Results 1 to 2 of 2

Thread: روبن گھوش اس موسیقار نے اپنی دھنوں سے سب کو مدہوش کیے رکھا

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    17,287
    Mentioned
    1510 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5715
    Rep Power
    214771

    glass روبن گھوش اس موسیقار نے اپنی دھنوں سے سب کو مدہوش کیے رکھا

    روبن گھوش اس موسیقار نے اپنی دھنوں سے سب کو مدہوش کیے رکھا
    عبدالحفیظ ظفر
    اوپی نیّر نے ایک بار واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ سنگیت صرف پنجاب اور بنگال کی میراث ہے۔ جتنے بڑے سنگیت کار پنجاب اور بنگال نے پیدا کئے، برصغیر کا کوئی اور خطہ اس بارے دعویٰ نہیں کر سکتا… یہ بات غلط نہیں پنجاب اور بنگال کے موسیقاروں نے جو دھنیں تخلیق کیں، ان کا واقعی کوئی جواب نہیں۔ بنگال سے تعلق رکھنے والے سنگیت کاروں میں ایس ڈی برمن، آرڈی برمن، سلیل چوہدری ہیمنت کمار، اتوپم گھاتک، پنکج ملک، کمل داس گپتا، شیامل گپتا اور رائے چندبورل شامل ہیں۔ ان میں ایس ڈی برمن، آر ڈی برمن، سلیل چوہدری اور ہیمنت کمار وہ سنگیت کار تھے جنہوں نے بنگالی اور ہندی دونوں زبانوں کی فلموں میں موسیقی دی اور ایک عالم کو متاثر کیا۔ بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک اور بے مثل سنگیت کار روبن گھوش بھی تھے جنہوں نے بنگالی اوراردو زبان کی فلموں میں مسحور کن موسیقی دے کر اپنی فنی عظمت کا سکہ جمایا۔ بنگال کے اس جادوگر کی موسیقی کا اسلوب یقینا سب سے جدا تھا۔ جس طرح خواجہ خورشید انور کی دھنیں اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں اسی طرح روبن گھوش کا سنگیت بھی اپنی انفرادیت کی وجہ سے ابھی تک اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بنگال کے اس ساحر نے رونا لیلیٰ، نیرہ نور، مہناز، احمد رشدی، مہدی حسن، عالمگیر، غلام عباس، اے نیر اور اخلاق احمد سے ایسے گیت گوائے جن کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے میڈم نور جہاں سے ایک بھی فلمی گیت نہیں گوایا۔ روبن گھوش 13 ستمبر 1939ء کو بغداد (عراق) میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد ریڈ کراس کیلئے کام کرتے تھے۔ 1945ء میں ان کا خاندان کلکتہ چلا گیا جہاں روبن گھوش نے موسیقی کی تربیت حاصل کرنا شروع کی۔ 50 کی دہائی کے آخر میں روبن گھوش کے ایک دوست نے انہیں ڈھاکہ ریڈیو سٹیشن پر کام کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے موسیقی میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وہ وہاں گرامو فون ریکارڈ اکٹھا کرتے تھے اور ہارمونیم بجاتے تھے۔ انہوں نے اپنے اسی دوست کی بہن جھرنا باسک (جن کا اب نام شبنم ہے) سے شادی کر لی۔ جھرنا باسک کبھی کبھی بنگالی فلموں میں کام کر تی تھیں، 1966ء میں روبن گھوش ایک بیٹے (رونی گھوش) کے باپ بن گئے۔روبن گھوش جب نوجوان تھے تو انہوں نے معروف موسیقار سلیل چوہدری کے ساتھ کام کیا۔ بعد میں وہ موسیقار مصلح الدین کے اسسٹنٹ بن گئے۔ ان کا تعلق بھی بنگال سے تھا اور انہوں نے پاکستان میں کئی اردو فلموں کا سنگیت دیا۔ 1960ء کے شروع میں ہدایت کار احتشام ڈھاکہ ریڈیو اسٹیشن آئے اور انہوں نے روبن گھوش کو اپنی فلموں کی موسیقی کیلئے ایک معاہدے کی پیشکش کی۔ ان کی پہلی فلم بنگالی زبان میں تھی جس کا نام تھا ’’راج دھنیر بو کے‘‘ اس کے بعد انہوں نے کئی بنگالی اور اردو فلموں کی موسیقی دی۔ 1962ء میں انہوں نے ’’چندا‘‘ اور 1963ء میں ’’تلاش‘‘ کی موسیقی ترتیب دی۔ یہ دونوں فلمیں سپرہٹ ثابت ہوئیں۔ پھر 1967ء میں ’’چکوری‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ ’’بھیا‘‘ اور ’’تم میرے ہو‘‘ کی ریلیز کے بعد وہ کراچی آ گئے۔ 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد روبن گھوش اور شبنم نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں 1972ء میں نذر الاسلام کی فلم ’’احساس‘‘ میں انہوں نے شاندار موسیقی دی اور اس کے تمام گانے سپرہٹ ہوئے۔ خاص طور پر سرور بارہ بنکوی کا لکھا ہوا۔ یہ گیت ’’ہمیں کھو کر بہت پچھتائو گے جب ہم نہیں ہوں گے‘‘نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی دھوم مچا دی۔ اس کے بعد 1974ء میں ان کی دو فلموں نے اہل موسیقی کے دل جیت لئے۔ یہ فلمیں تھیں ’’چاہت‘‘ اور ’’شرافت‘‘۔ مہدی حسن کے دو گیتوں نے ان فلموں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ چاہت کا گیت ’’پیار بھرے دو شرمیلے نین‘‘ خواجہ پرویز کا لکھا ہوا تھا۔ یہ گانا آج بھی اتنا ہی مقبول ہے جتناکہ اس وقت۔ ویسے تو اخلاق احمد کا گایا ہوا یہ نغمہ بھی بہت ہٹ ہوا ’’ساون آئے ساون جائے‘‘ اسی طرح کلیم عثمانی کا لکھا ہوا یہ لافانی گیت ’’تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے لہریں بھی ہوئیں مستانی سی‘‘ نے بھی مقبولیت کے تمام ریکارڈ پاش پاش کر دیئے یہ فلم ’’شرافت‘‘ کا گیت تھا۔ 1977ء میں ’’آئینہ‘‘ ریلیز ہوئی تو اس کی موسیقی نے ثابت کر دیا کہ روبن گھوش ایک نادر روز گار سنگیت کار ہیں۔ یہ فلم بہت کامیاب ہوئی اور کراچی کے ایک سینما میں پانچ سال تک نمائش پذیر رہی۔ ’’آئینہ‘‘ کو پاکستان کی عظیم ترین فلموں میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس فلم کے کس کس گیت کا ذکر کیا جائے۔ عالمگیر، مہناز، نیرہ نور اور مہدی حسن نے لاجواب گیت گائے۔ 1978ء میں ’’زندگی‘‘ 1979ء میں ’’بندش‘‘، 1980ء میں ’’قربانی‘‘ اور پھر 1982ء میں ’’آہٹ‘‘ کی موسیقی نے بھی لوگوں پر جادو کر دیا۔ ذیل میں ہم روبن گھوش کے چند انتہائی خوبصورت نغمات کا ذکر کر رہے ہیں۔ -1 کبھی تو تم کو یاد آئیں گی (چکوری) -2 ہمیں کھو کر بہت (احساس) -3 پیار بھرے دو شرمیلے نین (چاہت) -4تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے(شرافت) -5 سالگرہ کا دن آیا ہے (زندگی) -6 روٹھے ہو تم ، تم کو کیسے (آئینہ) -7 کبھی میں سوچتا ہوں (آئینہ) -8 مجھے دل سے نہ بھلانا (آئینہ) -9 ایسے وہ شرمائے (دو ساتھی) -10 سماں یہ خواب کا سماں (نہیں ابھی نہیں) -11 رت آئے، رت جائے (آہٹ) ان کی مشہور فلموں میں ’’چندا‘‘، تلاش، چکوری، احساس، تم میرے ہو، چاہت، شرافت، آئینہ، زندگی، بندش، قربانی، آہٹ، دوریاں ،نہیں ابھی نہیں اور جو ڈر گیا وہ مر گیا‘‘، قابل ذکر ہیں۔ ان کی 90 فیصد فلمیں کامیاب ہوئیں۔ روبن گھوش مقدار نہیں بلکہ معیار پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے 30 برس میں صرف 25 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ 2010ء میں وہ 15 برس بعداپنی اہلیہ شبنم کے ہمراہ پاکستان آئے تو ان کا یادگار استقبال کیا گیا، 2016ء میں اس عظیم سنگیت کا رکا ڈھاکہ میں انتقال ہو گیا۔ ۔۔۔
    2gvsho3 - روبن گھوش اس موسیقار نے اپنی دھنوں سے سب کو مدہوش کیے رکھا

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    17,287
    Mentioned
    1510 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5715
    Rep Power
    214771

    Default Re: روبن گھوش اس موسیقار نے اپنی دھنوں سے سب کو مدہوش کیے رکھا

    2gvsho3 - روبن گھوش اس موسیقار نے اپنی دھنوں سے سب کو مدہوش کیے رکھا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •