Results 1 to 3 of 3

Thread: Hath Bhi Huzoor Ke Aur Darhi Bhi Huzoor Ki

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Hath Bhi Huzoor Ke Aur Darhi Bhi Huzoor Ki

    ایک بادشاہ کا اصول تھاکہ جب بھی دربار میں کوئ کھیل تماشا یا کوئ گانا بجانا وغیرہ ہوتا تو وہ اپنی گود میں ایک رومال ڈال لیتا اور اپنے ہاتھوں کی انگلیان اپنی داڑھی میں مارتا رہتا۔کھیل ختم ہونے پر رومال لپیٹ کر رکھ دیا جاتا اور اگلے روز دربار لگنے پر رومال کھول کر دیکھا جاتا۔داڑھی کے جتنے بال رومال میں موجود ہوتے اتنی ہی اشرفیاں انعام کے طور پر تماشا دکھانے والے کو عطا کر دی جاتیں۔ایک دن ایک قوال وہاں آ نکلا۔اس نے خوب محفل سجائ۔ بادشاہ کو خوب مزہ آیا۔بادشاہ پر اس روز کچھ اتنا اثر ہوا کہ وہ اپنے آنسو نہ روک سکا۔اسی طرح باقی دنوں کی نسبت اس دن داڑھی میں اسکی انگلیاں بھی کافی تیز چلتی رہیں۔ قوال بھی یہ سوچ کر کہ" آج تو خوب بال گرینگے" کافی خوش اور خوب زور لگا رہا تھا۔بالآخر محفل اختتام کو پہنچی۔بادشاہ نے قوال کی خوب تعریف کرتے ہوئے کہاکہ"محافل تو اس نے بہت دیکھیں مگر ایسا لطف کبھی نہ آیا اور یہ کہقوال واقعی بڑے انعام و اکرام کا مستحق ہے۔" یہ کہتے ہوئے اس نے رومال حسب معمول لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیااور سونے چلا گیا۔باقی درباری بھی سونے چلے گئے۔اب بچا قوال تو مارے خوشی کے اسے نیند کب آتی ہے۔بادشاہ نے نہ صرف اتنی تعریفیں کیں بلکہ داڑھی میں ہاتھ بھی تو آج بہت تیز چل رہا تھا۔بہت سارے بال گرے ہونگے بس یہی سوچ سوچ کر ساری رات آنکھوں میں کٹ گئ مگر صبح ہے کہ ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔آخر خدا خدا کر کے صبح ہو ہی گئ۔دربار لگا قوال کی بلائ ہوئ۔قوال خوشی خوشی حاضر ہوا، رومال کھلا کیا دیکھتا ہے کہ ایک بال بھی نہیں۔درباری بھی حیران کہ ایسا تو پہلے کبھی نہ ہواتھا۔سبھی پریشان تھے کہ قوال بے چارہ تو مفت میں رات بھر زور لگاتا رہا اور بادشاہ تو اصول توڑنے والا نہ تھا۔ کیا بنے گا آخر قوال کا؟ بادشاہ بھی اس صورت حال سے کافی مغموم اور بالکل چپ سادھے بیٹھا تھا۔ہر طرف ہو کا عالم، خاموشی ہی خاموشی۔
    ادھر قوال کافی دیر کھڑاالتجا بھری نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا مگر جیسے سبھی کو سانپ سونگ گیا ہو۔ قوال حالات بھانپ گیا اور ہمت کر کے خاموشی کو توڑتے ہوئے آخر کار بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا"حضور کیا حکم ہے میرے لیے؟" بادشاہ نے قوال کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا "تم جیسا بد بخت انسان ہم نے اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھا" قوال یہ سن کر جیسے سٹپٹا سا گیا۔ بولا"بندہ اگر جان کی امان پائے توکچھ عرض کرے"۔ " آج تمہیں اجازت ہے کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ بادشاہ نے سوالیہ انداز میں اجازت دیتے ہوئے کہا۔قوال بولا "حضور کا اصول تو اپنی جگہ درست۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔ "کچھ تاخیر کے بعد پھر کہنے لگا "اصل بات تو یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ داڑھی بھی حضور کی اور ہاتھ بھی۔ ورنہ اگر۔۔۔۔۔۔ داڑھی ہوتی حضور کی اور ہاتھ ہوتے میرے تو ساری کی ساری گود میں ہوتی
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  2. #2
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    836 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1180
    Rep Power
    21474971

    Default re: Hath Bhi Huzoor Ke Aur Darhi Bhi Huzoor Ki

    nice shairng
    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default re: Hath Bhi Huzoor Ke Aur Darhi Bhi Huzoor Ki

    Thxxx
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •