعایا کے خادم کی ہوتی ہے۔ خلافتِ راشدہ میں حکمرانوں کی یہ بے عیب تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔
    2gvsho3 - حکایت سعدی عادل بادشاہ

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    9,739
    Mentioned
    556 Post(s)
    Tagged
    19 Thread(s)
    Thanked
    3472
    Rep Power
    14

    Default Re: حکایت سعدی عادل بادشاہ

    2gvsho3 - حکایت سعدی عادل بادشاہ

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •