Results 1 to 2 of 2

Thread: پنجاب میں دستکاری وفنون مختصر تاریخ

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4546
    Rep Power
    19

    candel پنجاب میں دستکاری وفنون مختصر تاریخ

    پنجاب میں دستکاری وفنون مختصر تاریخ
    23604 67601080 - پنجاب میں دستکاری وفنون مختصر تاریخ
    اسد سلیم شیخ
    پنجاب کے انسان نے جب تہذیبی دَور میں قدم رکھا تو اس نے تکنیکی معاشرتی اور معاشی ترقی کی کئی منزلیں بڑی تیزی کے ساتھ طے کیں ۔ تہذیبی دَور کے ابتدائی مرحلے میں اس نے انتہائی چھوٹے، نفیس تیز دھار اور پالش شدہ اوزار بنانے شروع کئے۔ اس دَور میں انسان اوزار سازی کی صنعت میں ترقی کرتے کرتے دھات کے استعمال سے بھی واقف ہوگیا تھا۔ اب اس نے تابنے کی دھات سے بھی اوزار اور روزمرہ استعمال کی اشیا بنانی شروع کردیں۔ یہ تقریباً نو ہزار سال قبل کا زمانہ ہے۔ اسی زمانے میں کچی مٹی سے بے قاعدہ گھر بنانے کا فن رائج ہوا۔ زراعت کے دَور کا آغاز ہوا تو فصلوں کو کاٹنے کے لیے پتھر درانتی ایجاد کر لی گئی۔ اسی طرح خوراک کو کاٹنے اور پیسنے کے لیے سِل پتھر اور ہاون دستہ تیار کر لیا گیا تھا۔ پھر ٹوکریاں، زیورات اور مٹکے بھی بنائے جانے لگے۔ سیپی کی بنی ہوئی چوڑیاں اور تعویذ بھی دریافت ہوئے۔ جدید پتھر کے دَور میں انسان نے برتن سازی کا فن بھی سیکھ لیا تھا۔ شروع شروع میں وہ برتن ہاتھ یا ٹوکری کی مدد سے بناتا تھا۔ آخر میں اس نے گھومنے والا چاک ایجاد کرلیا۔ اب اس نے اس کے ذریعے برتن بنانا شروع کردئیے۔ برتن پکانے کے لیے اس نے آگ کی بھٹی بھی ایجاد کرلی تھی۔ برتنوں پر اس نے گُل بوٹے بنانے شروع کردئیے تھے۔ ابتدا میں اس نے سُرخ اور سیاہ رنگ کی نقاشی کی۔ اسی طرح زندگی کو رنگین بنانے کے لیے اس نے طرح طرح کے زیورات بنائے جو مٹی اور اہم قیمتی پتھروں کے بنے ہوئے تھے۔ پنجاب کا انسان جدید پتھر کے زمانے سے نکل کر جدید ہڑپائی تمدن میں داخل ہوا تو اس کی دستکاریوں اور فنون میں کئی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں یہ پانچ ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں شہر سازی شروع ہوئی۔ برتن سازی کے فن میں بڑی ترقی ہوئی۔ انسان نے برتنوں کو منقش کرنے کا فن بھی ایجاد کرلیا۔ پھر متنوع قسم کی دستکاریوں کو رواج دیا۔ اس دَور میں رہائش کے لیے باقاعدہ مکان تعمیر ہوئے۔ آبادیوں میں مختلف اشیا کی ورکشاپیں قائم ہونے لگیں۔ لاجورد، عقیق، پتھر، تانبہ، قلعی، سونا، چاندی جیسی قدیم دھاتیں بھی زیورات اور دوسری اشیا بنانے کے لیے دوسرے علاقوں سے لائی جاتی تھیں۔ پہاڑی ندی نالوں سے بڑے پتھر اور روہڑی کی پہاڑیوں سے ناقص عقیق، اوزار بنانے کے لیے دستیاب تھے۔ رنگ بنانے کا خام مواد دوسرے علاقوں سے منگوایا جاتا تھا۔ عقیق کے منکے اس دَور میں تیار ہونے لگے۔ دریائی چکنی مٹی برتن سازی کے لیے استعمال ہونے لگی۔ برتنوں کی نقاشی کے لیے رنگ ایجاد کر لیے گئے۔ دھات سے کئی اشیا بنانے کا فن ایجاد ہوا۔ اس زمانے میں مختلف اشیا پر تجریدی نقوش بنانے کا آغاز ہوگیا۔ یہی نقوش آگے چل کر تحریر کی ایجاد میں بنیادی حیثیت حاصل کر گئے۔ برتنوں پر جلدی پیوندکاری کا ہُنر بھی ایجاد کرلیا گیا۔ برتن سازی کی دستکاری اس زمانے میں عام تھی۔ ہڑپائی دَور میں فن اور دستکاری کا معیار بڑا اعلیٰ تھا۔ مہروں پر مختلف جانوروں اور دیگر قسم کی علامات کندہ کی جاتی تھیں۔ ہڑپہ کے لوگ صنعت و حرفت میں بڑے ماہر تھے اور کوزہ گری، تانبے اور کانسی کے ظروف، اسلحہ، اوزار سازی، سنگ تراشی اور مہر سازی کی صنعتوں میں باکمال تھے۔ دوسری صنعتوں میں سوزن کاری، کٹائو کی صنعت، سیپ کے بیل بوٹے، پانسہ، چوڑیاں، بالوں کے کلپ، ہاتھی دانت کی چُھریاں، منکے، چاندی کی اشیا وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ لوگ مجسمہ سازی بھی خوب جانتے تھے۔ ان لوگوں کے بنائے مجسّمے، مٹی کے برتن اور ان کے نقش ونگار انتہائی اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ یہ لوگ زراعت کے بھی شوقین تھے۔ وادیٔ سندھ کی سب سے اہم دریافت روئی کے بُنے ہوئے کپڑے کا ٹکڑا ہے۔ یہ روئی کی قدیم ترین دریافت ہے۔ گویا اس دَور میں کپڑے بنانے کی صنعت بھی تھی۔ پنجاب کے اس مقامی تمدن میں غیر ملکی حملہ آوروں کی آمد کے ساتھ ساتھ بیرونی عناصر کا بھی دخل ہوتا رہا۔ یہ غیر ملکی اپنے ساتھ کچھ دستکاریاں اورفنون بھی لاتے۔ آریائوں کے زمانے میں تو وادیٔ سندھ کی تہذیب کو زوال ہونا شروع ہوا اور کئی مقامی قدیم فنون بھی زوال پذیر ہوتے گئے۔ ایرانیوں کے دَور میں پنجاب میں ایک دفعہ پھر تمدنی ترقی کا آغاز ہوا۔ اس دَور میں پنجاب کے علاقے میں پہلی بار سِکّے جاری ہوئے۔ ٹیکسلا میں اس دَور کے کئی سِکّے دریافت ہوئے تھے۔ سکندر اعظم کے ہندوستان پر حملے کے ساتھ ہی یہاں یونانی اثرات بھی مرتب ہوئے۔ یہاں کے لوگوں نے یونانیوں سے علمِ نجوم، فنِ سنگ تراشی اور سِکّے ڈھالنے کا نیا فن سیکھا۔ موریہ دَور میں موسیقی، تاش اور ڈرامے کی موجودگی کا بھی ذکر ملتا ہے۔ جُوا اور شرط کا رواج عام تھا۔ بدھا جا تک کہانیوں میں اس زمانے کی اٹھارہ دستکاریوں کا ذکر ملتا ہے جن میں لکڑی، لوہے، چمڑے، نقاشی، پتھر، برتن سازی، کمان اور تیرسازی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یونانی مورّخین کے مطابق پنجاب میں ان دنوں صنعت و حرفت کا جال بچھا ہوا تھا۔ یہاں کے کاریگر اس پائے کے ہُنرمند تھے کہ وہ دستکاریوں میں بآسانی نقل کر سکتے تھے۔ سوتی کپڑے کی صنعت بھی عام تھی۔ پنجاب میں سٹیج ناٹک کا اجرا بھی یونانیوں کی وجہ سے ہوا۔ پتھر سے بیل بوٹے دار پلیٹیں، پیالے، جام اور غُسل کے کام آنے والے جگ بنانے کا فن ٹیکسلا میں یونانیوں نے متعارف کروایا تھا۔ نیز تانبے پیتل میں سِکّے کی آمیزش، ان کے ڈھالنے کا فن، زنک اور پیتل کو ملانے کا گُر بھی یونانیوں کا مرہون منت ہے۔ میناندر کے دَور میں دارالحکومت سیالکوٹ میں بنارس کی ململ، زیورات اور قیمتی اشیا فروخت ہوتی تھیں۔ پارتھی دَور میں پنجاب میں تمدنی ترقی بڑھی۔ اس دور میں نئے مصالحے ایجاد ہوئے اور تعمیر کا نیا سامان ایجاد ہوا۔ کشان دَور کے آغاز سے گندھارا آرٹ کا آغاز ہوا۔ سنگتراشی کے فن کو عروج ملا۔ بُدھا اور غیر ملکی دیویوں اور دیوتائوں کے مجسّمے بنائے جانے لگے۔ ان کے کئی نمونے لاہور، ٹیکسلا اور پشاور کے میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ کشمیری راجائوں اور ہندو شاہیہ دَور میں ہندوئوں کے مندروں اور قلعوں کی تعمیر عام ہوئی۔ ان میں فن کے کئی نادر نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ہڑپہ، ٹیکسلا، سکالہ، سیالکوٹ، ملتان اس دَور کے مشہور تمدنی مراکز تھے۔ عربوں کے ہندوستان سے تعلقات کے نتیجے میں یہاں اسلامی دَور کا آغاز ہوا۔ مسجد، مینار، خانقاہ، سرائے اور باغات تعمیر ہونا شروع ہوئے۔ مغل عہد میں لاہور اور ملتان مشہور ترین صنعتی مراکز تھے۔ لاہور ہمایوں دَور میں صنعت اصطرلاب سازی کے لیے بہت مشہور تھا۔ علاوہ ازیں لاہور میں تیر، کمان، توپ وغیرہ جیسا اسلحہ بھی بنتا تھا۔ پنجاب کا شہر بھیرہ بھی تلوار سازی کے لیے مشہور تھا۔ پنجاب کا لکڑی کاکام بھی شہرہ آفاق حیثیت کا حامل تھا۔ بھیرہ اور چنیوٹ کے کاریگر اس کام میں زمانہ قدیم سے مشہور تھے۔ گجرات دھات کے برتنوں کے لیے اس زمانے میں مشہور تھا۔ کشمیری شالوں کے لیے لاہور اہم مرکز تھا۔ بادشاہ اکبر کے زمانے میں لاہور میں ایک ہزار کارخانے کشمیری شالوں کی تیاری کے لیے موجود تھے۔ اسی عہد میں لاہور خطاطی اور مُصوّری کا مرکز بن گیا تھا۔

    2gvsho3 - پنجاب میں دستکاری وفنون مختصر تاریخ

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4546
    Rep Power
    19

    Default Re: پنجاب میں دستکاری وفنون مختصر تاریخ

    2gvsho3 - پنجاب میں دستکاری وفنون مختصر تاریخ

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •