نئی نئی تنہائی کو
ڈھانپو اس رسوائی کو
حمدیں‘ نظمیں رام کریں
برسوں کی گھبرائی کو
میرے غم کو آنچ ملے
تیری تلخ نوائی کو
آگ کی خواہش رہتی ہے
بجھتی دِیا سلائی کو
دو آنکھیں خود کہتی ہیں
ماپو اس گہرائی کو
آگے پیچھے ہم اور تم
بیچ میں رکھیں کھائی کو
کس درویش کی حاجت ہے
خود سے چُور خدائی کو
گجروں کی محتاج نہیں
تھامو زرد کلائی کو
درد کے ہجّے اور کرو
خرچ کرو تنہائی کو
اتنا مہنگا حُسن ترا
آگ لگے مہنگائی کو
عامر سہیل