Results 1 to 4 of 4

Thread: اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھیں

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    16,265
    Mentioned
    1348 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5375
    Rep Power
    22

    glass اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھیں

    اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھیں
    x23828 64778336pagespeediccEbjCEZhUk - اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھیں
    عبدالحفیظ ظفر

    رفیق غزنوی اپنے دور کے بڑے نامور موسیقار تھے۔ انہوں نے کئی سپرہٹ فلموں کا سنگیت دیا۔ 1941ء میں ریلیز ہونے والی سہراب مودی کی تاریخی فلم ’’سکندر‘‘ کی موسیقی مرتب کرنے کا اعزاز بھی رفیق غزنوی کو حاصل ہے۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت خوبصورت انسان تھے اور مردانہ وجاہت کا جیتا جاگتا نمونہ تھے۔ انہوں نے دو شادیاں کیں۔ ایک زہرہ بیگم سے اور ان کی دوسری بیوی کا نام تھا انوری۔ انوری سے ان کی بیٹی نسرین بھی اداکارہ تھیں اور وہ بھی بہت حسین تھیں۔ نسرین کی بیٹی سلمیٰ آغا ہیں۔ زہرہ بیگم کی بیٹی کا نام پروین تھا۔ جب پروین فلمی صنعت میں آئیں تو شاہینہ کہلائیں۔ شاہینہ کے بارے میں یہ متفقہ رائے ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت میں ان سے زیادہ حسین اداکارہ اور کوئی نہیں آئی۔ سبز آنکھوں اور گھنگریالے بالوں والی شاہینہ کے حسن و جمال کے چرچے ہر جگہ تھے۔ انہوں نے کل آٹھ فلموں میں کام کیا لیکن ہوا یوں کہ ان کا حسن ان کی اداکاری پر غالب آ گیا۔انہیں مختلف خطاب دیئے گئے۔ کوئی انہیں جنت کی حور کہتا تھا اور کسی نے کوہ قاف کی پری کہا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ وہ متکبر ہو گئی تھیں۔ اداکاری پر ان کی توجہ کم اور اپنے حسن کی حفاظت پر زیادہ تھی۔ لیکن پھر بھی انہوں نے کم از کم دو فلموں میں بہت اچھا کام کیا۔ اور ان فلموں میں انہوں نے جتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر ہمارے ہدایت کار ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارتے تو وہ بہت اچھی اداکارہ بن سکتی تھیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اتنی کم فلموں میں کام کرنے کے باوجود شاہینہ نے اپنے حسن و جمال کی بدولت بے پناہ شہرت حاصل کی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وہ کراچی جاتی تھیں تو سندھ کے روسا اور جاگیردار ان کے استقبال کے لئے موجود ہوتے تھے ان کا فلمی سفر 50ء کی دہائی سے شروع ہوا اور 60ء کے آخر میں اختتام پذیر ہو گیا۔ شاہینہ کی پہلی فلم پنجابی تھی جس کا نام تھا ’’بیلی‘‘۔ یہ فلم 1950 ء میں ریلیز ہوئی۔ اس کے ہدایت کار مسعود پرویز تھے جن کا شمار پاکستانی فلمی صنعت کے بہترین ہدایت کاروں میں ہوتا تھا۔ شاہینہ کی اس فلم میں سنتوش کمار نے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ حالانکہ اس فلم میں صبیحہ خانم بھی تھیں لیکن ہیروئن کے لئے شاہینہ کا انتخاب کیا گیا۔ اس فلم میں تقسیم ِ ہند کے بعد ہونے والے فسادات کے بارے میں دکھایا گیا تھا۔ چونکہ ان فسادات کے زخم ابھی تازہ تھے اس لئے لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا اور یہ فلم باکس آفس پر ناکام ہو گئی۔ اس فلم میں شاہینہ، سنتوش کمار اور ایم اسماعیل نے اچھی اداکاری کی تھی لیکن اپنے موضوع کی وجہ سے یہ فلم کامیاب نہیں ہوئی۔ سعادت حسن منٹو کے افسانے پر بنائی جانے والی اس فلم کے گیت ناظم پانی پتی، امرتا پریتم اور احمد راہی نے تخلیق کئے جبکہ موسیقی رشید عطرے کی تھی۔ اتنی بڑی ٹیم کے باوجود ’’بیلی‘‘ ناکام ہو گئی۔ اِسی برس ہدایت کار امین ملک نے شاہینہ کو اس دور کے صف اوّل کے مزاحیہ اداکار نذر کے ساتھ فلم ’’جدائی‘‘ میں کاسٹ کیا۔ بدقسمتی سے اس فلم نے بھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھا اور قسمت کی دیوی شاہینہ پر مہربان نہ ہوئی۔ ’’جدائی‘‘ کی ناکامی کے بعد شاہینہ کو ہیروئن کے طور پر کاسٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور انہیں سائیڈ ہیروئن کے طور پر آزمایا گیا۔ یہ فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا۔ 1955ء میں انور کمال پاشا کی فلم ’’انتقام‘‘ میں انہوں نے منفی کردار ادا کیا۔ یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی اور شاہینہ کے علاوہ سنتوش کمار، علاؤ الدین اور ایم اسماعیل کی اداکاری کو بھی بہت سراہا گیا۔ فلم کا سکرپٹ بڑا زبردست تھا۔ ایم اسماعیل ایک دولت مند بوڑھا ہے جو ایک فیکٹری کا مالک ہے۔ وہ ایک نوجوان دوشیزہ شاہینہ کی زلفوں کا اسیر ہو جاتا ہے۔ شاہینہ صرف دولت حاصل کرنے کے لئے ایم اسماعیل سے شادی کر لیتی ہے لیکن وہ ایم اسماعیل سے بے وفائی کا ارتکاب کرتی ہے اور اس کی فیکٹری کے ایک ملازم سنتوش کمار کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ سنتوش کمار صبیحہ سے محبت کرتا ہے اور وہ شاہینہ سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلم کی کہانی میں کئی ڈرامائی موڑ آتے ہیں۔ علاؤ الدین نے ایک مداری کا کردار ادا کیا تھا جو فلم کے آخر میں شاہینہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔ شاہینہ نے اس مشکل کردار کو بڑی خوبصورتی سے نبھایا اور ثابت کیا کہ ہدایت کار اگر سمجھ دار اور ذہین ہو تو وہ اچھی اداکاری کر سکتی ہیں۔ اس کے بعد 1957ء میں سبطین فضلی کی فلم ’’آنکھ کا نشہ‘‘ ریلیز ہوئی۔ یہ بھی سپرہٹ ثابت ہوئی اور اس میں باقی اداکاروں کے ساتھ شاہینہ کی اداکاری کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ 1957 ء میں ہی ’’نگار‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس کی ہدایت کاری کے فرائض نعیم ہاشمی نے سرانجام دیئے تھے۔ انہوں نے اپنی اس فلم میں شاہینہ کو پھر ہیروئن کے طور پر کاسٹ کر لیا۔ فلم میں نعیم ہاشمی اور ایم اسماعیل جیسے اداکار تھے لیکن یہ فلم فلاپ ہو گئی۔ فلمی پنڈتوں کی رائے میں ’’نگار‘‘ ایک اچھی فلم تھی لیکن اس فلم کے ہیرو امان کی وجہ سے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ امان ایک نیا ہیرو تھا۔ وہ خود بھی ناکام ہوا اور فلم کو بھی ناکامی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ 1960ء میں شاہینہ نے فلم ’’غریب‘‘ اور پھر 1968ء میں ’’پاپی‘‘ میں کام کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ 1960ء کے بعد ان کی فلموں میں دلچسپی ختم ہو گئی تھی۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ وہ ایک باصلاحیت اداکارہ تھیں جنہیں مناسب کردار نہیں دیئے گئے۔ شاہینہ کی ہمیشہ یہ تمنا رہی کہ شائقین فلم انہیں صرف ان کی خوبصورتی کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ ایک اچھی اداکارہ کے طور پر بھی یاد رکھیں۔ انہوں نے ’’انتقام‘‘ اور ’’آنکھ کا نشہ‘‘ میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو ثابت بھی کر دیا تھا۔ شاہینہ کی بیٹی صبوحی کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ شاہینہ کا انتقال کراچی میں ہی 2004ء میں ہوا۔ پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ میں اُن کا ذکر ہمیشہ اچھے الفاظ میں کیا جاتا رہے گا۔
    2gvsho3 - اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھیں

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    16,265
    Mentioned
    1348 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5375
    Rep Power
    22

    Default Re: اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھی

    2gvsho3 - اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھیں

  3. #3
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    12,551
    Mentioned
    619 Post(s)
    Tagged
    2307 Thread(s)
    Thanked
    82
    Rep Power
    21474859

    Default Re: اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھی

    Thanks for sharing






  4. #4
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    16,265
    Mentioned
    1348 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5375
    Rep Power
    22

    Default Re: اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھی

    Quote Originally Posted by Usm@n Butt View Post
    Thanks for sharing
    پسند اور رائے کا شکریہ
    2gvsho3 - اداکارہ شاہینہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کی حسین ترین اداکارہ تھیں

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •