Results 1 to 3 of 3

Thread: Iqbal Or Aurat

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Iqbal Or Aurat

    عورت کے بارے میں اقبال کا نظریہ بالکل اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے وہ عورت کے ليے وہی طرز زندگی پسند کرتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں تھا کہ مروجہ برقعے کے بغیر بھی وہ شرعی پردے کے اہتمام اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کے پورے احساس کے ساتھ زندگی کی تما م سرگرمیوں میں پوری طرح حصہ لیتی ہیں۔ اس ليے طرابلس کی جنگ میں ایک لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تو اس واقعہ سے وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسی لڑکی کے نام کوہی عنوان بنا کر اپنی مشہو ر نظم لکھی ۔

    فاطمہ! تو آبرو ئے ملت مرحوم ہے
    ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
    یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر!
    ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر!
    یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
    ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

    اقبال عورت کے ليے تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس تعلیم کا نصاب ایسا ہونا چاہیے جو عورت کو اس کے فرائض اور اس کی صلاحیتوں سے آگاہ کرے اور اس کی بنیاد دین کے عالمگیر اُصولوں پر ہونی چاہیے۔ صرف دنیاوی تعلیم اور اسی قسم کی تعلیم جو عورت کو نام نہاد آزادی کی جانب راغت کرتی ہو۔ بھیانک نتائج کی حامل ہوگی۔

    تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
    ہے حضرت انسان کے ليے اس کا ثمرموت
    جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
    کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
    بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
    ہے عشق و محبت کے ليے علم و ہنر موت


    اقبال کے خیال میں اگر علم و ہنر کے میدان میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے تو اس کا مرتبہ کم نہیں ہو جاتا ۔ اس کے ليے یہ شرف ہی بہت بڑا ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مشاہیر اس کی گود میں پروان چڑھتے ہیں اور دنیا کا کوئی انسان نہیں جو اس کا ممنونِ احسان نہ ہو۔

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز ِ دروں
    شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خا ک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کادر مکنوں!
    مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن!
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
    اقبال اگرچہ عورتوں کے ليے صحیح تعلیم ، ان کی حقیقی آزادی اور ان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ لیکن آزادی نسواں کے مغربی تصور کو قبول کرنے کے ليے وہ تیار نہیں ہیں اس آزادی سے ان کی نظر میں عورتوں کی مشکلات آسان نہیں بلکہ اور پیچیدہ ہو جائیں گی ۔ اور اس طرح یہ تحریک عورت کو آزاد نہیں بلکہ بے شمار مسائل کا غلام بنا دے گی۔ ثبوت کے طور پر مغربی معاشرہ کی مثال کو وہ سامنے رکھتے ہےں جس نے عورت کو بے بنیاد آزادی دے دی تھی تو اب وہ اس کے ليے درد ِ سر کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کہ مرد و زن کا رشتہ بھی کٹ کر رہ گیا ہے۔

    ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا!
    مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں
    قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں
    گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ پرویں
    فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور!
    کہ مرد سادہ ہے بےچارہ زن شناس نہیں

    اقبال کی نظر میں آزادی نسواں یا آزادی رجال کے نعرے کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ انتہائی گمراہ کن ہیں۔ کیونکہ عورت اور مرد دونوں کو مل کر زندگی کا بوجھ اُٹھانا ہوتا ہے۔ اور زندگی کو آگے بڑھانے اور سنوارنے کے ليے دونوں کے باہمی تعاون ربط اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے دونوں کے کامل تعاون کے بغیر زندگی کاکام ادھورا اور اس کی رونق پھیکی رہ جاتی ہے۔ اس ليے ان دونوں کو اپنے فطری حدود میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کو بنانے سنوارنے کا کام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کا ساتھی ثابت ہونا چاہیے۔ نہ کہ مدمقابل چنانچہ آزادی نسواں کے بارے میں وہ فیصلہ عورت پر ہی چھوڑ تے ہیں کہ وہ خود سوچے کہ اس کے ليے بہتر کیا ہے۔

    اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں کر سکتا
    گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے ، وہ قند
    کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
    پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
    اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
    مجبور ہیں ، معذور ہیں، مردان خرد مند
    کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
    آزادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند!

    اقبال کی نظر میں دنیا کی تمام سرگرمیوں کی اصل ماں کی ذات ہے ، ماں کی ذات امین ممکنات ہوتی ہے اور دنیا کے انقلابات مائوں کی گود میں ہی پرور ش پاتے ہیں۔ اسی ليے ماں کی ہستی کسی قوم کے ليے سب سے زیادہ قیمتی متاع ہوتی ہے۔ جو قوم اپنی مائوں کی قدر نہیں کرتی اس کا نظام ہستی بہت جلد بکھر جاتا ہے۔

    جہاں رامحکمی از اُمیات ست
    نہاد شان امین ممکنا ت ست
    اگر ایں نکتہ را قومی نداند
    نظام کروبارش بے ثبات ست

    اقبال نے حضرت فاطمہ کے کردار کو عورتوں کے ليے مثال اور نصب العین قرار دیا ہے بےٹی ، بیوی اور ماں کی حیثیت سے حضرت فاطمہ نے جو زندگی بسر کی وہ دنیا کے تما م عورتوں کے ليے نمونہ ہے۔

    فررع تسلیم را حاصل بتول
    مادراں راسوہ کامل بتول
    فطرت تو جذبہ ہا دارد بلند
    چشم ہوش از اُسوہ زُ ہرا مند

    اقبال کے نزدیک انسانی خودی کے بنیادی اوصاف فقر، قوت ، حریت اور سادگی سے عبارت ہیں اور یہ تمام حضرت فاطمہ کی زندگی میں بدرجہ اتم جمع ہوگئے تھے۔ انہی اوصاف نے ان کے اُسوہ کو عورتوں کے ليے رہتی دنیا تک مثالی بنا دیا ہے۔ اور ان کی ہستی کی سب سے بڑھ کریہ دلیل ہے کہ حضرت امام حسین جیسی عظیم و مدبر شخصیت کو انہوں نے اپنی آغوش میں پروان چڑھایا ۔ اقبال کی نظر میں عورت کے بطن سے اگر ایک ایسا آدمی پیدا ہوجائے جو حق پرستی اور حق کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین اور مقصد قرار دے تو اس عورت نے گویا اپنی زندگی کے منشاءکو پورا کر دیا۔ اسی ليے وہ مسلمان عورتوں سے مخاطب ہو کرکہتے ہیں۔

    اگر پندے ز درد پشے پذیری
    ہزار اُمت بمیرد تو نہ میری!
    بتو ے باش و پنہاں شواز یں عصر
    کہ در آغوش شبیرے بگیری
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  2. #2
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    839 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1181
    Rep Power
    21474971

    Default re: Iqbal Or Aurat

    aurat ki izaat..........
    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default re: Iqbal Or Aurat

    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •