Results 1 to 2 of 2

Thread: ایڈزکے مریضوں کیلئے امید کی کرن

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    12,067
    Mentioned
    833 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4068
    Rep Power
    17

    candel ایڈزکے مریضوں کیلئے امید کی کرن

    ایڈزکے مریضوں کیلئے امید کی کرن
    23469 15169546 - ایڈزکے مریضوں کیلئے امید کی کرن

    ڈاکٹر کیتھرین

    کیا ایچ آئی وی/ ایڈز کا علاج دریافت ہونے والا ہے؟ کم از کم نئی تحقیق سے اتنا تو معلوم ہو گیا ہے کہ یکے بعد دیگرے دوعلاج کرنے سے اس وائرس کا چوہوں سے اخراج ممکن ہے۔ پہلا علاج ’’لانگ ایکٹنگ سلو ایفکٹو ریلیز‘‘ یا مختصراً ’’لازر‘‘ کہلاتا ہے۔ دوسرے میں متاثرہ خلیے کے جین میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ یہ طریقۂ علاج CRISPR-Cas9 کہلاتا ہے۔ مذکورہ تحقیق جریدہ ’’نیچر کمیونیکیشن‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں شریک ڈاکٹر کامل خلیلی کے مطابق دونوں طریقہ ہائے علاج کے استعمال سے ایچ آئی وی انفیکشن کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تین کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد کے جسموں میں یہ وائرس داخل ہو چکا ہے۔ یہ وائرس دھیرے دھیرے جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے اور ان خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے جو انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں۔ یہ جسم میں اپنی نقول بنا کر بڑھتا رہتا ہے۔ ایچ آئی وی کا شکار بننے والے جن افراد کا علاج نہیں کیا جاتا ان کے ایڈز میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایڈز مدافعتی نظام کی تباہی کے آخری مرحلے میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایڈز کا علاج نہ کیا جائے تو مریض عموماً تین سال سے زیادہ زندہ نہیں رہتا۔ ایچ آئی وی کا حملہ سی ڈی4 یا ٹی ہیلپر خلیوں پر ہوتا ہے۔ یہ خون کے سفید خلیوں کی ایک قسم ہے جو انفیکشن کے خلاف مدافعتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وائرس ٹی ہیلپر خلیوں میں گھل مل جاتا ہے اور ان کے ڈی این اے پر غالب آ جاتا ہے۔ پھر یہ خلیے کو ایچ آئی وی کی نقول بنانے پر مجبور کرتا ہے۔ جب یہ نقول تیار ہو جاتی ہیں تو خلیہ انہیں رواں دواں خون میں بھیج دیتا ہے۔ اس کے بعد یہ دوسرے خلیوں کو متاثر کرتی ہیں اور یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہتا ہے۔ اس سے نپٹنے کے لیے جو ’’علاج‘‘ کیا جاتا ہے اسے اینٹی ریٹرووائرل تھراپی کہتے ہیں۔ اس میں ایچ آئی وی کی بڑھوتری کو روکا جاتا ہے اور وائرس کی نمو کے مختلف مراحل کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ جو لوگ اینٹی ریٹرووائرل تھراپی کو اپناتے ہیں اور ہدایات پر عمل کرتے ہیں وہ طویل اور اچھی صحت کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ البتہ تھراپی جسم سے وائرس کا خاتمہ نہیں کرتی۔ اس لیے مبتلا افراد کو مسلسل ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں تاکہ ایڈز کا مرحلہ نہ آ جائے۔ اس سلسلے میں پروفیسر خلیلی اور ان کی ٹیم نے 2017ء کی ایک تحقیق میں ثابت کیا تھا کہ CRISPR-Cas9 نامی علاج، جس میں جینیاتی ردوبدل کیا جاتا ہے، کی مدد سے متاثرہ خلیے میں سے ایچ آئی وی کے جینیاتی مواد کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود صرف اس طریقے کو اپنانے سے ایچ آئی وی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا۔ ’’لازر‘‘ تھراپی عام ریٹرووائرل تھراپی سے مختلف ہے اور اس میں استعمال ہونے والی ادویات کی کیمسٹری مختلف ہوتی ہے۔ ’’لازر‘‘ تھراپی میں ادویات ان بافتوں میں داخل ہو جاتی ہیں جن میں وائرس چھپا بیٹھا ہوتا ہے۔ ادویات خلیوں کے اندر کئی ہفتوں تک آہستہ آہستہ اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے ’’لازر‘‘ تھراپی کے بعد CRISPR-Cas9کو آزمایا اور پھر ایچ آئی وی کا جائزہ لیا۔ مختلف ٹیسٹوں کے بعد واضح ہوا کہ چوہے کے ایک تہائی جسم میں ایچ آئی وی ڈی این اے کا نام و نشان نہیں رہا۔ پروفیسر خلیلی کے مطابق اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طریقے سے ایچ آئی وی کو خلیوں اور اعضا سے نکال باہر کرنا ممکن ہے۔
    2gvsho3 - ایڈزکے مریضوں کیلئے امید کی کرن

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    12,067
    Mentioned
    833 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4068
    Rep Power
    17

    Default Re: ایڈزکے مریضوں کیلئے امید کی کرن

    2gvsho3 - ایڈزکے مریضوں کیلئے امید کی کرن

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •