ایک شاعر صاحب کو شادی کے سولہ سال بعد دوسری شادی کا شوق پیدا ھوا
اور پھر اس نے اپنی پہلی بیوی سے اجازت نامہ طلب کرنے کے لئے ایک نظم لکھی اسے کے بول کچھ یوں ھیں

بیگم ، میری بیگم ، میرے دس بچوں کی اماں..... اے راحتِ دل ، راحت جان، راحتِ ارمان
اے روح کی ٹھنڈک ، میری تسکین کے ساماں..... اے سولہ برس سے میری نگراں، میری درباں
سو جان سے میں تجھ پہ فدا، اے میری دلدار..... اب دوسری شادی کا ہوں میں تجھ سے طلبگار
واللہ تیرے پیار میں دیوانہ ہوں اب بھی..... میں میکدہ ناز کا پیمانہ ہوں اب بھی
اس مشعلِ رخسار کا پروانہ ہوں اب بھی.....میں تیرا پرستارِ صنم خانہ ہوں اب بھی
احساس کی چنگاری بجھی اب بھی نہیں ہے.....واللہ محبت میں کمی اب بھی نہیں ہے
پانی میں تیرے آگے اسی طرح بھروں گا..... میں سر تیری چوکھٹ پہ اسی طرح دھروں گا
میں تجھ پہ ، ترے حسنِ فروزاں پہ مروں گا.....اے بیوی ، مگر دوسری شادی میں کروں گا
میں تجھ کو بتاتا نہیں کیا اس کا سبب ہے ..... تُو مجھ سے نہیں پوچھ کہ سوءِ ادب ہے
ہاں اتنا یقین تجھ کو دلا دوں میری پیاری..... اے میری دلاری ، اے میری آنکھ کی تاری
گھر بھر میں رہے گا تیرا پَلا یونہی بھاری.....سمجھوں گا یوں ہی تجھ کو راج کماری
وہ دوسری بیگم جو یہاں آۓ گی بیگم.....وہ بن کے رہے گی تیری باندی یہاں ہر دَم
کھانا تیرا دو وقت پکاۓ گی وہ عورت..... تُو کھاۓ گی اور تجھ کو کھلاۓ گی وہ عورت
لیٹی تو تیرے پاؤں دباۓ گی وہ عورت..... آگے تیرے نظریں نہ اُٹھاۓ گی وہ عورت
تم جینا بڑی شان سے اور موج اڑانا..... ملکہ کی طرح سدا اس پہ حکم چلانا
لیکن میری بیگم میرے چکمے میں نہ آئی..... یہ بات سنی ، دینے لگی وہ میری دہائی
وہ روئی کہ گھر بھر میں قیامت نظر آئی..... دشنام طرازی ہوئ اور نالہ سرائی
ہاتھوں سے بھی کچھ اپنا ہنر اس نے دکھایا.....کم بخت نے چپل سے بھی گدی کو
ظالم نے سوچا نہیں فنکار ہیں ہم لوگ..... شاعر ہیں ، حسینوں کے پرستار ہم لوگ
ہر لحظہ نئے گل کے طلبگار ہیں ہم لوگ..... ہر تازہ تجلی کے خریدار ہیں ہم لوگ
شاعر ہوں، میں کیا ایک ہی بیوی کو بھروں گا..... کیا سولہ برس بعد بھی شادی نہیں کروں گا

پھر شاعر صاحب نے بیوی کی مرضی کے بغیر شادی کرلی اور شادی کے دن بھائی صاحب کے الفاظ کچھ یوں تھے

دوبارہ میرے سر پہ سجایا گیا سہرا..... جب عقد ہوا ، بزم میں گایا گیا سہرہ
جب سولہ برس لوٹ چلی میری جوانی..... دہرائی گئی جب میرے ماضی کی کہانی
انگلی میں پہنائی گئی الفت کی نشانی.....ڈولی میں بٹھائی گئی جب دوسری رانی
میں راجہ بنا، بزم کا نوشاہ بنا میں..... جب اپنے زمانے کا شہنشاہ بنا میں

پھر شادی کے کچھ دن بعد گھر میں کہرام مچا، لڑائی پے لڑائی در لڑائی اور پھر دونوں بیویوں کی ایک یادگار لڑائی جس منظر نامہ کچھ یوں تھا


پہلی بیوی :

تُو میرے گھر میں آ گئی چُڈو.......... تُو جگر میرا کھا گئی چُڈو

بوٹیاں تیری نوچ کھاؤں گی.......... میں کلیجہ تیرا چباؤں گی

دوسری بیوی:
تُو کلیجہ چباۓ گی میرا.......... ٹھہر جا بڈھی یہ حوصلہ تیرا

پہلی بیوی :


مجھ کو بڈھی کہا تو کھا لوں گی.......... منہ سے تیری زبان نکالوں گی
ُتو بڑی آئی ، نوجواں خانم .......... میں بھی دیکھوں گی آج تیرا دَم
میرے شوہر پہ کر دیا جادُو.......... بن گیا تیرے پیار میں الُو
میں بھی پڑھوا کے لاؤں گی شکر..........اور بناؤں گی تجھے بندر

دوسری بیوی :


مجھ کو بندر تُو کیا بناۓ گی.......... اتنا دَم خم کہاں سے لاۓ گی
تجھ پہ منتر پڑھوں گی میں ایسا.......... موت آجاۓ گی تجھے بڑھیا

پہلی بیوی :


دیکھ پھر مجھ کو کہتی ہے بڑھیا.......... تو حرامڑ ہے کون سی گُڑیا
آنکھ کے تیرے بہہ گیا پانی .......... تجھ کو سوکن بناؤں گی رانی
مہترانی بنا کے چھوڑوں گی.......... پاؤں دبوا کے تجھ سے چھوڑوں گی

دوسری بیوی :

میرا ٹھوسا دبائے گا پاؤں.......... تجھ کو دوں گی میں حسن کی چھاؤں
دھوپ میں تیرا مردہ ڈالوں گی.......... ڈائن بن کے تجھے میں کھا لوں گی

پہلی بیوی :

تُو نظر آتی ہے مجھے چھیلا.......... اور چلن بھی ہے کچھ خراب تیرا
تُو چھلاوہ ہے ، تُو ہوائی ھے .......... تیرا دیدہ بہت ہی ہرجائی ہے

دوسری بیوی :

تُو چلن کو اگر کہے گی بُرا.......... نوچ ڈالوں گی میں تیری چٹیا
تجھ کو چَٹنی بنا کے رکھ دوں گی.......... تیری ہستی مٹا کے رکھ دوں گی

پہلی بیوی :

ٹھہر مردود میں چکھاؤں مزا.......... تُو زبان دراز کر ، تجھے دکھاؤں مزا
ستیاناس تیرا کرنا ہے..........آج تو مارنا ہے یا مرنا ہے
پہلے تیرا صفایا ہو گا آج..........ہوگا پھر دوسرا تماشہ آج
آج آۓ ذرا میرا شوہر .......... مونڈی کاٹ کے لوں اس کی خبر
اس کو بھی اب مزا چکھانا ہے .......... آج بھالو اسے بنانا ہے
رشتہ داروں کو میں بلا لوُں گی.......... حوصلے آج سب نکالوں گی

دونوں بیویاں:

اس پہ دونوں کو آگیا غصہ .......... یہ جو گتھم ہوئی تو وہ گتھا
ایک نے دوسری کے بال نوچے .......... دوسری نے سجاۓ اس کے گال
خوب دکھلائے اپنے اپنے ہاتھ .......... تھپڑوں کی ہوئی بڑی برسات
اتنے گھونسے چلے، خدا کی پناہ .......... اتنے مکے پٹے خدا کی پناہ

میرا حال:

حضرات ، میرے گھر میں قیامت تھی برپا .......... میں گوشہء بیٹھک میں تھا دبکا ہوا بیٹھا
دل میں میرے دھک دھک تھی، بدن میں میرے رعشہ .......... جب مجھ کو نظر آیا میری جان کا خطرہ
تھا پچھلی طرف ایک دریچہ میرے گھر میں .......... بھاگا جو وھاں سے ، نہ رکا راہ گزر میں
اک ماہ مجھے ہو گیا ، میں گھر سے ھوں مفرور .......... تقدیر کو تھا یہ بھی تماشہ میرا منظور
اُف، جان بچاتا ہوا پھرتا ہوں میں مجبور.......... افسوس بےباک ،آج یہی ہے تیرا مقدور
پھرتے ہیں مجھے ڈھونڈنے ، کچھ ڈھونڈنے والے.......... دو میرے سُسر ، پندرہ میرے سالے ،،،
لو ساتھیوں میں بھاگ چلا اس محفل سے دور .......... میرے سالے ادھرنہ کہیں ہوں میرے حضور

اور یہ شاعری کر کے وہ شاعر غائب ھو گیا اور ابھی تک لاپتہ ھے، دیکھ لیا دوسری شادی کا انجام
اب آپ کا کیا خیال ھے اب بھی کریں گے دوسری شادی