Results 1 to 3 of 3

Thread: ورسٹائل اداکارعابد علی ،تحریر : مرزا افتخاربیگ

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4540
    Rep Power
    19

    glass ورسٹائل اداکارعابد علی ،تحریر : مرزا افتخاربیگ

    ورسٹائل اداکارعابد علی ،تحریر : مرزا افتخاربیگ
    1076 38503237 - ورسٹائل اداکارعابد علی  ،تحریر : مرزا افتخاربیگ
    مرحوم اداکار عابد علی نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے 1970 ء میں کیا تھا ،وہ کوئْٹہ بلوچستان میں 17 ، مارچ 1952ء کو پیداہوئے ،

    وہ اپر کلاس کے لئے ڈرامے بنانے کیخلاف تھے

    اس سے قبل وہ ٹی وی ڈراموں میں اپنے شناحت بنا تے کوئٹہ میں پی ٹی وی سینٹر 1974 ء میں قائم ہوا تو لاہور ہجرت کرچکے تھے۔



    1973 ء میں ڈرامہ سیریل جھوک سیال میں اہم کردار میں کاسٹ کیا گیا۔ انہوں نے اپنی پہلی سیریل میں وہ اداکاری کے رنگ جمائے کہ ملک بھر میں ان کی منفرد شناحت بن گئی ، مذکورہ سیریل میں ان کے ساتھ نئی اداکارہ حمیرا چوہدری نے اہم کردار ادا کیا ۔بعد ازاں دونوں نے محبت کی شادی کی۔ ان سے ان کی تین بیٹیاں ایمان علی (اداکارہ ، ماڈل )، راحمہ علی (اداکارہ ) اور مریم علی ہیں ۔ ان کا مقبول ترین ڈرامہ سیریل جھوک سیال میں ان کی متاثر کن کردار نگاری کی دھوم ایسی مچی کہ 1978 ء میں امجد اسلام امجد کے تحریر کردہ مقبول ترین ڈرامے سیریل وارث نے ان کو شہرت کی بلندیاں پر پہنچادیا ۔ جس وقت یہ ڈرامہ نشر ہوتا تھا تو روڈ سنسان ہوجاتے تھے۔ پڑوسی ملک میں اس ڈرامے کے ہی نہیں عابد علی دیگر فنکاروں کی پرفارمنس کے بھی چرچے ہوتے رہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں سینکڑوں سے زائد سیریلز اور انفرادی ڈرامے میں کام کیا جن میں سے خاص طورپر ہزاروں راستے ، پیاس، سورج کے ساتھ ساتھ، خواہش، اصغر ی اکبری و دیگرشامل ہیں ۔نجی چینل کے لئے90 ء کی دہائی میں بطور پروڈیوسر و ہدایتکار دوریاں ، دشت، پنجرہ، ہواپہ رقص، ماسی اور ملکہ، دوسرا آسمان، دشت، دوسرا آسمان، دیگر ڈرامہ سیریل بنائیں ۔ انکو دبئی جاکر پہلی سیریل بنانے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ڈرامہ سیریل دشت انہوں نے قبائلی رسومات پر بنائی جس کی عکس بندی گوادر میں بھی کی گئی۔عابد علی نے کئی فلموں میں بھی کام کیا ان میں خاک اور خون، فلم مسٹر بھٹی اون چٹی،موسیٰ خان، لیلیٰ، صاحبہ، بیتاب، فتح، انسانیت کے دشمن، نگاہیں ، غریبوں کا بادشاہ، آواز، وارث، دیگر شامل ہیں ۔ انہوں نے سینکڑوں ڈراموں اور درجنوں فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، حالیہ ریلیز ہونیوالی فلم ہیر مان جا سنیماگھروں کی زینت بنی ہوئی ہے جس میں حریم فاروق اور علی رحمان خان نے مرکزی اداکار کیا ہے، کئی نئے چہرے متعارف بھی کرائے ، اس سیریل سے عتیقہ اوڈھو، اسد ملک کو متعارف کرایا جبکہ ندا ممتاز، ایمان علی، ذیشان سکندر، معمر رانا ، کو دیگر سیریلز میں متعارف کرایا۔ان کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں صدرنے 1985میں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا، مرحوم تحریک انصاف سے وابستہ تھے ۔

    مرحوم عابد علی کہا کرتے تھے کہ اپر کلاس کے لئے ڈرامے بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ وہ پاکستانی ٹی وی چینلز دیکھتی ہی نہیں ہے۔ڈرامہ وہی کامیاب ہوتا ہے جس کی کہانی مقامی معاشرے اور روایات سے جڑی ہوئی ہوں ہم نے بھی نکاح، سہیلی ، ماسی اور ملکہ دیگر کئی سیریل کئے جن کو ناظرین نے بے حد سراہا۔ نجی چینلز جس طرح کے ڈرامے تیار کرا رہے تھے اس میں صرف ایلیٹ کلاس کے طبقے کی نمائندگی کی جا رہی تھی۔ بھارتی ٹی وی چینل اسٹار پلس کی طرح ہرڈرامے میں چار سے پانچ کروڑ روپے کی باتیں ہوتی تھیں۔ مگر ہم نے جو بھی کام کیا وہ اپنی ملکی ثقافت اور معاشرتی روایات کو مد نظر رکھ کر کیا کیونکہ ناظرین کی اکثریت کا تعلق مڈل کلاس اور نچلے طبقے سے ہے۔ دنیا سے ایک مرتبہ گفتگو کرتے ہوئے ڈرامہ پروڈکشن کی ابتداء کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اُس دور میں ٹی وی کی حکمرانی تھی ٹی وی انتظامیہ ہماری مرضی کاکام کروارہی تھی بیرون دنیامیں میرا آنا جانا تھا اس دوران میں نے محسوس کیا کہ دنیا بھر میں زیادہ تر کام پرائیویٹ سیکٹر میں ہو رہا ہے ۔ پاکستان میں نجی ٹی وی چینل این ٹی ایم آیا تو اس کی انتظامیہ بھی ذاتی طور پر ڈرامہ بنانے کی ہمت نہیں کر رہی تھی ہمارے دوستوں کا ایک گروپ پرائیویٹ کام کرنے کا خواہش مند تھا ہم نے آرٹ فلم بنانے کا سوچا تاہم بجٹ کم تھا این ٹی ایم کے پروگرام منیجر تاج دار عالم سے بات چیت ہوئی اس وقت ہم نے ڈرامہ دوریاں کیا جو بہت پسند کیا گیا اور یہ ایک کامیاب سیریل ثابت ہوئی ڈرامہ دشت سے پہلے بلوچستان کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا تھا مُنو بھائی اور شیری وہاں ایک ڈاکو منٹری کرنے آئے تھے اس وقت گوادر میں جاکر کام کرنا مشکل ترین امر تھا 72گھنٹے کی مسافت کے بعد بذریعہ سٹرک گوادر پہنچے تھے وہاں رہنے کے لئے کوئی مناسب جگہ نہیں تھی مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم ایک کامیاب سیریل بنا کر سرخرو ہوئے۔ پاکستان میں پہلی بار نجی سیریل بنانے کا اعزاز بھی ہم نے حاصل کیا۔45دنوں تک گوادر بیس ایام تک لاہورا ور ایک ہفتے تک زیارت میں مسلسل ریکارڈنگ کرکے ڈرامہ سیریل دشت کو مکمل کیا۔ جہاں تک اس دوران پیش آنے والے واقعات اور مسائل کا تعلق ہے تو عابد علی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ نجی طور پر ڈرامہ پروڈکشن میں جن مسائل کاسوا ل ہے اس کا تصور پی ٹی وی والے نہیں کر سکتے ۔

    پاکستانی فلموں میں کام کرنے کے سوال پر انہوں نے ان کا کہنا تھا کہ وقت گزاری کے لئے اردو و پنچابی فلموں میں کام کیا ۔بھیڑ چال کا شکار ہونے والی اس انڈسٹری سے آہستہ آہستہ دور ہوگیا ۔البتہ برطانیہ میں ایک بھارتی فلم مسٹر بھٹی اور جٹی میں کام کیا ،جس میں میرے ساتھ پاکستانی فنکار محمود اختر ، بھارتی فنکار انوپم کھیر دیگر بھارتی فنکار تھے۔ جہاں تک تجربہ کا تعلق ہے تو ذاتی طور پر میں نے ان بھارتیوں کو اپنے کام میں پروفیشنل پایا ۔ وہ پروفیشنل ازم کے قائل تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اداکاری سے زیادہ مشکل کام ہدایتکاری ہے۔لکیر کے فقیر بن جانے والوں کا حشر شوقین ہدایتکاروں کی طرح ہوتا ہے۔فلم انڈسٹری کی تباہی میں بھی ایسے ہی عناصر شامل رہے ہیں۔انٹرٹین منٹ انڈسٹری کا عروج لوگوں کا اپنے کام سے محبت اور سنجیدہ ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامے بیرون ممالک میں بھی پسند کئے جاتے ہیں۔ امریکہ ، یورپ اور دیگر ممالک میں ملکی ڈرامے فرمائش کرکے منگوائے جاتے ہیں۔ اس میں بھارت بھی شامل ہے ۔

    ڈرامہ انڈسٹری میں کمرشل ازم کے سوال پر عابد علی کہا کرتے تھے کہ’’ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ موجودہ دور میں ڈرامہ کمرشل ازم کا شکار ہو گیا ہے ہر چینلز سے پیسے کمانے کی خاطر ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں۔ ڈرامہ اتنا نہیں نشر کیا جاتا جتنا کمرشل چلانے پر توجہ دی جاتی ہے ، پی ٹی وی کو ڈرامے کے دوران اشتہارات بالکل نہیں دکھانا چاہئیں۔ کیونکہ وہ ہرمہینے35 روپے فی گھر ٹی وی لائسنس فیس کے طور پر وصول کر تا ہے جو ایک محتاط اندازے کے مطابق بیس سے تیس کروڑ روپے کی رقم بنتی ہے سرکاری ٹی وی اشتہارات حاصل کرنے کیلئے گلیمر سے بھرپور پروگرام دکھا رہا ہے پی ٹی وی پر نوازنے کی پالیسی آج بھی جاری ہے۔ وہاں زیادہ تر پروڈیوسر کام نہیں کر رہے ہیں۔ باہر سے وہ ایسی چیزیں لے رہے ہیں جو ان کے واقف کار یا وہ لوگ بنا رہے ہیں جن کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے میرا ڈرامہ دشت ، وفا کئی ماہ تک پی ٹی وی کی کمیٹی کے پاس پڑا رہا کہ آج فیصلہ کرتے ہیں کل فیصلہ کرتے ہیں جب میں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کو دے دیا تو وہ اس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیئے ۔ پی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل جھوک سیال نے مجھے ملک گیر شہرت دی تھی ، بعدازاں ڈرامہ سیریل وار ث، غلام گردش، سورج کے ساتھ ساتھ، سمندر ، مزید میری مقبولیت کا سبب بنے۔ ٹی وی چینل کی آزادی کے سوال پر ان کا کہناتھا کہ اللہ ،ا للہ کر کے ہمیں آزادی ملی ۔ ہر شخص کو سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہئے کہ ناظرین کو جو چیز دیکھنا چاہتے ہیں وہ پیش کی جائے ڈرامہ خاندان بھر کے افراد کے لئے بنایا جائے ۔آزادی کا ناجائز استعمال نقصا ن دہ ثابت ہوگا‘‘۔

    عابد علی کی ایک بیٹی ایمان علی نے نہ صرف بطور ماڈل شہر ت پائی بلکہ ان کی فلم ’’ بول‘‘ نے کامیابی کے ریکارڈ توڑے۔ ایک بیٹی راحمہ علی آج کل ٹی وی ڈراموں میںکام کررہی ہیں ۔واضح رہے کہ عابد علی نے دو شادیاں کی تھیں، ان کی پہلی اہلیہ حمیراعلی اور دوسری رابعہ نورین ہیں ۔ان دونوں کا تعلق بھی شوبز سے ہے، جبکہ ڈرامہ سیریل میرا رب وارث او ررمزعشق میں اہم کردار اداکررہے ہیں ۔اتفاق ہے کہ ڈرامے کے سین میں بھی عابد علی نواب صاحب کے کردار میں اسپتال میں داخل رہے، اس دوران یہ ڈر امے نشر ہورہے تھے ،67سالہ اداکار نے2018میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔کوئٹہ میں جنم لینے والے فنکار نے ایک طویل عرصے لاہور میں شہرت پاکر ٹی وی و فلموں میں کام کرکے بسر کیا اور کراچی آنے کے بعد ٹی وی ڈرامہ پروڈکشن میں نام کمایا اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بناء پر ایک لیجنڈ کا درجہ پایا ان کا سفر آخرت کراچی کی مٹی میں تمام ہوا۔



    عتیقہ اوڈھو کا ساتھ کام کرنے سے انکار

    عابد علی ایک جگہ یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ڈرامہ دشت کے دوران گواردر میں رہنا ایک مشکل کام تھا ۔ دیگر مسائل الگ کم نہ تھے اس دوران اداکارہ عتیقہ اوڈھو کوکسی نے بھڑکا دیا کہ کام ختم ہو گیا تو یہ لوگ پیسے نہیں دیں گے اچانک انہوں نے اپنا کام مکمل کرنے سے انکار کر دیا جبکہ ہمارے درمیان معاہدہ یہ طے ہوا تھا کہ وہ پچاس فی صد ایڈوانس اور باقی رقم کام مکمل ہونے کے بعد ادا کی جائے گی مگر وہ بضد رہیں کہ پیسے فوری دیئے جائیں ورنہ وہ کام نہیں کریں گی۔ اب گوادر جیسے دور افتادہ شہر میں رقم کا بندوبست کرنا پہاڑ توڑنے سے کم نہ تھا تاہم بڑی کوششوں کے بعد سود پر پیسے حاصل کئے گئے اور اداکارہ کو دے کر شوٹنگ کرنے پر راضی کیا گیا یوں یہ ڈرامہ سیریل مکمل ہوئی۔ یہاں ایک مسئلہ بجلی کا بھی پیش آیا جو کئی کئی دن تک غائب رہتی تھی اور پینے کے لئے پانی بھی ملنا مشکل ہو جاتا تھا اس کڑے وقت میں بھی محنت سے کام کیا ۔ گوادر میں بہت سہولیات موجود ہیں فائیواسٹار ہوٹل تک بن گیا ہے۔ اس کے باوجو د وہاں جاکر ڈرامہ بنانے کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا ۔ حکومتی تعاون کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ گوادر کی مقامی حکومت کے افسران نے ہمارے لئے مسائل پیداکئے۔ مگر اس وقت کے گورنر بلوچستان گل محمد ،چیف سیکریٹری، ڈی جی کوسٹ گارڈ نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔ڈرامہ سیریل سہیلی سے 2007 ء میں بطور ہدایتکار اپنی صلاحیتیں منوانے کا فیصلہ کیا ، جس میں کامیاب رہا ، اس کے بعد ڈرامہ سیریل ماسی اور ملکہ کی ڈائریکشن دی تو فنکارانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ بطور ہدایتکار بھی کامیابی ملی۔ڈرامہ سیریل مورت اس اعتبار سے یادگار سیریل ہے کہ اس میں پاکستان میں پہلی بار تیسری جنس کے مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔ جس میں مجھ سمیت فیصل قریشی ، محمود اختر ، دیگر فنکار تیسری جنس کے کردار وں میں جلوہ گر ہوئے تھے۔

    گلیمرڈراموں کی کامیابی کی ضمانت نہیں

    عابد علی نے دوسرا آسمان،پنجرہ دوریاں،سائبان، شیشے کا گھر آنکھ، دشت،وفا، دلہن، نکاح اور دیگر ڈرامہ سیریل بنائے جو ناظرین میں بے حد مقبول ہوئے۔ عابد علی کے مطابق کاپی کلچر کو فروغ دینے میں چند لوگ شامل ہیں اس سے دیرپا کامیابی نہیں ملتی ہے جبکہ گلیمر کے ذریعے بھی ڈرامے کامیاب نہیں ہوتے ہیں ڈرامے کی کامیابی میں اچھی اور جاندار کہانی بنیادی کردارا داکرتی ہے۔عابد علی کہا کرتے تھے کہ جب ڈرامے میں کہانی نہیں ہوگی تو اس کو کامیابی مشکل سے ملتی ہے ذاتی طور پر ڈرامہ کہانی کے مطابق بنانے کو ترجیح دیتا ہوں ڈراموں کے معیار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ معیاری ڈرامے بنانا سب سے بڑی ذمہ داری پی ٹی وی پر عائد ہوتی ہے۔ پرائیویٹ چینلز تو صرف پیسے کمانے کیلئے شروع کئے گئے ہیں۔ جس طرح صحافت کے شعبے میں یلو جرنلزم آگئی ہے اسی طرح ٹی وی چینلز میں بھی کالی بھیٹریں شامل ہو چکی ہیں ایسے عناصر وہ سب کچھ ٹی وی اسکرین پر دکھانا چاہتے ہیں جو ہماری مشرقی تہذیب وثقافت سے متصادم ہے ان میں سے بیشتر یہ سب کچھ دکھانے میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل بھی بغیر کچھ سوچے سمجھے ڈرامے اور پروگرام نشر کر رہے ہیں۔ ان حالات میں سب سے بڑی ذمہ داری سرکاری ٹی وی پر عائد ہوتی ہے وہ ہر گھر سے35روپے ماہانہ وصول کرتا ہے بے شک یہ رقم زبردستی بجلی کے بلوں میں شامل کر کے لے لی جاتی ہے تاہم پی ٹی وی کو ایسے ڈرامے اور پروگرام پیش نہیں کرنا چاہئیں جن کو خاندان کے ساتھ اکھٹے بیٹھ کر نہ دیکھا جا سکتا ہو۔ اس حوالے سے پیمرا کو نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کو مانیٹر کرنے میں اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہئے۔ غیر ملکی ڈراموں کے سوال پر انہوں نے کہا ان ڈراموں کی مقبولیت پانی کے جھاگ کی طرح ثابت ہوئی ہے۔ اس سے ہمیںکوئی خطرہ نہیں ہے۔ بھارت جیسے ملک میں بھی غیر ملکی ڈرامے نہیں دکھائے جاتے ، ان ڈراموں سے ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اب ان کی مقبولیت اور سحر ختم ہورہا ہے۔ ہمیں اپنے ڈرامے کو امپروکرنا چاہیے۔
    2gvsho3 - ورسٹائل اداکارعابد علی  ،تحریر : مرزا افتخاربیگ

  2. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:


  3. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    14,307
    Mentioned
    1067 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    4540
    Rep Power
    19

    Default Re: ورسٹائل اداکارعابد علی ،تحریر : مرزا افتخاربیگ

    2gvsho3 - ورسٹائل اداکارعابد علی  ،تحریر : مرزا افتخاربیگ

  4. #3
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    12,090
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    37
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ورسٹائل اداکارعابد علی ،تحریر : مرزا افتخاربیگ

    thanx 4 sharing


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •