Results 1 to 2 of 2

Thread: سلطان عبدالحمید اور یورپ

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    13,223
    Mentioned
    967 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4291
    Rep Power
    18

    candel سلطان عبدالحمید اور یورپ

    سلطان عبدالحمید اور یورپ
    23461 27808039 - سلطان عبدالحمید اور یورپ
    ڈاکٹر علی محمد
    سلطان عبدالحمید (ثانی) دولت عثمانیہ کے سلاطین میں چونتیسویں سلطان تھے۔ چونتیس سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے۔ دس سال کی عمر تھی کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی سوتیلی ماں نے ان کی دیکھ بھال کی۔ ان کی سوتیلی ماں کی اولاد نہیں تھی۔ سو انہوں نے بہترین اور سگی ماں کی طرح ان کی پرورش کرنے کی کوشش کی۔ سلطان عبدالحمید ان کی تربیت سے بہت متاثر تھے۔ سلطان عبدالحمید نے قصر سلطان میں اپنے دور کے اخلاق اور علم میں مایہ ناز اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے عربی اور فارسی زبانوں کی تحصیل کی۔ تاریخ کا مطالعہ کیا۔ علم و ادب میں دسترس حاصل کی۔ تصوف کے رموز و معارف سے آگاہی حاصل کی اور ترکی عثمانی زبان میں اشعار بھی کہے اور ان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسلحہ کے استعمال کا تجربہ حاصل کیا۔ وہ تلوار زنی اور تیر اندازی میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ بدنی مشق ہمیشہ کرتے تھے۔ عالمی سیاست پر گہری نظر تھی اور اپنے ملک کے طول و عرض کے حالات و واقعات سے پوری طرح باخبر رہتے تھے۔ عثمانی سلطان عبدالعزیز نے یورپ کا دورہ کیا۔ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہم راہ تھا۔ اس عثمانی وفد میں ایک شخص امیر عبدالحمید بھی تھا جو یورپیوں کے سامنے اپنے سادہ لباس اور قابل تعریف سیرت کے ساتھ ظاہر ہوا۔ امیر عبدالحمید نے اس دورے میں خصوصی تیاری کی اور اس کے لیے خصوصی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مغرب میں جو کچھ دیکھا اس کے بارے میں گہرے مشاہدات اور صحیح مؤقف کا اظہار کیا۔ اس عثمانی وفد نے اس دور کی اہم یورپی سیاسی شخصیات سے ملاقات کی۔ جیسے فرانس کے نپولین ثالث، انگلینڈ کی ملکہ وکٹوریا، بلجیئم کے لیو بلٹ ثانی، جرمنی کے گلیوم اول اور آسٹریا کے فرانسوا جوزف وغیرہ۔ اس سے پہلے یہ وفد سلطان عبدالعزیز کی معیت میں مصر کا دورہ بھی کر چکا تھا۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ کس طرح مصریوں نے یورپی تعلقات کو اپنایا ہے جس کی بدولت ان کو بیرونی قرضوں کی ضرورت پیش آئی ہے اور وہ قرضوں میں بری طرح جکڑ دیے گئے ہیں۔ اس یورپی سیاحت کے دوران عبدالحمید نے کئی تجربات حاصل کیے اور بعد میں اپنے دور حکومت میں ان سے پوری طرح استفادہ کرنے کی کوشش کی۔ امیر عبدالحمید کو اپنے اس دورہ کے دوران اس بات کا یقین ہو گیا کہ فرانس لہو و لعب کا ملک ہے۔ انگلستان ثروت، زراعت اور صنعت و حرفت کا جبکہ جرمنی تنظیم، عسکریت اور نظم و ضبط کا ملک ہے۔ امیر عبدالحمید سب سے زیادہ جرمنی سے متاثر ہوئے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے دل میں اس بات کا پختہ ارادہ کر لیا کہ جب وہ زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لیں گے تو عثمانی لشکر کی تربیت کے لیے جرمنی روانہ کریں گے۔ امیر عبدالحمید اس دور کے دوران مغرب سے بہت متاثر ہوئے اور اسی چیز نے انہیں اس بات پر ابھارا کہ وہ ملک کے اندر مختلف شعبوں مثلاً تعلیم، صنعت، نقل و حمل اور فوج میں نئی اصلاحات کو متعارف کرائیں۔ انہوں نے بحریہ کے لیے خریداری کی۔ اپنے ذاتی خرچ پر ملک کے طول و عرض میں ٹیلی گراف کا اہتمام کیا۔ جدید سکولوں کی بنیاد رکھی۔ ان میں عصری علوم کی تدریس کو لازم کیا۔ انہی کی کوششوں سے پہلی بار دولت عثمانیہ میں بس سروس شروع ہوئی اور سائیکل متعارف ہوا۔ انہوں نے ناپ تول کے لیے نئے پیمانے میٹر کا اجرا کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ کوشش کی کہ کسی طرح مغربی فکر ملک میں رائج نہ ہونے پائے۔ یورپ کے اس دورے سے متاثر ہو کر انہوں نے یورپ کے بارے میں آزادانہ اور خودمختارانہ پالیسی اختیار کی۔ لیکن وہ کسی یورپی شخصیت سے قطعاً متاثر نہ ہوئے، خواہ اس کی صداقت جس درجہ کی تھی اور دولت عثمانیہ سے کتنا ہی قریب کیوں نہ تھا۔

    2gvsho3 - سلطان عبدالحمید اور یورپ

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    13,223
    Mentioned
    967 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4291
    Rep Power
    18

    Default Re: سلطان عبدالحمید اور یورپ

    2gvsho3 - سلطان عبدالحمید اور یورپ

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •