Results 1 to 2 of 2

Thread: مقتول صحافی کے اہلخانہ نے مُلک کیوں چھوڑا ؟

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4548
    Rep Power
    19

    candel مقتول صحافی کے اہلخانہ نے مُلک کیوں چھوڑا ؟

    مقتول صحافی کے اہلخانہ نے مُلک کیوں چھوڑا ؟

    وارث پراچہ

    پاکستان کا شمار اگرچہ آزادی صحافت کے حوالے سے دنیا کے 10 بدترین ممالک میں نہیں ہوتا، تاہم پھر بھی پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں ضرور ہوتا ہے۔اگر پاکستان کی گزشتہ 2 دہائیوں کی صحافتی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہر سال ملک میں اوسطً ~7 صحافیوں کو خبر اور معلومات عوام تک پہنچانے کے جرم میں قتل کیا گیا۔صرف گزشتہ برس ہی پاکستان میں 8 صحافیوں کو قتل کیا گیا تھا اور رواں برس اب تک ایک صحافی کو قتل کیا جا چکا ہے۔
    پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافتی اداروں کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2002 سے 2019 تک یعنی گزشتہ 17 برسوں میں 48 صحافیوں کو ٹارگٹ کرکے جبکہ 24 کو کام کے دوران قتل کیا گیا، اسی عرصے کےدوران 171 کو شدید جبکہ 77 کو معمولی زخمی کیا گیا، علاوہ ازیں 26 صحافیوں کو اغوا جبکہ 26 کو حراست میں بھی لیا گیا۔
    گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی اعجاز الحق بھی شامل ہیں، جو مقامی ٹی وی چینل سے وابستہ تھے۔اعجاز الحق کو اپنے ٖفرائض کی انجام دہی کےدوران قتل کیا گیا۔اعجاز الحق کو 2010 میں لاہور کے علاقے مغل پورہ کی ایک مسجد پر ہونے والے حملے کے دوران نشانہ بنایا گیاتھا۔جس وقت مسجد پر حملہ کیا گیا اس وقت اعجاز الحق وضو خانے میں موجود تھے اور انہوں نے اپنے اہل خانہ کو فون پر حملے کی اطلاع دی، ساتھ ہی انہوں نے اپنی خیریت سے بھی خاندان کو آگاہ کیا۔
    اہل خانہ کو خیریت سے آگاہ کرنے کے چند منٹ بعد ہی انہوں نے اپنے ادارے کو بھی حملے سے آگاہ کیا اور اسی دوران ہی مسجد پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی نظر ان پر پڑی اور انہوں نے اعجاز الحق کو گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔اعجاز الحق کے قتل کو یاد کرتے ہوئے ان کے بیٹے امتیاز الحق نے دنیا نیوز کو بتایا کہ ان کے والد خالصتا ًصحافتی +ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔انہوں نے دلیل دی کہ اگر ان کے والد چاہتے تو اہل خانہ کو خیریت سے متعلق آگاہ کرنے کے بعد وہاں سے چھپ کر فرار ہوسکتے تھے، لیکن انہوں نے مسجد پر حملے کی خبر عوام تک بر وقت پہنچانے کو ترجیح دی اور اسی دوران وہ اپنی زندگی ہار گئے۔ان کا کہنا تھا کہ مسجد پر حملے کے بعد وہاں بھگ دڑ مچ گئی اور ان کے والد اس دوران اپنے ادارے کو حملے سے متعلق فون پر معلومات دینے میں مصروف تھے کہ دہشت گردوں نے ان پر براہ راست فائرنگ کردی اور وہ جائے وقوع پر ہی چل بسے۔
    امتیاز الحق نے بتایا کہ ان کے والد کے قتل میں ملوث دہشت گردوں میں سے ایک کو پولیس نے زندہ حراست میں لیا تھا، جسے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا گیا تھا۔ان کے مطابق گرفتار دہشت گرد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی خبریں سننے کے بعد آج تک انہیں یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان کے والد کے قتل کیس کا کیا بنا؟۔
    انہوں نے اپنے معاشی حالات کے متعلق بتایا کہ والد کی وفات کے بعد گھر کے حالات دن بدن بگڑ رہے تھے اور انہیں عدم تحفظ کا بھی احساس ہوا کیونکہ انہیں انصاف ملتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجبورا ًملک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور 2014 سے وہ خاندان سمیت کینڈا میں مقیم ہیں۔
    انہوں نے بتایا کے اُنکے والد کے قتل کا کیس چند دن چلا ،علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے متوفی کے لواحقین کو مالی امداد دینے کے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے نہ ہو سکے۔ان کے والد گھر کے واحد کفیل تھے، جن کی موت کے بعد گھر کے حالات بگڑنے لگےتھے۔
    امتیاز الحق نے تسلیم کیا کہ دل خراش واقعے کے بعد ان کے والد کے ادارے کی جانب سے انہیں ایک سال تک تنخواہ دی جاتی رہی، لیکن اس کے بعد انہوں نے تنخواہ دینا بند کردی جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہونا پڑا۔
    حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے انہوں بتایا کہ اس وقت پیپلز پارٹی برسر اقتدار تھی، رحمان ملک جو اس وقت وزیر داخلہ تھے انہوں نے انہیں اسلام آباد میں پلاٹ دینے، ان کے اور ان کے بہن بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے اور 5 لاکھ روپے نقد دینے کا اعلان بھی کیا تھا جو صرف اعلان ہی تھا جس پر آج تک عمل نہیں کیا گیا۔
    امتیاز کا مزید بتانا ہے کہ ان کے والد کا مقدمہ انفرادی طور پر درج نہیں کیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں قتل ہونے والے تمام افراد کا مشترکہ طور پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے کیس کمزور تھا۔ ان کا کہنا ہے کیس پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی نا ہی حکومت کی جانب سے کوئی دلچسپی ظاہر کی گئی۔
    پی ایف یو جے کے صدر رانا عظیم کا بتانا ہے کہ مشرف کے دور سے لیکر اب تک 172 صحافیوں کا قتل ہوا ہے۔ ان کی معلومات کے مطابق اب تک صرف ایک ایسے صحافی ہیں جن کو مالی امداد کی مد میں 50 لاکھ روپے حکومت پاکستان کی جانب سے دئیے گئے جبکہ 25 لاکھ روپے پی ایف یو جے نے دئیے۔
    دریں اثنا لاہور پریس کلب کے عہد دار ذوالفقار مہتو کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
    2gvsho3 - مقتول صحافی کے اہلخانہ نے مُلک کیوں چھوڑا ؟

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4548
    Rep Power
    19

    Default Re: مقتول صحافی کے اہلخانہ نے مُلک کیوں چھوڑا ؟

    2gvsho3 - مقتول صحافی کے اہلخانہ نے مُلک کیوں چھوڑا ؟

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •