Page 2 of 20 FirstFirst 123412 ... LastLast
Results 11 to 20 of 198

Thread: Ek Larki Thi Deewani Si

  1. #11
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    ایک عورت جنت میں فرشتے سےundecided - Ek Larki Thi Deewani Si

    میرا نکاح میرے دنیاوی شوھر سے کروادیں۔

    فرشتہundecided - Ek Larki Thi Deewani Si

    نکاح تو کروا دیں گے پھلے کوئی مولوی تو جنت میں آئے۔

    ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہ
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  2. #12
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    اخبار کے ایڈیٹر نے سب ایڈیٹر سے کہا:
    “ یہ تم نے کیا سُرخی بنائی ہے؟ بیوی میں دھماکہ ؟؟“۔
    سب ایڈیٹر نے مؤدب لہجے میں جواب دیا:
    “ جناب میں نے تو خبر کو آسان الفاظ میں لکھا ہے“۔
    “ خبر کے اصل الفاظ کیا ہیں“۔ ایڈیٹر نے پوچھا تو سب ایڈیٹر نے جواب دیا:
    “ ۔۔۔۔۔۔۔ میاں والی میں دھماکہ ۔۔۔۔!!!!!!“
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  3. #13
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    بیوی نے شوہر کو مطلع کیا۔“آپ کی خالہ نے ہماری بچی کی سالگرہ پر جو پازیب تحفے میں دی ہے وہ چاندی کی ہرگز نہیں ہے۔“
    “تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو۔تمھیں کیا چاندی کی پہچان ہے۔؟“شوہر نے ذرا خفگی سے کہا۔
    “مجھے چاندی کی تو پہچان نہیں ہے لیکن میں تمھاری خالہ کو اچھی طرح جانتی ہوں۔“بیوی نے جواب دیا۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  4. #14
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    سیاستدانوں سے بھری ہوئی ایک بس بے قابو ہو کر ایک کھیت میں جا گھسی۔۔شور کی آواز سن کر ایک کسان فارم ہاؤس سے باہر نکلا اور ایک بڑھا گڑھا کھود کر سارے سیاستدانوں کو دفنا دیا۔۔دو دن بعد پولیس کا وہاں سے ذکر ہوا۔۔انہوں نے کسان سے بس کا معاملہ دریافت کیا۔۔
    کسان نے تفصیل بتائی تو انسپکٹر نے پوچھا۔۔
    ‘‘کیا تمام سیاستدان مر چکے تھے ؟‘‘
    کسان نے جواب دیا۔۔‘‘کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہیں‘ مگر آپ کو تو پتا ہے نا جناب‘ سیاستدان کتنا جھوٹ بولتے ہیں۔۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  5. #15
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    ایک شخص کی سوتیلی ماں کے تین بھائی یعنی اس کے ماموں اس کو ہر وقت نقصان پہنجانے کے لیے تیا ر رہتے ہیں وہ شخص ہوتا بھی عقلمند ہے اور اپنے تینوں مامووںسے بدلہ لینے کا سوچتا ہے
    ایک دن وہ شخص کیا کرتا ہے کہ گدھا کو اشرفیاں کھلا دیتا ہے اور پھر خوب سارا چارا اور جب اس کے وہ تینوں ماموں اس سے ملنے آتے ہیں تو کہتا ہے کہ ماموں کیا کروں میں پریشان ہوں ۔۔۔ اس گدھاکے گوبر کے ساتھ اشرفیاں نکلتی ہیں اس وجہ سے لوگ اس کو مجھ سے لینا چاہتے ہیں جبکہ میں ایسا نہیں چاہتا
    کچھ دیر بعد وہ تینوں ماموں اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیتے ہیں پھر وہ تینوں ماموں کہتے ہیں بھانجے تو ہم سے پیسے لے کر ہمیں دے دے وہ کہتا ہے نہیں پیسے تو ایک دن ختم ہو جائیں گے لیکن اشرفیوں والا سلسلہ میں کیسے چھوڑ دوں الغرض بہت بحث کے بعد وہ بھانجا اپنے مامووں کو منہ مانگی رقم پر گدھا دے دیتا ہے ۔
    لیکن جب ماموں وہ گدھا لے کر گھر جاتے ہیں اور اس کے گوبر میں سے ایک اشرفی کے بعد اشرفیاں نکلنا بند ہو جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ کیا اشرفیاں کیوں نہیں نکل رہیں تو ان کی بیویاں کہتی ہیں کہ پاگل ہوئے ہو گدھا کے گوپر سے بھی کبھی اشرفیاں نکلی ہیں اب مامووں کی سمجھ میں آتا ہے کہ بھانجے نے ہمیں بیوقوف بنا دیا ہے وہ دوبارہ اس کے پاس جاتے ہیں تو اسے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں ان کا بھانجا ایک بازار میں سوٹ میں ملبوس اور ایک ہاتھ میں خرگوش لیے بیوپاریوں سے سودے کرنے میں مصروف ہے


    ماموں اس کے ٹھاٹ دیکھ کر اپنی بات ہی بھول جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھانجے یہ شان کیسی کہتا ہے کہ ماموں میں نے ایک خرگوش لیا ہے یہ لگتا تو خرگوش ہے لیکن ایسا نہیں یہ موبائل ہے ۔۔ کیا مطلب دیکھیئے میں اس سے کہوں گا کہ جاو گھر جاکرمیری بیوی سے کہو کہ ماموں آرہے ہیں مچھلی ، کڑاہی وغیرہ تیا ر کرو وہ یہ کہہ کر خرگوش کو چھوڑ دیتا ہے جب گھر پہنچتے ہیں تو واقعی اس کی بیوی نے وہ چیزیں تیار کی ہوتی ہیں اور خرگوش ایک کونے میں موجود ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں اسی خرگوش کی مدد سے اپنے کاروبار کو چمکا رہا ہوں لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہوں۔ حالانکہ اس نے ایک جیسے خرگوشوں کی جوڑی لی ہوتی ہے گھر میں موجود خرگوش دوسرا ہوتا ہے اور وہ بیوی کو کھانے کا پہلے سے بول کر گیا ہوتا ہے۔ لیکن ماموں اس پر بضد ہو جاتے ہیں کہ ہمیں بیچ دو وہ پس وپیش کے بعد بیچ دیتا ہے
    پھر ماموں اپنے ایک کاروباری دوست پر رعب ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھو یہ جو خرگوش ہے نا یہ موبائل ہے وہ کہتا ہے کہ کیا کہہ رہے ہو بھائی وہ کہتے ہیں کہ دیکھو میں اس کو کہوں گا کہ میری بیوی سے جاکر کہو میر ا دوست آرہا ہے اس کے لئے کھانا
    تیار کرو یہ جا کر بتا ئے گا

    یہ کہہ کر ماموں اس خرگوش کو چھوڑ دیتے ہیں اور گھر پہنچتے ہیں اور بیوی سے کہتے ہیں کہ کھانا لے آو جو میں نے کہلوایا تھا وہ کہتی ہے کون سا کھانا تو ماموں کہتے ہیں وہی جو میں نے اپنے خرگوش موبائل سے کہلوایا تھا وہ کہتی ہے کہ ہوش میں تو ہو خرگوش کبھی موبائل ہوا ہے ماموں بڑے سٹپٹاتے ہیں اب جب ان کی سمجھ میں یہ آتا ہے کہ بھانجے نے پھر دھوکا کیا ہے تو آگ بگولا ہو جاتے ہیں اور غصے کے عالم میں اس کے گھر کا رخ کرتے ہیں لیکن ہوتا کیا ہے
    بھانجے میاں کو پہلے سے علم ہوتا ہے وہ کرتا کیا ہے کہ اپنی بیوی کے گلے پر اچھی طرح سے گوبر کی ایک تہہ چڑھاتا ہے اور پھر اس کے بعد لال رنگ کی اچھی طرح اس میں بھرتا ہے اور ایک اور تہہ اس پر چڑھا دیتا ہے وہ بیوی کو پہلے سے سمجھا دیتا ہے کہ جب ماموں پہچتے ہیں تو تم لڑنا جھگڑنا شروع کر دینا بیوی ایسا ہی کرتی ہےاور کہتی ہے کہ تمھارے ماموں روز آجاتے ہیں انہیں اپنے گھر میں سکون نہیں ہے وہ کہتا ہے کہ دیکھو میں مامووں کے بارے میں ایک لفظ نہیں سن سکتا وہ بیوی کو برا بھلا کہتا ہے اور لٹا کر چھری اس کے گلے پر پھیرنے لگتا ہے اندروالی تہہ سے لال رنگ نکلنے لگتا ہے ماموں کہتے ہیں یہ تو نے کیا کیا تو نے اپنی بیوی کو ہماری وجہ سے قتل کر دیا ایسا کیو ں کیا تو نے وہ کہتا ہے کہ ماموں دیکھو میں اس چھری کو دوبارہ اس پر بھیروں گا اور یہ زندہ ہو جائے گی ۔ماموں کہتے ہیں کہ کیسے وہ کہتا ہے کہ آپ ابھی دیکھ لیں وہ چھری دوبارہ پھیرتاہے اور اس کی بیوی اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے ماموں کہتے ہیں کہ یہ تو کمال کی چیز ہے ہمیں دے دو وہ کہتا ہے نہیں ماموں یہ چھری میں آپ کو نہیں دے سکتا آخر کافی بحث کے بعد وہ دے دیتا ہے

    پھر ماموں کی اپنی بیوی سے معمولی بات پر لڑائی ہو جاتی ہے وہ سوچتا ہے کہ کیوں نا چھری کو آزمایا جائے وہ چھری سے بیوی کا گلا کاٹ دیتا ہے اتنے میں اس کے سالے بھی آجاتےہیں وہ تو ماموں کو جان سے مارنے کے درپر پو جاتے ہیں تو ماموں کہتے ہیں کہ ابھی میں اسے زندہ کر دیتا ہوں اور پھر دوبارہ چھری پھیرتے ہیں تو وہ زندہ نہیں ہوتی اب تو ماموں کو جان نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کسی نہ کسی طرح بھاگ کر اپنی جان بجاتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ بھانجے کو کسی صورت میں چھوڑنا نہیں ہے اور تنیوں انتہائی غصے کے عالم میں بھانجے کے گھر جاتے ہیں ۔
    بھانجا کیا کرتا ہے کہ ایک کچی سے چار طرف سے دیوار بنا کر اسے اوپر سے ڈھانک دیتا ہے ایک سوراخ رکھتا ہے اس میں اور اس کے اندر قینچی لے کر بیٹھ جاتا ہے جب ماموں اس کے گھر پہنچتے ہیں تو اس کی بیوی رو رہی ہوتی ہے تو ماموں پوچھتے ہیں کہ بھانجا کدھر ہے وہ کہتی ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا میں نے یہیں اس کا مقبرہ بنا دیا ہے وہ اس کے اندر سوراخ میں سے جھانکتے ہیں وہ قنیچی سے ان کی ناک کاٹ دیتا ہے ماموں تکلیف سے بلبلا جاتے ہیں الغرض وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں اور بوری میں بند کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے کنوٰیں میں پھینکے گے وہ اس کو لے کر جا رہے ہوتے ہیں کہ راستے میں مسجد میں نماز کے لییے رک جاتے ہیں اور بوری کو باہر ہی چھوڑ دیتے ہیں
    وہ بوری میں پھدکنا شروع کردیتا ہے اتنے میں ایک نوجوان بوری کھول دیتا ہے
    وہ نوجوان کہتا ہے تم کون ہو اور اس بوری میں کیوں ہو وہ کہتا ہے کہ مجھے میرے ماموں لے کر جارہے ہیں ان کی ایک خوبصورت لڑکی ہے یہ زبردستی اس سے میری شادی کروانا چاہتے ہیں لیکن میں بضد تھا کہ میں اپنی بچپن کی منگیتر سے ہی شادی کروں گا ۔ وہ لڑکا کہتا ہے کہ چلو مجھے اس میں بند کر دو میں تیار ہوں وہ اس کو بند کر دیتا ہے اور خود گھر جاکرمال مویشی وغیرہ خریدتا ہے اور اپنے رہن سہن کو شاہانہ بنانے کا ہر ممکن اہتمام کرتا ہے
    ادھر ماموں اس بوری کو اٹھاکر کنویں میں ڈال دیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ چلو اس کو تو انجام تک پہنچا دیا
    لیکن جب واپس آتے ہیں تو اس کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں وہ خود بھاگا ماموں کے پاس چلا آتا ہے اور ان کے ہاتھ چومنے لگتا ہے وہ ششدر رہ جاتے ہیں کہ بھانجے تو زندہ کیسے ہے اور تیرے یہ ٹھاٹ باٹ وہ کہتا ہے کہ ماموںمیرے پاس الفاط نہیں ہیں کہ کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں آپ نے تو کمال کر دیا وہ کہتے ہیں کہ کیا ہو ا بھانجا کہتا ہے کہ ماموں وہ کنواں نہیں میری زندگی سنوارنے کا ذریعہ تھا اس کنویں میں جاتے ہی اندر سے آواز آئی کے اے نوجوان یہ راز ہے کہ جو یہاں اس کنویں میں آتا ہے بظاہر لوگ اس کی موت سمجھ لیتے ہیں لیکن وہ ایک انتہائی بہتر زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے
    مامووں سے برداشت نہیں ہوتا اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ایک ایک کر کنویں میں کود جاتے ہیں

    ساجد
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  6. #16
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    ایک صاحب کی بیوی فوت ہوگئی، جنازہ لے جایا جا رہا تھا،جنازے کی چارپائی حادثاتی طور پر ایک کھمبے سے ٹکرا گئی اور ان کی بیوی اٹھ بیٹھی
    وہ کومہ میں تھی ) چند روز بعد وہ واقعی فوت ہو گئی۔ جنازہ پھر لے جایا جا رہا تھا۔ وہ صاحب جنازے کے آگے آگے آواز لگاتے جا رہے تھے۔" کھمبے سے بچا کے، بھیا
    ۔ کھمبے سے بچا کے
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  7. #17
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    ایک صاحب ہاپنتے کانپتے گھر پہنچے اور بیگم سے بولے بیگم آج میں نے پورے
    دو روپے کی بچت کی ہے ۔ بیگم نے پوچھا وہ کیسے ؟ کہنے لگے میں آج بس کے
    پیچھے بھاگتا ہوا آیا ہوں ۔ اس طرح جو دو روپے خرچ ہونے تھے بچ گےّ ۔ بیگم بولیں ‘
    احمق ؛ بچت ہی کرنا تھی تو ٹیکسی کے پیچھے بھاگتے کم ازکم پندرہ بیس روپے کی
    بچت ہوتی۔۔۔۔۔۔۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  8. #18
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    ایک پٹھان نے ایک بزرگ آدمی سے کچھ پوچھا
    بزرگ نے دو تھپڑ لگا دیئے،

    ایک آدمی قریب ھی کھڑا تھا اس نے پٹھان سے پوچھا
    تم نے اس آدمی کو کیا بولا تھا۔

    پٹھان نے کہا، میں نے صرف پوچھا کہ چودہ اگست کی
    نماز کھاں ھوگی؟
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  9. #19
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    استاد صاحب اپنے ایک شاگرد سے سوال کرتے ہیں کہ بتائیے
    سومناتھ کا مندر کس نے توڑا تھا
    شاگرد کہتا ہے کہ ماسٹر صاحب قسم لے لیجئے میں نے نہیں توڑا
    ارے نالائق تمھیں یہ تک نہیں پتا کہ سومناتھ کا مندر کس نے توڑا تھا تمھاری میں ہیڈماسٹرصاحب سے شکایت کرتا ہوں اتنے میں ہیڈ ماسٹر صاحب کلاس میں آجاتے ہیں تو وہ استاد صاحب کہتے ہیں کہ سر اسے یہ تک نہیں معلوم کہ سومناتھ کا مندر کس نے توڑا تھا
    ہیڈماسٹر صاحب کہتے ہیں کہ چھوڑیے آپ زیادہ غصہ نہ کیجئے بچے ہیں ٹوٹ گیا ہو گا
    اب تو وہ استاد صاحب چکرا جاتے ہیں اور سیدھے وزیر تعلیم کے آفس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سر آپ نے مجھے کیسے اسکول میں بھیچ دیا جس کے ہیڈ ماسٹر کو بھی یہ نہیں پتا کہ سومناتھ کا مندر کس نے توڑا تھا
    وزیر تعلیم صاحب کہتے ہیں دیکھو توڑا جس نے بھی ہے پیسے تمھاری تنخواہ میں سے ہی کٹیں گے



    ساجد
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  10. #20
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ek Larki Thi Deewani Si

    ایک پٹھان کے گھر میں چور آجاتا ہے پٹھان اس کو پکڑ لیتا ہے پٹھان چور کو پکڑ کر سوچتا ہے کہ اب کیا کیا جائےوہ چور کو بولتا ہے کہ جاو جا کہ پولیس کو لے کر آو چور جانے لگتا ہے تو پٹھان سوچتا ہے کہ یہ تو بھاگ جائے گا ۔ پھر کہتا ہے کہ تم ادھر ہی ٹھرو میں چور لے کر آتی ہے ۔ پھر بولتا ہے کہ تمھارے کو تو باندھنا پڑے گا تمھارا پیر میں باندھ دیتا ہے پھرتم کدھر بھا گے گا ۔ پٹھان اس کے پیروں کو چارپائی کے ساتھ باندھ دیتا ہے اور پولیں اسٹیشن پہنچ جاتا ہے پولیس والوں کو بتا تا ہے ۔۔۔ خوچہ امارے گھرمیں چور آیا ام نے اس کو پکڑ لیا ۔ اس کا پیروں کو چارپائی سے باندھ کے آیا ہے تم لوگ چلو اس کو پکڑو ۔۔ پولیس والے کہتے ہیں تم نے پیروں کو باندھ دیا ۔۔ ہاتھ کھلے ہیں ۔۔پٹھان کہتا ہے ہاں ۔۔ ہاتھوں سے تھوڑی بھاگے گا ۔ پیروں سے بھا گے گا ام نے پیر باندھ دیے ۔ پولیس والے کہتے ہیں کہ چور بھاگ گیا ہوگا تم نے ہاتھ کھلے چھوڑ دیئے ہیں اس نے پیر کھول لیئے ہو ں گے ۔۔۔ پٹھان کہتا ہے کہ خوچہ یہ تو اماری سمجھ میں نہیں آیا ۔۔۔ پھر پٹھان کچھ سوچ کر کہتا ہے کہ وہ نئیں بھا گا ہو گا ۔۔ پولیس والے کہتے ہیں عجیب بات کر رہے ہو کیسے نہیں بھا گا ہو گا ۔۔۔ پٹھان کہتا ہے ام بولتا ہے نا کہ تم چلو وہ نہیں بھا گا ہو گا ۔ پولیس والے جب وہاں پہنچتے ہیں تو وہ واقعی پیروں سے بندھا ہوا وہاں موجود ہوتا ہے ۔ تو پولیس والے اس پٹھان سے پوچھتے ہیں کہ خان صاحب آپ کو کیسے یقین تھا کہ یہ نہیں گیا ہو گا ۔۔ پٹھان کہتا ہے کہ ام نے سوچا کہ
    خوچہ جب اماری سمجھ میں نئیں آیا کہ ہاتھوں سے کھول کر بھاگ سکتاہے تو یہ بھی تو پٹھان ہے اس کا سمجھ میں کیسے آئے گا

    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Page 2 of 20 FirstFirst 123412 ... LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •