Results 1 to 2 of 2

Thread: حکایت سعدی اچھی زندگی

Hybrid View

Previous Post Previous Post   Next Post Next Post
  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,933
    Mentioned
    1130 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4776
    Rep Power
    20

    candel حکایت سعدی اچھی زندگی

    حکایت سعدی اچھی زندگی
    23335 24790815 - حکایت سعدی اچھی زندگی
    کہتے ہیں، ایک شہ زور پہلوان ناداری کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ وہ کُشتی کے داؤ پیچ کے سوا کوئی ہنر نہ جانتا تھا اور اس کے وطن میں اس فن کا کوئی قدر دان نہ تھا۔ بے چارہ مٹی کھود کر بڑی مشکل سے پیٹ بھرتا تھا۔ ناداری کے ساتھ اس پہلوان پر ایک بڑی افتاد یہ آن پڑی تھی کہ اس کے دل سے صبر و قرار رخصت ہو گیا تھا۔ وہ خوشحال لوگوں کو کھاتے پیتے اور عیش و آرام میں مصروف دیکھتا تو حسد اور رشک کی آگ سے اس کا سینہ جلنے لگتا۔ وہ سوچا کرتا کہ آخر ان لوگوں میں کون سا سرخاب کا پَر لگا ہے جو یہ دن رات مزے کر رہے ہیں اور مجھ میں کون سی کمی ہے جو ہر نعمت سے محروم ہوں؟ اس کے اوقات اسی سوچ اور اسی تکلیف میں گزرتے تھے۔ ایک دن کا ذکر ہے، وہ اس خیال میں ہی مٹی کھود رہا تھا کہ کیا اچھا ہو کوئی خزانہ ہاتھ آ جائے کہ اچانک اس کا پھاؤڑا کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ اس نے جلدی سے جھک کر دیکھا تو انسان کے جبڑے کی ہڈی تھی جو پھاؤڑے کی ضرب سے چُور چُور ہو گئی تھی۔ پہلوان نے جبڑے کی یہ ہڈی دیکھی تو غیر اختیاری طور پر اس کی سوچ کا رخ بدل گیا۔ اسے یوں لگا جیسے یہ ہڈی کہہ رہی ہو کہ اے شخص! دیکھ لے، مٹی میں مل کر انسان کے منہ کا یہ حال ہوتا ہے۔ اب اس منہ کو جو تیرے سامنے ہے، شکر کھانے والا قیاس کر لے یا خونِ جگر پینے والا۔ دنیا میں اگر کوئی ایسا مزدور ہے جو منوں بوجھ اپنے سر پر ڈھوتا ہے یا کوئی ایسا مالدار ہے جو نخوت کے باعث اپنے آپ کو آسمان کے برابر بلند خیال کرتا ہے تو انجام دونوں کا ایک ہی ہے، ہر قسم کی وجاہت سے محرومی اور مٹی میں مل کر مٹی بن جانا۔ اس ناپائیدار زندگی میں اگر کسی چیز کو ثبات ہے تو صرف اچھے اعمال ہیں کہ انہی کے باعث اخروی زندگی میں امن اور عافیت نصیب ہو گی۔ بقا ہے فقط نیک اعمال کو نہ کہہ معتبر ملک اور مال کو ہے دانا تو ان پر بھروسا نہ کر بہت بے حقیقت ہے یہ کرّوفر ہے محفوظ غم سے سخاوت شعار اسی کو بقا ہے اسی کو قرار اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے خوش انجام اور مطمئن زندگی گزارنے کا ایک زریں اصول بیان کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ دنیا اور اسبابِ دنیا کے انجام پر غور کرنا۔ جب انسان سنجیدگی سے اس پہلو پر غور کرتا ہے تو یہ بات اس کے لیے باعثِ تسکین بن جاتی ہے کہ زندگی خواہ کتنی بھی لمبی ہو، ختم ہونے والی ہے۔
    2gvsho3 - حکایت سعدی اچھی زندگی

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,933
    Mentioned
    1130 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4776
    Rep Power
    20

    Default Re: حکایت سعدی اچھی زندگی

    2gvsho3 - حکایت سعدی اچھی زندگی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •