Results 1 to 3 of 3

Thread: Laanat Hai Aisi Olaad Par

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Laanat Hai Aisi Olaad Par

    بیٹا میں بہت بوڑھا ہو گیا ہوں نہ اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اس لیے میرا بڑا بیٹا مجھے یہاں چوڑ گیا ہے۔پاگل خانے کا visit کے دوران ایک بزرگ سے بات کرتے ہوئے انہوں نیں بتایا ان کہ ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں سب بچوں کی شادی ہو چکی ہے ۔وہ کسی فیکٹری میں کام کرتے تھے پھر بڑھاپے کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے اور کام چھوڑ دیا ۔کمزوری کی وجہ سے بہت بیمار رہنے لگے ان کا کہنا ہے کہ بیٹوں کی شادی کے بعد بیٹے انہیں بوجھ سمجھنا شروع ہو گئے ۔اور ایک دن ان کا بڑا بیٹا ڈاکٹر سے ددائی دلوانے کہ بہانے یہاں لے آیا ۔یہ کہ کر کہ آپ ڈاکٹر صاحب کہ پاس کچھ دیر بیٹھیں میں ابھی آتا ہوں ۔سات ماہ ہو گئے ابھی تک واپس نہیں آیا۔
    اس طرح کہ بیشمار مظلوم افراد آپ کو ان پاگل خانوں میں ملیں گے جو شائد پاگل نہیں ہیں لیکن انہیں اس بے رحم معاشرے نے پاگل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
    قرآن کہتا ہے کہ ’’والدین کو اف تک مت کہو ‘‘
    ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ ’’والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے بیش آئو ‘‘
    ایک اور جگہ فرمایا ’’ اور آپ کے رب نیں فیصلہ کر دیا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرواور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘‘
    والدین کا اتنا درجہ ہے کہ ان کے دوستوں تک سے حسنِ سلوک اور احترام کا حکم دیا گیا ہے۔نبی  نیں فرمایا کی’’ سب سے زیادہ نیک سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرے۔
    کسی عاقل ،بالغ اور باشعور آدمی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے والدین کہ ساتھ اس قسم کا نازیبہ سلوک کرے۔ان والدین کے ساتھ جنہوں نیں ہمیں جنم دیا ہماری پرورش کی ہمارے لیے زندگی کی سہولیات فراہم کیں خود تکالیف برداشت کر کہ ہمارے لیے آسائیشیں پیدا کیں ۔
    ہمیں پہچان دی ۔ذرا سوچئے جس بندے کی کوئی پہچان نہ ہو جسے یہ پتہ نہ چلے کہ اس کا والد کون ہے کیا بیتتی ہے اس بندے پار یہ تو خدا بتا سکتا ہے یا وہ بندہ جس پر گزرتی ہے والدین کے نہ ہونے کا دکھ کیا ہوتا ہے یہ اس سے پوچھئے جس کے والدین بچپن میں ہی اسے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔اور ہم انسانیت کے ٹھیکے دار جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں جب انھیں ہمارے سہارے کی سخت ضرورت ہوتی ہے تو ان کے ساتھ یہ بدسلوکی کہ انہیں پاگل قرار دے کر پاگل خانوں میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔حرص ،لا لچ او ر طمع کی کالی پٹی آنکھوں پر باندھے یہ ظلم ڈھاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک دن وہ بھی بوڑھے ہونے والے ہیں ۔کتنی ستم ظریفی ہے کہ ان محسنوں کو ہم پاگل قرار دیتے ہیں۔
    لیکن کوئی بات نہیںوہ دوبارہ بولے میری زندگی ہی کتنی رہ گئی ہے ۔اور بھر ٹھیک ہی تو ہے وہ اپنی اپنی زندگی جی رہے ہیں میری دیکھ بھال کہاں کرتے میں بوجھ ہی تو تھا ان پر۔ بیٹا ملکی حالات ٹھیک نہیں اس منہگائی کہ دور میں ایک بیکار آدمی کا بوجھ کس کے پاس اتنا وقت ہے اور اتنا پیسہ جو برداشت کر سکے۔
    وہ کہتے جا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا میں ایک پاگل سے بات کر رہا ہوں ۔ ؟
    اتنے میں کسی دوسرے شخص نے ان سے میرے بارے پوچھا کہ بابا کون ہے کس سے باتیں کرر ہے ہو ۔
    بابا بولے ’’ ہمارے ہمسائے ہیں وہ جو سامنے لال دیوارہے نا اس کے پار والے پاگل خانے سے آئے ہیں‘‘
    بابا کی وہ بات آج تک سوچ رہا ہوں’’ کیا واقعی ہم دیوار کہ اس پار والے پاگل ہیں ؟
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  2. #2
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    839 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1180
    Rep Power
    21474971

    Default Re: Laanat Hai Aisi Olaad Par

    yeh sub bhot horaha hai
    pata nahi kaise ulad hia..
    saamajh se bahir..
    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Laanat Hai Aisi Olaad Par

    Sahi Kaha Naz
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •