Results 1 to 5 of 5

Thread: سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ ،تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4546
    Rep Power
    19

    Islam سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ ،تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع

    سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ ،تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع
    1008 20801738 - سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ ،تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع
    یزیدنے جب فوراً اپنی خلافت کا اعلان کردیاتو اس نے امام حسین ؓ سے بھی اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کا مطالبہ کردیا ،لیکن امام حسینؓ نے کسی کی پرواہ کیے بغیر اس بات کا سرعام اعلان کردیا کہ یزید خلافت کا اہل نہیں ہے ، اس لئے اسے خلیفۃ المسلمین نہیںبنایا جاسکتا ۔ یزید کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے والیٔ مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ وہ امام حسین ؓ کو میری بیعت پر مجبور کرے اور ان کو اس معاملہ میں مزید کسی قسم کی مہلت نہ دے ۔ولید کے پاس جب یہ خط پہنچا تو وہ فکر میں پڑگیا کہ اس حکم کی تعمیل وہ کس طرح کرے ؟ چناں چہ اس نے سابق والیٔ مدینہ مروان بن حکم کو مشورہ کے لئے بلایا ، اس نے کہا کہ اگر امام حسین ؓ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں تو ٹھیک، ورنہ ان کو یہیں پرشہید کردیا جائے ۔لیکن ولید ایک عافیت پسند شخص تھا، اُس نے مروان کی بات کی پرواہ کیے بغیر امام حسین ؓکے لئے راستہ کھول دیا اور وہ واپس چل پڑے۔ مروان نے ولید کو ملامت کی کہ تو نے موقع ضائع کردیا ، مگر ولید نے کہا کہ: ’’ اللہ کی قسم ! میں امام حسین ؓکوشہید کرنے سے ڈرتا ہوں ، امام حسین ؓکے خون کا مطالبہ جس کی گردن پر ہوگا وہ قیامت کے دن نجات نہیں پاسکے گا۔‘‘چنانچہ امام حسین ؓاپنے اہل و عیال کو لے کر مکہ مکرمہ آگئے ۔

    اہل کوفہ کو جب اس بات کا علم ہوا کہ امام حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا ہے تو کچھ حضرات سلیمان بن صرد خزاعی کے مکان پر جمع ہوئے اور آپ ؓ کو خط لکھا کہ ہم بھی یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں،آپ ؓفوراً کوفہ تشریف لے آئیں ، ہم سب آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلیںگے ۔اِس کے دو دن بعد ان لوگوں نے اسی مضمون کا ایک خط امام حسینؓ کی طرف لکھا اور چند دوسرے خطوط بھی آپؓ کے پاس بھیجے ،جن میں یزید کی شکایات اور اس کے خلاف اپنی نصرت و تعاون اور آپ ؓکے ہاتھ پر بیعت کرنے کا یقین دلایا گیا تھا ۔چندوفود بھی آپؓ کی خدمت میں بھیجے ۔ امام حسین ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ روانہ کیا اور ان کے ہاتھ یہ خط لکھ کر اہل کوفہ کی طرف بھیجاکہ :’’میں اپنی جگہ اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل ؓ کو بھیج رہا ہوں تاکہ یہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر مجھے ان کی اطلاع دیں۔ اگر حالات درست ہوئے تو میں فوراً کوفہ پہنچ جاؤںگا۔‘‘

    مسلم بن عقیل ؓنے جب چند دن کوفہ میں گزارے تو انہیں اندازہ ہواکہ یہ لوگ واقعتایزید کی بیعت سے متنفر اور امام حسینؓ کی بیعت کے لئے بے چین ہیں ، چناں چہ انہوں نے چندہی دنوں میں اہل کوفہ سے اٹھارہ ہزار مسلمانوں کی امام حسینؓ کے لئے بیعت کرلی اور حسب ہدایت امام حسینؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دے دی۔جب لوگوں میں یہ خبر مشہور ہوئی امام حسینؓنے کوفہ جانے کا عزم کرلیا ہے تو بجز عبد اللہ بن زبیرؓ کے اور کسی نے آپ کو کوفہ جانے کا مشورہ نہیں دیا ، بلکہ بہت سے حضرات آپ ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے اوریہ مشورہ دیا کہ آپؓ کوفہ ہرگز نہ جائیں۔لیکن امام حسین ؓکو کوفہ کی طرف روانہ ہونے کامکمل شرح صدر ہوچکا تھا اِس لئے آپؓ اپنی خداداد بصیرت اور دُور اندیشی کے سبب مؤرخہ۸ یا ۹ذی الحجہ ۶۰ھ؁کو مکہ مکرمہ سے کوفہ کے لئے روانہ ہوگئے ۔ کوفہ میں جب ابن زیاد کو آپ ؓکی آمد کی اطلاع ملی تو اُس نے مقابلے کے لئے پیشگی ہی اپنا ایک سپاہی ’’قادسیہ‘‘ کی طرف روانہ کردیا ۔ امام حسین ؓجب مقام’’ زیالہ‘‘ پر پہنچے تو آپؓ کو یہ الم ناک خبر پہنچی کہ آپؓکے رضاعی اور چچا زاد دونوں بھائیوں کو اہل کوفہ نے قتل کردیا ہے ۔ اب آپ ؓنے اپنے تمام ساتھیوں کو ایک جگہ جمع کرکے ان سے فرمایا کہ اہل کوفہ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور ہمارے متبعین ہم سے پھر گئے ہیں ۔ امام حسینؓ اور ان کے ساتھی ابھی راستہ میں چل ہی رہے تھے کہ دوپہر کے وقت دُور سے کچھ چیزیں حرکت کرتی نظر آئیں ، غور کرنے پر معلوم ہوا کہ گھڑ سوار ہیں ، اس لئے امام حسین ؓ اور آپ ؓ کے ساتھیوں نے ایک پہاڑی کے قریب پہنچ کر محاذ ِ جنگ بنالیا ۔

    حر بن یزید کا ایک ہزار کا لشکر



    ابھی یہ حضرات محاذ کی تیاری میں مصروف ہی تھے کہ ایک ہزار گھڑ سوار وں کی فوج حر بن یزید کی قیادت میں مقابلہ پر آگئی اور اِن سے مقابلہ کے لئے آکر پڑاؤ ڈال دیا ۔ حر بن یزید کو حصین بن نمیر نے ایک ہزار گھڑ سواروں کی فوج دے کر ’’قادسیہ‘‘ بھیجا تھا ، اس لئے یہ اور اِس کا لشکر آکر امام حسینؓ کے مقابل ٹھہر گئے ۔ امام حسینؓ نے حر بن یزید سے فرمایا:’’تمہارا کیا ارادہ ہے؟۔‘‘ حر نے کہا: ’’ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم آپؓ کو ابن زیاد کے پاس پہنچادیں ۔‘‘ امام حسین ؓنے فرمایا : ’’میں تمہارے ساتھ ہر گز نہیں جاسکتا ۔‘‘ حر نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! پھر ہم بھی آپؓ کو یہاں تنہا نہ چھوڑیں گے۔‘‘

    حر بن یزید کا اعترافِ حق



    اس کے بعد حر نے کہاکہ: ’’مجھے آپؓ سے قتال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ، بلکہ حکم یہ ہے کہ میں آپ ؓسے اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک کہ آپؓ کو ابن زیاد کے پاس کوفہ نہ پہنچاآؤں ، اس لئے آپ ؓ کوئی ایسا راستہ اختیار کریں جو نہ کوفہ کو جاتا ہو اور نہ مدینہ کو ، یہاں تک کہ میں ابن زیاد کو خط لکھوں اور آپ ؓ بھی یزید یا ابن زیاد کو خط لکھیں شاید اللہ تعالیٰ میرے لئے کوئی مخلص پیدا فرمادے اور میں آپ ؓکے ساتھ مقابلہ کرنے سے کسی طرح بچ جاؤں!۔‘‘ امام حسینؓ نے ’’عذیب‘‘ اور ’’قادسیہ‘‘ کے راستہ سے بائیں جانب چلنا شروع کردیا اور حر بن یزید بھی اپنے لشکر سمیت ان کے ساتھ چلتا رہا ۔

    حر بن یزید پر جاسوسوں کا تسلط



    جب آپ ؓمقام’’ نینویٰ ‘‘پر پہنچے تو ایک گھڑ سوار کوفہ سے آتا ہوا نظرآیا ، یہ سب اس کی آمد میں اپنی اپنی سواریوں سے نیچے اتر گئے ۔ اس نے آکر امام حسینؓ کو تو نہیں البتہ حر بن یزید کو سلام کیا اور ابن زیاد کا خط اس کو دیا ،حر نے ابن زیاد کا خط پڑھ کر اس کا مضمون امام حسینؓ کو سنا یا اور ساتھ ہی اپنی مجبوری بھی ظاہر کی کہ: ’’اِس وقت میرے سر پر جاسوس مسلط ہیں ، اس لئے فی الحال میں آپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مصالحت نہیں کرسکتا۔‘‘

    عمرو بن سعد کا چار ہزار کا لشکر



    اِس کے بعد ابن زیاد نے کوفہ سے عمرو بن سعد کو مجبور کرکے چار ہزار کا لشکر دے کر امام حسین ؓ کے مقابلے کے لئے بھیج دیا۔ عمرو بن سعد نے یہاں پہنچ کر امام حسینؓ سے کوفہ آنے کی وجہ پوچھی تو آپؓ ؓنے پورا واقعہ سنایا اور فرمایا کہ:’’ اہل کوفہ نے خود مجھے یہاں آنے کی دعوت دی ہے ۔ اگر اب بھی ان کی رائے بدل گئی ہو تو میں واپس مدینہ جانے کے لئے تیار ہوں ۔‘‘ عمرو بن سعد نے اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر ابن زیاد کی طرف لکھاکہ امام حسینؓ واپس جانے کے لئے تیار ہیں ۔

    پانی کی بندش



    ابن زیاد نے جواب میں لکھا کہ: ’’ امام حسین ؓکے سامنے صرف یہ ایک شرط رکھوکہ وہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں! جب وہ ایسا کرلیں گے تو پھر ہم غور کریں گے کہ اُن کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ اور ساتھ ہی عمر وبن سعد کو یہ حکم دیا کہ وہ امام حسینؓ کا پانی بند کردیں ۔‘‘ یہ واقعہ امام حسینؓ کی شہادت سے تین دن پہلے کا ہے ۔یہاں تک کہ جب یہ سب حضرات پیاس کی شدت سے نڈھال ہوئے تو امام حسینؓ نے اپنے بھائی عباس بن علیؓ کو تیس گھڑ سواروں اور تیس پیادوں کے ساتھ پانی لانے کے لئے بھیجا ، جب یہ لوگ پانی لینے کے لئے جارہے تھے تو راستہ میں عمرو بن سعد کی فوج سے ان کی مڈبھیڑ ہوگئی، لیکن اس کے باوجود پانی کی تقریباً بیس مشکیں یہ حضرات اپنے ساتھ بھر کر لے آئے ۔ امام حسین ؓنے عمرو بن سعد کے پاس پیغام بھیجا کہ: ’’ آج رات ایک دوسرے کے لشکروں کے ساتھ ہماری ملاقات ہونی چاہیے تاکہ ہم سب بالمشافہ ایک دوسرے کے سامنے گفتگو کرسکیں۔‘‘ عمرو بن سعد نے آپؓ کا یہ پیغام قبول کیا اور رات کو دونوں لشکروں نے باہم ایک دوسرے سے ملاقات کی۔

    تین شرطیں



    ملاقات میں امام حسین ؓنے اپنے متعلق عمرو بن سعد کے سامنے مندرجہ ذیل تین شرطیں رکھیں :

    ۔۱- ’’میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں۔

    ۔۲- میں یزید کے پاس چلا جاؤں اور خود اس سے اپنا معاملہ طے کرلوں ۔

    ۔۳-مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر پہنچادو ، وہ لوگ جس حال میں ہوں گے میں بھی اسی حال میں رہ لوں گا۔‘‘

    عمرو بن سعد نے امام حسین ؓکی یہ تینوں باتیں سن کر ابن زیاد کی طرف دوبارہ ایک خط روانہ کیا، جس میں لکھاتھا کہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی آگ بجھادی اور مسلمانوں کا کلمہ متفق کردیا ۔ مجھ سے امام حسین ؓنے ان (مذکورہ) تین باتوںکا اختیار مانگا ہے جن سے آپ کا مقصد پورا ہوجاتا ہے اور امت کی اسی میں صلاح و فلاح ہے۔‘‘ ابن زیاد نے جب یہ خط پڑھا تو وہ کافی متاثر ہوا ۔لیکن شمر بن ذی الجوشن جو ابن زیاد کے پاس ہی ایک طرف بیٹھا ہوا تھا ،کہنے لگا کہ: ’’ کیا آپ امام حسین ؓکو مہلت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ قوت حاصل کرکے دوبارہ تمہارے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہو ں؟ ‘‘

    ابن زیاد نے شمر کی رائے کو قبول کرتے ہوئے عمر وبن سعد کی طرف اسی مضمون کا ایک خط لکھا اور اسے شمر کے ہاتھ روانہ کیا اوراسے ہدایت کی کہ اگر عمرو بن سعد میرے اس حکم کی فوراً تعمیل نہ کرے تو تو اسے قتل کردینا اور اس کی جگہ لشکر کا امیر تو خود بن جانا!۔شمر جب ابن زیاد کا خط لے عمرو بن سعد کے پاس پہنچا تو وہ سمجھ گیاکہ شمر کے مشورہ سے یہ صورت عمل وجود میں آئی ہے اور میرا مشورہ ردّ کردیا گیا ہے ، اس لئے عمرو نے شمر سے کہا کہ: ’’تونے بڑا ظلم کیا ہے کہ مسلمانوں کا کلمہ متفق ہورہا تھا اور تونے اس کو ختم کرکے قتل و قتال کا بازار گرم کردیا ہے ۔‘‘ بالآخر امام حسینؓ کو یہ پیام پہنچایا گیا ، توآپؓ نے اس کے قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔اتنے میں شمر کا لشکر سامنے آگیا ، آپ ؓکے بھائی حضرت عباس ؓ آگے کی جانب بڑھے اور اپنے مدمقابل حریف سے گفتگو شروع کی ، لیکن اس نے بلا مہلت قتال کا اعلان کردیا ۔ حضرت عباسؓ نے جب جنگ کا اعلان سنا تو انہوں نے جاکر امام حسینؓ کو اس کی اطلاع دے دی۔ امام حسین ؓ نے فرمایا : ’’ ان سے کہوکہ آج کی رات قتال ملتوی کردو،تاکہ آج کی رات میں وصیت ، نماز ، دعاء اور استغفار میں گزار لوں ۔‘‘ حضرت عباسؓ نے امام حسین ؓ کا پیغام جاکر شمر تک پہنچادیا۔ شمر ذی الجوشن اور عمر وبن سعد نے لوگوں سے مشورہ کیا اور آپؓ کو اس رات عبادت کرنے کی مہلت دے دی اور واپس چل دیئے۔

    عاشوراء کی رات اہل بیتؓ کے سامنے تقریر



    امام حسینؓ نے رات کو اپنے اہل بیتؓ اور اصحاب کو جمع کرکے ایک خطبہ دیا جس کا لب لباب یہ تھا: ’’میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں، راحت میں بھی اور مصیبت میں بھی ۔ اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تونے ہمیں شرافت نبوت ﷺسے نوازا ، ہمیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے ، جن سے ہم آیات سمجھیں اور ہمیں تونے قرآن پاک سکھلایا اور دین کی سمجھ عطا فرمائی ، ہمیں تو اپنے شکر گزار بندوں میں داخل فرما۔‘‘

    اس کے بعد امام حسین ؓنے بنو عقیل کو مخاطب کرکے فرمایا : ’’تمہارے ایک بزرگ مسلم بن عقیل ؓشہید ہوچکے ہیںتمہاری طرف سے وہی ایک کافی ہیں ، تم سب واپس چلے جاؤ ، میں تمہیں خوشی سے اجازت دیتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ : ’’ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے کہ اپنے بزرگوں اور بڑوں کو موت کے سامنے چھوڑ کر اپنی جان بچا لائے ، بلکہ اللہ کی قسم! ہم تو آپ ؓپر اپنی جانیں اور اولاد و اموال سب کچھ نچھاور کردیں گے۔‘‘آپؓ کی ہمشیرہ حضرت زینب ؓبے قرار ہوکر رُونے لگیں تو آپ ؓنے انہیں تسلی دی۔ ہمشیرہ کو یہ وصیت فرماکر امام حسینؓ باہر آگئے اور اپنے اصحاب کو جمع کرکے تمام شب تہجد اور دعاء و استغفار میں مشغول رہے ۔ یہ عاشورہ کی رات تھی اور صبح عاشوراء (۱۰ محرم) کا دن تھا ۔

    یوم عاشوراء کی صبح



    دسویں محرم جمعہ یا ہفتہ کے دن فجر کی نماز سے فارغ ہوتے ہی عمرو بن سعد لشکر لے کر امام حسین ؓ کے سامنے آگیا ۔ اس وقت امام حسینؓ کے ساتھ کل بہتر (۷۲) اصحاب تھے ، جن میں سے بتیس (۳۲) گھڑ سوار اور چالیس (۴۰) پیادہ پا تھے ۔چنانچہ آپؓ نے بھی اس کے مقابلہ کے لئے اپنے اصحاب کی صف بندی فرمالی۔عمرو بن سعد نے اپنے لشکر کو چارحصوں میں تقسیم کرکے ہر حصہ کا ایک امیر بنالیا تھا ۔ ان میں سے ایک حصہ کا امیر حر بن یزید تھا ، جو سب سے پہلے ایک ہزار کا لشکر لے کر امام حسین ؓکے مقابلہ کے لئے بھیجا گیا تھا اور امام حسین ؓکے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ، اس کے دل میں اہل بیت ؓاطہار کی محبت کا جذبہ بیدار ہوچکا تھا ، وہ اس وقت اپنی سابقہ کار روائی پر نادم ہوکر امام حسینؓ کے قریب ہوتے ہوتے یک بارگی گھوڑا دوڑا کر آپ ؓ کے لشکر میں آملا اور عرض کیا کہ میری ابتدائی غفلت اور آپ ؓکو واپسی کے لئے راستہ نہ دینے کا نتیجہ اس صورت میں ظاہر ہوا جو ہم دیکھ رہے ہیں ۔ واللہ! مجھے یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ لوگ آپ ؓکے خلاف اس حد تک پہنچ جائیں گے اور آپؓ کی کوئی بات نہ مانیں گے ، اگر میں یہ جانتا تو ہر گز آپ ؓ کا راستہ نہ روکتا ، اب میں آپ ؓکے پاس توبہ تائب ہوکر آیا ہوں ۔اس کے بعد امام حسینؓنے رؤسائے کوفہ کا نام لے لے کر پکارا : ’’اے شیث بن ربعی ، اے حجاز بن ابحر ، اے قیس بن اشعث ، اے زید بن حارث ! کیا تم لوگوں نے کوفہ بلانے کے لئے مجھے خطوط نہیں لکھے تھے ؟‘‘ لیکن یہ سب لوگ مکر گئے ۔امام حسین ؓنے فرمایاکہ: ’’میرے پاس تمہارے تمام خطوط موجود ہیں۔‘‘ اس کے بعد فرمایا : ’’اے لوگو! اگر تم میرا آنا پسند نہیں کرتے تو مجھے چھوڑ دو ، تاکہ میں کسی ایسی زمین میں چلا جاؤں جہاں مجھے امن ملے۔‘‘ قیس بن اشعث نے کہاکہ: ’’آپ اپنے چچا زاد بھائی ابن زیاد کے حکم پر کیوں نہیں اتر آتے ؟ وہ پھر آپ کا بھائی ہے ، آپ کے ساتھ برا سلوک نہیں کرے گا ۔‘‘ لیکن امام حسین ؓنے فرمایا کہ : ’’مسلم بن عقیلؓ کے قتل کے بعد بھی اگر تمہاری رائے یہی ہے تو اللہ کی قسم! میں کبھی بھی اس کو قبول نہ کروں گا ۔‘‘ یہ فرماکر آپ گھوڑے سے نیچے اتر آئے۔

    حضرت زہیر بن القینؓ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں کونصیحت کی کہ : ’’تم آلِ رسولﷺکے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کرنے سے باز آجاؤ ، اگر تم اس سے باز نہ آئے تو خوب سمجھ لو کہ تم کو ابن زیاد سے کوئی فلاح نہ پہنچے گی ،بلکہ بعد میں وہ تم پر بھی قتل و غارت کرے گا۔‘‘


  2. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:


  3. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4546
    Rep Power
    19

    Default Re: سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ ،تحریر : مفتی محمد وقاص رفی

    جب گفتگو طویل ہونے لگی تو شمر ذی الجوشن نے اپنا پہلا تیر ان پر چلا دیا ، اس کے بعد حر بن یزید جو توبہ تائب ہوکر امام حسین ؓکے لشکر میں شامل ہوگئے تھے آگے بڑھے اور لوگوں کو مخاطب کرکے کہا: ’’ تم ہلاک و برباد ہوجاؤ ! کیا تم نے ان کو اس لئے بلایا تھا کہ جب یہ آجائیں تو تم ان کو قتل کردو ؟ تم نے تو کہا تھا کہ: ’’ ہم اپنا تن، من ،دھن سبھی کچھ ان پر قربان کردیں گے۔‘‘ اور اب تم ہی ان کے قتل کے درپے ہوگئے ہو ، ان کو تم نے قیدیوں کی مثل بنا رکھا ہے اور دریائے فرات کا جاری پانی ان پر بند کردیا ہے جسے یہودی ، نصرانی اور مجوسی سبھی پیتے ہیں اور علاقے کے خنزیر اس میں لوٹتے ہیں ، امام حسینؓاور ان کے اہل بیتؓ پیاس سے مرے جارہے ہیں ، اگر تم نے اپنی اس حرکت سے توبہ نہ کی اور اس سے باز نہ آئے تو یاد رکھنا !کل قیامت کے دن میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ تمہارا پانی بند کرے گا۔‘‘

    اب حر بن یزید پر بھی تیر پھینکے گئے وہ واپس آگئے اور امام حسینؓ ؓکے آگے کھڑے ہوگئے ، اس کے بعد تیر اندازی کا سلسلہ شروع ہوگیا ، پھر گھمسان کی جنگ ہوئی ، فریق مخالف کے بھی کافی آدمی مارے گئے ، امام حسینؓکے بعض رفقاء بھی شہید ہوئے ۔ حر بن یزید نے امام حسین ؓ کے ساتھ ہوکر شدید قتال کیا اور بہت سے دشمنوں کو قتل کیا ۔ اس کے بعد شمر نے چاروں طرف سے امام حسینؓ اور ان کے رفقاء پر ہلہ بول دیا ، جس کا امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے بڑی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ، وہ کوفہ کے لشکر پر جس طرف سے حملہ کرتے میدان صاف ہوجاتا ۔ اُدھر دوسری طرف عمرو بن سعد نے جو کمک اور تازہ دم پانچ سو گھڑ سوار بھیجے وہ مقابلہ پر آکر ڈٹ گئے ، لیکن امام حسینؓ کے رفقاء نے ان کا بھی نہایت جرأت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور گھوڑے چھوڑ کر میدان میں پیادہ پا آگئے۔ اس وقت بھی حر بن یزید نے دشمنوں سے سخت قتال کیا، لیکن اب دشمنوں نے خیموں میں آگ لگانا شروع کردی تھی۔

    گھمسان کی جنگ میں نماز ظہر کی ادائیگی



    امام حسین ؓکے اکثر و بیشتر ساتھی شہید ہوچکے تھے اور دشمن کے دستے آپ ؓکے قریب پہنچ چکے تھے ۔ حضرت ابو شمامہ صائدیؓ نے امام حسین ؓسے عرض کیا کہ : ’’میری جان آپ ؓپر قربان ہو ، لیکن دل یہ چاہتا ہے کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوچکا ہے ، نماز ادا کرکے اپنے پروردگار کے پاس جاؤں ۔‘‘ابو شمامہ صائدی ؓ نماز کی حسرت دل ہی دل میں لیے شہید ہوگئے ، لیکن امام حسینؓ نے اپنے چند اصحاب کے ساتھ نمازِ ظہر’’ صلوٰۃ الخوف‘‘ کے مطابق ادا فرمائی۔نماز ادا کرلینے کے بعد جنگ شروع ہو گئی ۔اب یہ لوگ آپؓ تک پہنچ چکے تھے ، زہیر بن القین ؓنے آپ ؓکی مدافعت میں سخت قتال کیا،وہ بھی شہید ہوگئے ۔ اس وقت امام حسینؓ کے پاس بجز اپنے چند گنے چنے رفقاء کے اور کوئی نہ رہا تھا اور بچے کھچے رفقاء بھی خوب اچھی طرح سمجھ گئے کہ اب ہم نہ امام حسین ؓکی جان بچا سکتے ہیں اور نہ اپنی جان ، اس لئے ہر شخص کی خواہش یہ ہوئی کہ میں امام حسینؓ کے سامنے سب سے پہلے شہید کیا جاؤں ، اس لئے ہر شخص نہایت شجاعت و بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر تا رہا ، اسی اثناء میں امام حسینؓ کے بڑے صاحب زادے علی اکبرشعر پڑھتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے : ’’ میں حسین بن علیؓ کا بیٹا ہوں ، رب کعبہ کی قسم! ہم اللہ کے رسول ﷺ کے بہت قریب ہیں۔‘‘ اتنے میں مرہ بن منقذ آگے بڑھا اور ان کو نیزہ مار کر زمین پر گرادیا ،

    مسلم بن عقیل ؓنے کوفہ میں رہ کر دیکھا کہ لوگ یزید



    سے متنفر اور امام حسینؓ کی بیعت کے لئے بے چین تھے



    پھر کچھ اور بدبخت آگے بڑھے اور لاش مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ۔ امام حسین ؓلاش کے قریب تشریف لائے اور فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ اس قوم کو برباد کرے جس نے تجھ کو قتل کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کیسے بے وقوف ہیں ؟ ۔‘‘پھر ان کی لاش اٹھا کر خیمہ کے پاس لائی گئی ۔ عمرو بن سعد نے حضرت حسنؓکے بیٹے قاسم بن حسن ؓکے سر پر تلوار ماری، جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور ان کے منہ سے نکلا : ’’ہائے میرے چچا!(حسینؓ)‘‘۔ امام حسینؓنے بھاگ کر ان کو سنبھالا اور عمرو بن سعد پر تلوار سے جوابی وار کیا جس سے کہنی سے اس کا ہاتھ کٹ گیا ۔ امام حسینؓ بھتیجے کی لاش اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے اور اپنے بیٹے اور دوسرے اہل بیت ؓکی لاشوں کے قریب لاکر رکھ دی۔

    دُشمن کی فوج سے تن تنہا مقابلہ



    اب امام حسینؓ تقریباً تن تنہا اور بے یار و مددگار رہ گئے تھے، لیکن آپؓ کی طرف بڑھنے کی کسی کو ہمت نہیں ہورہی تھی ، کافی دیر تک یہی کیفیت رہی کہ جو شخص بھی آپ ؓ کی طرف بڑھتا فوراًواپس لوٹ جاتا ، یہاں تک کہ قبیلہ کندہ کا ایک شقی القلب شخص مالک بن نسیر آگے بڑھا اور اس نے امام حسینؓ کے سر مبارک پر حملہ کردیا ، جس سے آپؓ شدید زخمی ہوگئے، اس وقت آپؓ نے اپنے چھوٹے صاحب زادے عبد اللہ بن حسین کو اپنے پاس بلایا اور ابھی اپنی گود میں بٹھایا ہی تھاکہ بنو اسد کے ایک بد نصیب شخص نے ان پر ایک تیر چلایا جس سے وہ بھی شہید ہوگئے، امام حسینؓنے اپنے معصوم بچے کا خون دونوں ہاتھوں میں لے کر زمین پر بکھیر دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعاء کی کہ : ’’اے اللہ! تو ہی ان بدبخت اور ظالموں سے ہمارا انتقام لینا۔‘‘

    اب امام حسینؓ کی پیاس حد کو پہنچ چکی تھی ، آپؓ پانی پینے کے لئے دریائے فرات کے قریب تشریف لے گئے ، مگر حصین بن نمیر ایک ظالم شخص نے آپؓ کی طرف ایک تیر پھینکا جو آپؓ کے منہ پر جاکر لگا جس سے آپؓ کے دہن مبارک سے خون پھوٹنے لگ گیا۔

    امام حسینؓ کی شہادت



    اس کے بعد شمر ذی الجوشن دس آدمی اپنے ساتھ لے کر امام حسینؓ کی طرف آگے بڑھا ، آپؓ اس وقت پیاس کی شدت سے نڈھال اور زخموں سے چور ہوچکے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کا دلیرانہ مقابلہ کرتے رہے اور جس طرف سے آپؓ آگے بڑھتے یہ سب کے سب وہاں سے بھاگتے نظر آتے تھے ۔ شمر نے جب یہ دیکھاکہ امام حسینؓ کو قتل کرنے میں ہر شخص لیت و لعل سے کام لے رہا ہے تو اس نے آواز لگائی کہ :’’ سب یک بارگی ان پر حملہ کردو ۔‘‘ اس پر بہت سے بدنصیب آگے بڑھے اور نیزوں اور تلواروں سے یک بارگی امام حسینؓ پر حملہ کردیا اور اس طرح ان ظالموں کا دلیرانہ مقابلہ کرتے کرتے بالآخر کار امام حسین ؓ نے جام شہادت نوش فرمالیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

    اہل بیتؓ کا ابن زیاد سے مکالمہ



    عمرو بن سعد دو روز کے بعد بقیہ اہل بیتؓ امام حسینؓ کی بیٹیوں،بہنوں اور بچوں کو ساتھ لے کر کوفہ کے لئے نکلاہی تھا کہ انہیں امام حسینؓ اور اُن کے اصحاب کی لاشیں پڑی ہوئی نظر آئیں ، عورتوں اور بچوں نے جب یہ منظر دیکھا تو کہرام مچ گیا، گویا آسمان و زمین رونے لگ گئے۔ عمرو بن سعد نے جب اہل بیتؓ کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا تو اُس وقت امام حسین ؓ کی ہمشیرہ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے بہت میلے اور خراب کپڑے پہن رکھے تھے اور اُن کی باندیاں اُن کے ارد گرد تھیں، وہ ایک طرف جاکر خاموش ہوکر بیٹھ گئیں، ابن زیاد نے پوچھا: ’’یہ ایک طرف جاکر علیحدہ بیٹھنے والی کون ہے؟۔‘‘حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہ دیا، ابن زیاد نے تین مرتبہ اسی طرح دریافت کیا، مگر حضرت زینب رضی اللہ عنہا اسی طرح خاموش رہیں، جب کسی باندی نے کہا کہ : ’’ یہ زینب بنت فاطمہ ؓہیں۔‘‘ تو ابن زیاد بولا : ’’شکر ہے اللہ کا جس نے تمہیں رُسوا کیا اور قتل کیااور تمہاری بات کو جھوٹا کیا۔‘‘ اِس پر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کڑک دار لہجے میں بولیں: ’’شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمیں محمد مصطفی ﷺکے نسب سے شرف بخشااور قرآنِ مجید میں ہمارے پاک ہونے کو بیان کیا۔ رُسوا وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔‘‘یہ سن کر ابن زیاد غصہ سے بھڑک اُٹھا اور کہنے لگا کہ:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے غیظ سے شفاء دی اور تمہارے سرکش کو ہلاک کیا۔‘‘ حضرت زینب رضی اللہ عنہاکا دل بھر آیا، وہ اپنے تئیں سنبھال نہ سکیں، اس لئے بے اختیاررونے لگیںاور فرمانے لگیں: ’’اگر یہی تیری شفاء ہے تو تو اسی کو اپنی شفاء سمجھے رکھ!۔‘‘

    امام حسین ؓکا سر کوفہ کے بازاروں میں



    ابن زیاد کی شقاوت نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ حکم دیا کہ: ’’امام حسینؓ کے سر کو ایک لکڑی پر رکھ کر ’’کوفہ‘‘ کے بازاروں اور گلی کوچوں میں سر عام گھمایا جائے، تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں۔‘‘ چنانچہ یہ سب کچھ بھی ہوا اور پھر اِس کے بعد ابن زیاد نے امام حسین ؓ اور آپؓ کے دیگر اصحاب کے سروں کو یزید کے پاس ملک شام بھیج دیا اور ان کے ساتھ اہل بیتؓ کی خواتین اور بچوں کو بھی قیدی بناکر روانہ کردیا، جب یہ لوگ ملک شام پہنچے تو انعام کے شوق میں حر بن قیس جو اِن کو لے کر گیا تھا فوراً یزید کے پاس پہنچا، یزید نے پوچھا : ’’کیا خبر ہے؟۔‘‘ حر بن قیس نے میدانِ کربلا کے معرکے کی ساری تفصیل بتائی اور آخر میں کہنے لگا کہ: ’’امیر المؤمنین کو بشارت ہوکہ مکمل فتح حاصل ہوئی ہے، اہل بیتؓ سارے کے سارے مارے گئے اور ان کی ساری عورتیں اور بچے قیدی بن کر حاضر ہیں۔‘‘

    حضرت زینب ؓ کی دلیرانہ گفتگو



    جب وہ یزید کے سامنے پیش کیے گئے تو حضرت زینب ؓنے حضرت علیؓ کے لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: ’’تو کمینہ ہے! نہ تجھے اس کا اختیار ہے اور نہ ہی یزید کو اِس کا حق ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حق ہرگز نہیں دیا، یہ دوسری بات ہے کہ تم ہماری ملت و مذہب سے نکل جاؤ اور ہمارا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلو!۔ اللہ کے دین سے، میرے باپ کے دین سے، میرے بھائی کے دین سے، میرے نانا کے دین سے، تونے، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔تو زبردستی حاکم بن بیٹھا ہے، ظلم کرتا ہے ،گالیاں دیتا ہے اور اپنی قوت سے مخلوق کو دباتا ہے۔‘‘ یہ گفتگو سن کر یزید شرمندہ ہوگیا، اس کے بعد کچھ نہ بول سکا ۔

    اِس کے بعد یزید نے اہل بیتؓ کی عورتوں کو اپنی عورتوں کے پاس بھیج دیا۔ حضرت سجاد ؓ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں یزید کے سامنے لائے گئے ،تو اُنہوں نے یزید کے سامنے آکر کہا کہ: ’’اگر رسول اللہﷺ ہمیں اس طرح قید میں دیکھتے تو قید سے رہا فرمادیتے۔‘‘ یزید نے کہاکہ: ’’سچ ہے۔‘‘اور قید سے رہا کردینے کا حکم دے دیا۔ حضرت سجادؓنے کہا: ’’ رسول اللہﷺ ہمیں اس طرح مجلس میں بیٹھا دیکھتے تو اپنے قریب بلا لیتے۔‘‘ یزید نے ان کو اپنے قریب بلالیا اور کہا کہ: ’’اے علی بن حسینؓ! تمہارے والد ہی نے مجھ سے قطع رحمی کی اور میرے حق کو نہ پہچانااور میری سلطنت کے خلاف بغاوت کی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ کیا جو تم نے دیکھا۔‘‘ جواب میں حضرت سجاد نے قرآنی آیت پڑھ کر اسے لاجواب کردیا۔

    عام مؤرخین ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ امام حسینؓکی شہادت کے بعد تقریباً دو تین مہینوں تک آسمانی فضاء کی یہ کیفیت رہی کہ جب سورج طلوع ہوتا اور دھوپ در و دیوار پر پڑتی تو اتنی سرخ ہوتی تھی جیسے دیواروں کو خون سے رنگا گیا ہو۔‘‘

  4. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:


  5. #3
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4546
    Rep Power
    19

    Default Re: سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ ،تحریر : مفتی محمد وقاص رفی


  6. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:


  7. #4
    Join Date
    Mar 2018
    Location
    Pakistan
    Posts
    1,855
    Mentioned
    4707 Post(s)
    Tagged
    3538 Thread(s)
    Thanked
    945
    Rep Power
    3

    Default Re: سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ ،تحریر : مفتی محمد وقاص رفی

    Quote Originally Posted by intelligent086 View Post
    @intelligent086
    Thanks for beautiful sharing
    Jazak Allah

  8. The Following User Says Thank You to Mariaa For This Useful Post:


  9. #5
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4546
    Rep Power
    19

    Default Re: سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ ،تحریر : مفتی محمد وقاص رفی

    Quote Originally Posted by Mariaa View Post


    @intelligent086
    Thanks for beautiful sharing
    Jazak Allah
    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •