شکر
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہر انسان 360جوڑوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے جس شخص نے اللہ اکبر، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ اور استغفراللہ کہا۔ لوگوں کے راستہ سے کوئی پتھر ہٹایا، کوئی کانٹا یا کوئی ہڈی راستہ سے ہٹائی، نیکی کاحکم دیا، یا برائی سے روکا تو یہ 360جوڑوں کی تعداد (کے برابر شکر) ہے اور اس دن وہ اس حال میں چل رہا ہوگا کہ جہنم سے آزا دہوگا۔
(مسلم ، کتاب الزکوۃ )
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات سے راضی ہوتے ہیں کہ بندہ کھانا کھاکر اور پانی پی کر اس کا شکر ادا کرے۔
(مسلم ،کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار )
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس قدر (نفل) نمازیں پڑھیں کہ آپؐ کے قدم مبارک سوج گئے۔ آپؐ سے کہا گیا آپؐ اس قدر مشقت کیوں اٹھا رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت فرمادی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
(مسلم ، کتاب صبغہ والقیامۃ والجنۃ والنار)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔
(سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب الادب :4811)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کوکوئی چیز (ہدیہ، تحفہ وغیرہ) دی جائے اور اگر اس کے پاس کچھ ہو تو بدلے میں دے اگر اس کے پاس کچھ نہ ہو تو پھر اس کی تعریف کرے ۔جس نے اس کی تعریف کی اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے اسے (ہدیہ وغیرہ) چھپایا تو اس نے اس (ہدیہ تحفہ وغیرہ) کا انکار کیا۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4813)
ضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جسے کوئی ہدیہ ملے وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے شکریہ ادا کیا اور جو اسے چھپائے تو اس نے اسکا انکار کیا۔
(سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب الادب :4814
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپؐ کے ساتھ کوئی خوش کن واقعہ پیش آتا یا آپؐ کو کوئی خوش خبری سنائی جاتی تو آپؐ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ ریز ہوجاتے۔
(سنن ابی داوُد، جلد دوم کتاب الجہاد :2773)
حضرت ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی کام کی خوشخبری آئی اور آپؐ اس سے خوش ہوئے پس آپؐ سجدے میں گر پڑے۔
(جامع ترمذی جلد اول باب جہاد :1578)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔ بعض صحابہ کرامؓ نے کہا کاش، ہمیں علم ہوجائے کہ کون سا عمل بہتر ہے تو ہم اس کو کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بہترین زبان وہ ہے جو ذکر الہٰی میں مصروف رہتی ہے۔ اور بہترین دل وہ ہے جو (اللہ تعالیٰ کے انعامات پر) شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ اور بہترین ایماندار بیوی وہ ہے جو دینی امور میں اپنے خاوند کی معاونت کرتی ہے۔
(ترمذی، ابن ماجہ)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جس شخص میں دو عادتیں ہوں اللہ تعالیٰ اس کو شاکرین اور صابرین کی جماعت میں شمار کرتے ہیں اور جس میں یہ دو عادتیں نہ پائی جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کو شکر اور صبر کرنے والوں میں نہیں لکھتے۔ جو شخص دین میں اپنے سے بہترکو دیکھے اور اس کی پیروی کرے اور دنیا کے بارے میں اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کو دیکھے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ (اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے) اس کو ان لوگوں سے بہتر حالت میں رکھا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو شکر اور صبر کرنے والوں میں لکھ دیتے ہیں اور جو شخص دین کے بارے میں اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھے اور دنیا کے بارے میں اپنے سے اونچے لوگوں کو دیکھے اور دنیا کے کم ملنے پر افسوس کرے تو اللہ تعالیٰ نہ اس کو صبر کرنے والوں میں شمار فرمائیں گے نہ شکر گذاروں میں شمار فرمائیں گے۔
(ترمذی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندہ سے بے حد خوش ہوتے ہیں جو لقمہ کھائے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے یا پانی کا گھونٹ پئے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔
(مسلم)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص پر احسان کیا گیا اور اس نے احسان کرنے والے کو جزاک اللہ خیرا ( اللہ تعالیٰ تم کو اس کا بہتر بدلہ عطا فرمائے کہا) تو اس نے (اس دعا کے ذریعہ) پوری تعریف کی اور شکر ادا کردیا۔
(ترمذی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو (ایک دن) مہاجرین نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ! جن کے پاس ہم آئے ہیں ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے (یعنی انصار مدینہ) کہ اگر ان کے پاس فراخی ہو تو خوب خرچ کرتے ہیں اور اگر کمی ہو تو بھی ہماری غم خواری اور مددکرتے ہیں۔ انہوں نے محنت اور مشقت کا ہمارا حصہ تو اپنے ذمہ لے لیا ہے اور نفع میں ہم کو شریک کرلیا ہے۔ (ان کے اس غیر معمولی ایثار سے) ہم کو اندیشہ ہے کہ سارا اجرو ثواب انہی کے حصے میں نہ آجائے (اور آخرت میں ہم خالی ہاتھ رہ جائیں) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں ایسا نہیں ہوگا جب تک اس احسان کے بدلہ تم ان کے لئے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف یعنی ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے۔
(ترمذی)