Results 1 to 4 of 4

Thread: اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    17,907
    Mentioned
    1534 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5776
    Rep Power
    214771

    glass اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا

    اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا
    23867 58085223 - اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا
    عبدالحفیظ ظفر

    1931ء میں ہندوستان میں پہلی بولتی فلم ’’عالم آرا‘‘ ریلیز ہوئی اس سے پہلے خاموش فلموں کا دور تھا۔ کچھ اداکار ایسے تھے جنہوں نے پہلے خاموش فلموں میں کام کیا اور جب بولتی فلموں کا آغاز ہوا تو انہوں نے ان فلموں میں بھی اپنی شاندار اداکاری کی۔ ایک اداکار ایسے تھے جنہوں نے خاموش اور بولتی فلموں میں یکساں مہارت سے کام کیا۔ وہ بہت حسین و جمیل تھے اور ان کی مردانہ وجاہت کے ہر طرف چرچے تھے۔ ان کا نام تھا گل حمید۔ 1905 میں نوشہرہ کے ایک گائوں پیر پیائی میں پیدا ہونے والے گل حمید قدرت کا ایک حسین تحفہ تھے یہ حقیقت ہے کہ صوبہ پختونخوا سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے ہر دور میں شہرت حاصل کی۔ دلیپ کمار، جنیت (امجد خان کے والد)، امجد خان، ونود کھنہ اور دیگر کئی فنکار ایسے ہیں جن کا تعلق خیرپختونخوا سے ہے بہت سے فلمی نقادوں کا یہ دعویٰ ہے کہ گل حمید جیسا وجیہہ اور دلکش ہیرو ہندوستان کی سکرین پر آج تک نہیں آیا۔ ان کے والد کا نام سیف اللہ خان تھا اور ان کے دیگر تین بھائیوں کا نام عبدالحمید خان، گل جمال خان اور سید جمال خان تھا۔ انہیں سب سے پہلے اے آر کار دار نے اپنی خاموش فلم ’’سرفروش‘‘ میں کاسٹ کیا جو 1930ء میں ریلیز ہوئی۔ 1931ء میں ان کی فلمیں ’’آتش عشق‘‘ اور ’’وانڈرنگ ڈانسر‘‘ ریلیز ہوئیں اور گل حمید کے نام کا ڈنکا ہر طرف بجنے لگا۔ گل حمید کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے پہلی پنجابی فیچر فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ میں کام کیا جو 1932ء میں ریلیز ہوئی۔ یہ فلم لاہور میں بنائی گئی اور اے آر کار دار نے اس کی ہدایات دیں۔ 1933 میں ان کی فلم ’’یہودی کی لڑکی‘‘ ریلیز ہوئی جو آغا حشر کاشمیری کے کھیل ’’یہودی کی لڑکی‘‘ سے ماخود تھی۔ پھر گل حمید نے مشہور زمانہ فلم ’’سیتا‘‘ میں کام کیا۔ اسے ایسٹ انڈیا فلم کمپنی نے پروڈیوس کیا تھا اور دیبا کی بوس نے اس کی ہدایات دی تھیں۔ یہ پہلی بولتی فلم تھی جسے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھیجا گیا جبکہ 1934 میں اسے وینس فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا۔ جہاں اس فلم کو اعزازی ڈپلومہ دیا گیا۔ 1934ء میں ریلیز ہونے والی گل حمید کی دوسری فلموں میں ’’چندرگپت، ممتاز بیگم، سلطانہ اور نائٹ برڈ شامل ہیں۔ 1935ء میں گل حمید کی کافی فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ’’کاروان حیات‘‘ اور ’’بھارت کی بیٹی‘‘ میں ان کی ہیروئن ’’رتن بائی‘‘ تھی۔ ان کی دیگر مشہور بولتی فلموں میں’’ سوتیلی ماں اور مرڈر‘‘ تھیں۔ اسی سال یاسمین بھی نمائش کے لئے پیش کی گئی جس میں ان کا نام بہرام تھا۔ 1936ء میں ان کی صرف تین فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ’’سنہرا سنسار، باغی سپاہی اور خیبر پاس‘‘ شامل ہیں۔ یہ سب سپرہٹ فلمیں ثابت ہوئیں۔ گل حمید نے خاموش فلموں کی مشہور اداکارہ پیشنس کوپر سے شادی کی جن کے ساتھ انہوں نے ’’باغی سپاہی، مرڈرر اور خیبر پاس‘‘ میں کام کیا۔ پیشنس کوپر کو خاموش فلموں کی مدھو بالا کہا جاتا ہے۔ لاہور میں اپناکیریئر شروع کرنے کے بعد گل حمید کلکتہ چلے گئے تھے جہاں انہوں نے بارہ سے زیادہ خاموش اور بولتی فلموں میں کام کیا۔ ان کی کچھ فلمیں ممبئی میں بھی بنائی گئیں۔ انہوں نے اے آر کار دار کی 10 فلموں میں کام کیا اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گل حمید جیسے اداکار کو ہندوستانی فلمی صنعت میں لانے اور ان کے فن کو نکھارنے میں کاردار نے کلیدی کردار ادا کیا۔ فلم ’’خیبر پاس‘‘ کی ہدایات گل حمید نے خود دی تھیں۔ گل حمید کی دیگر فلموں میں ’’صفدر جنگ، فریبی شہزادہ، فریبی ڈاکو، اور عورت کا پیار‘‘ شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گل حمید کی آواز بھی بہت دلکش تھی اور وہ پانی کے قریب رہنا پسند کرتے تھے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ جس گائوں میں پیدا ہوئے تھے اس کے نزدیک دریائے کابل تھا۔ گل حمید کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب انہیں اے آر کار دار نے اپنی مشہور فلم ’’باغی سپاہی‘‘ میں کاسٹ کیا تو کہا ’’گل حمید تم نے اس فلم میں یادگار اداکاری کرنی ہے‘‘ اس پر گل حمید نے پرجوش لہجے میں کہا ’’سمندر کے بپھرے ہوئے پانیوں کی قسم، ایسی اداکاری کروں گا کہ دنیا ہل کر رہ جائے گی‘‘۔ وہ جو کہتے ہیں کہ زندگی ہے تو بڑے سے بڑا مقصد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اگر زندگی بے وفائی کر جائے تو پھر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ گل حمید اس لحاظ سے بدقسمت رہے کہ انہیں زیادہ مہلت نہ ملی۔ اہیں گلے کی بیماری لاحق ہوگئی جس کا اس زمانے میں کوئی علاج نہ تھا۔ 1936ء میں یہ جوان رعنا صرف 31 برس کی عمر میں سب کو روتا ہوا چھوڑ کر موت کی وادی میں اتر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ گل حمید اپنی موت سے کچھ ہفتے پہلے اپنے گائوں چلے گئے تھے جہاں انہیں کسی نے بتایا کہ کلکتہ میں ایک حکیم صاحب ہیں جن کے پاس ان کی بیماری کا شافی علاج ہے۔ گل حمید کلکتہ پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ حکیم صاحب فریضہ حج ادا کرنے گئے ہوئے ہیں۔ اس کے کچھ دنوں بعد ہی گل حمید چل بسے۔ اس لئے کہتے ہیں کہ تقدیر کا لکھا اٹل ہے۔ واقعی مشیتِ ایزدی کے سامنے کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ قرۃ العین حیدر کے افسانے ’’فوٹو گرافر‘‘ کا آخری فقرہ یاد آتا ہے ’’زندگی انسانوں کو کھا گئی، کاکروچ زندہ رہیں گے‘‘۔
    2gvsho3 - اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    17,907
    Mentioned
    1534 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5776
    Rep Power
    214771

    Default Re: اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا

    2gvsho3 - اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا

  3. #3
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    12,586
    Mentioned
    1006 Post(s)
    Tagged
    2307 Thread(s)
    Thanked
    85
    Rep Power
    21474859

    Default Re: اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا

    thanks for sharing






  4. #4
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    17,907
    Mentioned
    1534 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5776
    Rep Power
    214771

    Default Re: اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا

    Quote Originally Posted by Usm@n Butt View Post
    thanks for sharing
    پسند اور رائے کا شکریہ
    2gvsho3 - اداکارگل حمید 30 کی دہائی میں انہوں نے خوب نام کمایا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •