Results 1 to 3 of 3

Thread: Jeet

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Jeet

    ساجدہ کو کہانیاں پڑھنے کا ہی نہیں ،بلکہ لکھنے کا بھی شوق تھا۔ جب وہ مختلف اخباروں اور رسالوں میں دوسروں کی تحریروں کو پڑھتی تو اس کا بھی دل چاہتا کہ ا س کی تحریر بھی کسی رسالے میں چھپے۔ ایک دن ساجدہ نے ٹھان لی کہ وہ کہانی ضرور لکھے گی وہ کاغذ اور قلم تھام کر بیٹھ گئی اور کہانی لکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ دو گھنٹے گزر گئے لیکن اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا لکھے۔

    جب وہ کہانی نہ لکھ سکی تو اسے ایک ترکیب سوجھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ساجدہ خود کہانی لکھتی اور لکھنے کے بعد کسی بڑے کو دکھا کر اس کی غلطیاں درست کروا لیتی۔ لیکن اس نے ایسا کرنے کی بجائے کئی سال پرانے رسالے سے ایک کہانی پڑھی اورا س میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کر کے اس کوکاغذ پر لکھ دیا اورآخر میں اپنا نام لکھ کر اسے ایک رسالے کے پتے پرپوسٹ کر دیا۔ کچھ ہی دنوں بعد اس کی بھیجی ہوئی کہانی شائع ہوگئی۔ اس نے بڑے فخر سے اپنی سہلیوں اور گھر والوں کو بتا یا کہ اس کی کہانی رسالے میں چھپی ہے اور رسالہ دکھایا جس میں اس کی کہانی شائع ہوئی تھی۔ سب نے اسے مبارکباد دی اور شاباش دی۔

    ایک طرف تو ساجدہ بہت خوش تھی کہ اس کا نام اور کہانی رسالے میں شائع ہوئی ہے۔ اب سب اسے پڑھیں گے اور لوگ اسے بھی رائٹر کی حیثیت سے پہچانیں گے۔ لیکن دوسری طرف وہ کچھ بے چین بھی تھی اس کا ضمیر اسے باربار ملامت کر رہا تھا کہ اس نے غلط کام کیا ہے۔ یہ چوری ہے اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کافی دن اسی بے چینی میں گزارنے کے بعد آخر ایک دن ساجدہ نے فیصلہ کیا۔ اس نے کاپی اور قلم اٹھایا اور خود ایک اچھی سی کہانی لکھی۔ اصلاح کےلیے اس نے اپنی امی کی مدد لی۔ ساجدہ کی والدہ نے اس کی کہانی پڑھ کراس میں چند ایک تبدیلیاں کروائیں۔ ساجدہ نے اپنی والدہ کے کہنے کے مطابق کہانی میں تبدیلیاں کیں اور اسے ایک لفافے میں ڈال دیا۔ آخر میں اپنا نام بھی لکھ دیا۔ ساتھ ہی اس نے اخبار کے ایڈیٹر کے نام بھی ایک خط لکھا جس میں لکھا تھا کہ "جو کہانی میں نے پہلے بھیجی تھی اور آپ نے شائع بھی کی تھی وہ دراصل میری کہانی نہیں تھی بلکہ ایک رسالے میں سے نقل کی گئی تھی میں اس بات پر بہت شرمندہ ہوں امید ہے کہ آپ مجھے معاف کر دیں گے۔ اب جو کہانی میں آپ کو بھیج رہی ہوں وہ میں نے خود لکھی ہے"

    دونوں چیزیں ایک ہی لفافے میں ڈالنے کے بعد اس نے رسالے پر پتے پر پوسٹ کر دیں۔ چند دن بعد نہ صرف اس کی کہانی چھپی بلکہ اس کہانی کو لوگوں نے پہلی کہانی کی نسبت زیادہ پسند بھی کیا تھا۔ کہانی چھپنے کے فوراََ بعد اسے رسالے کے مالک کا خط ملا جس میں لکھا تھا کہ

    "آپ نے اپنی غلطی تسلیم کر کے اور سچ بول کر بہت اچھا کیا انعام کے طور پر آپ کی کہانی شائع کی جارہی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ آپ آئندہ جھوٹ بول کر کامیابی حاصل کرنے کی بجائے سچائی اور ایمانداری سے کام لیں گی"

    ساجدہ نے جھوٹ بول کر جتنی بے چینی لی تھی آج خط پا کر وہ اس سے بھی زیادہ خوشی محسوس کر رہی تھی۔ کسی نے سچ کہا ہے "سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے" ۔ ساجدہ نے یہ بات اپنے ذہن میں رکھی اور ہمیشہ کے لیے عہد کر لیا کہ وہ جھوٹ نہیں بولے گی۔

  2. #2
    Join Date
    May 2008
    Location
    Makkah
    Age
    29
    Posts
    1,148
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    11

    Default Re: Jeet

    nice !

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Jeet

    Thx Yaar

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •