Results 1 to 4 of 4

Thread: حکایت سعدیؒ ، فضول خرچی

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    17,253
    Mentioned
    1502 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5695
    Rep Power
    214771

    candel حکایت سعدیؒ ، فضول خرچی

    حکایت سعدیؒ ، فضول خرچی
    &amptemp hash7948e9f659a4f8c0498ef5de5093ef6d - حکایت سعدیؒ ،  فضول خرچی
    کہتے ہیں، ایک بادشاہ اپنے مصاحبوں کے درمیان خوش و خرم بیٹھا اس مطلب کے شعر پڑھ رہا تھا کہ آج دنیا میں مجھ جیساخوش بخت کوئی نہیں، کیونکہ مجھے کسی طرف سے کوئی فکر نہیں ہے۔ اتفاقاً ایک فقیر اس طرف سے گزرا جس کی حالت بہت بری تھی۔ وہ بادشاہ کی آواز سن کر رک گیا اور اونچی آواز میں اس مطلب کا شعر پڑھا کہ اے بادشاہ اگر خدا نے تجھے ہر طرح کی نعمتیں بخشی ہیں اور کسی قسم کا غم تجھے نہیں ستاتا تو کیا تجھے میرا غم بھی نہیں ہے کہ تیرے ملک میں رہتا ہوں اور ایسی خراب حالت میں زندگی گزار رہا ہوں؟ بادشاہ نے فقیر کی آواز سنی تو اس کی طرف متوجہ ہوا اور اس کی حالت سے آگاہ ہو کر کہا کہ سائیں جی، دامن پھیلائیے۔ ہم آپ کو کچھ اشرفیاں دینا چاہتے ہیں۔ بادشاہ کی یہ بات سن کر فقیر نے کہا کہ بابا، میں تو دامن بھی نہیں رکھتا۔ بادشاہ کو اس پر اور رحم آیا اور اس نے اسے اشرفیوں کے ساتھ بہت عمدہ لباس بھی بخشا۔ فقیر یہ چیزیں لے کر چلا گیا اور چونکہ یہ مال اسے بالکل آسانی سے مل گیا تھا اس لیے ساری اشرفیاں چند ہی دن میں خرچ کر ڈالیں اور پھر بادشاہ کے محل کے سامنے جا کر صدا لگائی۔ بادشاہ نے فقیر کی آواز سنی تو اسے بہت غصہ آیا۔ حکم دیا کہ اسے بھگا دیا جائے۔ یہ شخص بہت فضول خرچ ہے۔ اس نے اتنی بڑی رقم اتنی جلدی ختم کر دی۔ اس کی مثال تو چھلنی کی سی ہے جس میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔ جو شخص فضول کاموں میں روپیہ خرچ کرتا ہے وہ سچی راحت نہیں پاسکتا۔ جو شخص دن میں جلاتا ہے شمع کافوری نہ ہو گا اس کے چراغوں میں تیل رات کے وقت بادشاہ کا ایک وزیر بہت دانا اور غریبوں کا ہمدرد تھا۔ اس نے بادشاہ کی یہ بات سنی تو ادب سے کہا کہ حضور والا نے بالکل بجا فرمایا ہے، اس نادان نے فضول خرچی کی ہے۔ ایسے لوگوں کو تو بس ان کی ضرورت کے مطابق امداد دینی چاہیے۔ لیکن یہ بات بھی مروّت اور عالی ظرفی کے خلاف ہے کہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دیا جائے۔ حضور! اس کی بے تدبیری کو نظر انداز فرما کر کچھ نہ کچھ امداد ضرور کریں۔ دیکھے نہیں کسی نے پیاسے حجاز کے ہوں جمع آبِ تلخ پہ زمزم کو چھوڑ کر آتے ہیں سب ہی چشمۂ شیریں ہو جس جگہ پیا سے کبھی نہ جائیں گے دریائے شور پر اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے خیر اور بخشش کے بارے میں اہم نکات بیان فرمائے ہیں۔ (۱) جو لوگ صاحب اقتدار اور آسودہ حال ہیں انھیں زیر دستوں کی امداد سے غافل نہ رہنا چاہیے۔ (۲) یہ خیال رکھنا چاہیے کہ امداد سائل کے ظرف اور ضرورت سے زیادہ نہ ہو کہ وہ فضول خرچی کے گناہ سے بچا رہے۔ (۳) جس شخص کو خدا نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہوا سے غیر مستحق لوگوں کے سوال پر بھی بر ہم نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اس کی شہرت کے باعث ضرورت مندوں کا اس کے پاس آنا ایک فطری بات ہے بالکل یوں جسے شیریں پانی کے چشمے پر چرند پرند اور انسان سب جمع ہوتے ہیں۔ (۴) سائل کو چاہیے کہ جب وہ صاحب اقتدار لوگوں سے سوال کرے تو اس بات پر ضرور غور کر لے کہ ان کا مزاج برہم تو نہیں، کیونکہ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ کبھی اچھی بات پر ناراض اور کبھی بری بات پر خوش ہو جاتے ہیں۔
    2gvsho3 - حکایت سعدیؒ ،  فضول خرچی

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    17,253
    Mentioned
    1502 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5695
    Rep Power
    214771

    Default Re: حکایت سعدیؒ ، فضول خرچی

    2gvsho3 - حکایت سعدیؒ ،  فضول خرچی

  3. #3
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    12,571
    Mentioned
    1006 Post(s)
    Tagged
    2307 Thread(s)
    Thanked
    82
    Rep Power
    21474859

    Default Re: حکایت سعدیؒ ، فضول خرچی

    Thanks for sharing






  4. #4
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    17,253
    Mentioned
    1502 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5695
    Rep Power
    214771

    Default Re: حکایت سعدیؒ ، فضول خرچی

    Quote Originally Posted by Usm@n Butt View Post
    Thanks for sharing
    پسند اور جواب کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    2gvsho3 - حکایت سعدیؒ ،  فضول خرچی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •