Results 1 to 2 of 2

Thread: Naye zindagi ...

  1. #1
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    836 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1179
    Rep Power
    21474971

    snow Naye zindagi ...

    شام کا جھٹپٹا پھیل رہا تھا جب مائیکل کی ماں نے اسے آواز دی۔ بارہ سالہ مائیکل ابھی تک اپنے گھر کے پچھواڑے میں دو ایکڑ رقبے پر پھیلے وسیع تالاب میں نہاتا پھر رہا تھا۔ چھ سال کی مسلسل محنت کے بعد مائیکل کے والدین نے یہ گھر خلیج میکسیکو کے پاس دریائے کرسٹل کے کنارے بنایا تھا۔ ابھی صرف تین ہفتے پہلے وہ اس گھر میں منتقل ہوئے تھے اور یہاں مائیکل فارغ اوقات میں تیراکی کرتا رہتا تھا۔
    ماں کے بلانے پر مائیکل نے اپنے 14 سالہ کزن کیلی سے کہا۔ "امی سے کہنا میں بس آ ہی رہا ہوں۔" اور دوبارہ پانی میں ڈبکی لگا کر غائب ہو گیا۔ تالاب کے اس پار ڈاکٹر فرنانڈس کا گھر تھا۔ ستمبر1996 کی اس سہانی شام کو ڈاکٹر فرنانڈس اپنے بالائی کمرے کی کھڑکی سے تالاب کا نظارہ کر رہا تھا اور مائیکل اور اس کے کزن کو پانی میں اٹکھیلیاں کرتے دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اچانک ڈاکٹر فرنانڈس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی اور پریشانی کے آثار نظر آنے لگے۔ بچوں سے کچھ فاصلے پر اسے پانی میں ہلچل محسوس ہوئی۔ یہ ہلچل بچوں سے تقریباً پچاس قدم کے فاصلے پر نمودار ہوئی تھی اور اب آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹر اچانک چیخا۔ "مگر مچھ، بچو، بچو مگر مچھ۔" اس کی چیخیں سن کر اس کی بیوی بچے بھاگ کر آئے۔ اتنا دہشت ناک منظر دیکھ کر ان کے چہروں پر بھی ہوائیاں اڑنے لگیں۔ انہوں نے بھی شور مچانا شروع کر دیا۔ تاکہ مگرمچھ کو بھگانے کی تدبیر کی جا سکے۔
    اسی اثنا میں کیلی تو باہر نکل گیا مگر مائیکل نے غوطہ خوری جاری رکھی۔ اس نے غوطہ خوری کا لباس بھی پہن رکھا تھا۔ چہرے پر ماسک ہونے کی وجہ سے وہ کوئی بیرونی آواز نہ سن سکتا تھا اس لیے ابھی تک تمام صورت حال سے بے خبر تھا جبکہ گیارہ فٹ لمبا مگرمچھ اب اس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔ مائیکل پانی کے اندر عینک کے پیچھے سے آنکھیں کھولے تالاب کا جائزہ لینے میں مصروف تھا جبکہ مگر مچھ اس کے اوپر اوپر تیر رہا تھا۔
    اچانک مگرمچھ نے غار جیسا منہ کھولا اور مائیکل کے سر کو جبڑوں میں جکڑ لیا۔ "ہمارے دیکھتے دیکھتے مگر مچھ نے مائیکل کے سر کو منہ میں دبوچ لیا اور غصے اور جوش کے مارے دم کو پانی پر زور زور سے پٹخنا شروع کر دیا۔ تبھی مجھے یقین ہو گیا کہ مائیکل کے پاس اب بچ نکلنے کا کوئی موقع نہیں۔" ڈاکٹر فرنانڈس یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
    جیسے ہی اس دیوہیکل جانور نے اپنا منہ بند کیا۔ اس کے اوپری جبڑے کا ایک سامنے والا دانت مائیکل کے سر میں کھبتا چلا گیا۔ جبکہ نیچے والا جبڑا ماسک میں پھنس گیا جس سے ماسک مگرمچھ کے منہ میں آگیا اور مائیکل کو بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔
    مائیکل ابھی تک بے خبر تھا کہ اس پر کس بلا نے حملہ کردیا ہے۔ اس نے ڈبکی لگائی اور پانی میں مزید چار فٹ گہرا چلا گیا۔ اب اس نے اوپر دیکھا تو مگرمچھ کا سبزی مائل سفید پیٹ، ٹانگیں اور جبڑا نظر آیا۔ اب مائیکل سب سمجھ گیا اور اس نے تیزی سے تیرنا شروع کر دیا۔ اس کے پاؤں میں پہنے ہوئے بطخ کے پنجوں جیسے "فلپر" اسے تیرنے میں بڑی مدد دے رہے تھے۔
    ڈاکٹر فرنانڈس کی فیملی کا شور و غوغا ابھی تک جاری تھا۔ وہ مگرمچھ کو دیکھ رہے تھے مگر مائیکل اب نظروں سے اوجھل تھا، تب مائیکل سانس لینے کے لیے چند ثانیوں کے لیے سطح آب پر آیا اور پھر تیزی سے تیرنے لگا مگرمچھ اب اس کا تعاقب کر رہا تھا۔
    مائیکل کی ماں "جیسی" نے باورچی خانے سے باہر کا شور و غل سنا اور کیلی کو بھاگ کر آتے دیکھا۔ "میں نے کیلی کے چہرے پر دہشت کے آثار دیکھے اور مجھے کسی ممکنہ حادثے کا احساس ہو گیا۔ میں تالاب کی طرف بھاگی۔" "جیسی" بتاتی ہے۔ یہاں کا منظر دیکھ کر "جیسی" کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ مائیکل اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ کنارے کی طرف تیر رہا تھا اور اس کے پیچھے اتنا بڑا مگرمچھ تھا کہ اس نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔ مگرمچھ نے پہلا حملہ کنارے سے پچاس قدم کے فاصلے پر کیا تھا اور جب جیسی وہاں پہنچی تو مائیکل کنارے سے بیس قدم کے فاصلے پر تھا۔
    "تیرو! مائیکل تیرو اور زور سے میرے بیٹے!" جیسی اپنے جگر گوشے کو مصیبت میں دیکھ کر پورے زور سے چلائی مگر۔۔۔۔ عین اس وقت کہ جب مائیکل کنارے پر پہنچنے ہی والا تھا، مگرمچھ نے اسے جا لیا۔ "مگر مچھ نے اپنا منہ کھولا تو میں اس کے نوکیلے دانت دیکھ کر لرز گئی۔ لگتا تھا کہ وہ ایک ہی بار میں مائیکل کو چبا ڈالے گا۔" یہ لمحات یاد کرکے جیسی کے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ "میں چیخی اور تھوڑا آگے بڑھی جونہی مائیکل کے ہاتھ میرے ہاتھوں کو چھوئے میں نے مضبوطی سے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا لیکن مگرمچھ نے مائیکل کی ٹانگوں کو دانتوں میں جکڑ لیا۔ مجھے لگا کہ مائیکل کی ٹانگیں کٹ ہی گئی ہیں۔"
    عجیب صورت حال پیدا ہو چکی تھی ایک طرف دیوہیکل خوفناک درندہ اور دوسری طرف ناتواں ماں کی مامتا۔ جیسی کا وزن محض 100 پونڈ تھا جبکہ مگرمچھ 400 پونڈ وزنی تھا۔ جیسی نے مائیکل کا ہاتھ سختی سے اپنے دونوں ہاتھوں سے قابو کر رکھا تھا اور جہاں تک ممکن ہوا اسے اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مائیکل بے چارگی سے درمیان میں لٹک رہا تھا۔ دفعتاً کھیل کا پانسہ پلٹ گیا کیونکہ مائیکل کے پاؤں کا اٹھارہ انچ کا وہ حصہ جس کو مگرمچھ نے جکڑ رکھا تھا وہ ربڑ کا فلپر تھا۔ اسی کھینچا تانی میں فلپر مگرمچھ کے منہ میں رہ گیا اور جیسی، مائیکل کو پانی سے باہر گھسیٹنے لگی اور گھسیٹتی ہی چلی گئی۔ اس غیر یقینی کامیابی پر ماں بیٹا بلک بلک کر رونے لگے۔ بلاشبہ مائیکل نے دوسری زندگی پائی تھی۔
    مائیکل ایک ہفتے تک ہسپتال میں رہا۔ اس کے سر اور بائیں ٹخنے پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور بائیں ٹانگ ٹوٹ گئی تھی مگر نئی زندگی کے بدلے میں یہ کوئی بڑا نقصان تو نہ تھا۔
    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

  2. #2
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default Re: Naye zindagi ...

    nice sharing


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •