Page 1 of 6 123 ... LastLast
Results 1 to 10 of 59

Thread: Ishq Ka Qaaf

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Ishq Ka Qaaf

    عشق کا قاف
    مصنف : سرفراز احمد راہی



    موسم‘ طوفان ِ باد و باراں کےاشاروں پر رقص کررہا تھا۔
    سپیڈ کم ہوئی اور کار رک گئی۔اس نےہا رن دبایا۔تیسری آواز پرگیٹ کھل گیا۔
    بادل ایک بار پھر بڑےزور سےگرجی۔ بارش میں اور شدت آگئی۔کار آگےکو سرکی مگر اس سےپہلےکہ کار گیٹ سےاندر داخل ہو تی‘بجلی زور سےچمکی۔فانوس سےروشن ہوگئی۔
    وہ چونک اٹھا۔
    اس کی تیز نظریں گیٹ کےباہر بائیں ہاتھ بنےچھوٹےسےسائبان تلےچھائےاندھیرےمیں جم گئیں۔
    ”کیا بات اےصاب! “ پٹھان چوکیدار نےبارش میں بھیگتےہوئےپوچھا۔
    ”خان۔۔۔“لیکن اس سےپہلےکہ وہ فقرہ پورا کرتا‘برق پھر کوندی۔وہ تیزی سےکار کا دروازہ کھول کر باہر کو لپکا۔اس دوران خان بھی گیٹ سےباہر نکل آیا۔
    بارش اور تیز ہوا کی پرواہ کئےبغیردو تین لمبےلمبےڈگ بھر کر وہ اس اندھیرےکونےمیں پہنچ گیا‘جہاں دو بار برق نےاجالا کیا تھا۔
    ایک سایہ تھا جو بیدِ مجنوں کی طرح لرز رہا تھا۔
    ”کون ہو تم؟“ اس نےجلدی سےپوچھا اورایک بار پھر اس کی نظریں چندھیا گئیں۔
    ”میں۔۔۔“ ایک کمزور سی نسوانی آواز ابھری ۔ پھراس سےپہلےکہ وہ اجنبی وجود زمین پر آرہتا‘ اس کےمضبوط اور گرم بازوؤں نےاسےسنبھال لیا۔
    ”خان۔“ اس نےپلٹ کر پکارا۔
    ”جی صاب۔ “قریب ہی سے آواز ابھری۔
    ”میں کمرےمیں جارہا ہوں ۔گاڑی گیراج میں بند کرکےوہیں چلے آؤ۔ جلدی۔“
    ”جی صاب۔ “وہ تعمیل حکم کےلئےجلدی سےگاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
    اس نےاس نازک ، برف سےزیادہ سرد اور لہروں سےزیادہ نرم وجود کو باہوں میں بھر لیا‘جو اَب لکڑی کی مانند کھردرا اور پتھر کی مانند سخت ہوا جارہا تھا۔تیز تیز چلتا ہواوہ پورچ پار کرکےبر آمدےمیں پہنچا۔ پاؤں کی ٹھوکر سےدروازہ کھولااور مختصر سی راہداری کو طےکرکےہال میں چلا آیا۔ایک لمحےکو کچھ سوچا‘ پھرسیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔
    ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرےکمرےکےدروازےپر پہنچ کر اس نےپھر دائیں پاؤں سےکام لیا ۔اندر داخل ہوا اور بستر کی طرف بڑھ گیا۔
    دھیرےسےاس نےاپنےبازوؤںمیں بھرےاس ریشمیں خزانےکو احتیاط سےسمیٹ کر بیڈ پر رکھ دیا‘پھراسےگرم لحاف میں چھپا دیا۔ شاید اس لئےکہ کوئی اور دیکھ نہ لی۔ایک لمحےکو اس کی نظریں اس سمٹےپڑےخزانےکےتر بتر چہرےپرجم گئیں‘جہاں سیاہ لانبی زلفیں کسی بادلوں میں چھپےچاندیا گھٹاؤں میں قید برق کا سماں پیش کررہی تھیں۔اسی وقت خان اندر داخل ہوا۔
    ”اوہ خان۔“ اس نےجلدی سےکہا۔کچھ سوچا پھر تیزی سےٹیلی فون کی طرف بڑھ گیا۔
    ڈاکٹر کو فون کرکےوہ حکم کےمنتظر اور چور نظروں سےاس خوابیدہ حسن کو تکتےخان کی طرف متوجہ ہوا اور ہولےسےمسکرایا۔
    ”خان۔“
    ”جی صاب۔“ وہ گھبرا سا گیا۔
    ”تمام نوکر تو سوچکےہوں گی۔“
    ”جی صاب۔“ اس نےاپنا مخصوص جواب دہرایا۔
    ”ہوں ۔“وہ کچھ سوچنےلگا۔پھر کہا۔”تم نیچےچلےجاؤ ۔ اپنےڈاکٹر صاحب آرہےہیں۔ان کو لےکر اوپر چلے آنا۔“
    ”جی صاب!“ اور خان ایک نظر بستر پر ڈال کر دروازےکی طرف بڑھ گیا۔
    اس نے آگےبڑھ کر سوئچ بورڈ پر ایک بٹن دبا دیا۔ایر کنڈیشنڈ سسٹم گہری نیند سےجاگ گیا۔پھر اس کی نادیدہ تپش نےدھیرےدھیرےکمرےکو گرم کرنا شروع کیا۔اس نےمطمئن انداز میں سرہلا کر بند کھڑکیوں کی جانب دیکھا اور کرسی گھسیٹ کر بسترکےقریب لے آیا۔ بیٹھتےہوئےوہ قدرےجھک گیا اور نظریں اس خاموش گلاب پر جما دیں جس کی دو پنکھڑیاں اپنی سرخی کھونےلگی تھیں۔ نیلاہٹ ابھری چلی آرہی تھی۔
    وہ آہستہ سےلرزی تو بےچینی سےوہ کلائی پر بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈال کر رہ گیا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔
    اس کی بےتاب نظریں اس غنچہ دہن پر جم گئیں‘جس میں اب پھر کوئی حرکت نہیں تھی۔ آہستہ سےاٹھا۔ جھکا اور لحاف کو اچھی طرح اس پر لپیٹ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔اب وہ بےچینی سےٹہلنےلگا۔ اسی وقت ایسا محسوس ہوا جیسےکوئی تیزی سےسیڑھیاں چڑھتا چلا آرہا ہو۔
    ” آئیے آیئےانکل۔ “وہ کمرےمیں داخل ہوتےادھیڑ عمر مگر مضبوط جسم کےمالک ڈاکٹر ہاشمی کی طرف بڑھا۔ڈاکٹر ہاشمی نےرین کوٹ اتار کر اس سےمصافحہ کیا۔
    ”کیا بات تھی بیٹی۔ میں تو تمہارا فون سنتےہی۔۔۔“اور ان کی آواز حلق ہی میںاٹک گئی۔حیرت زدہ نظریں بستر پر پڑی جوان اور نیلی پڑتی لڑکی کےوجود پر ٹھہر گئیں۔وہ تیزی سےاس کی طرف بڑھی۔چند لمحوںبعدان کا تجربہ کارہاتھ لڑکی کےماتھےسےہٹا تو وہ کچھ مضطرب سےنظر آرہےتھی۔
    ”خان۔ ۔۔میرا بیگ ۔“ وہ بولےاور خان کےساتھ ہی وہ بھی ان کےقریب چلا آیا۔
    بیگ کھلا اور ڈاکٹر اپنےفرض میں ڈوبتا چلا گیا۔وہ خاموشی سےڈاکٹر ہاشمی کی کوششوں کا جائزہ لیتا رہا۔کتنی ہی دیر گذر گئی اور تب ڈاکٹر ہاشمی ایک طویل سانس لےکر بستر کی پٹی سےاٹھ کھڑےہوئی۔
    ”انکل!“ وہ مضطربانہ انداز میں اتنا ہی کہہ سکا۔
    ”الحمدللہ ۔خطرہ ٹل چکا ہی۔ “ وہ آگےبڑھ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔”خان۔ کچن سےدودھ لے آؤ۔“انہوں نےکہا اور خان کمرےسےنکل گیا۔”ہاں۔اب کہو۔ یہ سب کیا چکر ہی؟“ ڈاکٹر ہاشمی کےہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
    ”چکر۔۔۔؟“ وہ جھینپ گیا۔”چکر تو کوئی نہیں ہےانکل! میں پکچر دیکھ کر لوٹا تو یہ باہر گیٹ کےپاس کھڑی نظر آئی۔ میں کار سےنکل کر اس کےقریب پہنچامگرکچھ پوچھنےاور بتانےکی نوبت ہی نہ آئی اور یہ بےہوش ہوگئی۔ میں اسےاٹھا کر اندر لے آیا اور آپ کو فون کردیا۔ بس ‘یہ ہےساری بات۔“
    ”ہوں ۔ڈاکٹر ہاشمی کےہونٹ شرارت سےپھڑکی۔” بیٹے۔ لڑکی تھی ناں۔ اگر صنف کرخت ہوتی تو۔۔۔“
    ” آپ مجھےاچھی طرح جانتےہیں انکل۔“وہ مسکرا کر بولا اور ڈاکٹر ہاشمی ہنس دیی۔
    ”میں تو مذاق کررہا تھا۔ ہاں۔۔۔بیگم صاحبہ زمینوں سےنہیں لوٹیں ابھی؟“
    ”جی نہیں ۔ابھی کافی دن رکیں گی وہاں۔“
    اسی وقت خان دودھ کا بھر ا جگ اور گلاس لئےاندر داخل ہوا۔”صاب۔ دودھ بہوت تا۔ہم گرم کر لائی۔ “وہ جگ میز پر رکھتےہوئےبولا۔
    ”یہ تو بہت اچھا کیاخان۔ “وہ دودھ گلاس میں انڈیلتا ہوا بولا۔
    دودھ پی کر فارغ ہوگئےتو ڈاکٹر ہاشمی اٹھ کھڑےہوئی۔”اچھا بیٹی۔ میں چلتا ہوں۔بارش کا زور کم ہو رہا ہے۔کہیں پھر زور نہ پکڑلی۔“
    ”بہتر انکل۔ “وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔خان نےڈاکٹر کا بیگ تھام لیا۔
    ”صبح دس بجےسےپہلےہوش نہیں آئےگا۔ پریشان نہ ہونا۔ “وہ پھر مسکرا دیےاور وہ جھینپ کران کی ہدایات کو ذہن نشین کرنےلگا۔” نیند کےانجکشن کا اثر کم از کم نو گھنٹےرہےگا۔ کیپسول تپائی پر پڑےہیں۔ ہوش آنےپر ہر چار گھنٹےبعد گرم دودھ سےدو کیپسول دیتےرہنا۔“ ڈاکٹر ہاشمی رخصت ہوگئی۔
    کمرہ خاصا گرم ہوچکا تھا۔نیلےہونٹ اب کچھ کچھ گلابی نظر آرہےتھی۔اس نےمطمئن انداز میں سر ہلایااور بستر کےقریب چلا آیا۔ سانس اب مناسب رفتار سےچل رہا تھا۔چہرہ پُرسکون تھا۔کتنی ہی دیر تک وہ اس محو استراحت حسنِ بےپرواہ کو تکتا رہا۔
    ”صاب۔“ خان کی آواز اسےبچھو کےڈنک ہی کی طرح لگی۔
    وہ تیزی سےپلٹا۔ ”تم ابھی تک یہیں ہو۔“اس کےلہجےمیں کچھ اکتاہٹ تھی مگر خان بھی مجبور تھا۔ اسےنیند نےتنگ کررکھا تھا۔ وہ بلاوجہ اس کی محویت کو ختم کرنےکا قصور وار نہ ہوا تھا۔
    ”کوئی حکم صاب؟“ وہ ڈر سا گیا۔
    ”کچھ نہیں۔بس جاؤ۔اور دیکھو۔ اس کمرےمیں کوئی مت آئی۔ میںساتھ والےکمرےمیں آرام کروں گا۔ “
    ”جی صاب۔“وہ سلام کرکےدروازےکی طرف بڑھ گیا۔
    چند لمحےوہ بستر پر پڑےمصور کےاس حسین خیال کوگل پاش نظروں سےدیکھتا رہا۔ پھر پلٹ کر دھیرےدھیرےچلتا ہوا کمرےسےباہر نکل گیا۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    بےپناہ دولت۔ لمبی چوڑی جائیداد۔بےاندازہ زمینیں۔ دو کوٹھیاں۔ ایک حویلی۔ کئی کاریں اور بےتحاشا عزت ان دو ماں بیٹےمیں محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
    دونوں ہی کی تمنا تھی کہ کوئی تیسرا بھی ان کی ملکیت کا حصہ دار بنی۔ جو ان تین میں چند اور نفوس کا اضافہ کرسکی!مگر۔۔۔امارت کی نظروں میں کوئی وجود جچ نہ رہا تھا۔بوڑھی تجربہ کار نگاہیں صورت کےساتھ سیرت اور خاندان کےساتھ دولت و ثروت بھی چاہتی تھیں۔
    ایک تصویر میں ضروری نہیں کہ مصور ہر ایک کےجذبات کی عکاسی کرسکےاور ہر کسی کےپسندیدہ رنگ بھردی۔ اسےاپنی تصویر کو بہرصورت خوبصورتی اور حسن سےمرصع کرنا ہوتا ہی۔ اب اس کےلئےچاہےاسےکسی بھی قسم کےرنگ منتخب کرنا پڑیں۔
    اور جوانی تھی کہ کسی اور ہی ڈگر پر چل نکلی تھی۔ اسےدولت نہیں چاہیےتھی کہ اس کےپاس بہت تھی۔
    اسےخاندان نہیں چاہیےتھا۔ کہ ذات پات اس کی نظر میں بےاہمیت شےتھی۔
    اسےصرف اپنےجذبات اور احساسات کی ترجمان تصویر کی تلاش تھی۔وہ خواہ اسے آرٹ گیلری کےوسیع و عریض سجےسجائےقیمتی اور حسین ہال میں نظر آ جاتی ‘یا کسی فاقہ زدہ مصور کےادھورےرنگوں سےبوسیدہ کاغذ پر ابھرتی نظر آجاتی۔
    اسےاور کچھ نہیں چاہیےتھا۔ چاہئےتھا تو صرف یہ کہ جو بھی آئےوہ صرف اسےچاہی۔ اس کےعلاوہ ہر ایک سےبیگانہ ہو۔اس سےپہلےاور اس کےبعد وہ کسی کا خیال اپنےخانہ دل میں نہ سجاپایا ہو۔
    بڑھاپا تجربہ کار تھا۔اپنےاصولوں کا محافظ تھا۔
    جوانی امنگوں بھری تھی۔ حسن اور محبت کی طلبگار تھی ۔
    اور آج۔۔۔ شاید اسےمنزل مل گئی تھی۔دل تو یہی کہہ رہا تھا۔ اور دل جھوٹ بھی تو بولا کرتاہی۔
    ”صاب! آپ کا پون۔۔۔“
    وہ چونک پڑا۔خیالات بکھر گئی۔ بستر سےنکلا اور گاؤن پہنتا ہوا دروازےکی طرف چل دیا۔کمرےکا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔
    ”خان۔ “وہ رک گیا۔
    ”جی صاب۔“
    ”دیکھو۔ باباسیف آچکا ہوگا۔ اسےاوپر بھیجو۔“
    ”جی صاب۔“ وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔وہ کچھ سوچتا ہوا ٹیلی فون کےپاس چلا آیا۔
    ”یس ۔طاہر اسپیکنگ ۔“ وہ ریسیور کان سےلگا کر بولا۔
    ”ہیلوطاہر۔“دوسری طرف سےڈاکٹر ہاشمی نےہنس کر کہا۔
    ”اوہ آپ۔۔۔ آپ کا مریض ابھی تک ”ہوش ندارد“ہےانکل۔“ وہ مسکرایا۔
    ”مسیحا پاس رہےتو بیمار کا اچھا ہونےکو جی کب چاہتا ہےطاہر میاں!“وہ ڈاکٹر ہاشمی کی چوٹ پر خجل سا ہوگیا۔رات بھی ان کی باتوں سےیہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس کی نظروں کا بھید جان چکےہیں۔”بہرحال‘ اس وقت نو بجےہیں ۔ دس بجےتک ہوش نہ آیاتو مجھےفون کردینا۔ ویسےمیںگیارہ بجےکےقریب خود ہی چلا آؤں گا۔“
    ”بس تو ٹھیک ہے۔ آپ آہی جائیےگا۔“
    ”خدا حافظ۔ “ڈاکٹر ہاشمی نےہلکےسےقہقہےکےساتھ ریسیور رکھ دیا۔ فون بند کرکےوہ پلٹااوربستر کےقریب پڑی کرسی پر جم گیا۔
    ”سلام صاحب۔“ سیف کمرےمیں داخل ہوااور اس کی نظروں میں بھی حیرت سی امنڈ آئی۔
    ”سیف بابا۔یہ ہماری مہمان ہیں اور بیمار بھی۔ “اس نےسیف کی حیرت کو نظر انداز کرتےہوئےرسٹ واچ میں وقت دیکھا۔”ٹھیک ایک گھنٹےبعدہلکےناشتےکےتمام ضروری لوازمات یہاں ہونےچاہئیں!“
    ”بہتر صاحب!“ وہ سوالیہ نظروں کےساتھ بستر پر سوئی لڑکی کو دیکھتا ہوا پلٹا اور برتن اٹھائےباہر نکل گیا۔
    وہ ایک طویل انگڑائی لےکر کرسی سےاٹھااور کھڑکیوں پر سےصرف پردےہٹا دیی‘ پٹ نہ کھولی۔ہوا سرد تھی۔رات کی بارش کےبعد موسم کھل گیا تھا۔
    سورج کافی بلند ہو چکا تھا۔ اس کی زرد کرنیں دھند اور ٹھنڈک کا سینہ چیر چیر کر ہر مقابل شےکو روشن اور گرم کرنےکی کوشش کررہی تھیں۔وہ کتنی ہی دیرکھڑکی کےشیشوں سےباہر دیکھتےہوئےدور نیلے آسمان کی لامحدود وسعتوں میں نجانےکیاتلاش کرتا رہا۔
    ”امی ۔۔۔امی ۔۔۔ آپ کہاں ہیں امی۔۔۔امی۔۔۔“دھیمی سی بڑبڑاہٹ نےاسےچونکا دیا۔وہ تیزی سےپلٹ کر بستر کےقریب چلا آیا۔نرم و نازک وجود متحرک تھا۔لانبی سیاہ پلکیں دھیرےدھیرےکانپ رہی تھیں۔ چہرےپرسرخی دوڑنےلگی تھی۔ہونٹوں کےگوشےلرز رہےتھی۔ پھر دیکھتےہی دیکھتےاس نےہولےسےاپنی پلکوں کی چلمن اٹھا دی۔
    وہ بےچینی سےاس کی ایک ایک حرکت کا مشاہدہ کررہا تھا۔چند لمحوں تک وہ بےحس و حرکت‘ چت پڑی چھت کو گھورتی رہی۔پھرجیسےچونک اٹھی۔گردن گھما کر دائیں بائیں دیکھا۔۔۔اوراسےسامنےدیکھ کر بری طرح گھبرا گئی۔
    ” آپ ۔۔۔ آپ کون ہیں؟ میں کہاں ہوں؟“ روایتی سےالفاظ اس کےلبوں سےابل پڑی۔
    ”گھبرائیےنہیں۔لیٹی رہئی۔ “وہ مسکرا کر اس پر جھک آیا۔شانوں سےتھام کر اس نےپھر اسےلٹا دیامگردوسرےہی لمحےوہ پھر اٹھ بیٹھی۔
    ”میں۔۔۔“
    ”دیکھئی۔ آپ کو میں بدمعاش نظر آتا ہوں یا آپ کو خود پر اعتماد نہیں ہی؟“ وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولاتو وہ گڑ بڑا گئی۔بیباک مگر شریفانہ تاثر کی حامل نگاہوں نےاسےالجھن میں ڈال دیا۔
    ”میں جانا چاہتی ۔۔۔“
    ” آں ہاں۔ یہ کیا کررہی ہیں آپ؟ “وہ اسےبستر سےاترتا دیکھ کر تیزی سےبولا۔
    ”جی میرا۔۔۔“
    ”ارےبابا‘ کیوں اپنا دماغ تھکا رہی ہیں آپ۔اطمینان سےلیٹ جائیی۔کچھ مجھ سےپوچھئی۔ کچھ مجھےبتائیی۔“ وہ ریشمی لحاف اس پر اوڑھاتا ہوا بولا۔اورنہ جانےکیا سوچ کر اور کیوں وہ چپ چاپ لیٹ گئی۔پھراس کی سوالیہ نظریں کمرےکےدرو دیوار کا تفصیلی جائزہ لینےکےبعداس کےمسکراتےچہرےپر آ کر جم گئیں۔
    ”ویسےایک بات تو بتائیی؟“وہ بےتکلفی سےکرسی گھسیٹ کر اس کےقریب ہوبیٹھا۔
    ”جی۔“ وہ ہولےسےبولی اور نظریں چرالیں۔
    ”کیا آپ کو بارش میں بھیگنےکا بہت شوق ہے؟“
    ”جی۔۔۔ کیا مطلب؟“ وہ بےساختہ حیرانی سےبولی۔
    ”مطلب یہ کہ کل رات آپ بڑی بےتکلفی سےطوفانِ بادوباراں کا لطف اٹھا رہی تھیں۔ سردی بھی بلا کی تھی اور۔۔۔“
    ایک دم نہ جانےکیوں وہ بےچین سی ہوکر پھر اٹھ بیٹھی۔
    ”ارےاری۔ ۔۔یہ کیا۔ ۔۔دیکھئی‘ میں تو مذاق کررہا تھا۔۔۔ اور آپ۔۔۔“وہ اس کی پلکوں کو نم ہوتا دیکھ کر بری طرح سےگڑ بڑا گیا۔
    ”مجھےجانےدیجئی۔ خدا کےلئی۔ “وہ بستر سےنکل پڑی۔
    ”ارے۔یہ آپ کو بار بار جانےکا دورہ کیوں پڑ جاتاہی؟“ وہ اٹھ کر اس کو بازو سےتھامتا ہوا بولا۔
    ”چھوڑیئی۔ میں اب یہاں نہیں ٹھہر سکتی۔ “وہ بازو چھڑانےکی کوشش کرنےلگی۔
    ”مگر آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟ یہ تو طےہےکہ آپ کا گھر کوئی نہیں ہی۔ویسےاگر آپ دارالامان جانا چاہتی ہیں تو بندہ حاضر ہےلیکن پہلےناشتہ تو کرلیجئی۔“
    ” آپ کو کیسےمعلوم کہ۔۔۔“
    ” جن کا کوئی گھر ہو‘ وہ ایسی طوفانی راتوں میں اس حالت میں تو باہر آنےسےرہی‘ جس حالت میں آپ پائی گئیں۔“
    وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر سسکنےلگی۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    طاہر سنجیدہ ہوگیا۔مذاق اور ایک اجنبی لڑکی سی‘ جواس کےنام تک سےناواقف تھی‘ کافی ہو چکا تھا!وہ کتنی ہی دیر تک روتی رہی۔سیف ناشتہ میز پر رکھ کر جا چکا تھا۔وہ خاموش کھڑا اسےدیکھتا رہا۔
    ”دیکھئی۔ خدا را اب یہ رونا دھونا بند کیجئےاور ناشتہ کرلیجئی۔“وہ معذرت خواہانہ لہجےمیں بولا۔
    اس نےدوپٹےکےپلو سے آنکھیں خشک کیںاور اس کی جانب دیکھا۔” آئیی۔ باتھ روم اس طرف ہی۔ “اس نےکمرےکےغربی گوشےکی طرف اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سےباتھ روم کی جانب چل دی۔کچھ دیر بعدجب وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو وہ اسےدیکھتا ہی رہ گیا۔کچھ اتنی ہی نکھر آئی تھی وہ سوگوار ی میں نتھر کر۔
    ”چلئی۔ ناشتہ کیجئی۔“اس نےطاہر کی جانب دیکھا اور سر جھکا کر بستر کےپاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”ویسےڈاکٹر صاحب نےبستر سےنکلنےسےمنع کیا ہی۔ آپ نمونئےکےاٹیک سےبال بال بچی ہیں۔“وہ ہولےسےبولا۔
    وہ اس کی جانب دیکھ کر کوئی بحث کئےبغیر خاموشی سےاٹھ کھڑی ہوئی۔کچھ دیر بعد وہ بستر میں بیٹھی ناشتہ کررہی تھی اور وہ کرسی پر بیٹھا چائےکی پیالی سےدل بہلا رہا تھا۔اس نےبہت کم ناشتہ کیا ۔طاہر نےزیادہ پراصرار نہیں کیا۔سیف بابا برتن لےگیا۔وہ پھر کسی سوچ میں گھو گئی ۔ کتنی ہی دیر تک وہ اسےعجیب سی نظروں سےدیکھتا رہا۔پھر ہولےسےکھنکاراتو وہ چونکی۔نگاہیں ملیں۔وہ مسکرادیا۔
    ”ہاں تو صاحب! مگر یہ صاحب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ آپ کا نام کیا ہی؟“ وہ بےتکلفی سےپوچھ بیٹھا۔
    ”زاہدہ۔ “وہ بےساختہ دھیرےسےکہہ گئی۔
    ”مس زاہدہ؟“ اس نےالٹا سا سوال کردیامگر تیزی سی!
    ”جی۔۔۔ جی ہاں۔“ وہ کہتےکہتےرکی اور شرما گئی۔
    ”تیرا لاکھ لاکھ شکر ہےمالک۔ “ وہ سمجھ میں نہ آنےوالےلہجےمیں آہستہ سےبڑبڑایا۔ ”اچھا۔اب یہ بتائیےکہ آپ کون ہیں؟ کیا ہیں؟ رات آپ اس حال میں کیوں تھیںوغیرہ وغیرہ۔پھر میں آپ کواپنےبارےمیں سب کچھ بتاؤں گا۔جی۔ ویسےمیرا نام طاہر ہی۔“
    اوروہ اس باتونی ‘لاابالی اور بےتکلف سےانسان کو بڑی گہری اور عجیب سی نظروں سےدیکھنےلگی۔
    ”کیا دیکھ رہی ہیں؟“ اس نےکچھ دیر بعد یکا یک کہا۔
    ”جی ۔کچھ نہیں۔ ۔۔کچھ بھی تو نہیں۔ “وہ گھبرا گئی۔
    ”تو پھر کہئےناں۔“
    ”کیا کہوں؟“ وہ اداس سی ہوگئی۔
    ”پہلےتویہ بتایئی۔ ۔۔“وہ معاملےکی نزاکت کےپیش نظر بات بدل گیا۔” آپ کا کوئی۔۔۔“ وہ کہتےکہتےرک گیا۔
    ”نہیں ہی۔ کوئی نہیں ہےمیرا۔“ اس نےگھٹےگھٹےلہجےمیں کہہ کر آنکھیں بھینچ لیں۔
    ”اوہ۔۔۔ مگر۔ صبح آپ نیم بیہوشی میں اپنی امی کو۔۔۔“
    ”مرنےوالےپکارنےسےلوٹ تو نہیں آیا کرتی۔“وہ سسک پڑی۔
    ” معاف کیجئےگا۔ میں نے آپ کو دکھ دیا۔ “وہ افسردہ سا ہوگیا۔
    وہ کتنی ہی دیر دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ طاہر خاموشی سےاسےدیکھتا رہا۔ وہ چاہتا تھا اس کےدل کا غبار پوری طرح نکل جائی۔
    ”تو اب آپ کا کیا ارادہ ہی؟“ وہ کچھ دیر بعد سنبھلی تواس نےدھڑ کتےدل کےساتھ سوال کیا۔
    ”ارادہ؟“ وہ طنز سےمسکرائی۔
    ”میرا مطلب ہی‘ آپ جہاں رہتی تھیں۔ وہیں واپس جانا چاہیں تو۔۔۔“
    ”جی نہیں۔وہاں تو اب میرےلئےصرف اور صرف نفرت باقی ہی۔انہی کےاحسان نےتو مجھےاس طوفانی رات کےحوالےکیا تھا۔“
    ”کیا مطلب؟“ وہ حیرت زدہ رہ گیا۔
    ” آپ ضرور سننا چاہتےہیں۔“اس نےدرد بھری نظروں سےاسےدیکھا۔
    ” آپ مناسب سمجھیں تو۔۔۔“
    ”ٹھیک ہی۔ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات بھی نہیں ہےدنیا میں کہ میں اسےدل پر بوجھ بنائےلئےلئےپھروں۔۔۔مگر مجھےکریدیےگا نہیں۔“
    پھر ایک لرزتی کانپتی‘ درد بھری آواز کےزیر وبم نےاسےجکڑ سا لیا۔وہ کہتی رہی۔ طاہر سنتا رہا۔ بت بنا۔ ہمہ تن گوش۔
    ”ابو بچپن میں ہی ساتھ چھوڑ گئی۔غربت کا دائرہ کچھ اور تنگ ہوگیا۔میں اور امی چچا کےدر پر فقیروں کی طرح پڑےرہی۔ان کےگھر کےکام کاج‘ خدمت ‘ دن رات کی گالیوں‘ مارپیٹ اور جھڑکیوں کےعوض بچا کھچا کھانا پیٹ کی آگ بجھانےکو مل جاتا۔اسی پر سجدہ شکر ادا کرتی۔امی نےہر مصیبت اور تنگدستی کا مقابلہ کرکےکسی نہ کسی طرح مجھےایف اےپاس کرادیا۔ چچا کا لڑکا اخترہمیشہ پڑھائی میں میری مدد کرتا۔ماں باپ کی سخت مخالفت کےباوجود میری اور امی کی ہر طرح مدد کرتا۔اسی کی ضد کے آگےہتھیار ڈالتےہوئےچچا اور چچی نےمجھےکمپیوٹر کورس کی اجازت دےدی۔امی کےدُکھوںکو سُکھ میں بدلنےکا یہی ایک طریقہ تھا کہ میں کہیں نوکری کرلیتی۔ یہی سوچ کر میں نےیہ کورس کرنےکا عزم کرلیا۔چچا کی اولاد میں اختر سےاوپر ایک لڑکی نرگس تھی۔وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سےلندن چلی گئی اور ابھی تک وہیں ہی۔وقت گزرتا رہا۔جوانی بڑھاپےمیں ڈھل گئی۔امی کی جگہ بھی اب مجھی کو تمام گھر کا بوجھ سنبھالنا پڑا۔میں نےکوئی گلہ شکوہ کئےبغیر یہ کڑوےگھونٹ بھی حلق سےاتار لئی۔اس لئےکہ اختر‘ میرا اختر‘ میرا ساتھ نبھانے‘مجھےاپنانےکا وعدہ کرچکا تھا۔صرف اس کےامتحان سےفارغ ہو کر کاروبارسنبھالنےکی دیرتھی۔اختر کی بےپناہ محبت نےمجھےہر ڈر اور خوف سےلاپرواہ سا کردیا۔ مجھےنئی زندگی بخش دی ۔وہ مجھ سےشادی کرنےکو بالکل تیار بلکہ بےصبرا ہورہا تھامگرجب تک وہ تعلیم مکمل نہ کرلیتا‘یہ ممکن نہ تھا۔ پھرایک روز اس نےمجھےیہ خوش خبری سنائی کہ وہ بی اےکا آخری پیپر دے آیا ہی۔اب رزلٹ نکلنےکی دیر ہےاور پھر۔۔اور اس ”پھر“ سے آگےمیں سن نہ سکی۔سہانےسپنوں میں کھو گئی۔ آنےوالےکل کےسورج کی دمکتی کرنیں میرےتاریک ماضی کو تابناک مستقبل میں بدل جانےکا پیغام دےرہی تھیں۔امی نےمجھےبہت سمجھایا۔ اونچ نیچ‘ قسمت اور تقدیر سےخوفزدہ کرنا چاہامگر میں اختر پر اندھا اعتماد کئےبیٹھی تھی ۔ کچھ نہ سمجھ سکی۔ کچھ نہ سوچ سکی۔تب۔۔۔ایک روز۔ جب اختر نےمجھےبتایا کہ چچا اور چچی نےاس کےلئےایک امیرزادی کا رشتہ منظور کرلیا ہےتومیرےسپنوں کا تاج محل زمین بوس ہوگیا۔ زندگی نےبڑےپیار سےفریب دیا تھا۔۔۔
    میں تمام رات روتی رہی۔ پلک نہ جھپکی۔سسکیاںگونجتی رہیں۔ہچکیاں آنسوؤں کا ساتھ دیتی رہیں۔صبح کےقریب جب میں چند لمحوں کی نیند کی تلاش میں تھک کر اونگھتےاونگھتےہڑ بڑا کر جاگی تو امی ہمیشہ کی نیند سو چکی تھیں۔وہ مجھ سےزیادہ دُکھی‘ تھکی ہوئی اور ستم رسیدہ تھیں۔نجات پاگئیں ۔
    چند روز تک گھر میں خاموشی رہی۔ مجھےکسی نےگالی نہ دی۔جھڑکیوں سےنہ نوازا۔ تھپڑوں کےانعام سےمحروم رہی۔تب۔۔۔اختر نےایک بار پھر مجھےسہارا دیا۔اس نےمجھ سےجلد ہی خفیہ طور پر شادی کرلینےکی خبر سنا کر ایک بار پھر مجھےامید کی رہگذر پر لاکھڑا کیا۔چند لمحےپھر بہار کی تصوراتی آغوش میں گزر گئی۔مگر بہار کےبعدخزاں بھی تو آیا کرتی ہی۔ دن کےبعد رات بھی تو آتی ہے۔
    کل کی رات بڑی طوفانی تھی۔بڑی خوفناک تھی۔ شدت سےبارش ہورہی تھی۔ بادل پوری قوت سےدھاڑ رہےتھی۔برق پوری تابناکی سےکوند رہی تھی۔اختر ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔اس کےوالدین اور گھر کےملازم گہری نیندسورہےتھی۔وہ اکثر دیر سےلوٹتا تھا۔ میرا دل نہ جانےکیوں بیٹھا جارہا تھا۔گیار ہ بج گئی۔ دل جیسےتڑپ کر سینےسےباہر آنےکی سعی کرنےلگا۔میں اپنےچھوٹےسےکمرےمیں بےچینی سےکروٹیں بدل رہی تھی۔ تبھی باہر دروازےپر اسی مخصوص مگر شاید بارش کی وجہ سےتیز انداز میں کی گئی دستک نےمجھےزندگی کی وادیوں میں گھسیٹ لیا۔میں تقریباً بھاگتی ہوئی دروازےپرپہنچی۔ دروازہ کھولا۔سامنےاختر بارش میں شرابور کھڑا تھا۔
    ”ارےتم۔۔۔“وہ مجھےحیرت سےدیکھتا ہوا بولا۔
    ”اتنی دیر تم نےکہا ں لگا دی اختر۔ “میں نےپریشانی سےکہا۔
    ”ارےپگلی۔“ اس نےکھینچ کر مجھےسینےسےلگالیا۔ ”میں جب ناصر کےگھر سےنکلا تو موسم ٹھیک تھا۔ ایک دم ہی بارش نے آ لیا۔ موٹر سائیکل پر آتے آتےیہ حال ہو گیا۔“
    میں اس کےسینےمیں سما گئی۔دروازہ بند کرکےہم اسی طرح ایک دوسرےسےلپٹےکمرےمیں چلے آئی۔وہ میرےبستر میں لحاف اوڑھ کر لیٹ گیا ۔ میں اس کےقریب بیٹھ گئی۔
    ”جناب‘ جائیےاب جا کر گیلےکپڑےاتار دیجئی۔ کافی دیر ہوچکی ہی۔“کتنی ہی دیر بعد میں نےاس کی بےباک نظروں سےگھبرا کر کہا۔
    ”زاہدہ۔۔۔“اس نےمجھےلحاف کےاندر گھسیٹ لیا۔میں بےخود سی ہوگئی مگرجب وہ حد سےبڑھنےلگاتومیں سنبھل گئی۔ہوش میں آگئی۔
    ”ہوش میں آؤ اختر۔کیا کررہےہو؟“میں نےاس کےگستاخ ہاتھوں کو روکتےہوئےگھبرا کر کہا۔
    ” آج مجھےمت روکو زاہدہ۔ دیکھو۔ یہ رات‘یہ موسم‘ یہ تنہائی کیا کہہ رہی ہی۔“اس نےاس زور سےمجھےلپٹایا کہ میرا انگ انگ کراہ اٹھا۔
    ”کیا کررہےہو اختر۔ کیا ہوگیا ہےتمہیں؟“ میں سہم سی گئی اور اٹھنےکی کوشش کرنےلگی مگربہکتےجذبات اور موسم نےاختر سےہوش و حواس چھین لئےتھی۔وہ وحشی ہوا جارہا تھا۔میں نےاسےدھمکی دی‘شور مچانےکی۔مچلی ‘ تڑپی‘روئی مگر وہ بہک چکا تھا۔
    پھر میں چیخ اٹھی۔ ایک بار ۔دو بار‘ کہ شاید کوئی مدد کو آپہنچےاوروہی ہوا۔کوئی راہداری میں تیز تیز قدم اٹھاتا چلا آرہا تھا۔اختر گھبرا گیا۔بہکےہوئےجذبات کا بھوت اس کےسر سےاتر گیا۔خدا نےمیری عزت بچالی۔میں لٹتےلٹتےرہ گئی!
    ”کون ہےاندر؟ دروازہ کھولو۔ دروازہ کھولو۔۔۔“چچا جان دروازہ دھڑ دھڑا رہےتھی۔اختر نےاِدھراُدھر دیکھا اور کھڑکی کی طرف لپکا۔
    جب میںنےدروازہ کھولا تو کھڑکی کھلی تھی اور اختر اپنےکمرےمیں جاچکا تھا۔ پھرمیری ایک نہ سنی گئی۔مجھےپیٹا گیا۔گالیاں دی گئیں۔تہمتیں تراشی گئیں۔الزام لگائےگئی۔ بدکار‘ طوائف‘بدچلن اور ایسےکتنےہی خطابات سےنوازا گیا۔اپنےگھر کو ایک گندی مچھلی سےپاک کرنےکےلئےمجھی‘ ایک جوان لڑکی کو‘ سگی بھتیجی کو‘اس طوفانی رات کےحوالےکردیا گیامگراختر نہ آیا۔شایداپنےاصلی روپ میں ظاہر ہونےکےبعد اس کےپاس کوئی نیا لبادہ نہ رہ گیا تھا۔اس سےبعدمیں صرف اتنا ہی جانتی ہوں کہ آسمان کی عنایات سےبےدم ہو کر ایک کوٹھی کےسائبان تلےرک گئی تھی۔ پھر کیا ہوا‘ مجھےکچھ معلوم نہیں!“
    وہ خاموش ہو گئی۔
    ”بڑی دردناک کہانی ہے آپ کی؟“ کچھ دیر بعدوہ ایک طویل سانس لےکر آہستہ سےبولا۔زاہدہ آنکھیں خشک کرنےلگی۔
    ”مگر نئی نہیں ہے۔ “ وہ دونوں ایک آواز سن کر چونک پڑی۔ دروازےکےپاس پڑےصوفےپر ڈاکٹر ہاشمی بیٹھےتھی۔ ”دنیا میں ایسےہزارو ں واقعات روزانہ پیش آتےہیں۔ “وہ اٹھ کر ان کےقریب چلے آئی۔”تم خوش قسمت ہوبیٹی کہ ایک وحشی کےہاتھوں بے آبرو ہونے سےبچ گئیں ورنہ یہ بات تقریباً ناممکن ہو جایا کرتی ہی۔ “وہ بستر کےپاس پڑی کرسی پر بیٹھتےہوئےبولی۔
    زاہدہ کاسر جھک گیا۔
    ” آپ کب آئےانکل؟“ طاہر نےان کی جانب دیکھا۔
    ”جب کہانی کلائمکس پر تھی۔“ وہ بولےاورطاہر سر ہلا کر رہ گیا۔زاہدہ سر جھکائےانگلیاں مروڑ رہی تھی۔
    ”چائےلیں گے آپ؟“ اس نےپوچھا۔
    ”نہیں بھئی۔ اس وقت طلب نہیں۔ہاں بیٹی۔ ذرا ہاتھ ادھر دو۔ “وہ اس کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گھڑی کی طرف دیکھنےلگی۔” اب تو بالکل ٹھیک ہو تم۔“ وہ انجکشن دےکر فارغ ہوگئی۔یہی کیپسول ہر تین گھنٹےبعد لیتی رہو۔انشاءاللہ شام تک ان سےبھی جان چھوٹ جائےگی۔“پھر وہ اٹھ گئی۔”اچھا بھئی طاہر ۔ میں اب چلوں گا۔شام کوپھر آؤں گا۔ “
    ”بہتر انکل۔“ وہ بھی کھڑاہوگیا اورسیف کو پکارا۔چند لمحےبعد وہ کمرےمیں تھا۔ ”ڈاکٹر صاحب کو گاڑی تک چھوڑ آؤ۔“سیف نے آگےبڑھ کر ان کا بیگ اٹھالیا۔ ڈاکٹر ہاشمی چل دیئی۔ ”اور سنو۔ سیف بابا سےدو کپ چائےکا کہہ دو۔“
    ”جی بہتر۔ “وہ سرجھکائےدروازےکی طرف بڑھ گیا۔
    وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔زاہدہ تکئےسےٹیک لگائےجانےکس سوچ میں گم نیم دراز تھی۔
    ”ہوں۔تو آپ صبح اسی لئےان لوگوں کےپاس بھاگ بھاگ کر واپس جارہی تھیں۔“ وہ اسےچونکاتا ہوا گویا ہوا۔
    ”جی۔۔ ۔ جی نہیں۔“ وہ افسردگی سےبولی۔ ”وہ میرےلئےمر چکےہیں۔“
    ”کیا ۔۔۔ اختر بھی؟“ اس نےزاہدہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
    ”وہ بھی تو انہی میں سےتھا۔ “اس نےنظریں جھکالیں۔”اگر وہ پیٹھ نہ دکھاتا اور میری ڈھال بن جاتا تو میں اس وقت یہاں نہ ہوتی۔“
    اوراس کےسینےسےایک بوجھ سا ہٹ گیا۔لبوں پر پھر زندگی سےبھرپور مسکراہٹ تیر گئی۔”تو پھر۔۔۔ کہاں جانےکےلئےاتنا بےقرار تھیں آپ؟دیکھئی۔ وہی گھسا پٹا جواب نہ دیجئےگا کہ جہاں قسمت لےجاتی۔ “وہ لہجےکو نسوانی بناتےہوئےبڑی افسردگی سےبولا۔زاہدہ بےساختہ مسکرا دی۔”اری۔۔۔ آپ تو ہنستی بھی ہیں۔ “وہ بڑی حیرانی سےبولااور اپنےجواب ندارد سوال کو بھول کر اس کےرنگیں لبوں کی مسکراہٹ میں کھو گیا جواَب کچھ اورگہری ہوگئی تھی۔”بس یونہی مسکراتی رہئی۔ ہنستی رہئی۔ بخدازندگی جنت بن جائےگی۔ ویسےایک بات کہوں۔ صبح آپ پتہ ہےکیوں بھاگ رہی تھیں؟“ اس نےپھر زاہدہ کی آنکھوں میں دیکھا۔
    وہ سوالیہ انداز میں اسےدیکھنےلگی۔
    ” آپ کا خوفزدہ ذہن مجھ سےبھی ڈر رہا تھا۔ اختر کی طرح۔ “
    اور اس نےسنجیدہ ہو کر نظریں جھکالیں۔شاید یہ سچ تھا۔
    سیف باباچائےلے آیا۔کچھ دیر بعد وہ چائےسےفارغ ہوگئی۔
    ”اچھا مس زاہدہ۔ آپ آرام کیجئی۔ میں کچھ کام نبٹا آؤں۔کسی بھی چیز کی ضرورت ہو توبیل موجود ہی۔ “اس نےکال بیل پر انگلی رکھ دی۔چند لمحوں بعد سیف کمرےمیں تھا۔
    ”دیکھو سیف بابا۔ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا۔ کھانا پورےایک بجے۔۔۔ اور رات کےکھانےپر تو میں گھر پر ہی ہوں گا۔“
    ”بہتر صاحب۔“ وہ ادب سےبولا۔
    ”بس جاؤ۔“ اوروہ واپس پلٹ گیا۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  4. #4
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    ”اب میں چلوں گا۔گھبرائیےگا نہیں۔ اور یہاں سےجانےکا ابھی مت سوچئےگا۔ کیونکہ میری غیرموجودگی میں کوئی آپ کو یہاں سےجانےنہیں دےگا۔ شام کو لوٹوں گا تو باقی باتیں ہوں گی۔ پھر طےکریں گےکہ آپ کو آگےکیا کرنا ہی؟“ وہ مسکراتا ہوا کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھ گیا۔”ارےہاں۔ مجھےاپنا وعدہ توبھول ہی گیا۔ “ اچانک واپس آ کر وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔وہ اسےکچھ نہ سمجھنےوالےانداز میںدیکھنےلگی۔
    ”دیکھئےصاحب۔ ابو تو ہمارےبھی اللہ کےپیاروں کی فہرست میں شامل ہوچکےہیں۔بس ایک امی ہیں۔ اور ان کا یہ اکلوتا‘ کلم کلا‘ فرزندِ ارجمند۔ آج کل وہ زمینوں پر گئی ہوئی ہیں۔ بڑی سخت گیر ہیں۔ ملازموں کو سر نہیں چڑھاتیں۔ان کی خبر لیتی رہتی ہیں۔ اور میں یعنی مسٹر طاہر۔ امپورٹ ایکسپورٹ کی فرم کا واحد اور بلا شرکت غیرےمالک۔تاکہ وقت گذرتا رہی۔ بیکار بیٹھنےسےبچنےکا اک بہانہ ہی۔ بس یہ تھی ہماری مختصر سی زندگی ‘ جس کےبارےمیں مَیں نے آپ کو بتانےکا وعدہ کیا تھا۔“وہ اٹھ کھڑا ہوا۔وہ لاکھ کوشش کےباوجود اپنی مسکراہٹ کو دبا نہ سکی۔
    طاہر الماری سےکپڑےنکال کر باتھ روم میں گھس گیا۔چند منٹ بعد جب وہ باہر نکلاتوکچھ دیر کووہ بھی مبہوت رہ گئی۔کچھ اتنا ہی سمارٹ لگ رہا تھا وہ۔
    وہ ہاتھ ہلا کر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔زاہدہ پھر کسی گہری سوچ میں گم ہوگئی۔
    ٭
    پندرہ دن ایک آنکھ مچولی کی سی کیفیت میں گزر گئی۔اس شام وہ ڈاکٹر ہاشمی کےہاسپٹل میں ان کےپاس موجود تھا۔
    ”طاہر بیٹے۔“ڈاکٹر ہاشمی کرسی سےاٹھ کر کھڑکی کےقریب چلےگئی۔”تم میں جلد بازی کا مادہ بہت زیادہ ہی۔ تم ہر اس شےکوحاصل کرلینا چاہتےہو‘جو تمہاری نگاہوں کو تسکین دےدی۔ تمہارےدل کوپسند آجائےلیکن۔۔۔“ وہ رک گئی۔ طاہر بےچینی سےپہلو بدل کر رہ گیا۔ ”دوسرےکےجذبات‘رستےمیں آنےوالی رکاوٹوں‘ حقیقت اور ہر تغیر سےتم بالکل بےبہرہ ہو جاتےہو۔“
    ”میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا انکل۔ “وہ مضطرب سا ہوگیا۔
    ”جوانی دیوانی ہوتی ہےبیٹےلیکن اگر اسےسنبھل کر خرچ کیا جائےتو یہ کبھی ختم نہ ہونےوالا سکون بھی بن جایا سکتی ہی۔“
    اس نےپھر کچھ کہنا چاہامگرڈاکٹر ہاشمی نےہاتھ اٹھا کر اسےروک دیا۔اس کےادھ کھلےہونٹ پھر بند ہوگئی۔
    ”ابھی اس اجنبی لڑکی کو یہاں آئےہوئےصرف تین دن ہوئےہیں اور تم اسےجنم جنم کا ساتھی جان کر‘ شریک حیات بنانےکا بےوقوفانہ فیصلہ کربیٹھےہو۔“
    ”مگر اس کا اب دنیا میں ہےبھی کون انکل؟ اسےیہ بات بخوشی قبول ہوگی۔“
    ”غلط کہتےہو ۔ تم اس کےدل میں جھانک کر نہیں دیکھ سکتی۔تمہارا کیا خیال ہےکہ اختر کی محبت اتنی جلدی اس کےدل سےحرفِ غلط کی طرح مٹ گئی ہو گی۔“
    ”اس نےخود۔۔۔“
    ”کہنےسےکیا ہوتا ہی۔کہنےکو تو اس نےان سب کو مردہ کہہ دیا ہےجن میں اس کا چچا ‘ چچی اور اختر سب شامل ہیں لیکن کیا وہ حقیقتاً مرگئےہیں۔ نہیں۔۔۔وہ زندہ ہیں۔جیسےمیں‘ تم اور وہ خود۔۔۔“
    ”لیکن۔۔۔“
    ”ابھی بیگم صاحبہ یہاں نہیں ہیں۔ چندروز میں وہ بھی لوٹ آئیں گی اور اس وقت۔ ۔۔ اس وقت تم ایک عجیب مصیبت میں گرفتار ہو جاؤگےطاہر۔ تم ان کی طبیعت سےاچھی طرح واقف ہو۔“
    ”لیکن میں فیصلہ کرچکا ہوں۔۔۔“
    ”وہ فیصلےبدل دینےکی عادی ہیں۔“
    ”میں بھی انہی کی اولاد ہوں انکل۔“
    ”اور اگر۔۔۔اس لڑکی ہی نےتمہارا فیصلہ ماننےسےانکار کردیا تو؟“
    وہ سچ مچ پریشان ہوگیا۔ڈاکٹر ہاشمی کی ہر بات اپنی جگہ اٹل تھی۔
    ”بات کو سمجھنےکی کوشش کرو بیٹی۔“ وہ نرمی سےاس کا شانہ تھپکتےہوئےبولی۔ ”ابھی اس کےزخم تازہ ہیں۔ ان پر ہمدردی اور پیار کا مرہم رکھو۔اسےحوصلہ دو۔جلد بازی کوکچھ عرصےکےلئےخیر باد کہہ دو۔ اگر تم اس کےدل کا زخم بھرنےمیں کامیاب ہو گئےتو شاید وہ سب کچھ ہو سکےجو تم سوچ رہےہو مگر فی الحال ایسا کوئی چانس نہیں ہی۔ شیخ چلی کا خیالی پلائو تم جیسا انسان نہ پکائےتو اچھا ہےورنہ حقیقت کی بھوک تمہیں ایسےفاقےپر مجبور کر دےگی جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہی۔“
    طاہر نےان کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ مسکرادیے۔ دھیرےسےپھر اس کا شانہ تھپکا۔ اس نےسر جھکا لیا۔
    ”وقت آنےپر میں تمہارےساتھ کھڑاہوں گا۔“وہ آہستہ سےبولی۔
    اور اسےجیسےبہت بڑا سہارا مل گیا۔
    ”اللہ حافظ۔ “وہ مسکرا کر دروازےکی طرف بڑھ گئی۔
    ”اللہ حافظ۔“ وہ ہولےسےبولا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
    ٭
    شوخیوں پر نکھار آتا چلا گیا۔شرارتیں بڑھتی چلی گئیں۔تکلف کی دیواریں گرنےلگیں۔ دبی دبی‘ پھیکی پھیکی مسکراہٹیں ‘بلند بانگ اور زندگی سےبھرپور قہقہوں میں ڈھل گئیں۔
    یک طرفہ محبت کی آگ کےشعلےبلندسےبلند تر ہونےلگی۔اس کی نیندیں اڑنےلگیں۔قرار چھن گیا۔ سکون رخصت ہوگیا۔ دفتر کا عملہ اس کی یکدم بڑھ جانےوالی زندہ دلی‘ ظرافت اور پیار کو ”کسی کےمل جانے“سےتشبیہ دینےلگا۔اس کی سٹینوامبر نےتو کئی بار اسےہنسی ہنسی میںیہ بات کہہ بھی دی تھی۔
    دوسری طرف زاہدہ اس محبت سےبےخبر تھی۔بالکل بےخبر۔لگتا یہی تھا کہ وہ اپنےماضی کوفراموش کرچکی ہےلیکن اس کےدل میں کیا تھا یہ کوئی نہ جانتا تھا۔ہاں‘ کبھی کبھی اختر کی یاد اسےبےچین کردیتی تو وہ کچھ دیر کےلئےاداس ہو جاتی لیکن جب اسےاخترکی زیادتی کا خیال آتا تو وہ اس اداسی کو ذہن سےجھٹک دیتی۔اس کےخیال کو دل سےنکال پھینکنےکی کوشش کرنےلگتی۔ ایسےموقع پر طاہر اس کےبہت کام آتا۔ وہ منٹوں میں اس کی اداسی کو شوخی میں بدل کر رکھ دیتا۔ اسےقہقہوں میں گم کردیتا ۔ ماضی کو فراموش کرکےوہ مستقبل سےبالکل لاپرواہ ہوئی جارہی تھی تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ چٹان کی طرح موجود تھی کہ لاکھ کوشش کےباوجود وہ اختر کو مکمل طور پر اپنی یادوں سےکھرچ دینےمیں ناکام رہی تھی۔
    آج اسےطاہر کےہاں آئےدو ماہ ہو رہےتھی۔بیگم صاحبہ ابھی تک گاؤں سےنہیں لوٹی تھیں۔سردیاں ختم ہونےکوتھیں۔طاہر نےاسےکیا کچھ نہ دیا تھا۔ مسکراہٹیں‘ خوشیاں‘ بےفکری‘ آرام‘ آزادی۔۔۔ لیکن یہ اس کا مستقل ٹھکانہ تو نہیں تھا۔
    ”اےمس اداس۔۔۔“ طاہر کی شوخی سےبھرپور آواز نےاس کےخیالات کا شیرازہ بکھیر دیا۔اس نےنگاہیں اٹھا کر دیکھا۔وہ اسےمسکراتی ہوئی بڑی گہری نظروں سےدیکھتا ہوا‘اس کےسامنےہی آلتی پالتی مار کرلان کی نرم نرم گھاس پر بیٹھ گیا۔
    ”فرمائیی۔“ وہ بےساختہ مسکرادی۔
    ”فرمانا کیا ہےہم فقیروں نے۔ بس یہ ایک عدد خط آیا ہےامی جان کا۔ “ وہ کاغذ کھول کر اسےگھاس پر بچھاتا ہوا جیسےمشاعرےمیں غزل پڑھنےلگا۔ وہ نجانےکیوں بےچین سی ہوگئی۔
    ” آرہی ہیںوہ ؟“
    ”ہاں۔۔۔مگر تم کیوں پریشان ہوگئیں؟“ وہ خط پڑھےبغیر تہہ کرکےجیب میں رکھتےہوئےبولا۔
    ”پریشان ۔۔۔ نہیں تو۔ وہ ۔۔۔“
    ”اچھا چھوڑو۔ ایک بات بتاؤ۔“
    ”جی پوچھئی۔“
    ”اب تمہارا ارادہ کیا ہی؟ میرا مطلب ہے۔۔۔“
    ”میں بھی یہی سوچ رہی تھی طاہر صاحب کہ آپ نےمجھ پر کتنےاحسانات۔۔۔“
    ”میں نےاحسانات گننےکو نہیں کہا۔ یہ پوچھا ہےکہ اب آئندہ کا پروگرام کیا ہی؟“ اس نےزاہدہ کی بات کاٹ دی۔
    ”پروگرام کیا ہونا ہےطاہر صاحب۔ایک نہ ایک روز تو مجھےیہاں سےجانا ہی ہی۔کئی بار جانا چاہا۔ کبھی آپ نےیہ کہہ کر روک لیا کہ کہاں جاؤ گی؟ اور کبھی یہ سوچ کر رک گئی کہ واقعی کہاں جاؤں گی میں؟ لیکن آج آپ نےپوچھ ہی لیا ہےتو۔۔۔“ وہ رک گئی ۔پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سوالیہ انداز میں اسےدیکھتا رہا۔” آپ ہی بتائیی۔ میں کہاں جاؤں؟“
    ”ارےتو کون اُلو کا پٹھا تمہیں جانےکو کہہ رہا ہی؟ “وہ مصنوعی جھلاہٹ سےبولا اور اٹھ کر اس کےقریب چلا آیا۔
    ”مذاق نہیں طاہر صاحب۔ میں۔۔۔میں آج ہی یہاں سےچلی جاؤں گی۔ “وہ اداسی سےبولی۔
    ”کہاں؟“
    ”کہیں بھی؟“ وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر رہ گئی۔
    ”پھر بھی ؟“
    ”جہاں۔۔۔“
    ”قسمت لےجائی۔ بس اس فلمی ڈائیلاگ سےمجھےبڑی چڑ ہی۔ “وہ اس کی بات اچک کر بولا۔ وہ نہ چاہتےہوئےبھی مسکرا دی۔
    ”سنو۔۔۔“وہ اس کےبالکل سامنی‘ بالکل قریب چلا آیا۔
    اس نےطاہر کی طرف دیکھا۔
    ”تم کہیں مت جاؤ۔یہیں رہو۔ “وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا اس کےشانوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
    ”نوکرانی بن کر۔ ۔۔؟“وہ دھیرےسےمسکرائی۔
    ”رانی بن کر۔“ وہ اسےہلکا سا جھٹکا دےکر بولا۔
    ”کیا مطلب؟“ وہ حیران سی ہوگئی۔
    ”رانی کا مطلب نہیںسمجھتیں کیا۔ ارےوہی۔۔۔جو ایک راجہ کی۔۔۔“وہ شرارت سےمسکرا کر خاموش ہوگیا۔
    ”طاہر صاحب۔“ وہ حیرت سےلڑکھڑا کرپیچھےہٹ گئی۔
    ”کیوں۔۔ ۔ کیا ہوا ؟“ وہ بےچینی سےبولا۔ دل بڑےزور سےدھڑکا تھا۔
    ”ایسا مت کہئےطاہر صاحب۔ میں اتنا بھیانک مذاق سہہ نہ سکوں گی۔“
    ”ارےواہ۔ تم زندگی بھر کےبندھن کومذاق۔۔۔“
    ”خاموش ہو جائیےطاہر صاحب۔ خدا کےلئی۔ “وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر سسک پڑی۔
    ”زاہدہ۔۔۔“ اس کو شانوں سےتھام کر طاہر نےاس کا رخ اپنی جانب پھیرا۔”میں اختر نہیں ہوں زاہدہ۔“
    ”اسی لئےتو یقین نہیں آتا۔“اس نےرخ پھیر لیا۔
    ”زاہدہ ۔تم۔۔۔تم سمجھتی کیوں نہیں؟ میں ۔۔۔میں تم سےشادی کرنا چاہتا ہوں۔“وہ رک رک کر کہہ گیا۔
    ”بس کیجئےطاہر صاحب۔ بس کیجئی۔ یہ زہر میں بجھےہوئےتیر بہت پہلےمیرےدل میں اتر چکےہیں۔“
    ”زاہدہ ۔“وہ تڑپ اٹھا۔ ”میرےخلوص کی یوں دھجیاں نہ بکھیرو۔“
    ”مجھےجانےدیجئےطاہر صاحب۔مجھےجانےدیجئی۔ مجھ میں اب یہ فریب ‘ یہ ستم سہنےکی تاب نہیں ۔“وہ چل دی۔
    طاہر آگےبڑھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔”جاسکوگی؟“ اس کی نم آنکھوں میں جھانک کر وہ بڑےمان سےبولا۔
    وہ لرز گئی۔ایک چٹان کھڑی تھی اس کےراستےمیں!
    ”میں نےزندگی میں پہلی مرتبہ کسی کےلئےبےقراری محسوس کی ہےزاہدہ۔ پہلی مرتبہ میرا دل کسی کےلئےدھڑکا ہی۔تمہارےلئی۔زاہدہ‘ صرف تمہارےلئی۔اگر اسی کو محبت کہتےہیں تو۔۔۔ “
    ”طاہر صاحب۔“وہ پھر سسکی۔
    ”ہاںزاہدہ۔ میں نےجب تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو نجانےکیوں تمہیں دل میں سمولینی‘دھڑکنوں میں چھپا لینےکوجی چاہا ۔میں نےاپنا کوئی آئیڈیل نہیں بنایا زاہدہ مگر اب لگتا ہےتم ہی میری نامحسوس اور اور ان دیکھی آرزوؤں کی تصویر ہو۔ میں نےاس کٹی پھٹی تصویر میں اپنی چاہت کےرنگ بھر دیےلیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ تصویرمیری بولی سےبہت زیادہ قیمت کی ہی۔ میرےپاس تو صرف خلوص کی دولت ہےزاہدہ ۔ اس ظاہری شان و شوکت‘ اس آن بان پر تو میں کبھی تن کر کھڑا نہیں ہوا۔“
    وہ بت بنی اس کی صورت تکتی رہی۔وہ پھیکےسےانداز میں مسکرا دیا۔
    ”جانا چاہتی ہو؟ مجھےچھوڑ کر؟“وہ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں جھانک کر آہستہ سےبولا۔”میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ جاؤ۔ “ وہ بڑی درد بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر لئےایک طرف ہٹ گیا۔
    زاہدہ نےاسےعجیب سی نظروں سےدیکھ کر دھیرے سےحرکت کی اور چل دی۔ آہستہ آہستہ‘ چھوٹےچھوٹےچند قدم اٹھائی۔
    طاہر کی آنکھوں کےسامنےدھند سی لہرا گئی۔پانی کی پتلی سی چادر تن گئی۔
    وہ رک گئی۔
    طاہر کی پلکیں بھیگ گئیں۔
    وہ پلٹی۔ دھیرےسی۔
    طاہر کےہونٹوں کےگوشےلرز گئی۔
    وہ رخ پھیر کر بھاگی۔
    طاہر کےبازووَا ہو گئی۔
    وہ اس کےبازوؤں میں سماتی چلی گئی۔شبنم‘ پھول کی پتیوں پر پھسل پڑی۔
    دور بر آمدےمیں کھڑےڈاکٹرہاشمی کےلبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔ شاید وہ سب کچھ جان گئےتھی۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  5. #5
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    ”تو ہماری اک ذرا سی عدم موجودگی نےیہ گل کھلائےہیں۔“ بیگم صاحبہ نےسرجھکائےکھڑےطاہر‘زاہدہ اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب کڑی نظروں سےدیکھا۔
    ”میں نی۔۔۔“ طاہر نےکہنا چاہا۔
    ”کوئی جرم نہیں کیا۔کوئی گناہ نہیں کیا۔ محبت کی ہی۔شادی کرنا چاہتےہیں۔ یہی فلمی ڈائیلاگ بولو گےنا تم۔“ اس کی بات تیز لہجےمیں کاٹ دی گئی۔ وہ ان کےپُررعب‘باوقار چہرےپر پھیلتی سختی کی تاب نہ لا کر سر جھکا کر رہ گیا۔
    ”ڈاکٹر ہاشمی۔“
    ”جی بیگم صاحبہ“۔ وہ ایک قدم آگےبڑھ آئی۔
    ” آپ بھی اس سازش میں برابر کےشریک ہیں ۔“ وہ سرد مہری سےبولیں۔
    ”جی ۔ ۔۔جی۔۔۔ میں ۔۔۔۔“ وہ گڑ بڑا گئی۔
    ”گھبرائیےنہیں ڈاکٹر ہاشمی۔ آپ ہمارےخاندانی ڈاکٹر ہیں۔ آپ میں تو اتنی ہمت‘ اتنی جرات ہونی چاہیےکہ آپ ہم سےبلاخوف بات کرسکیں‘ یا ہمارےنمک میں یہ اثر بھی نہیں رہا۔“
    ”ایسی کوئی بات نہیں بیگم صاحبہ۔ “وہ سنبھل گئی۔
    ”تو پھر ؟ یہ سب کیا ہوا ؟ کیوں ہوا؟ہمیں اطلاع کیوں نہ دی گئی؟“ وہ ان کی جانب دیکھتی ہوئی بولیں۔
    ”میں نے۔۔۔“
    ” آپ نےکچھ بھی سوچا ہو ڈاکٹر ہاشمی مگر ہمارےلئےنہیں۔اس سر پھرےلڑکےلئےسوچا ہوگا‘جسے آپ نےگودوں کھلایا ہی۔ ہےناں؟“
    ”جی ۔۔۔ جی ہاں۔“ وہ اقرار کرگئی۔
    زاہدہ سہم سی گئی مگر طاہر نےاسےنظروں ہی نظروں میں دلاسا دیا۔تب وہ اپنےخوف کو کافی حد تک کم محسوس کرنےلگی ۔
    ”طاہر ۔“وہ اس کی طرف پلٹیں۔
    ”جی امی جان۔ “وہ ادب سےبولا۔
    ”تمہیں ہمارا فیصلہ معلوم تھا ناں؟“
    ”جی۔“ اس کا سر جھک گیا۔
    ”پھرتم نےاسےبدلنےکےبارےمیں سوچا کیسی؟“
    ”گستاخی معاف امی جان۔ میں نےتمام زندگی آپ کےہر حکم پر سرجھکایا ہی۔“
    ”مگراب اس لڑکی کی خاطر‘ اپنی پسند کی خاطر‘ تم ہمارےہر اس فیصلےکو تسلیم کرنےسےصاف انکار کردو گی‘ جو ہم تم پر حکم کہہ کر لاگو کریں گی۔ “انہوں نےاس کی بات پوری کر دی۔
    ”جی نہیں۔ امی جان میں نےایسا۔۔۔“
    ”تو تمہیں ہمارےہر فیصلےسےاتفاق ہوگا؟ “وہ حاکمانہ انداز میں گویا ہوئیں۔وہ جواب میں خاموش رہا۔ایک بوجھ سا ان سب کےدلوں پر بیٹھتا چلا گیا۔
    ڈاکٹرہاشمی نےپُردرد نظروں سےان دوپیار بھرےدلوں کو دیکھا‘ جو سہمےسہمےانداز میں دھڑکنےکی کوشش کررہےتھی۔
    ”اس خاموشی سےہم کیا مطلب لیں طاہر؟“
    اور اس نے آہستہ سےزاہدہ کی جانب دیکھ کر سر اٹھایا۔”میں آپ کےفیصلےکا منتظر ہوں امی جان۔“
    ”تو۔۔۔“ وہ ان کی جانب گہری نظروں سےدیکھتی ہوئی بولیں۔”ابھی۔۔۔اسی وقت۔ اس لڑکی کو۔۔۔“وہ رکیں۔ان سب کو تنقیدی اور جانچنےوالی نظروں سےدیکھا۔”یہاں سےرخصت کردو۔“ کہہ کرانہوں نےرخ پھیر لیا۔
    ایک بم پھٹا۔ ایک زلزلہ آیا۔ ایک طوفان اٹھا۔یہ سب ان کی توقع کےمطابق ہی ہوا تھامگر وہ پھر بھی سہہ نہ سکے۔
    ”میں وجہ پوچھنا چاہوں گا امی جان۔“ ایک اور دھماکہ ہوا۔
    ”طاہر ۔“ وہ آپےسےباہر ہوگئیں۔ تیزی سےاس کی طرف پلٹیں۔” وجہ تم اچھی طرح جانتےہو۔“وہ غیظ و غضب سےان دونوں کو گھورتےہوئےپھنکاریں۔
    ”میں آپ کی زبان سےسننا چاہتا ہوں۔“وہ جیسےہر خوف‘ ہر ڈر سےبےبہرہ ہوگیا۔
    وہ ایک لمحےکو سن ہو گئیں۔طاہر‘ان سےوجہ پوچھ رہا تھا۔ان کےحکم کی تعمیل سےانکار کررہا تھا۔ ان کی انا پر براہ راست حملہ آور ہورہا تھا۔
    مگردوسرےہی لمحےوہ سنبھل گئیں۔جوانی جوش میں تھی‘انہیںہوش کی ضرورت تھی۔ طوفان چڑھ رہا تھا۔بند باندھنا مشکل تھا‘ ناممکن نہیں ۔
    ان کےچہرےکی سرخی‘ اعتدال کی سفیدی میں ڈھلتی چلی گئی۔ آنکھوں میں دہکتی ہوئی آگ‘ ہلکی سی چمک میں بدل گئی۔بڑھاپا سنبھل گیا۔ جوانی کو دائو میں لینےکا لمحہ آن پہنچا تھا۔
    ”یہ لڑکی کون ہے۔جانتےہو؟“وہ زاہدہ کی جانب اشارہ کرتےہوئےبولیں۔
    ”انسان ہےامی جان۔ “وہ ادب سےبولا۔
    ”اس کا خاندان‘گھر بار ‘ ٹھکانہ‘ ماں باپ۔ “وہ بل کھا کر ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ گئیں۔
    ” یہ بےسہارا ہےامی جان۔“
    ” آوارہ بھی تو ہوسکتی ہی۔“ انہوں نےاس کی بات کاٹ دی۔
    ”امی جان۔“وہ احتجاجا ًبولا۔
    ”جنگ میں زخموں کی پرواہ کرنےوالےبزدل ہوتےہیں طاہر بیٹی۔ اور تم ہمارےبیٹےہو۔ ہمارےسامنےتن کر کھڑےہوئےہو تو وار سہنا بھی سیکھو۔“ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں۔
    ”امی جان۔“ وہ ایک قدم آگےبڑھ آیا۔”یہ غریب ‘بےسہارا ‘بےٹھکانہ ہی۔“
    ”تو آج تک دارالامان میں رہی ہی۔ “وہ طنز سےبولیں۔
    ”اپنوں کےستم سہتی رہی ہی۔ “وہ تیزی سےبولا۔
    ”پھر یہ بےگھر کیسےہوئی؟ کیوں ہوئی؟“ وہ جلال میں آگئیں۔
    ”تقدیر جب سر سے آنچل کھینچ لینےکےدرپےہوگئی تو۔ ۔۔“
    ”تو۔۔ ۔یہ تمہارےپاس چلی آئی۔ “انہوں نےاس کا فقرہ بڑےخوبصورت طنز سےپورا کردیا۔
    ”میں سب بتا چکا ہوں امی جان۔ “وہ ادب ہی سےبولا۔
    ”مگر ہم یہ برداشت نہیں کرسکتےکہ کوئی ایسی لڑکی ہمارےبیٹےکی بیوی اور ہماری بہو کہلائی۔۔۔“
    ”جس کےپاس دولت نہیں۔ جہیز نہیں۔معاشرےمیں اونچا مقام نہیں۔ “وہ پھٹ پڑا۔
    ”ٹھیک سمجھےہو۔ “وہ نرمی سےبولیں۔
    ”میں ایک سوال اور کروں گا امی جان۔“
    ”ہم جواب ضرور دیں گی۔“
    ”اگر یہ لڑکی۔۔۔ فرض کیجئےیہ لڑکی ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی ہوتی تو؟“
    ”تو ہم بخوشی اسےاپنی بہو بنالیتےلیکن ہم جانتےہیں کہ یہ ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی نہیں ہے۔ اس لئےہم اسےتمہاری بیوی نہیں بنا سکتی۔ “وہ وقار سےبولیں۔
    ”اگر شرط یہی ہےتو سمجھ لیجئےبیگم صاحبہ۔ یہ لڑکی آج سےمیری بیٹی ہی۔ “ڈاکٹر ہاشمی نے آگےبڑھ کر زاہدہ کےسرپر ہاتھ رکھ دیا۔
    ”ڈاکٹرہاشمی ۔“ امارت تلملا اٹھی۔
    ” آپ زبان دےچکی ہیں بیگم صاحبہ“۔ وہ ادب اور آہستگی سےبولی۔
    ”مگر یہ آپ کی سگی بیٹی نہیں ہی۔“
    ” آپ نےیہ شرط نہیں لگائی تھی امی جان۔ “وہ ان کےبالکل قریب چلا آیا۔
    اوروہ اپنی بوڑھی‘ تجربہ کارمگر ممتا بھری نظروں سےاسےگھورتی رہ گئیں۔
    ”مان جائیےناں امی جان۔ تمام زندگی مجھےحکم دیتی آئی ہیں۔میری ضدیںپوری کرتی آئی ہیں ۔ آج یہ ضد بھی مان لیجئی۔“
    وہ پھر بھی اسےگھورتی رہیں۔تاہم طوفان اترنےلگا تھا۔
    ”امی جان۔ “اس نےان کےشانےتھام لئی۔”بولئےناں۔“اس نےان کی آنکھوں میں جھانکا۔ ممتا لرز گئی اور بال آخر بےبس ہوگئی۔
    کتنی ہی دیر گزرگئی۔ پھر انہوں نےسرجھکا لیا۔ آہستہ سےبیٹےکو ایک طرف ہٹا دیا۔دو قدم چلیںاور زاہدہ کو گھورنےلگیں۔
    ”ہمارے۔۔۔ قریب آؤ۔ “وہ رک رک کر کتنی ہی دیر بعد بولیں۔وہ پلکوں پر ستارےلئی‘ دھیرےدھیرے‘ان کےقریب چلی آئی۔
    وہ چند لمحوں تک اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑےجانےکیا دیکھتی رہیں۔ جانچتی رہیں۔تب اس کی پلکوں سےستارےٹوٹےاور بیگم صاحبہ کےقدموں پر نچھاور ہو گئی۔ پھر اس سےپہلےکہ وہ ان کےقدم چوم لیتی‘انہوں نےاس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کردی۔
    فیصلہ ہوگیا۔
    ”ہم ہارگئےطاہر۔“وہ زاہدہ کو سینےسےالگ کرکے آہستہ سےپلٹیں۔”لیکن صرف اپنےاصولوں‘ اپنی زبان کی خاطر۔“
    ”امی جان۔ “وہ بھاگ کر ان سےلپٹ گیا۔
    ”پگلی۔ ابھی تو بڑا فلسفی بنا ہوا تھا۔ “وہ اس کےسر پر بوسہ دیتی ہوئی مسکرائیں۔
    ”امی جان۔“ وہ جھینپ کر بولا۔ زاہدہ نےشرما کر سرجھکا لیا۔ڈاکٹر ہاشمی مسکرا رہےتھی۔
    ”ڈاکٹر ہاشمی۔“ کچھ دیر بعد وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔
    ”جی بیگم صاحبہ۔ “وہ ادب سےبولی۔
    ”ہماری بہو کو گھر لےجائیی۔ ہم اگلےماہ کی تین تاریخ کو یہ ستارہ ‘ اپنےچاند کےپہلو میں دیکھنا چاہتےہیں۔ “ وہ پیار سےان دونوں کو گھور کر بولیں۔
    ”جو حکم بیگم صاحبہ۔“وہ بھی مسکرا دیئی۔
    شرما کر زاہدہ نےدونوں ہاتھوں میں منہ چھپاتےہوئےرخ پھیر لیا۔ طاہر اس کےلرزتےہوئےوجود کو دیکھ کرنشےمیں جھومتا ہوا آگےبڑھا۔
    ”مبارک ہو۔“ زاہدہ کےقریب سےگزرتےہوئےاس نے آہستہ سےکہا ۔
    ”ہماری طرف سےبھی۔ “بیگم صاحبہ کی آواز نےاسےبھاگنےپر مجبور کردیا ۔وہ شرم سےگڑی جارہی تھی۔
    ”ہمیں اب اجازت دیجئےبیگم صاحبہ۔ آپ نےوقت بہت کم دیا ہے۔“ ڈاکٹر ہاشمی نےکہا۔
    ”کاش ! آپ جانتےڈاکٹر ہاشمی کہ انتظار کس قدر تلخ شےکا نام ہی۔ “وہ ہولےسےقہقہہ لگا کربولیں۔ ڈاکٹر ہاشمی جھینپ کر رہ گئی۔”اچھا ۔تو جایئی۔“ وہ ہنستےہوئےبولیں۔”لےجائیےہماری امانت کو اپنےگھرچند دنوں کےلئی۔“وہ شرمائی لجائی سی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈاکٹر ہاشمی کےہمراہ خارجی دروازےکی طرف بڑھ گئی۔
    بیگم صاحبہ کےچہرےپر ایک سکون تھا۔تمکنت تھی۔وقار تھا مگر دل میں ایک پھانس سی تھی۔ انہیں نجانےکیوں لگ رہا تھا کہ یہ ایک خواب ہےجو طاہر نےدیکھا ہے‘ اور جب اس کی آنکھ کھلےگی تو تعبیر اچھی نہیں ہوگی۔ پھر انہوں نےسر جھٹک کر اپنےواہموں سےنجات حاصل کرنےکی کوشش کی تاہم دل کی بےسکونی ان کی پیشانی پر تفکر کی لکیر بن کر چھلک آئی تھی۔ شایدبڑھاپا خود کو فریب دینا چاہ رہا تھا مگر تجربےکی تیسری آنکھ وا ہو چکی تھی جو آنےوالےوقت کےاندیشےکی پرچھائیاں محسوس کر کےپتھرائےجا رہی تھی۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  6. #6
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    لوبیٹی ۔ یہ ہےتمہارا نیا مگر مختصر سےوقت کےلئےچھوٹا سا گھر۔ “ڈاکٹر ہاشمی نےاسےساری کوٹھی کی سیر کرانےکےبعدواپس ڈرائنگ روم میں آ کر صوفےپر بیٹھتےہوئےکہا۔وہ خاموشی سےان کےسامنےبیٹھ گئی۔
    زندگی کی خوشیاں‘ ہر نعمت‘ ہرمسرت پا کر بھی‘ اس پر نجانےکیوں ایک بےنام سی اداسی‘ نامحسوس سی یاسیت طاری تھی‘ جسےوہ چھپانےکی حتی الامکان کوشش کررہی تھی۔
    ”دینو۔ او دینو۔“ ڈاکٹر ہاشمی نےاپنےملازم کو آواز دی۔
    ”جی مالک۔ “نوکر کمرےمیں داخل ہوا۔
    ”دیکھو۔ دو کپ چائےلے آؤ مگر ذرا جلدی ۔مجھےہاسپٹل پہنچنا ہی۔ “وہ چٹکی بجا کر بولی۔ دینو سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
    ڈاکٹر ہاشمی نےمختصرا ًدینو کو اتنا ہی بتایا تھا کہ زاہدہ ان کی منہ بولی بیٹی ہےاور اگلےماہ اس کی شادی طاہر میاں سےہورہی ہی۔دینوان کا اکلوتا اور وفادار ملازم تھا۔
    ڈاکٹر دلاور ہاشمی نےبیوی کےمرنےکےبعد دوسری شادی نہیں کی تھی۔ایک ہی بیٹا تھا۔ سرمد۔ جسےوہ جی بھر کر پڑھانا چاہتےتھی۔ آج کل وہ لندن یونیورسٹی میں ایم بی اےکر رہا تھا۔دونوں باپ بیٹا‘ دو ہی افراد اس خوبصورت آشیانےکےباسی تھی۔ایک دوسرےکےدکھ درد‘ غم اور خوشی کےشریک۔راز دار‘ دوست‘ سبھی کچھ تو تھےوہ۔
    ثروت خانم کےدلہن بن کر آنےسےبھی پہلےسےوہ سر سلطان وجاہت کےفیملی ڈاکٹر تھی۔ معالج اور مریض کا یہ رشتہ وقت نےرفتہ رفتہ دوستی میں بدل دیا اور سر وجاہت سلطان کی وفات کےبعد بیگم صاحبہ اور طاہر سےان کا یہ تعلق سرپرستانہ ہو گیا۔ انہیں سلطان ولا میں گھر کےایک اہم فرد ہی کی سی عزت دی جاتی تھی۔اس تعلق کی بنیادوں میں یہ بات اولیں اہمیت کی حامل تھی کہ انہوں نےطاہر کو واقعی کسی چچا کی طرح گود میں کھلایا تھا۔
    چائےختم ہو گئی تو وہ اٹھ گئی۔
    ”اچھا بیٹی۔ میں ذرا ہاسپٹل ہو آؤں۔ شام تک لوٹ آؤں گا۔ تم گھبرانا نہیں۔دینو سےبےتکلف ہو کر جس شےکی ضرورت ہو کہہ دینا۔ شام کو شاپنگ کےلئےچلیں گی۔“
    وہ خاموش رہی۔ ڈاکٹر ہاشمی ہنستےہوئےاٹھےاور پیار سےاس کےسر پر ہاتھ پھیر کر دروازےکی جانب بڑ ھ گئی۔
    وہ کتنی ہی دیر جانی پہچانی سوچوں میں گم صوفےپر بیٹھی رہی۔ آنسو اس کی پلکوں سےشبنم کےموتیوں کی طرح ڈھلک ڈھلک کر رخساروں پر پھسلتےرہی۔ذہن الجھا رہا۔ دل مچلتا رہا اور لب کپکپا کر ایک ہی نام ‘ ایک ہی خیال کو دہراتےرہی۔
    ”اختر۔کاش اختر۔ وہ سب کچھ نہ ہوتا۔جس نےمجھےاس مقام تک پہنچا دیا۔مجھےسب کچھ ملا اختر مگر تم نہ ملی۔ کیوں اختر؟ تم نےایسا کیوں کیا؟ تمام زندگی کےلئےمجھےیادوں کی چتا میں جلنےکو کیوں چھوڑ دیا؟ بولو ناں اختر۔تم سنتےکیوں نہیں؟کہاںہو تم اختر ۔ کہاں ہو تم؟“
    وہ کتنی ہی دیر روتی رہی ۔ اشک بہتےرہی۔ دل سلگتا رہا۔یادیں آتی رہیں۔ جانےکب تک۔ پھر وہیں صوفےپر بیٹھےبیٹھےوہ نیندکی بانہوں میں سمٹ گئی۔کسی معصوم بچی کی طرح۔
    ٭
    شادی میں صرف دو دن باقی تھی۔دونوں جانب تیاریاں مکمل ہو گئیں۔
    ڈاکٹر ہاشمی نےاپنی چیک بک کو جی کھول کر استعمال کیا تھا ۔اب ان کی سونی سونی کوٹھی واقعی کسی ایسی لڑکی کا گھر معلوم ہونےلگی تھی‘جس کی رخصتی عنقریب ہونےوالی ہو۔
    وہ بےحد خوش تھی۔بھری دنیا میں ایک بیٹےاور اب اس منہ بولی ‘ چند روزہ مہمان بیٹی کےسوا ان کا تھا بھی کون؟وہ اسےباپ بن کر ہی بیاہنا چاہتےتھی!
    بیگم صاحبہ بھی وقتاً فوقتاًان کےہاں چلی آتیں۔ انہیںاپنےہاں بلا بھیجتیں۔ صلاح مشورےہوتی۔ پھر آنےوالےسہانےدنوں کےخواب حقیقت بن بن کر ان کی ترستی ہوئی پیاسی آنکھوں میں ابھرنےلگتی۔
    رہ گیا طاہر۔تواس کا ایک ہی کام تھا۔دن بھر ٹیلی فون کرکرکےاسےتنگ کرنا۔ آنےوالےخوبصورت دنوں کی باتیں کرنا۔ ٹھنڈی آہیں بھر کر وقت کےجلدی نہ گزرنےکی شکائتیں کرنا۔بےقرار دل کا حالِ زار سنانااور محبت جتانا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا ۔اگر ڈاکٹر ہاشمی اور بیگم صاحبہ کا نادر شاہی حکم نہ ہوتا تو وہ شاید ہر پل زاہدہ کی قربت میں گزار دیتامگر مجبور تھا۔ہاں ‘تھوڑا سا بےشرم ہو کر وہ زاہدہ کےلئےہر روز کوئی نہ کوئی چیز ضرور خریدلاتا۔کبھی ساڑھی۔ کبھی نیکلس۔ کبھی کچھ ۔کبھی کچھ۔
    بیگم صاحبہ سب کچھ دیکھ کر‘سب کچھ جان کر بھی ‘ہولےسےمسکرا کر خاموش ہورہتیں۔اور بس۔ عجیب بات تھی کہ انہیں اب بھی اس بات پر یقین نہ آتا تھا کہ ان کےبیٹےکی شادی ہو رہی ہی۔ اب بھی ان کا وہم انہیں اندر سےڈرائےرکھتا تھا۔
    طاہر دفتر میں سارا سارا دن بچوںکی طرح ہر ایک کو چھیڑتا رہتا۔ہر ایک کو تنگ کرتا رہتا۔سب اس کی خوبصورت شرارتوں کو مالک کےپیار سےزیادہ ایک سچی‘مخلص اور پیارےدوست کا حق سمجھ کر برداشت بھی کرتےاور موقع ملنےپر بدلہ بھی چکا دیتی۔
    ”امبر۔۔۔تم بھی جلدی سےشادی کرلو۔ایمان سے آدمی مرنےسےپہلےہی جنت میں داخل ہو جاتا ہی۔“طاہر کہتا اور وہ بیر بہوٹی بن کر رہ جاتی۔
    اب تو چند دنوں کی بات تھی ۔ پھر۔۔۔ اور اس” پھر “سے آگی‘ وہ بڑےحسین تصورات میں گم ہو جاتا۔کھوکر رہ جاتا۔ ”زاہدہ ۔ “ایک نام اس کےلبوں پر آتا اور وہ مدہوش سا ہو جاتا ۔
    دوسری طرف زاہدہ کسی اور ہی دنیا میں تھی۔ سب کچھ ‘ اس کی آنکھوں ‘ جاگتی آنکھوں کےسامنےہورہا تھا۔وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔محسوس کررہی تھی لیکن اسےیہ سب خواب معلوم ہورہا تھا۔ایک ایسا خواب جس میں بےچینی تھی ‘بےسکونی تھی‘بےاطمینانی تھی۔وہ راتوں کو بےقراری سےکروٹیں بدلتی رہتی ۔اضطراب اس پر حاوی رہتا۔ذہن منتشر منتشر سا۔دل مسلا مسلا سا ۔ سوچیں ادھوری ادھوری سی ۔خیالات بکھرےبکھرےسی۔وہ خود کو نامکمل سی محسوس کرتی۔قطعی نامکمل ‘ تشنہ اور ادھورا۔
    یہ ادھورا پن‘یہ تشنگی‘ یہ اضطراب‘صرف اور صرف ماضی کی ان بےقرار یادوں کےباعث تھاجو اسےایک پل کو چین نہ لینےدیتی تھیں۔ اس کےہر تصورپر اختر‘ہر پل‘ ہرلمحہ‘ چھایا رہتا۔اس نےجتنا ماضی سےدامن چھڑانا چاہا‘ مستقبل اتنا ہی اس سےدور ہوتا چلا گیا۔ وہ یادوں کےگھور اندھیروں میں ڈوبی‘ اشکوں کےچراغ جلاتی رہتی مگرکوئی راستہ ‘ کوئی منزل‘ کوئی راہگزر نگاہوں کےہالےمیں تیرتی نظر نہ آتی۔
    محبت کھیل نہیںکہ بغیر چوٹ دیےختم ہو جائے۔۔۔یہ احساس اسےشدت سےہورہا تھا۔ پوری تندی و تیزی سےیہ طوفان اسےاپنی لپیٹ میں لےرہا تھا اوروہ بےبسی سےاپنی نم آنکھوں میںچبھتےنوکیلےکانٹوں کی چبھن اپنی روح پر محسوس کرتےہوئے آنسو آنسو ہو کر چیخ پڑتی۔چلا اٹھتی۔
    ”اختر کہاںہو تم۔ ظالم! یہ کس جہنم میں دھکیل دیا ہےتم نےمجھی۔ ایک بار۔ صرف ایک بار سامنےتو آؤ۔مجھےیقین تو ہوجائےکہ تم وہ نہیں ہو‘جو صرف ایک رات کےلئی‘ایک مختصر سےوقفےکےلئےنظر آئےتھی۔ اور اگر وہی ہو‘ جسےمیں نےصدیوں اپنےدل کےنہاں خانےمیںچھپائےرکھا تو میں وہی بن جاؤں‘ جو تمہارےلئےدیوی تھی۔تمہاری داسی تھی۔ تمہاری تھی اختر۔صرف تمہاری!“۔۔۔مگراس کےدل کی یہ پکار‘جذبات کی صدا کوئی بھی تو نہ سن سکتا تھا۔کوئی بھی تو نہیں۔ اختر بھی نہیں!
    جوں جوں وہ یادگار دن قریب آرہا تھا جس کی خاطرطاہر نےاسےفرش سےعرش پر لا بٹھایا تھا۔جس کےانتظار میں اس نےہر پل سپنےدیکھےتھی۔خواب سجائےتھے‘ توں توں وہ اداسی‘ یاسیت اور خاموشی کی گھمبیر وادیوں میں اترتی چلی جارہی تھی۔ اس لئےکہ خوابوں کا شہزادہ وہ نہیں تھا جسےاس نےدھڑکن کی طرح دل میں چھپا رکھا تھا۔ تعبیر وہ نہیں تھی جو اس نےاپنےتصورات کےسہارےسوچ رکھتی تھی۔ پھراسےاپنی اس جذباتی غلطی‘ حالات سےگھبرا کر مایوسی کی باہوں میں پناہ لےلینےکےخوفناک گناہ پر پچھتاوا ہونےلگتا۔ کتنا بھیانک تھا اس ایک لمحےکی لرزش کا انجام‘ جو اس نےطاہر کی محبت کےسامنےسر جھکا کر کی تھی۔ وہ آج بھی اپنےخیالات میں اخترکو بسائےہوئےتھی۔ اختر کو بھلا دینا اس کےبس میں نہیں تھا۔
    اس کی زندگی ‘ جیسےبہارو ں بھرےگلشن میں تمام عمر کےلئے آگ میں جلنےجارہی تھی۔اور اسےیہ سب کچھ بہرحال سہنا تھا۔رو کر یا ہنس کر۔
    ٭
    ” زاہدہ بیٹی۔تم چھ بجےکےقریب ہاسپٹل چلی آنا۔ میں کار بھیج دوں گا۔“
    ”جی مگر۔۔۔“وہ شاید وجہ پوچھنا چاہتی تھی ۔
    ”بیٹی۔ بیگم صاحبہ کا فون آیا تھا۔ وہ بھی آرہی ہیں شام کو ۔وہ تمہیں اپنےساتھ شاپنگ پر لےجانا چاہتی ہیں۔ تمہاری پسند کی کچھ چیزیں خریدیں گی۔“ ڈاکٹر ہاشمی کا لہجہ معنی خیز ہو گیا۔
    وہ نہ چاہتےہوئےبھی پھیکےسےانداز میں مسکرادی۔”جی بہتر۔“
    ”اللہ حافظ۔“انہوں نےرابطہ ختم کر دیا۔وہ کتنی ہی دیر تک بےجان‘ ٹوں ٹوں کرتےریسور کو تھامےکھڑی جانےکیا سوچتی رہی۔
    کلاک نےپانچ بجا ئےتو وہ چونک پڑی۔ آہستہ سی‘ ایک طویل ‘تھکی تھکی سانس لےکر پلٹی ۔اس کی بےچین نظریں بےاختیار اپنی کلائی پر بندھی خوبصورت سی رسٹ واچ پر جم گئیںجو اسےڈاکٹر ہاشمی نےخرید کر دی تھی۔
    پھر وہ نچلےہونٹ کو دانتوں میں داب کر آنکھوں میں تیرجانےوالے آبدار موتیوں کو روکنےکی ناکام کوشش کرتی ہوئی صوفےپر اوندھی گر پڑی۔ سسکیاں کمرےکی خاموش اور اداس فضا کےبےجان بُت پر آہوں دبی دبی ہچکیوں اور بےقرار جذبات کےپھول نچھاور کرنےلگیں۔ وہ کتنی ہی دیر تک بلکتی رہی۔ پھر ” ٹن“ کی مخصوص آواز کےساتھ کلاک نےوقت کےبوڑھے‘ متحرک‘رعشہ زدہ سر پر پہلا ہتھوڑا کھینچ مارا تواسےیوں محسوس ہواجیسےیہ ضرب ‘ یہ چوٹ اس کےدل پر لگی ہو۔ چھ بج چکےتھی۔
    وہ اٹھی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی اور صوفےپر بیٹھ کر پھر کسی سوچ میں گم ہوگئی۔اس کی خوبصورت‘ مدھ بھری آنکھیںسوجی سوجی نظر آرہی تھیں۔
    ”سلام بی بی جی۔“ کچھ دیر بعد ایک آواز سن کر وہ چونکی۔ڈرائیوردروازےمیںکھڑ تھا۔ وہ خاموشی سےاٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر نکل آئی۔ڈرائیور بھی اس کےپیچھےہی باہر چلا آیا۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعدوہ ڈاکٹر ہاشمی کےچھوٹےسےہاسپٹل کےکار پارک میں اتری۔ ڈرائیور کار کو آگےبڑھالےگیااور وہ سر جھکائےاندر کو چل دی۔
    ” تم آگئیںبیٹی۔ آؤ۔ بیٹھو۔“ ڈاکٹر ہاشمی نےاسےاندر داخل ہوتےدیکھ کر کہا اور ہاتھ میں موجود ایکسرےکو روشنی کےہالےمیں لا کر غور سےدیکھنےلگی۔قریب کھڑی نرس ان کی جانب منتظر نظروں سےدیکھ رہی تھی۔
    ”اس میں تو کوئی گڑ بڑ نہیں ہی؟“ وہ ایکسرےکو میز پر رکھتےہوئےپرسوچ انداز میں بولی۔”تم اس مریض کےکمرےمیں چلو۔میں آرہا ہوں۔“
    ”یس سر۔“نرس تیزی سےباہر نکل گئی۔
    زاہدہ سر جھکائےناخن سےمیز کی سطح کریدرہی تھی۔
    ”کیا بات ہےبیٹی۔ تم کچھ اداس ہو؟“ انہوں نےپوچھا۔
    ”جی ۔ ۔۔جی نہیں تو۔ “وہ پھیکےسےانداز میں بادل نخواستہ مسکرا دی۔
    ”ہوں۔بیگم صاحبہ کے آنےمیںتوابھی کچھ دیر ہی۔ آؤ۔تمہیں دکھائیں کہ ہم مریض کےساتھ کیا سلوک کرتےہیں۔“وہ رسٹ واچ سےنگاہ ہٹا کراٹھتےہوئےمسکرائی۔زاہدہ بےاختیار کھڑی ہوگئی۔تنہائی میں اگر وہ پھر بےقابو ہوجاتی اور بیگم صاحبہ آجاتیں تو؟یہی سوچ کر اس نےانکار مناسب نہ سمجھا اور ان کےپیچھےچلتی ہوئی کاریڈور میں نکل آئی۔ بایاں موڑ مڑتےہی پہلا کمرہ ان کی منزل تھا۔ وہ ان کےپیچھےکمرےمیں داخل ہوئی۔ ٹھیک اسی وقت مریض کےبستر کےقریب کھڑی نرس ڈاکٹر ہاشمی کی جانب پلٹی۔
    ”سر۔ اسےہوش آرہا ہی۔ “پرےہٹتےہوئےاس نےان راستہ دیا۔
    ڈاکٹر ہاشمی تیزی سےبستر کےقریب چلےگئےاور جھک کر اس کا معائنہ کرنےلگی۔ زاہدہ بےمقصد ہی ادھر ادھر دیکھنےلگی۔
    ”اس کی والدہ کہاں گئیں؟“
    ”جی۔ وہ اپنےہسبینڈ کو فون کرنےگئی ہیں۔“
    ”ہوں۔“وہ سیدھےکھڑےہوگئی۔
    تب۔۔۔پےدرپےکئی دھماکےہوئی۔روشنی اور اندھیرےکےملےجلےجھماکے‘ جو اس کی آنکھوں کو چکا چوند کرگئی۔ہر شےجیسےاس کی نظروں سےاوجھل ہوگئی۔ زمین لرزی۔ آسمان کانپااور وہ لڑکھڑا گئی۔اس کی حیرت زدہ‘ پھٹی پھٹی آنکھیں‘بستر پر پڑےاختر پر جمی تھیں۔اس کےہونٹوں سےچیخ نکلتےنکلتےرہ گئی۔
    ڈاکٹر ہاشمی اس کی دگرگوں ہوتی حالت کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی۔
    ”بیٹی۔ کیا بات ہی؟“وہ تیزی سےگرتی ہوئی زاہدہ کی جانب لپکےاور اسےباہوں میں سنبھال لیا۔ پھران کی بےچین آنکھوں نےزاہدہ کی حلقوں سےابلتی‘ برستی آنکھوں کا محور پالیا۔وہ سن سےہو گئی۔
    ”زا ۔۔۔ ہدہ ۔۔۔“ہڈیوں کےاس پنجر کےسوکھےہوئےخشک لب ہلی۔
    ”اختر۔“جیسےکسی زخمی روح نےتڑپ کر سرگوشی کی۔
    ”زاہدہ۔ ۔۔کہاں ۔۔۔ہو ۔۔۔تم ؟“ایک درد بھری صدا نےاس کا صبر و قرار چھین لیا۔
    ”اخ۔۔۔“ آواز اس کےگلےمیں گھٹ کر رہ گئی۔
    ”بیٹی۔ “ڈاکٹر ہاشمی جیسےہوش میں آگئی۔ ان کی تحیر زدہ نظروں میں اب دردسا امنڈ آیاتھا۔
    زاہدہ بت بنی کھڑی‘ روتی ہوئی آنکھوں سےسرسوں کےاس پھول کو دیکھےجارہی تھی‘جو شایدمرجھانےجارہا تھا۔اس کےچہرےکےنقوش درد‘اضطراب ‘ کسک اور تڑپ کےرنگوں میں نئےنئےروپ دھار رہےتھی۔نرس حیرت بھری نظروں سےیہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ تب۔۔۔ آہستہ سےدروازہ کھلااور کوئی اندر داخل ہوا۔کوئی سامنےچلا آیا۔
    ”زاہدہ۔“ حیرت اور یاس میں ڈوبی ایک آواز گونجی۔چندلمحےحیرت ‘بےچینی اور آنکھوں کی دھندلاہٹ کی نظر ہوگئی۔پھرکوئی تیزی سے آگےبڑھااوراس سےایک قدم کےفاصلےپر رک گیا۔
    ”تم۔۔ ۔تم کہاں تھیں بیٹی؟“
    وہ چونک سےپڑی۔حواس میں آگئی۔سنبھل گئی۔
    ” آپ؟“ اس کےلبوں سےمری مری آواز نکلی اور ”بیٹی“ کےلفظ نےاسےپھر حیرت سےگنگ کردیا۔
    ”ہاں بیٹی۔“ چچی آنکھوں سےامنڈنےوالے آنسوؤں کو رخساروں پر بہنےسےنہ روک سکیں۔”میں ۔تمہاری مجرم۔ تمہاری گناہ گار۔“
    وہ اس کانپتی ہوئی آواز سےڈر سی گئی۔ لڑکھڑا گئی۔تب کسی نےاسےسہار لیا۔ڈاکٹر ہاشمی نےرخ پھیر لیا۔
    ”میرا بیٹا۔۔۔ مررہا ہےبیٹی!“ایک کراہ ابھری۔
    وہ انہیں گھورتی رہی۔اپنی بےرحم چچی کو۔
    ”اختر تمہارےلئےمر رہا ہےبیٹی۔“ وہ بمشکل بولیں۔
    وہ خاموش کھڑی رہی۔
    ”میں ہاتھ جوڑتی ہوں بیٹی۔“انہوںنے بوڑھےمگر سنگلاخ ہاتھ جوڑ دیی۔
    وہ پتھرائی ہوئی بےنور سی آنکھوں سےانہیں دیکھتی رہی۔
    ” زاہدہ۔“ایک ماں کی کانپتی ہوئی آواز نےاسےچونکا دیا۔ مرجھاتےہوئےگلاب کو خزاں کےجھونکےنےہلکورا دیا۔”تمہارا اختر مر۔۔۔“ہچکیاں نامکمل رہ گئیں۔
    ”زاہدہ۔۔۔ کہاں ہو تم ؟“اختر کےہونٹ کپکپائی۔
    ”اختر۔“وہ مزید نہ سہہ سکی۔ بھاگی۔ لڑکھڑائی اور جا کر اس کےسینےسےلپٹ گئی۔
    ”زاہدہ۔“ آواز میں زندگی عود کر آئی۔
    ”اختر۔“وہ بیقراری سےبولی۔
    ”تم۔۔۔“ آواز میں درد کم ہوا۔
    ”میں یہاں ہوں اختر۔تمہارےپاس۔“ وہ سسک اٹھی۔
    ”زاہدہ۔“ایک ‘ہچکی ابھری اور۔۔۔ گردن ڈھلک گئی۔
    ”اختر۔ ۔۔“ایک چیخ لہرائی۔
    ”یہ بےہوش ہوچکا ہےبیٹی۔“ایک اداس سی آواز نےاسےزندگی کی نوید دی۔ ”اس کا کمزور دماغ اس ناممکن حقیقت کو سہہ نہیں سکا۔“ڈاکٹر ہاشمی کی افسردہ سی آواز ابھری۔
    ”اسی۔۔۔“
    ”زندگی دینےوالا خداہےبیٹی۔“انہوں نےزاہدہ کی بات کاٹ کر اسےبستر سےاٹھایا اور کمرےسےباہر جانےکا اشارہ کیا ۔ پھر سفید لباس میں ملبوس نرسوں کےہمراہ ڈاکٹر ہاشمی نےاختر کےبستر کو گھیرےمیں لےلیا۔
    ”تم نےمجھےمعاف کردیا بیٹی۔“ خودغرضی نےنیا روپ دھار لیا تھا۔
    ”چچی جان۔“ وہ ان سےلپٹ گئی۔
    پچیس منٹ پچیس صدیاں بن کر گزری۔ پھرڈاکٹر ہاشمی باہر چلے آئی۔وہ تیزی سےان کی طرف بڑھی۔ نرسوں کا ٹولہ بھی کمرےسےنکل گیا۔
    اب چچا بھی ان دونوں کےساتھ تھی۔ نادم نادم سی۔کھوئےکھوئےسی۔ ڈاکٹر ہاشمی نےبڑی یاس بھری نظروں سےاسےدیکھا اور دھیرےسےاثبات میں سر ہلا کر آگےبڑھ گئی۔ وہ بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔چچی بھی اس کےپیچھےلپکی۔
    ”نہیں۔ “چچا نےچچی کو روک لیا اور وہ نجانےکیوں مسکرا دیں۔مطمئن سی ہو کر۔
    ”اختر۔۔۔“اندر وہ اس کےسینےپر سر رکھےروئےجارہی تھی۔
    ”زاہدہ۔“وہ اسےاپنےسینےمیں سمونےکی کوشش کررہا تھا۔ اس کی آنکھیں بھی جی بھر کر ارمان نکال رہی تھیں۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  7. #7
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    وہ۔۔۔ نظریں جھکائےڈاکٹر ہاشمی کے آفس میں داخل ہوئی۔
    چچا اور چچی کےعلاوہ وہاں ایک اور ایسی ہستی موجودتھی‘ جس کا سامنا کرنےکی اس میں ہمت نہ تھی۔وہ رک گئی۔ چلنےکی سکت ختم ہوگئی۔
    اس نے آہستہ سےنظریں اٹھائیں۔خاموشی۔ سناٹا۔ سکوت۔ ہرچہرہ اداس۔ ہر آنکھ نم۔ ہروجود بےحس و حرکت۔ زاہدہ کی دھڑکن رکنےلگی۔سانس گھٹنےلگی۔ یہ خاموشی، یہ سناٹا‘ یہ سکوت ۔ یوں لگتا تھا جیسےکوئی بہت بڑا طوفان گذر چکا ہو اور اپنےپیچھےاپنی تباہی و بربادی کے آثار چھوڑ گیا ہو۔
    اس کی نظریں بیگم صاحبہ کی نظروں سےٹکرائیں۔کتنا درد تھا ان میں۔ان بوڑھےچراغوں میں ‘جہاں ممتا کی لاش ویرانی کا کفن اوڑھےپڑی تھی۔
    وہ دبدبہ‘ وہ رعب ‘وہ کرختگی۔ کچھ بھی تو نہیں تھاوہاں۔سب ختم ہو چکا تھا۔سب راکھ ہو چکا تھا۔اس نےگھبرا کر نظریں جھکالیں۔ اس کادل کسی انجانےبوجھ تلےدبتا چلا گیا۔
    ”زاہدہ۔ “ایک سرگوشی ابھری۔
    اس نےپلکیں اٹھائیں۔پتھرکےلبوں پر بڑی زخمی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
    ”ہمارےپاس آؤ۔ “جیسےکسی نےالتجا کی ہو۔ وہ ان کی نم آنکھوں میں دیکھتی ہوئی آگےبڑھی۔ مسکراہٹ میں خون کی سرخی گہری ہوگئی۔زخم کا منہ کچھ اور کھل گیا۔
    ”بیگم صاحبہ۔“وہ بلکتی ہوئی ان کےقدموں سےلپٹ گئی۔
    انہوں نےپاؤں کھینچےنہیں۔اسےروکا نہیں۔اس کی زلفوں میں بوڑھےہاتھ سےکنگھی کرتی رہیں۔ وہ کتنی ہی دیران مشفق قدموں سےلپٹی دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ پھرانہوں نے آہستہ سےاسےشانوں سےتھام کر اٹھایا اوراپنےسامنےکھڑا کرلیا۔
    ”منزل مبارک ہو بیٹی۔“ان کےلب کپکپائےاور آنکھیں چھلک گئیں۔انہوں نےاسےلپٹا لیا۔بھینچ لیا۔کتنےہی گرم گرم موتی ان کےرخساروں سےٹوٹ کر زاہدہ کی سیاہ گھٹاؤں میں جذب ہوگئی۔ پھرجب انہوں نےاسےسینےسےالگ کیاتو اسےیوں محسوس ہوا جیسےاس سےکوئی بہت قیمتی شےکھو گئی ہو۔
    ”ابو ۔ “وہ پلٹ کر ڈاکٹر ہاشمی سےلپٹ گئی۔
    ”پگلی۔“ وہ اس کا شانہ تھپکتےہوئےخود بھی بےقابو سےہوگئی۔”میں نےکہا تھا ناں۔ تو میری چند روز کی مہمان بیٹی ہی۔ “ایک باپ دکھی ہو رہا تھا۔
    ”ابو۔ “وہ مزید کچھ بھی نہ کہہ سکی۔
    پھر اس سسکتی کلی کو‘اس کےاپنی‘ ماضی کےدشمنوں اور حال کےدوستوں نےباہوں میں سمیٹ لیا۔دامن میں بھر لیا۔
    ”ڈاکٹر ہاشمی۔“
    ”جی بیگم صاحبہ۔ “وہ سر جھکائے آگےبڑھ آئی۔
    ”اختر کس حال میں ہی؟“
    ”یہ اسےگھر لےجاسکتےہیں بیگم صاحبہ۔مسیحا ان کےساتھ ہی۔ “وہ ان کی بات کےجواب میں آہستہ سےبولی۔
    بیگم صاحبہ نےاختر کےوالدین کی جانب بڑی یاس بھری نظروں سےدیکھا۔وہ سمجھ گئی۔ بڑےاداس تھےوہ بھی۔ شاید بیٹےکی حالت نےان کا سارا زہر نکال دیا تھا۔
    ”ہم کس طرح آپ کا شکریہ۔۔۔“
    ”کوئی ضرورت نہیں۔ہم بھی ایک بیٹےکی ماں ہیں۔“بیگم صاحبہ نےبڑی دھیمی سی مسکراہٹ کےساتھ کہا۔”بس ایک کرم کیجئےہم پر۔“
    ”جی۔ آپ حکم کیجئی۔“ چچا کی آواز میں ممنونیت کا دریا بہہ رہا تھا۔
    ”جتنی جلدی ہو سکے آپ یہاں سےرخصت ہو جائیی۔ طاہر ادھر نکل آیا تو ہم اپنے آپ میں نہ رہ سکیں گی۔“
    ”جی۔“ چچا اور چچی کےچہروں پر دھواں سا پھیلا جبکہ زاہدہ سرسوں کےپھول جیسی زرد ہو گئی۔
    ان سب کےسر جھک گئی۔ احسان کےبوجھ سی۔پھر وہ رخصت ہونےکےلئےدروازےکی جانب بڑھ گئی۔
    ”زاہدہ۔“ایک آواز پر وہ رک گئی۔پلٹی اوربیگم صاحبہ کی جانب دیکھنےلگی۔ آہستہ آہستہ اس کےقدم اٹھی۔وہ ان کےقریب چلی آئی۔
    ”ہاتھ لاؤ۔“
    اوربےساختہ زاہدہ کا ہاتھ ان کےہاتھ میں چلا گیا۔
    ”اس پر تمہارا ہی حق تھا۔“ ایک ہیرا اس کی انگلی میں جڑدیا گیا۔
    اس کےہونٹ لرزی۔ہاتھ کی مٹھی بھنچ گئی اور پلکوں کےگوشےپھر نم ہوگئی۔
    ”نہیں۔ اب نہیں۔کبھی نہیں۔ “ ان کےہونٹوں پر پھر ایک خون رستی مسکراہٹ تیر گئی۔
    وہ بےقابو سی ہو کر پلٹ کربھاگتی ہوئی کمرےسےنکل گئی۔
    وقت تھم سا گیا!
    ”ڈاکٹر ہاشمی ۔“ایک شعلہ لرزا۔
    ”جی بیگم صاحبہ۔“ لو تھرتھرائی۔
    ”یہ تھا وہ خوف جو ہمیں طاہر اور زاہدہ کےملاپ سےروکتا تھا۔ ہم جانتےتھےپہلی محبت کبھی بھی زاہدہ کےدل سےنکل نہیں سکےگی۔اختر کا خیال اسےکبھی بھی طاہر میں پوری طرح مدغم نہ ہونےدےگا۔اور ڈاکٹر ہاشمی۔ یہ کہنےکی ضرورت تو نہیں ہےناں کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرےکا لباس ہوتےہیں۔ اس لباس میں کسی اور کا پیوند لباس کو لباس نہیں رہنےدیتا‘ چیتھڑا بنا دیتا ہےاور طاہر چیتھڑےپہن کر زندگی گزار سکتا ہےکیا؟“
    جواب میں ڈاکٹر ہاشمی صرف اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔بیگم صاحبہ کا اندیشہ کتنی جلدی حقیقت بن کر سامنے آ گیا تھا‘ وہ اس سوچ میں ڈوب گئی۔
    ٭
    کار کا انجن آخری مرتبہ کھانسا اور بےدم ہوگیا۔وہ ڈیش بورڈ پر پڑا گفٹ پیک سنبھالتا باہر نکل آیا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ کوٹھی دلہن بنی ہوئی تھی۔بڑی حسین اور امنگوں بھری مسکراہٹ لبوں پر لئےدھیمےسروں میں کوئی پیارا سا گیت گنگناتاوہ داخلی دروازےکی طرف بڑھا۔دبےپاؤں اندر داخل ہوا۔
    ”امی آج بھی کوئی نئی خریدی ہوئی چیز آگےرکھےمیرا انتظار کررہی ہوں گی۔“ اس نےسوچااور بڑےدلکش خیالات میں گم اوپر جانےوالی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
    ”امی۔ آپ۔۔۔؟“وہ کھڑکی کےکھلےپٹ کا سہارا لئےکھڑی دور کہیں اندھیرےمیں گھورتی بیگم صاحبہ کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ خاموش‘ اسی انداز میں کھڑی رہیں۔ ”اس سردی میں ۔اس وقت تک آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟“ وہ ان کےقریب چلا آیا۔ بیگم صاحبہ بدستور چپ رہیں۔
    ” آپ بولتی کیوں نہیں امی؟“وہ گھبرا سا گیا۔
    تب وہ آہستہ سےپلٹیںاوراس کےذہن کوجھٹکا سا لگا۔ دل بڑےزور سےدھڑکا۔ سوجی سوجی آنکھیں‘ جن میں کبھی بھوری چٹانوں کی سی سختی کےسوا کچھ دکھائی نہ دیا تھا۔زرد رنگت جوہمیشہ وقار اور دبدبےکےبوجھ سےابلتےہوئےخون کی چغلی کھاتی تھی۔ کملایا ہوا چہرہ‘جس پر پہاڑوں کےعزم اور آسمانوں کی سی عظمت کےسوا کبھی کچھ نہ ابھرا تھا۔
    ”امی۔ “کسی انجانےحادثےکی وہ منہ بولتی تصویراس کا صبر و قرار چھین لےگئی۔ ”کیا بات ہےامی ؟“وہ تڑپ اٹھا۔
    وہ بڑی دردبھری نظروں سےاس کےمعصوم سےخوفزدہ چہرےکو گھورتی رہیں۔
    ”بولئےامی۔ آپ بولتی کیوں نہیں؟“ وہ بےپناہ بےقراری سےبولا۔
    انہوںنےسر جھکا کررخ پھیرتےہوئےقدم آگےبڑھا دیی۔
    ”امی ۔ “وہ تیزی سےان کےسامنےچلا آیا۔” آپ کو میری قسم امی۔“
    انہوں نےبڑےکرب سےپلکیں بھینچ لیں۔پتھر سےچشمہ پھوٹ نکلا۔وہ گنگ سا کھڑا ان کی طرف بڑی عجیب سی نظروں سےدیکھنےلگا۔
    ”زاہدہ۔۔۔“ایک سسکی ان کےکانپتےلبوں سے آزاد ہوگئی۔
    ”کیا ہوا اسی؟“ وہ بےچینی سےبولا۔
    ”چلی گئی۔“ڈاکٹر ہاشمی کی آواز‘ اس کی سماعت کےلئےتو بہ شکن دھماکہ ثابت ہوئی۔وہ لڑکھڑا گیا۔
    گفٹ پیک اس کےہاتھ سےچھوٹ کر چمکدار فرش پر آرہا۔سنگ مر مر کا خوبصورت اور بےداغ تاج محل ٹکڑےٹکڑےہوگیا۔بکھر گیا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سےمنہ پھیرےکھڑی بیگم صاحبہ اور سرجھکائےڈاکٹر ہاشمی کو گھورتا رہ گیا۔
    کتنی ہی دیر۔۔۔ ہاں کتنی ہی دیر اس اذیت ناک خاموشی کےقبرستان میں ارمانوں کےمزار پر کھڑےگزر گئی۔بجھتےچراغوں کا دھواں نظروں کی دھندلاہٹ میں بدل گیا۔
    ”چلی گئی۔۔۔؟“ایک سپاٹ‘ جذبات سےعاری‘ دھیمی سی صدا ابھری۔
    جھکےہوئےسر اٹھی۔
    ”بیٹی۔“ بیگم صاحبہ کا دل جیسےپھٹ گیا۔
    ”اور آپ اسےروک بھی نہ سکی۔“اس کا لہجہ درد سےپُر تھا۔بیگم صاحبہ نےتڑ پ کر پھر رخ پھیر لیا۔
    ”وہ کیوں چلی گئی امی؟“ وہ بچوں کی طرح سوال کر بیٹھا۔
    ”ڈاکٹر ہاشمی ۔“بیگم صاحبہ نےسسک کر صوفےکا سہارا لےلیا۔”اسےبتا ئیےڈاکٹر ہاشمی‘ وہ کیوں چلی گئی۔“ان کی آواز بھیگ گئی۔
    ”میں جواب آپ سےچاہتا ہوں امی۔ “وہ جیسےکرب سےچیخ اٹھا۔تڑپ کر ان کےسامنے آکھڑا ہوا۔”جواب دیجئی۔ وہ کیوں چلی گئی۔کہاں چلی گئی۔کس کےساتھ چلی گئی؟“ وہ ان کو جھنجھوڑتا ہواچیخ اٹھا۔
    ”اختر موت کےدہانےپر کھڑا تھا۔اسےجانا پڑا۔“
    ”اختر کا گھر اس کی منزل تھا۔ وہ وہیں لوٹ گئی۔“
    ”اختر اس کی محبت ہی۔ اسی کےساتھ چلی گئی۔“
    ”نہیں نہیں نہیں۔“ وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کرپوری قوت سےچیخ اٹھا۔
    نہ جانےکس ضبط سےاس نےاپنےدل کا خون رخساروں پر چھلکنےسےروکا ۔اس کی آنکھیں کتنی ہی دیر بھنچی رہیں‘جیسےاسےزہر کےتلخ اور کسیلےگھونٹ حلق سےاتارنا پڑےہوں۔جیسےوہ زہر اس کےجسم کی ہر رگ کو کاٹ رہا ہو۔ اس کےہاتھ مضبوطی سےکانوں پر جمےرہی۔ جیسےاب وہ کچھ سننےکی تاب نہ رکھتا ہو۔جیسےاب اگر ایک لفظ بھی اس کےکانوں کےپردوں سےٹکرایاتو وہ ہمیشہ کےلئےسماعت سےمحروم ہو جائےگا۔پھروہ آہستہ سےپلٹا۔
    بیگم صاحبہ دل کو دونوں ہاتھوں میں جکڑےصوفےپر بیٹھتی چلی گئیں۔کھڑےہونےکی سکت ہی کہاں رہ گئی تھی ان میں۔
    ڈاکٹر ہاشمی نےچہرےپر ابھر آنےوالےکرب کو رخ پھیر کر چھپاتےہوئےصوفےکی پشت کا سہارا لےلیالیکن وہ ہر ایک سےبےنیاز‘ دھیرےدھیرےزمین پر بیٹھتا چلا گیا۔اس کےلرزتےہوئےبےجان‘ بےسکت ہاتھ ٹوٹےہوئی‘ بکھرےپڑےتاج محل کےٹکڑوں سےٹکرائی۔
    ”تو کیا تاج محل صرف چاندنی راتوں ہی میںمحبت کی کہانیاں سنتا ہی۔ اندھیری راتوں میں یہ خود بھی بکھر ا رہتا ہےکیا؟“وہ مر مر کےبےجان ٹکڑوں پر ہاتھ پھیرتےہوئےبڑ بڑایا۔
    دھیرےدھیرےاس نےتمام ٹکڑوں کو دونوں ہاتھوں میں سمیٹ لیا۔ آہستہ سےاٹھا اور ہولےہولےچلتا ہوا اوپر جانےوالی سیڑھیوں کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
    ”طاہر۔“بیگم صاحبہ کی غمزدہ آواز نےاس کےقدم روک لئےلیکن وہ پلٹا نہیں۔
    ایک لمحےکا وقت معنی خیز خاموشی میں بیت گیا۔
    ”گھبرائیےنہیں امی۔ ابھی دل دھڑک رہا ہی۔ لاشیں بےگوروکفن بھی تو پڑی رہتی ہیں۔“وہ کہہ کر آگےبڑھ گیا۔
    سائےگہرےہوتےچلےگئی۔شبِ پُرنم کی زلفیں کھلتی چلی گئیں۔شبنم گرتی رہی ۔ اور خزاں کا کہر ہر سو پھیلتا چلا گیا۔ پھیلتا چلا گیا۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  8. #8
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    سمور کےکوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالےدوسرےہاتھ میں بڑا سا پیکٹ سنبھالےوہ گنگناتی ہوئی آفس میں داخل ہوئی۔ہر سو ایک بےنام اور خلاف معمول خاموشی کا راج تھا۔ہر شخص سرجھکائےاپنےکام میں مشغول تھا۔
    اس کےخوبصورت ہونٹ ساکت ہوگئی۔بڑی بڑی آنکھوں میں ہلکی ہلکی الجھن تیرنےلگی۔ہر وقت قہقہوں میں ڈوبا رہنےوالا آفس اداسی میں تہہ نشین تھا۔وہ آہستہ آہستہ چل پڑی۔رجسٹر پر جھکی نجمہ اس کےقدموں کی آہٹ پر چونکی۔
    ”اوہ ۔امبر۔۔ ۔“وہ اس کی جانب دیکھ کر آہستہ سےمسکرائی۔
    سر کےاشارےسےسب سےسلام لیتےاور دیتےہوئےوہ اس کی میز کےقریب پہنچ گئی۔
    ”کیا بات ہےبھئی۔ آج گلشن اداس ہی۔“وہ اس کی میز پر بیٹھ گئی۔
    ” آج باس اداس ہیں۔ “نجمہ دھیرےسےبولی۔
    ”اداس۔۔۔؟“ وہ چونک پڑی۔
    ”ہاں۔“
    ”مگر کیوں؟“
    ”کوئی نہیں جانتا۔بس۔صبح خاموشی سے آئی۔ کسی سےسلام لیا نہ کسی سےبات کی۔سیدھے آفس میں چلےگئی۔اب تک وہیں بندہیں۔“
    امبر کسی سوچ میں گم ہوگئی۔نجمہ اپنا کام نبٹانےلگی۔
    ”اچھا ۔میں مل کر آتی ہوں۔یہ کارڈ آگئےہیں۔ یہ دے آؤں ۔ شاید کچھ وجہ بھی معلوم ہو جائےاس بےوقت اداسی کی۔کل تو ان کی شادی ہی۔“
    ”ہاں ۔ تم سےکچھ نہیں چھپائیں گی۔ ان کی چہیتی ہوناں۔“ نجمہ شرارت سےبولی۔
    ”تم جلا کرو۔ “وہ پیکٹ ہاتھ میں لئےمسکراتی ہوئی چل دی۔سب کی نظریں پل بھر کواٹھیں اور جھک گئیں۔
    دروازہ آہستہ سےکھلا۔وہ چونکا۔اس کی سرخ سرخ آنکھیںدروازےسےاندر داخل ہوتی ہوئی امبر پر جم گئیں۔
    ”مارننگ سر۔“اس نےمخصوص لہجےمیں کہا اور ساتھ ہی اس کا نرم و نازک ہاتھ ماتھےپر پہنچ گیا۔
    ”مارننگ۔“ وہ جیسےبڑ بڑایا۔
    وہ پل بھر کو ٹھٹکی۔پھرہولےہولےمسکراتی ہوئی اس کی میز کےقریب چلی آئی۔
    ”لیجئےسر۔ آپ کےمیریج کارڈ۔۔۔“وہ پیکٹ اس کےسامنےرکھتےہوئےمیز کےکونےسےٹک گئی۔
    اس کی حالت ایکدم بدل گئی۔چہرےپر زردی اور سرخ آنکھوں میں بےچینی سی پھیل گئی مگرپھر فورا ًہی وہ سنبھل گیا۔
    ”کیا بات ہےسر۔ آپ رات ٹھیک سےسوئےنہیںکیا؟“وہ گہری نظروں سےاس کی بدلتی ہوئی حالت اور سرخ سرخ آنکھوں کو پرکھتےہوئےدھیرےسےسیدھی ہو کر کھڑی ہوگئی۔
    ” آں۔۔۔ نہیں تو۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ “ وہ جیسےبڑےدرد سےبادل نخواستہ مسکرایا۔ پھر کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ اس نےکارڈز کا پیکٹ چھو کر بھی نہ دیکھا ۔
    ”سر۔ “وہ ڈر سی گئی۔اس کا معصوم دل دھڑک اٹھا۔یہ بےچینی ، یہ اضطراب ، یہ کسی چیز کو پوشیدہ رکھنےکی سعی ہی۔ وہ بچی نہیں تھی۔ یہ کسی المیےہی کی نشانی ہی۔ اس نےسوچا۔
    ” آں۔۔۔“ اس نےسر جھٹک کر اس کی طرف دیکھا۔
    ”سر۔مجھےلسٹ دےدیجئی۔ میںنام ٹائپ کردوں۔“ وہ چاہتےہوئےبھی اس کی پریشانی کی وجہ پوچھتےپوچھتےرہ گئی۔
    جواب میں اس کےہونٹوں پر‘خشک ہونٹوںپر بڑی کرب انگیز مسکراہٹ تیر گئی۔
    ”سر۔ آپ کچھ پریشان ہیں؟“وہ کہتےہوئےنہ جانےکیوں اس سےنظریں چرا گئی۔
    ”ہاں۔ بہت پریشان ہوں امبر۔“وہ کھوئےکھوئےلہجےمیں بولا۔
    ”مجھےبتائیےسر۔شاید میں آپ کےکچھ کام آسکوں۔“وہ بےتابی سےبولی۔
    ”تم۔۔۔؟“ وہ خالی خالی نظروں سےاس کےچہرےکو تکنےلگا۔”ہاں۔تم میری پریشانی کا خاتمہ کرسکتی ہو۔“اس کا لہجہ اب بھی ویران ویران سا تھا۔
    ”کہئےسر۔“وہ کچھ اور بےچین ہوگئی۔
    اس کی نظریں پیکٹ میں بندھےکارڈوں پر جم گئیں۔”امبر۔ یہ کارڈ ہیں نا۔۔۔“ وہ ان پر ہاتھ پھیرتےہوئے آہستہ سےبولا۔
    ”یس سر۔“ وہ حیران سی ہوگئی۔
    ”ان کو۔۔۔ان کو آگ لگا دو امبر۔ “وہ اسی خالی خالی سپاٹ آواز میں بولا۔
    امبر پھٹی پھٹی نظروں سےاسےدیکھتی رہ گئی۔
    ”امبر۔ انہیں جلا کر راکھ کردو۔شعلوں میں پھینک دو۔“وہ تڑپ کر کھڑا ہوگیا۔”یہ ۔۔۔ یہ مجھےراس نہیں آئےامبر۔ انہیں یہاں رہنےکا کوئی حق نہیں۔ کوئی حق نہیں امبر۔“ وہ پیکٹ پر جھپٹ پڑا۔ ۔۔چند ہی لمحوں بعد فرش پر ہر سو کارڈز کےپرزےپھیل گئی۔امبر حیرت بھری پھٹی پھٹی نگاہوں سےسب کچھ دیکھتی رہی۔اس کےسوچنےسمجھنےکی ہر صلاحیت دم توڑ گئی۔
    ”یہ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟“ وہ سوچتی رہی۔ اوروہ فرش پر بکھرےان بےجان پرزوں کوویران ویران ‘سرخ سرخ شب بیدار آنکھوں سےتکتارہا۔
    ”بیٹھ جاؤ امبر۔ کھڑی کیوں ہو؟“ وہ تھکےتھکےلہجےمیں بولا۔
    وہ کسی بےجان مشین کی طرح کرسی پر گرگئی۔ اس کی نظریں اب بھی طاہر کےستےہوئےچہرےپر جمی تھیں۔
    ”سر۔ “کتنی ہی دیر بعد دھیرےسےاس نےکہا۔طاہر نےاس کی جانب دیکھا۔”یہ سب کیسےہوا سر؟ کیوں ہوا؟“اس کی آواز بےپناہ اداسی لئےہوئےتھی۔
    ”پگلی۔“ وہ بڑےکرب سےہنسا۔
    ”سر۔وہ تو آپ کےساتھ۔۔۔“
    ” دو دن بعد شادی کرنےوالی تھی۔“اس نےامبر کی بات کاٹ دی۔
    ”جی سر۔ اور پھریہ انکار۔۔۔“
    ”وہ کسی اور سےمحبت کرتی تھی امبر۔ “وہ مسکرایا ۔بڑےعجیب سےانداز میں۔
    ”سر۔۔۔“
    ”ہاں امبر۔ اس کا محبوب موت کی دہلیز پر کھڑا اسےپکاررہاتھا۔ وہ زندگی بن کر اس کےپاس واپس لوٹ گئی۔“
    ”اور آپ۔۔ ۔؟ “وہ بےساختہ کہہ اٹھی۔
    ”ابھی تک زندہ ہوں۔نہ جانےکیوں؟“ وہ پھر مسکرایا۔
    اورنہ جانےکیوں امبر کا جی چاہا۔وہ رودی۔ لاکھ ضبط کےباوجود اس کی پلکوں کےگوشےنم ہوگئی۔
    ”اری۔۔۔“ وہ اسےحیرت سےدیکھ کر بولا۔اٹھ کھڑا ہوا۔”تم رو رہی ہو۔ “وہ اس کےقریب چلا آیا۔”پگلی۔تم سن کر رودیں۔میںتو سہہ کر بھی خاموش رہا۔“
    ”سر۔ آپ ہمارےلئےکیا ہیں؟ آپ نہیں جانتی۔ آپ کی ذرا سی خاموشی اور اداسی نےسارے آفس پر موت کا سا سناٹا طاری کردیا ہی۔کیوں؟ کیوںسر؟“ وہ بےچین ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”امبر۔“ وہ اس کی کانپتی آواز کےزیر و بم میں کھو کر رہ گیا۔
    ”صرف اس لئےسر کہ آپ ۔۔۔ آپ اس آفس کےچپڑاسی سےلےکر مینجرتک کےلئےکسی دیوتا سےکم نہیں ہیں۔ پُر خلوص‘بےلوث‘بےپناہ محبت کرنےوالادیوتا۔ آپ نےاپنے آفس میں ان بیروزگاروں کو ‘اپنےدالدین ‘بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کےواحد سہاروں کواس وقت پناہ دی‘ جب وہ مایوسی کی باہوں میں سما جانےکا فیصلہ کرچکےتھی۔ وہ آپ کےدکھ درد ‘ آپ کی مسرت کو آپ سےزیادہ محسوس کرتےہیں سر۔ آپ اداس ہوں تو اس چھوٹےسےگلستاں کا ہر باسی مرجھا جاتا ہی۔ آپ خوش ہوں توان کی زندگی میں بہار رقصاں ہوجاتی ہے۔ یہ سب آپ کےسہاری‘ آپ کی مسکراہٹوں کےسہارےجیتےہیںسر۔ آپ پر اتنا بڑا حادثہ اتنا بڑا سانحہ گزر جائےاور ہم پتھر بنی‘ مرجھائےہوئےبےحس پھولوں کی طرح آپ کو تکتےرہیں۔کیسےسر؟ ہم یہ کیسےکریں؟“
    ”چپ ہو جاؤ امبر ۔ چپ ہو جاؤ۔ “اس نےگھبرا کر اس کےکانپتےلبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ ”میں ۔۔۔میں تو پاگل تھا۔دیوانہ تھا۔مجھےایک فرد کی محبت نے‘ایک تھوڑی سی محبت نے‘اتنی ڈھیر ساری محبت ‘اتنےبہت سوں کےپیار سےپل بھر میں‘ کتنی دور پہنچا دیا۔میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ تم لوگ مجھےاتنا چاہتےہو۔ مجھ سےاتنا پیار کرتےہو۔ بخدا امبر۔ میں اب بالکل اداس نہیں ہوں۔بالکل پریشان نہیںہوں۔میں ۔۔۔میں تو مسکرا رہا ہوں۔ہنس رہا ہوں۔میرےاتنےسارےاپنےہیں۔ ایک بیگانہ چلا گیاتو کیا ہوا ؟ کیا ہوا امبر؟ کچھ بھی تو نہیں؟ پھر میں کیوںاداس رہوں؟ میں کیوں افسوس کروں۔ دیکھو۔ میں مسکرارہا ہوں امبر۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ ہا ہا۔ ہا ہا۔ میں ہنس رہا ہوں امبر۔ دیکھو۔ ہا ہاہا۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہا۔ ہا ۔ ہا ۔ ہاہا۔“اس کی آواز بھرا گئی اور وہ پاگلوں کی طرح رقت آمیز انداز میں ہنستا چلا گیا۔بالکل دیوانوں کی مانند۔پھر جب مزید قہقہےلگانےکی سکت ہی نہ رہی تو اس کی آواز دھیمی ہوتےہوتےبالکل رک گئی۔امبر نےدیکھا۔اس کےلب اب بھی مسکراہٹ کےانداز میں وا تھےاور آنکھوںکی نمی چھلکنےکو تھی۔
    ”سر۔“ اس کی آواز تھرا گئی۔”دکھ بھرےقہقہوں سےدل کےزخم بھرنےکی بجائےکچھ اور کھل جایا کرتےہیں۔ “وہ پلٹ کر تیزی سےدروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔باہر جمع ہجوم اسےروک نہ سکا۔وہ دوڑتی ہوئی آفس سےباہر نکل گئی۔
    ٭
    زندگی۔۔۔کسی ویرانےکی طرح اداس ‘کسی بےزبان کی طرح خاموش اور کسی لاش کی طرح سرد ہوتی چلی گئی۔
    بہارکچھ اس انداز سےرخصت ہوئی تھی کہ خزاں نےگلشن میں ہر سوڈیرےڈال لئی۔جیسےہمیشہ کو اس نےیہ کھوکھلا چمن خرید لیا ہو۔
    زندگی۔۔۔ ہاں‘اگر سانس کی آمدو رفت کو زندگی کہتےہیںتو وہ واقعی زندگی تھی‘ جو اس کےساتھ ساتھ چل رہی تھی۔گھسٹ رہی تھی۔اس کےسوکھےہوئےلبوں پر اب بھی مسکراہٹ ابھرتی تھی لیکن یہ مسکراہٹ کتنی کرب آلود ہوتی تھی۔وہ اب بھی قہقہےلگاتا تھامگران قہقہوں میں کتنی چیخیں چھپی ہوتی تھیں ‘ یہ وہ خود بھی جانتا تھا۔
    بیگم صاحبہ!
    ہروقت کھوئی کھوئی اور حسرت بھری نگاہوں سےاسےتکا کرتیں۔وہ ان ویران ویران سےجلتےبجھتےچراغوں کی سسکتی ہوئی روشنی سےدامن بچا کر گذر جاتا۔
    وقت گزرتا رہا ۔انجانی رفتار سی۔ یوں ہی دو سال گزر گئی۔
    ایک بیگانہ اپنا بنتےبنتےرہ گیا تھااور کتنےبیگانےپل بھر میں اپنےبن گئے۔وہ سوچتااور پھر نجانےکیوں ہنس دیتا‘بڑےکرب سی۔وقت اگر زخم دےکر مرہم نہ رکھےتواس دنیا سےزندگی اور موت ‘دونوں کا وجود ناپید ہو جائی۔ختم ہو جائی۔
    پُرسکون جھیل میں پتھر گرا۔لہریں کناروں سےبپھر بپھر کر ٹکرائیں۔بھنور ابھری۔گرداب پھیلےلیکن جب پتھر اس جھیل کی تہہ میں بےجان بوجھ بن کر رہ گیا۔ ایک خلش بن کر پڑرہا ‘تو لہریں پھر سمٹ گئیں۔بھنور دم توڑ گئی۔گرداب سکوت پذیر ہوگئی۔ جھیل کےساکت پانی میں پھر ایک کنول کھلا۔
    اوراس کنول کا نام تھا۔۔۔امبر۔ اس کی خوبصورت‘ پرسنل سیکرٹری۔
    خلوص اور ہمدردی کا منہ بولتا پیکر‘جس نےاسےزندہ رہنےکا حوصلہ دیا ۔اسےزندگی کےسامنےچٹان بن جانےکا عزم بخشا ۔جو مسلسل اس کےخزاں آلود گلشن میں اپنی پیاری پیاری مسکراہٹوں کےپھول کھلارہی تھی۔
    وہ چپکےسےاپنی ناکام خواہش کےمندر میں اسےدیوی بنا کر بٹھانےکی سوچنےلگاجبکہ وہ اس کی ہر سوچ سےبےخبر تھی۔ہر خیال ‘ ہر فیصلے‘ ہر تصور سےبےبہرہ تھی۔اسےتو بس ایک ہی بات سےغرض تھی کہ وہ اسےہر وقت خوش رکھی۔ اسےقہقہےلگاتا دیکھتی رہے۔اسےایک ہی دھن تھی کہ اس کا باس ہر وقت مسکراتا رہےاوریہ اسی کی عنایت تھی کہ آج زاہدہ کےدیےہوئےزخم پر کھرنڈ جم چکا تھا۔ ٹیسیں اٹھنا بند ہوگئی تھیں۔ہاں ‘ کبھی کبھی زخم کےگرد دل کو کچلتی ہوئی میٹھی میٹھی جان لیوا خارش سی ہوتی۔ یادوں کی سرخی ابھر آتی تو وہ بےچین ہو اٹھتا اوراس اضطراب آلود کیفیت سےاس وقت بھی اسےصرف اور صرف امبر کی من موہنی ہستی نجات دلاتی۔
    کبھی پکچر ‘ کبھی لنچ ‘ کبھی ڈنراور کبھی سارے آفس کےساتھ ایکدم بن جانےوالا پکنک پروگرام۔ یہ سب امبر ہی کی تو نوازشیں تھیں۔وہ مالک اور ملازم کےدائرےسےنکل کردوستی کےحلقےمیں داخل ہوچکےتھی۔
    زندگی پھر کروٹ لینےکو پر تول رہی تھی۔وقت کا بوڑھا ہاتھ داستانِ حیات کا ایک اور ورق الٹنےکو متحرک ہو رہا تھا۔
    جھیل کی سطح پر ہر سو پھیلی کہر چھٹنےلگی۔دھند کی چادرچاک ہونےلگی۔دھواں وقت کی فضا میں تحلیل ہونےلگا۔جھیل میں ایک پُرزور لہر نےطوفان سا بپا کردیا۔جیسےایک ناکام تمنا اپنی منزل کو سامنےپا کر بےقابو ہو جائی۔وہ آگےبڑھی۔ پورےزور سے۔ پھررک گئی۔ناکامی‘ شکست اور ماضی۔ایک سوال ‘ایک ٹیس بن کر اس کےذہن میں ابھرےاور حواس پر چھاتےچلےگئی۔ اس کا جوش دم توڑ گیا۔ہوش آنےلگا ۔
    ”منزل تمہارےپاس خود چل کر نہ تو آئےگی۔ “سوچ نےکہا۔
    ”میں تمہارےساتھ ہوں۔“دل سےصدا ابھری ۔
    اورمسافر کےقدم بےاختیارراستےپر اٹھ گئی۔
    منزل دور نہ تھی مگر اندھیرےمیں ڈوبی ہوئی تھی۔اس کی آمد سےبےخبر‘ گہری نیند سو رہی تھی۔ بےخبری کی نیند۔وہ امیدکا دامن تھامی‘ قدم بہ قدم آگےبڑھتا چلا گیا
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  9. #9
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    زندگی۔۔۔کسی ویرانےکی طرح اداس ‘کسی بےزبان کی طرح خاموش اور کسی لاش کی طرح سرد ہوتی چلی گئی۔
    بہارکچھ اس انداز سےرخصت ہوئی تھی کہ خزاں نےگلشن میں ہر سوڈیرےڈال لئی۔جیسےہمیشہ کو اس نےیہ کھوکھلا چمن خرید لیا ہو۔
    زندگی۔۔۔ ہاں‘اگر سانس کی آمدو رفت کو زندگی کہتےہیںتو وہ واقعی زندگی تھی‘ جو اس کےساتھ ساتھ چل رہی تھی۔گھسٹ رہی تھی۔اس کےسوکھےہوئےلبوں پر اب بھی مسکراہٹ ابھرتی تھی لیکن یہ مسکراہٹ کتنی کرب آلود ہوتی تھی۔وہ اب بھی قہقہےلگاتا تھامگران قہقہوں میں کتنی چیخیں چھپی ہوتی تھیں ‘ یہ وہ خود بھی جانتا تھا۔
    بیگم صاحبہ!
    ہروقت کھوئی کھوئی اور حسرت بھری نگاہوں سےاسےتکا کرتیں۔وہ ان ویران ویران سےجلتےبجھتےچراغوں کی سسکتی ہوئی روشنی سےدامن بچا کر گذر جاتا۔
    وقت گزرتا رہا ۔انجانی رفتار سی۔ یوں ہی دو سال گزر گئی۔
    ایک بیگانہ اپنا بنتےبنتےرہ گیا تھااور کتنےبیگانےپل بھر میں اپنےبن گئے۔وہ سوچتااور پھر نجانےکیوں ہنس دیتا‘بڑےکرب سی۔وقت اگر زخم دےکر مرہم نہ رکھےتواس دنیا سےزندگی اور موت ‘دونوں کا وجود ناپید ہو جائی۔ختم ہو جائی۔
    پُرسکون جھیل میں پتھر گرا۔لہریں کناروں سےبپھر بپھر کر ٹکرائیں۔بھنور ابھری۔گرداب پھیلےلیکن جب پتھر اس جھیل کی تہہ میں بےجان بوجھ بن کر رہ گیا۔ ایک خلش بن کر پڑرہا ‘تو لہریں پھر سمٹ گئیں۔بھنور دم توڑ گئی۔گرداب سکوت پذیر ہوگئی۔ جھیل کےساکت پانی میں پھر ایک کنول کھلا۔
    اوراس کنول کا نام تھا۔۔۔امبر۔ اس کی خوبصورت‘ پرسنل سیکرٹری۔
    خلوص اور ہمدردی کا منہ بولتا پیکر‘جس نےاسےزندہ رہنےکا حوصلہ دیا ۔اسےزندگی کےسامنےچٹان بن جانےکا عزم بخشا ۔جو مسلسل اس کےخزاں آلود گلشن میں اپنی پیاری پیاری مسکراہٹوں کےپھول کھلارہی تھی۔
    وہ چپکےسےاپنی ناکام خواہش کےمندر میں اسےدیوی بنا کر بٹھانےکی سوچنےلگاجبکہ وہ اس کی ہر سوچ سےبےخبر تھی۔ہر خیال ‘ ہر فیصلے‘ ہر تصور سےبےبہرہ تھی۔اسےتو بس ایک ہی بات سےغرض تھی کہ وہ اسےہر وقت خوش رکھی۔ اسےقہقہےلگاتا دیکھتی رہے۔اسےایک ہی دھن تھی کہ اس کا باس ہر وقت مسکراتا رہےاوریہ اسی کی عنایت تھی کہ آج زاہدہ کےدیےہوئےزخم پر کھرنڈ جم چکا تھا۔ ٹیسیں اٹھنا بند ہوگئی تھیں۔ہاں ‘ کبھی کبھی زخم کےگرد دل کو کچلتی ہوئی میٹھی میٹھی جان لیوا خارش سی ہوتی۔ یادوں کی سرخی ابھر آتی تو وہ بےچین ہو اٹھتا اوراس اضطراب آلود کیفیت سےاس وقت بھی اسےصرف اور صرف امبر کی من موہنی ہستی نجات دلاتی۔
    کبھی پکچر ‘ کبھی لنچ ‘ کبھی ڈنراور کبھی سارے آفس کےساتھ ایکدم بن جانےوالا پکنک پروگرام۔ یہ سب امبر ہی کی تو نوازشیں تھیں۔وہ مالک اور ملازم کےدائرےسےنکل کردوستی کےحلقےمیں داخل ہوچکےتھی۔
    زندگی پھر کروٹ لینےکو پر تول رہی تھی۔وقت کا بوڑھا ہاتھ داستانِ حیات کا ایک اور ورق الٹنےکو متحرک ہو رہا تھا۔
    جھیل کی سطح پر ہر سو پھیلی کہر چھٹنےلگی۔دھند کی چادرچاک ہونےلگی۔دھواں وقت کی فضا میں تحلیل ہونےلگا۔جھیل میں ایک پُرزور لہر نےطوفان سا بپا کردیا۔جیسےایک ناکام تمنا اپنی منزل کو سامنےپا کر بےقابو ہو جائی۔وہ آگےبڑھی۔ پورےزور سے۔ پھررک گئی۔ناکامی‘ شکست اور ماضی۔ایک سوال ‘ایک ٹیس بن کر اس کےذہن میں ابھرےاور حواس پر چھاتےچلےگئی۔ اس کا جوش دم توڑ گیا۔ہوش آنےلگا ۔
    ”منزل تمہارےپاس خود چل کر نہ تو آئےگی۔ “سوچ نےکہا۔
    ”میں تمہارےساتھ ہوں۔“دل سےصدا ابھری ۔
    اورمسافر کےقدم بےاختیارراستےپر اٹھ گئی۔
    منزل دور نہ تھی مگر اندھیرےمیں ڈوبی ہوئی تھی۔اس کی آمد سےبےخبر‘ گہری نیند سو رہی تھی۔ بےخبری کی نیند۔وہ امیدکا دامن تھامی‘ قدم بہ قدم آگےبڑھتا چلا گیا۔
    ٭
    راستہ طویل نہ تھا مگراس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ بےتحاشا لپک کر منزل کا دامن تھام لیتا۔
    انتظار۔۔۔ہاںاسےانتظار کرنا تھا۔
    ابھی تو اسےمنزل‘سوئی سوئی منزل‘ بےخبر منزل کےبارےمیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اسےاپنا مسافر بھی تسلیم کرتی ہےیا نہیں؟ابھی تو یہ سب خواب تھی۔ سراب تھی۔
    اس نےکتنی ہی مرتبہ کوشش کی اور کئی باراس کی زبان پر آ کر دل کی بات رک گئی۔وہ مضطرب سا ہو جاتا ۔پہلو بدل کر رہ جاتا۔بےچینی اس کےرگ و پےمیں بجلی بن کر سرایت کرجاتی مگروہ کچھ بھی نہ کہہ پاتا۔جذبات بےزبان حیوا ن کی طرح سرکشی پر اترتےرہی۔احساس چوٹ کھائےہوئےپرندےکی مانند پھڑ پھڑاتا رہا۔بہار، خزاں کےقفس میںسر ٹکراتی رہی لیکن کب تک؟ آخر وہ لمحہ بھی آیاجب یہ سب کچھ اس کی برداشت سےباہر ہوگیا۔ اذیت کی تپش اسےہر پل‘ ہر گھڑی‘ خشک لکڑی کی طرح جلانےلگی۔وہ کسی ویرانےمیں سلگتی ہوئی اس شمع کی طرح پگھلنےلگا‘ جس کا کوئی پروانہ نہ تھا۔
    شمع‘ پروانےکو جلائےبغیر خود جلتی رہی۔پگھلتی رہی۔یہ وہ کب گوارا کرسکتی ہی؟یہی اس کےساتھ ہوا۔ضبط انتہا کو پہنچ کر دم توڑ گیا۔پیمانہ لبریز ہوااورچھلک پڑا۔
    ”میں آج امبر کوسب کچھ بتا دوں گا۔۔۔ سب کچھ۔“وہ آہستہ سےبڑ بڑایا۔
    ”صاحب۔ناشتےپر بیگم صاحبہ آپ کا انتظار کررہی ہیں۔ “ سیف نےاسےچونکا دیا۔
    ”تم چلو۔میں آرہا ہوں۔“اس نےبستر سےنکلتےہوئےکہا۔
    ٹھیک پندرہ منٹ بعدوہ ناشتےکی میز پر بیٹھا تھا۔ناشتہ خاموشی سےکیا گیا۔ملازم نےمیز صاف کردی۔وہ اخبار دیکھنےلگا۔
    بیگم صاحبہ کسی گہری سوچ میں گم تھیں۔ان کا داہنا ہاتھ سامنےپڑےسفید لفافےسےکھیلنےمیں مصروف تھا۔
    ”اوہ۔ دس بج گئی۔ “وہ اخبار رکھ کر رسٹ واچ پر نظریں دوڑاتےہوئےجلدی سےاٹھ کھڑا ہوا۔
    ”بیٹھ جاؤ۔“ بیگم صاحبہ کی دھیمی سی آواز نےاسےبےساختہ پھر بٹھا دیا۔ان کی سوچ زدہ آنکھوں میں سنجیدگی کروٹیں لےرہی تھی۔اس کا دل بےطرح سےدھڑک اٹھا۔وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
    ”جی امی۔“اس نےخاموشی کا دامن چاک کیا۔
    ”بیٹی۔“ اداس سی آواز ابھری۔ ”ہم چاہتےہیں کہ زندگی کا دامن چھوڑنےسےپہلےتمہیں زندگی کی خوشیوں میں کھیلتےدیکھ لیں۔ اب ہم مزید پتھر کی یہ سل اپنےدل پر برداشت نہ کرسکیں گی۔“
    وہ سر جھکائےناخنوں سےمیز کی سطح کریدتا رہا۔
    ”زندگی میں ناکامیاں بھی آتی ہیں بیٹےلیکن اس لئےنہیں کہ انسان میدان چھوڑ کر بھاگ نکلےبلکہ اس لئےکہ اگلےامتحان میں پچھلی ناکامی کی کسر بھی نکال دی۔ ایک تمنا پوری نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسان آرزو کرنا ہی چھوڑ دی۔کہنےکا مقصد یہ ہےکہ سنبھلنےکےلئےجتناوقت درکار ہوتا ہی‘ ہم اس سےبہت زیادہ وقت تمہیں دےچکےہیں۔ ہر ماں کی طرح ہماری بھی تمنا ہےکہ ہم اپنےبیٹےکےپہلو میں چاند سی بہو دیکھیں۔“ وہ ایک لمحےکو رکیں۔
    اس کا جھکا ہوا سر تب بھی جھکا ہی رہا۔
    ”کئی ایک گھروں سےرشتے آئےہیں۔ہم نےابھی کسی کو جواب نہیں دیا۔صرف تمہاری خاطر۔“
    تب اس نےدھیرےسےچہرہ اوپر اٹھایا۔ تھوڑ اتھوڑا مضطرب لگ رہاتھا وہ۔
    ”ہم تمہیں فیصلےسےپہلےانتخاب اور پسند کا پورا پورا موقع دیں گی۔“ انہوں نےاس کی آنکھوں میں دیکھا اوراپنےسامنےپڑا لفافہ اس کی جانب سرکادیا۔”اس میں کچھ تصویریں ہیں۔زاہدہ کی چچا زاد بہن نرگس کی بھی۔“ وہ معنی خیز لہجےمیں بولیں۔
    وہ ایک جھٹکےسےاٹھ کھڑا ہوا۔چہرےپر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔ کچھ کہتےکہتےرک گیا۔
    ”وہ خاص طور پر اس رشتےکےخواہش مند ہیں۔لڑکی چند ہی روز پہلےانگلینڈ سےواپس آئی ہےمگر اس پر مشرقی اقدار پوری طرح حاوی ہیں۔ “
    ”مگر میں۔۔۔“
    ”شادی نہیں کرنا چاہتا۔“تلخی سےکہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔”یہی جواب ہےناں تمہارا۔“
    ”جی نہیں۔میں نےیہ کب کہا ۔“
    ”تو پھر؟“ وہ حیرت سےبولیں۔
    ”کیا ضروری ہےکہ ان ہی میں سےاورپھرخاص طور پر نرگس ہی سی۔۔۔ “
    ”ہم سمجھتےہیں بیٹےلیکن ہم نےیہ بات ایسےہی نہیں کہی۔ نرگس واقعی گل ِنرگس ہی۔زاہدہ اور اس لفافےمیں موجود کوئی بھی لڑکی اس کےسامنےہیچ ہی۔“
    ”لیکن۔۔۔“
    ”کہیں تم کسی اور کو تو ۔۔۔“
    ”یہ بات نہیں ہےامی۔“وہ ان کی بات کاٹتےہوئےپھر بےچین سا ہو گیا۔
    ”دیکھو بیٹی۔ تم کیوں یہ چاہتےہو کہ تم محبت کی شادی کرو۔ کیا ضروری ہےکہ جس سےتم شادی کرو وہ شادی سےپہلےتم سےمحبت کری۔“ وہ کھل کر کہہ گئیں۔
    ”میں نےایسا کب کہا امی۔“ اس کی آواز دب سی گئی۔
    ”پھر کیا تم یہ چاہتےہو کہ شادی سےپہلےتم اپنی ہونےوالی بیوی کےساتھ محبت کےچار دن ضرور گزارو۔“
    ” ایسی بھی میری کوئی شرط نہیں ہےامی۔“
    ”تو پھر تم چاہتےکیا ہو؟“ان کی آواز میں تلخی ابھر آئی۔
    ”امی۔“ اس نےسر جھکائےجھکائےکہا۔ ”میں نےایک زخم کھایا ہی۔ ایسی لڑکی کو چن لیا جو پہلےہی کسی اور سےمحبت کرتی تھی۔ اب میں ایسےکسی حادثہ سےدوچار ہونےکےلئےتیار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں مجھےجو لڑکی بیوی کےروپ میں ملےوہ صرف میری ہو‘ ہر طرح سی۔ اس کےخیالوں پر‘ اس کی سوچ پر میرےسوا کسی اور کی پرچھائیں بھی نہ پڑی ہو۔“
    ” شریف گھرانوں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں بیٹی۔ اور یہ سب تصویریں شرفا کی بیٹیوں ہی کی ہیں۔“
    ”زاہدہ بھی تو شریف گھرانےہی سےتعلق رکھتی تھی امی۔“
    ”بیٹی۔ “ وہ اسےسمجھانےوالےانداز میں بولیں۔ ”محبت ایسا جذبہ ہےجس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ زاہدہ نےاگر ایسا کیا تو کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ سچ تو یہ ہےکہ تمہاری جلد بازی اور میری ممتا نےمل کر ایک ایسی غلطی کو جنم دیاجس کا خمیازہ ہم دونوں کو بھگتنا پڑا۔“
    ”یعنی۔۔۔؟“ اس نےسوالیہ انداز میں ماں کی جانب دیکھا۔
    ”ہمیں پہلےزاہدہ کےبارےمیں پوری چھان بین کرنی چاہئےتھی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ وہ لڑکی دھوکےباز نہیں تھی ورنہ اگر وہ کوئی چالباز ہوتی اور واردات کی نیت سے آئی ہوتی تو ہم اس کےچکر میں پھنس کر اب تک مال اور عزت دونوں گنوا چکےہوتی۔“
    ”تو اب آپ جس لڑکی سےبھی میری شادی کرانا چاہتی ہیں اس کےبارےمیں یہ کیسےپتہ چلےگا کہ وہ مجھ سےپہلےکسی اور کےساتھ انوالو نہیں رہی؟“
    بات چیت بڑی کھل کھلا کر ہو رہی تھی۔ بیگم صاحبہ اپنےمزاج کےخلاف اس صورتحال کا بڑےحوصلےاور برداشت کےساتھ سامنا کر رہی تھیں۔ وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بات کو کسی منطقی انجام تک لےجانا چاہتی تھیں۔
    ”تم اگر چاہو تو جس لڑکی کو پسند کرو  اس کےساتھ تمہاری ملاقات کرائی جا سکتی ہی۔ تم دونوں ایک دوسرےکو اچھی طرح جان لو‘ سمجھ لو۔ پھر کسی فیصلےپر پہنچ سکو‘ اس کا یہ بہت اچھا راستہ ہی۔“
    ”اس بات کا کیا ثبوت ہےکہ وہ لڑکی ہمارےامیر گھرانےمیں شادی کےلئےمجھ سےاپنا ماضی نہیں چھپائےگی۔ جھوٹ نہیں بولےگی۔ “
    ”اب وہم کا علاج تو حکیم لقمان کےپاس بھی نہیں تھا بیٹی۔ تم ایک ہی چوٹ کھا کر تمام طبیبوں سےبدظن ہو گئےہو۔ اس طرح تو زندگی نہیں گزر سکتی۔“
    ”اور پھر ایک آدھ ملاقات میں ہم ایک دوسرےکو کیسےمکمل طور پر جان لیں گی۔“
    ”تو کیا اب سالوں کےسال چاہئیں تمہیں بیوی منتخب کرنےکےلئی؟تم کھل کر کیوں نہیں کہتی‘ جو تمہارےدل میں ہی؟“وہ جھنجھلا گئیں۔
    ”میں۔۔۔ میں۔۔۔“ اس کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔
    ”کسی کو پسند کرچکےہو کیا؟“ وہ اس کی جانب غور سےدیکھ کر بولیں۔
    ”جی ۔۔۔جی ہاں۔“سرگوشی سی ابھری۔وہ جوتےکی ٹو سےفرش کر یدنےلگا۔
    ”ہوں۔کون ہےوہ؟“ان کےلہجےسےکچھ بیزاری‘ناگواری اور ناپسندیدگی ظاہر تھی۔
    ”امبر۔ ۔۔“وہ اسی طرح بولا۔
    ”کون امبر؟“
    ”میری اسٹینو۔“
    ”طاہر۔۔۔“وہ بےپناہ کڑواہٹ سےبولیں۔
    ”وہ بڑی اچھی لڑکی ہےامی۔ “وہ بمشکل تمام کہہ سکا۔
    ”زاہدہ بھی تو بری نہیں تھی۔ “وہ تلخی سےبولیں۔
    ”مگر امی۔۔۔“
    ”ہم جانتےہیں ۔ڈائیلاگ تمہاری زبان پر دھرےرہتےہیں۔ ہمیں قائل کرنےکےلئےتم ایڑی چوٹی کا زور لگا دو گےلیکن یہ سوچ لوطاہر۔ ہم بار بار ایک ہی زخم نہ کھا سکیں گی۔“وہ تلخی سےشکست خوردگی پر اتر آئیں۔
    ”نہیں امی۔ آپ۔۔۔ آپ۔۔۔“
    ”جاؤ۔ اس وقت ہمیں تنہا چھوڑدو۔ہم ماں ہیں۔ جو ان اولاد کی خوشی پر ایک مرتبہ پھر اپنی اناقربان کررہےہیں لیکن یاد رکھنا طاہر۔ یہ آخری بارہو رہا ہی۔اس کےبعد ہم داؤ لگائیں گےنہ بساط کےمہرےکی طرح پٹنےپر تیار ہوں گی۔“
    ”شکریہ امی جان۔میری جیت بھی تو آپ ہی کی جیت ہی۔“وہ اپنی خوشی کودباتےہوئےبمشکل کہہ سکا۔
    ”بس جاؤ۔ ہم کل ہی اس لڑکی کےگھر جاناچاہیں گی۔“
    ”جی ۔مگر۔ اتنی جلدی۔۔۔“ وہ ہکلایا۔
    ”بکو مت۔ ہر بات میں اپنی منوانےکےعادی ہو چکےہو۔ بس ۔۔۔ کل ہم امبر کےگھر جا کر اسےدیکھنا چاہیں گی۔“
    ”جی۔۔ ۔بہتر۔ “وہ خفیف سا ہو گیا۔چند لمحےکھڑا رہا۔بیگم صاحبہ پھر کسی خیال میں کھو گئی تھیں۔ وہ آہستہ سےپلٹا اور خارجی دروازےکی جانب بڑھتا چلا گیا۔اس کےقدموں میں لرزش اور اضطراب نمایاں تھا۔
    ٭
    ”اوہ ۔ساڑھےگیارہ ہو گئی۔“ وہ ٹہلتےٹہلتےرکااوروقت دیکھ کر بڑ بڑایا۔اس کی بےچینی میں کچھ اور اضافہ ہوگیا۔ قدموں نےپھر قالین کی سینہ کوبی شروع کردی۔امبر ابھی تک نہیں آئی تھی۔اس نےکبھی اتنی دیر نہیں کی تھی۔اور پھر بغیر اطلاع۔اس کا دل بار بار کسی نئےاندیشےکےبوجھ تلےدب کررہ جاتا۔
    ”اگر وہ آج نہ آئی تو؟“
    ”نہیں نہیں ۔وہ ضرور آئےگی۔ “وہ بڑ بڑایا اور نظریں پھر رسٹ واچ پر پھسل پڑیں۔ ”بارہ۔“اس کےبےچین اور بےقرار خیالات کےسانس اکھڑنےلگی۔
    اس کےمتحرک قدم رکی۔ داہنا ہاتھ تیزی سےکال بیل کی جانب لپکا۔دوسرےہی لمحےنادر کمرےمیں تھا۔
    ”یس سر۔“
    ”دیکھو۔ مس امبر ابھی تک ۔۔۔“الفاظ اس کےلبوں پر دم توڑ گئی۔دروازےسےامبر اندرداخل ہورہی تھی۔
    ”جاؤ۔تم جاؤ۔“وہ جلدی سےبولااور نادر خاموشی سےباہر نکل گیا۔
    ”مارننگ سر۔“وہ شوخی اور شرارت سےبھرپور آواز میں آدھےسلام کےساتھ بولی ۔
    ”ہوں۔۔۔“وہ اس کےخوبصورت اور سڈول جسم کو دیکھتا ہوا اس کےگلاب ایسےکھلےہوئےچہرےپر آ کر رک گیا۔”یہ مارننگ ٹائم ہی۔“وہ ہونٹ بھینچ کر بولا۔
    جواب میں وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اس کےسینےمیں جیسےکسی نےہلچل مچا دی۔
    ”سر۔۔۔ وہ۔۔۔ بات ہی ایسی تھی۔ “وہ شرما سی گئی۔
    ”بات۔۔۔کیسی بات؟ اور یہ تمہارےہاتھ میں کیا ہے؟“وہ اس کےدائیں ہاتھ کو دیکھ کر جلدی سےبولا۔
    ”یہ ۔۔ ۔ یہ سر ۔۔۔ “وہ گڑ بڑا سی گئی۔قوس قزح کےحسین لہریےاس کےحسین چہرےپر پھیلتےچلےگئی۔اس نےسر جھکالیا ۔وہ اس کی پیشانی پر ابھرتےپسینےکےقطروں کودیکھ کر الجھن میں پڑ گیا۔
    ”کیا بات ہےامبر؟“ وہ دو قدم آگےبڑھ آیا۔
    ”سر۔۔۔ وہ۔۔۔ “وہ جیسےکہہ نہ پا رہی تھی۔
    ”ارےبولو نا۔ پھر مجھےبھی کچھ کہنا ہی۔“
    ”تو پہلے آپ بتائیی۔ “وہ اسےدیکھ کر بڑےپیارےانداز میں مسکرائی۔
    ”اوں ہوں۔ پہلےتم۔“ وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔
    ”نو سر۔پہلے آپ ۔۔۔انتظار آپ کررہےتھے‘میں نہیں۔“ وہ شوخی سےبولی۔
    اور اس کا دل جیسےپسلیوں کاقفس توڑ کر سینےسےباہر آجانےکو مچلنےلگا۔”میں تو۔۔“وہ خود گڑ بڑا گیا۔
    ”ہوں۔ کوئی خاص ہی بات ہی۔“وہ پھر شرارت پر اتر آئی۔
    ”امبر۔ وہ ۔ میں۔۔۔“جسم میںابلتا ہوا لاوا جیسےسرد پڑنےلگا۔اچھا بیٹھو تو۔“وہ کرسی کی جانب اشارہ کرتےہوئےبولا۔
    ”جی نہیں۔بیٹھ گئی۔تو پھر بھاگنےمیں دقت پیش آئےگی۔“ اس نےنفی میں سر ہلایا۔
    ”کیا مطلب؟“
    ”بات ہی ایسی ہےسر۔“ وہ پھر شرما گئی۔
    ”ہوں۔“ وہ اسےبڑی عجیب اور تیز نظروں سےگھورنےلگا۔
    ”بتائیےنا سر۔“وہ اس کےانداز پر کچھ جھینپ سی گئی۔
    ”امبر۔“وہ کچھ دیر بعد بڑےٹھہرےہوئےلہجےمیں بولا۔ وہ اس کی جانب دیکھنےلگی۔ ”امبر۔ اگر کوئی کسی کو پسند کرنےلگےتو؟“اس کی پیشانی بھیگ سی گئی۔
    ”تو اسےاپنالی۔“وہ مسکرا کر بولی۔بڑی لاپرواہی سی۔جیسےکوئی بات ہی نہ ہو۔
    طاہر نےاس کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ بدستور مسکراتی رہی۔
    ”لیکن اگر کوئی اس بات سےبےخبر ہو کہ اسےکوئی پسند کرتا ہی۔اسےاپنانا چاہتا ہی۔ تب ؟“
    ”تب اسےبتادی۔“اس نےسیدھا سا نسخہ بتایا۔اور وہ جھلا گیا۔
    ”بڑی آسان بات ہےناں۔“اور وہ اس کےجھنجلانےپر کھکھلا کر ہنس پڑی۔وہ بڑےپیار سےاس کی جانب دیکھےجارہا تھا۔
    ”دیکھو امبر۔فرض کرو۔“اس نےدھڑکتےہوئےدل کےساتھ کہنا شروع کیا۔”فرض کرو۔کوئی تمہیں پسند کرتا ہی۔ “اس کی زبان لڑکھڑاتےلڑکھڑاتےرہ گئی۔
    فقرہ ختم کرکےاس نےامبر کی جانب دیکھا۔ وہ مسکراتی ہوئی نظروں سےاس کی جانب دیکھ رہی تھی۔گالوں پر حیا کی سرخی ضرور ابھر آئی تھی۔اس کا حوصلہ جیسےدوچندہوگیا۔
    ”تمہیں چاہتا ہی۔تمہیں اپنانا چاہتا ہی۔لیکن تم۔ ۔۔تم اس سےبےخبر ہو۔ تمہیں کچھ بھی معلوم نہ ہو۔“
    ”لیکن ہم بےخبر نہیں ہیں سر۔“وہ شرارت بھرےانداز میں کہہ کر بےطرح شرما گئی۔
    ”امبر۔“اس کا سینہ پھٹنےلگا۔ دماغ چکرا کر رہ گیا۔”تو کیا؟“مسرت اس کےانگ انگ میں ناچ اٹھی۔
    ”یس سر۔ یہ رہا اس کا ثبوت کہ ہم بےخبر نہیں تھی۔ہم بھی کسی کو چاہتےتھی۔“وہ پل بھر کو رکی۔اس کا ہاتھ پشت پر سےسامنے آیاجس میں ایک سفید لفافہ دبا ہوا تھا۔”اوراسےحاصل بھی کرسکتےہیں۔“اس نےلفافہ طاہر کےہاتھ میں تھما یااورشرم سےسرخ رُو پلٹ کربھاگتی ہوئی کمرےسےباہر نکل گئی۔
    ”امبر۔“اس کےلبوں سےایک سرگوشی ابھری اورامبر کےپیچھےفضا میںتحلیل ہوگئی۔ بہاریں ناچ اٹھیں۔ دھڑکتا ہوا دل جھوم سا گیا۔
    اس نےلرزتےہاتھوں سےلفافہ کھولااور ۔۔۔ لڑکھڑا کر رہ گیا۔اندھیرااور روشنی جیسےپوری قوت آپس میں سےٹکرا گئی۔رات اور دن ایک دوسرےپر جھپٹ پڑی۔ آسمان اور زمین نےجگہیں بدل لیں۔ہرشےدرہم برہم ہوگئی۔
    وہ بےجان سےانداز میں کرسی پر بیٹھتا چلاگیا۔اس کی پھٹی پھٹی‘ بےاعتبار نگاہیں‘لفافےسےنکلنےوالےکارڈ پر ٹھہر سی گئیں۔
    وہ امبر کی شادی کا دعوت نامہ تھا۔
    اس کی امبر‘ اس کی اپنی امبر‘ کسی دوسرےکی امانت تھی‘ یہ تو اسےمعلوم ہی نہ تھا۔پگلا تھا ناں۔ہر پسند آجانےوالی شےکو حاصل کرلینےکی خواہش نےاسےایک بار پھر ناکامی اور محرومی کا داغ دیا تھا۔پہلی بار جلد بازی نےایساکیا تھا اور دوسری بار شاید اس نےخود دیر کر دی تھی۔
    خاموشی ۔اداسی ۔سناٹا۔اور وہ ۔کتنےہی لمحوں تک باہم مدغم رہی۔ شاید صدیوں تک۔
    ”امبر۔“ آخر ایک سسکی اس کےلبوں سے آزاد ہوئی۔ ساکت آنکھوں کےگہرےاور ہلچل زدہ سمندر نےدھند لاہٹ کےگرداب سےچند موتی پلکوں کےکناروں پر اچھال دیی۔ موتی دعوت نامےپر چمکتے”امبر“ کےلفظ پر گرےاور پھیل گئی۔ لفظ کی چمک کچھ اور بڑھ گئی۔رنگ کچھ اور گہرا ہوگیا۔
    اس کےکانپتےہوئےہاتھوں نےحرکت کی اور لرزتےلبوں نےپہلی اور آخری بار مہر تمنا” امبر“ کےلفظ پرثبت کردی۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  10. #10
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    ”سیف بابا۔ طاہر ابھی تک نہیں آیا۔“بیگم صاحبہ نےناشتےکی میز پر اخبار بینی سےاکتا کر کہا۔
    ”جی۔ میں دیکھتا ہوں۔“وہ ادب سےکہہ کر باہر نکل گیا۔وہ اکتائی اکتائی نظریں پھر گھسی پٹی خبروں پر دوڑانےلگیں۔
    ”السلام علیکم امی جان۔“وہ دھیرےسےکہہ کر اندر داخل ہوا۔
    انہوںنےجواب دےکر آہستہ سےاس کی جانب دیکھا اور بےساختہ چونک اٹھیں۔ وہ ان کی نظروں کی چبھن سےگھبرا گیا۔ نگاہیں جھکا کر اپنی سرخ سرخ آنکھوں پر پردہ ڈالتےہوئےوہ آگےبڑھا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
    وہ بغوراس کا جائزہ لیتی رہیں۔تنا ہوا چہرہ۔ شب بیداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔سرخ سرخ انگارہ آنکھیں۔ جیسےبہت بڑا سیلاب روکےبیٹھی ہوں۔تھکےتھکےقدم۔ جواری کےسب کچھ ہار جانےکا پتہ دےرہےتھی۔”مگر کیوں؟“وہ اس کا جواب ڈھونڈھنےمیں ناکام رہیں۔
    ”تم نےابھی کپڑےنہیں بدلی؟“دھڑکتےدل کےساتھ ان کی زبان سےنکلا۔
    ”ناشتےکےبعد بدل لوں گا امی۔“وہ آہستہ سےبولا اور اخبار پر نظریں جما دیں۔
    ”طاہر۔“ان کا لہجہ عجیب سا ہوگیا۔
    ”جی۔“وہ سنبھل گیا۔
    ”کیا بات ہی؟“
    ”کچھ بھی تو نہیں امی۔“ وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
    ”واقعی۔۔۔؟“ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولیں۔
    وہ نگاہیں چرا کر رہ گیا۔”جی ۔۔۔جی ہاں امی۔ کوئی خاص بات نہیں۔“
    ”ناشتہ کرو۔“وہ چائےدانی کی طرف ہاتھ بڑھاتےہوئےدھیرےسےبولیں۔
    ”میں صرف چائےپیوں گا۔“
    اور بیگم صاحبہ کا توس والی پلیٹ کی جانب بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا۔ایک لمحےکو انہوں نےسر جھکائےبیٹھی‘ مضطرب اور بےچین بیٹےکی جانب دیکھا۔ پھر ہاتھ کھینچ لیا۔انہوں نےبھی صرف چائےکےکپ پر اکتفا کیا۔خاموشی گہری ہوتی گئی۔خالی کپ میز پر رکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
    ”ٹھہرو۔“ایک تحکم آمیز آواز نےاسےبت بنا دیا۔
    ”جی۔“وہ پلٹےبغیر بولا۔
    ”بیٹھ جاؤ۔“
    اور وہ کسی بےجان شےکی طرح پھر کرسی پر گر پڑا۔
    ”کل ہم نےتم سےکچھ کہا تھا۔“
    ”جی ۔ “ اضطراب کی حالت میں پہلو بدل کر وہ ایک نظر ان کی جانب دیکھ کر رہ گیا۔
    ”لیکن اب ہم نےاپنےپروگرام میں کچھ تبدیلی کردی ہی۔“
    ”جی۔“ وہ کچھ بھی نہ سمجھا۔
    ”ہم لڑکی کےگھر جانےسےپہلےاسےکہیں اور ایک نظر دیکھنا چاہتےہیں۔“
    ”امی۔“وہ تڑپ کر کھڑا ہوگیا۔
    وہ پُرسکون انداز میں اسےدیکھتی رہیں۔”تمہیں اعتراض ہےکیا؟“
    ”مجھی۔ ۔۔نہیں توامی۔“
    ”تو جلدی سےتیار ہو کر آجاؤ۔ ہم تمہارےساتھ آفس چلیں گی۔“ایک ہتھوڑا سا اس کےذہن پر برسا۔
    ”مگرامی۔۔ ۔“اس نےکچھ کہنا چاہا۔
    ”ہم اسے آج۔۔۔ابھی۔۔۔ اسی وقت دیکھنےجانا چاہتےہیں۔“
    ”چند روز رک نہیں سکتیں آپ؟“وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولا۔
    ”وجہ؟“بڑےجابرانہ انداز میں استفسار کیا گیا۔
    ”اسی۔۔۔“وہ ایک پل کو رکا۔ ”دلہن بنا دیکھ لیجئےگا اسی۔“
    ”ہم سمجھےنہیں۔“وہ واقعی حیرت زدہ رہ گئیں۔
    اورجواب میںطاہر کا ہاتھ گاؤن کی جیب سےباہر نکل آیا۔اس سےکارڈ لیتےہوئےان کا ہاتھ نجانےکیوں کانپ گیا۔ وہ تیزی سےچلتا ہوا کمرےسےنکل گیا۔یہ دیکھنےکی اس میں ہمت نہیں تھی کہ کارڈ دیکھ کربوڑھی چٹان ایک مرتبہ پھر لرز کر رہ گئی تھی۔
    ”طاہر۔“ماں کےلبوں پر ایک آہ مچلی اور نظروں کےسامنےدھوئیں کی دیوار بن کر پھیل گئی۔وہ دھندلائی ہوئی آنکھوں سےاپنےلرزتےہاتھوں میں کپکپاتےاس پروانہ مسرت کو دیکھ رہی تھیں جو ان کی ہر خوشی کےلئےزہر بن گیا تھا۔
    ”یہ ۔۔۔یہ سب کیا ہوا میرےبدنصیب بیٹے۔کیا ہو رہا ہےیہ سب ؟کیوں ہو رہا ہی؟ کب تک ہوتا رہےگا؟“کتنی ہی دیرتک ایک بےجان بت کی مانند بیٹھےرہنےکےبعد وہ آہستہ سےبڑ بڑائیں۔
    ”جب تک میری ہر دھڑکن تنہائی اور محرومی سے آشنا نہیںہو جاتی۔تب تک یہ ہوتا رہےگا امی۔“وہ ان کےسامنےکھڑا تھا۔
    وہ اسےدکھی دکھی نظروں سےگھورتی رہ گئیں۔وہ مسکرا رہا تھا۔نجانےکس طرح؟
    ”اللہ حافظ امی۔“وہ دروازےکی جانب پلٹ گیا۔
    وہ تب بھی پتھر کی طرح ساکت بیٹھی رہیں۔خاموش اوربےحس و حرکت مجسمےکی مانند۔کسی سحر زدہ معمول کی طرح ۔بالکل ایسی۔جیسےغیر معمولی صدمےکےسحر نےایک جاندار کو بےجان شےمیں تبدیل کردیا ہو۔
    ٭
    ”بنو۔ ان دنوں باہر نہیں نکلا کرتی۔ درخواست ہی دینا تھی تو مجھےکہہ دیا ہوتا۔“ رضیہ نےشرارت سےامبر کےبازو پر چٹکی لیتےہوئےکہا اور اس کےلبوں سےسسکی نکل گئی۔
    ”اری۔ درخواست کا تو صرف بہانہ ہی۔اس کا گھر پر دل ہی کہاں لگتا ہی۔ غلامی سےپہلےجی بھر کر آزادی منا لینا چاہتی ہی۔“ انجم نےاپنی بڑی بڑی آنکھیں مٹکاتےہوئےکہاتو وہ بےبسی سےاس کی طرف دیکھ کر رہ گئی۔
    ”ہائی۔ یہ شب بیدار آنکھیں ضرورہمارےدولہا بھیا کی شرارتوں کی تصویریں بناتےبناتےسرخ ہوئی ہیں۔واللہ۔ محبت ہو توایسی ہو۔ “نجمہ نےاس کی آنکھوں کےسامنےانگلی نچاتےہوئےکہا۔باقی تینوں نےبھی اسی کی ہاں میں ہاں ملائی۔
    ”دیکھو۔ خدا کےلئےمجھےبخش دو۔ “اس نےفریادیوں کےانداز میں ہاتھ جوڑ کر ان سےپیچھا چھڑانےکی کوشش کی ۔
    ”اوں ہوں۔ بی بی۔ ہم سےتو آج کل میں پیچھا چھڑا لوگی مگر وہ جو تمام عمر تمہارےپیچھےلٹھ لئےبھاگتےپھریں گی‘ان کےبارےمیں کیا خیال ہے؟“نجمہ نےکہاتووہ شرم سےلجا کر رہ گئی۔
    ”ہائی۔ اب ہمارےصاحب کا کیا بنےگا؟ وہ تو دیوداس بن کر رہ جائیں گی۔ پھریہ آفس امپورٹ ایکسپورٹ کےبجائےتان سین کا ڈیرہ بن کر رہ جائےگا۔“ رضیہ نےدل پر ہاتھ رکھ کر بڑی ادا سےکہا۔
    ”بکو مت۔“ وہ ایکدم سنجیدہ ہوگئی۔”مذاق میں بھی ان کےبارےمیں ایسی بیہودہ گفتگومت کیا کرو۔ “اس نےجیسےاسےڈانٹ دیا۔
    ”اےفلسفہ بیگم۔“انجم نےاس کےباز پر زور سےچٹکی لی۔”مذاق کو اتنا سیریس کیس مت بنایا کرو۔ ہم بھی جانتی ہیں کہ وہ تمہارےلئےہی نہیں ہمارےلئےبھی دنیا میں شاید ماں باپ کےبعدسب سےزیادہ قابل احترام ہستی ہیں۔ہم تم سےزیادہ چاہتےہیں انہیں۔ “اور سب کی سب مسکرا دیں۔
    ”ارے۔صاحب آگئی۔“ اچانک نجمہ نےدروازےکی جانب اشارہ کیاتووہ چاروں سنبھل کر کھڑی ہو گئیں۔اس وقت وہ سب امبر کےکیبن میں تھیں۔
    ”بی پجارن۔ دیوتا کا سواگت کرو ناں جا کر۔ ان کےچرنوں میں اپنی ایپلی کیشن کےپھول چڑھاؤ۔ انکار تو وہ کرہی نہیں سکیں گی۔“ رضیہ نےاسےکہنی سےٹھوکا دےکر آہستہ سےکہا۔
    ”بکومت۔“ وہ جھینپ سی گئی۔
    طاہر پل بھر کوہال میں رکا۔ لڑکیوں کی تمام سیٹیں خالی دیکھ کر ایک لمحےکو اس نےکچھ سوچا۔ پھر اپنے آفس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔تمام لوگ اس کےکمرےمیں جاتےہی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئی۔
    ”چلو۔ اب اپنا اپنا کام کرو جا کر۔میری جان بخشو۔ “وہ اپنا خوبصورت چھوٹا سا شولڈر بیگ اٹھا کر دروازےکی جانب بڑھی۔
    ”جی ہاں۔ اب آپ مندر جارہی ہیں۔“نجمہ نےشرارت سےکہا اور سب کا مشترکہ ہلکا سا قہقہہ گونج کر رہ گیا۔
    ”بکتی رہو۔“ کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔
    ”چلو بھئی۔ وہ تو گئی۔اب کام شروع کریں۔ سیزن کےدن ہیں۔بہت کام ہی۔“ وہ سب بھی چل دیں۔
    دروازہ دھیرےسےکھلا۔”مارننگ سر۔“وہ اندر آتےہوئے آہستہ سےبولی۔
    ”او ہ۔ امبر تم۔۔۔ آؤ آؤ۔ “وہ دھیرےسےمسکرا دیا۔ امبر دھڑکتےدل کےساتھ نظریں جھکائے آگےبڑھی اور ایک کرسی کی پشت تھام کر کھڑی ہوگئی۔
    ”بیٹھو۔“وہ عجیب سی نظروں سےاسےدیکھتےہوئےبولا اور نجانےکیوں نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔
    امبر نےکچھ کہنےکےلئےچہرہ اوپر اٹھایا ‘لب کھولےمگر اسےاپنی طرف دیکھتا پا کر شرما گئی۔اس کا سر پھر جھک گیا۔پھر وہ آہستہ سےکرسی پر بیٹھ گئی۔وہ بھی اپنی سیٹ پر چلا آیا۔کتنی ہی دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر امبر کی آواز نےاسےچونکا دیا۔
    ”سر۔“
    ”ہوں۔“وہ پیپر ویٹ سےکھیلتےکھیلتےرک گیا۔”کیا بات ہی؟“ اس نےمسکرا کر امبر کی آنکھوں میں دیکھا۔
    ”جی ۔۔۔وہ۔۔ ۔ وہ سر۔“ وہ ہکلا گئی۔
    ”کیا ہوگیا ہےتمہیں؟“وہ ہنس دیا۔”شادی ہر لڑکی کی ہوتی ہی۔شرم و حیا ہر لڑکی کا زیور ہوتا ہےلیکن تم تو سب پر بازی لےگئیں۔“
    وہ سر جھکائی‘بیر بہوٹی بنی‘ناخن سےشیشےکی ٹاپ کریدتےہوئی‘نچلا ہونٹ دانتوں سےکاٹتےہوئےاس کی آواز کی مٹھاس میں گم ہوگئی۔
    ”اور پھر اپنوں سےکیا شرمانا امبر۔ ہم نےایک عرصہ ساتھ ساتھ گزارا ہے۔ اچھےدوستوں ‘ اچھےساتھیوں کی طرح۔“وہ ایک پل کو رکا۔”ہاں۔اب کہو۔ لیکن شرمانا نہیں۔“ وہ اسےتنبیہ کرتےہوئےبولا تو وہ شرمیلی سی ہنسی ہنس دی۔
    ”سر۔۔۔یہ۔۔۔“ اس نےبیگ کھول کر ایک کاغذ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
    ”یہ کیا ہی؟“ وہ اسےتھامتےہوئےحیرت سےبولا۔
    ”ایپلی کیشن سر۔“
    ”کیسی ایپلی کیشن؟“
    ”چھٹی کی سر۔“
    ”ارےچھوڑو بھی۔“ اس نےایک جھٹکےسےاس کےدو اور پھر چارٹکڑےکرکےباسکٹ میں پھینک دیی۔
    ”سر ۔مگر۔۔۔“
    ” آفس کی کارروائی مکمل کرنےکےلئےایسےتکلفات کی ضرورت ہوتی ہےامبر۔۔۔ لیکن تم ان ملازموں میں شمار نہیں ہوتیں جن کےلئےایسی کارروائیوں کا اہتمام لازم ہو۔ تم نےجس طرح میرےساتھ مل کر the proud جیسےپراجیکٹ کو کامیابی سےہمکنار کیا ہی‘ اس کا تقاضا یہ نہیں ہےکہ ہم ایسےتکلفات میں وقت ضائع کیا کریں۔“
    ”سر۔“حیرت اور مسرت سےاس کی آواز لڑکھڑا گئی۔
    ”ہاںامبر۔ میں نےاس آفس کےہر فرد کو اپنا سمجھا ہی۔اپنا جانا ہےاور تم ۔۔۔تم تو وہ ہو‘ جو میری زندگی اور موت کےدرمیان سینہ تان کر آکھڑی ہوئی تھیں۔“وہ اپنی سیٹ سےاٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑا ہوا۔”تم نےایک مرتبہ مجھےدیوتا کہا تھا امبر لیکن مجھےایسا لگتا ہی‘ دیوی تم ہو۔ پیار کی۔وفا کی۔ رفاقت کی۔ تم میرےلئےایک ایسی مخلص دوست ہوامبر‘ جس کےہر پل کی رفاقت مجھ پر احسان ہی۔اوردوستوں میں‘ محبت کرنےوالوں میں یہ رسمیں بڑی بور لگتی ہیں۔لگتی ہیں نا۔“وہ اس کےقریب چلا آیا۔ اس پر جھک سا گیا۔
    ”سر۔“اس کی آنکھوں میں تشکر امڈ آیا۔
    ”پگلی۔ “وہ ہولےسےمسکرایااورسیدھا ہوگیا۔”کتنےدنوں کی چھٹی چاہیےتمہیں؟ “وہ شریر سےلہجےمیں بولا۔
    اور امبر نےناخنوں سےمیز کی سطح کو کریدتےہوئےسر جھکا لیا۔”ایک ۔۔۔ایک ہفتےکی سر۔“ وہ بمشکل کہہ پائی۔
    ”با۔۔۔۔۔س۔“وہ لفظ کو کھینچ کر بولا۔” آج دس تاریخ ہی۔ “وہ کلائی پر بندھی گھڑی میں تاریخ دیکھتےہوئےبولا۔ ”بارہ کو شادی ہی۔ دو دن یہ گئی۔ اور باقی بچےصرف پانچ دن ۔“ وہ بڑ بڑاتےہوئےرکا۔”اری۔ صرف پانچ دن۔“ وہ حیرت اور بھولپن بھری شرارت سےاس کےسامنےہاتھ کھول کرنچاتےہوئےبولا۔
    ”سر۔۔۔“ وہ جھینپ سی گئی۔ طاہر زور سےہنس دیا۔
    ”تمہیں ایک ماہ کی رخصت دی جاتی ہی۔“وہ شاہانہ انداز سےبولا۔
    ”مگر سر۔۔۔“
    ”کچھ نہیں۔کوئی بات ہےبھلا۔ شادی ہو اور صرف پانچ دن بعد پھرڈیوٹی سنبھال لی جائی۔“
    ”مگر میں کچھ اور کہہ رہی تھی سر۔“
    ”ہاںہاں۔ کچھ اور کہو۔ بڑےشوق سےکہو۔ “
    ”وہ سر۔۔۔وہ۔۔ ۔وہ نہیں چاہتےکہ میں شادی کےبعد بھی جاب کروں۔“وہ بڑےاداس لہجےمیں بولی۔
    اور ۔۔۔اس کےدل کو دھچکا سا لگا۔ایک پل کو اس کےچہرےپر جیسےخزاں کا رنگ بکھر گئےمگردوسرےہی لمحےوہ سنبھل گیا۔ اس کےکانپتےلبوں پر ایک کرب آلود مسکراہٹ تیر گئی۔اس نےہونٹوں کو زور سےبھینچ لیااور یوں اثبات میں سر ہلایا جیسےکسی انجانی صدا پر لبیک کہہ رہا ہو۔پھروہ آہستہ سےنامحسوس مگر درد بھرےانداز میں ہنس دیا۔
    ”ٹھیک ہی تو کہتےہیں۔ “وہ جیسےاپنے آپ سےکہہ اٹھا۔”پھر ۔۔۔کب سےہمارا ساتھ چھوڑ رہی ہو؟“ وہ پھر مسکرادیا۔
    ” آپ کا ساتھ تو مرتےدم تک رہےگا سر۔ دوستوں سےایسی باتیں نہ کیا کیجئی۔“وہ افسردگی سےمسکرادی۔
    وہ چند لمحوں تک اسےعجیب نظروں سےگھورتا رہا۔”اس کا مطلب ہی۔“وہ پہلو بدل کر بولا۔ ”کہ تم صرف یہی مہینہ ہمارےساتھ ہو جس کےدس دن گزر چکےہیں۔“
    ”یس سر۔“
    ”ہوں۔“ وہ بجھ سا گیا۔”ٹھیک ہےامبر۔ “کچھ دیر بعد وہ ایک طویل اور سرد آہ بھر کر گویا ہوا۔”ہم میں سےکوئی بھی تمہیں بھول نہ سکےگا۔“
    ”سر۔“اس کی آواز تھرا گئی۔
    ”ارےہاں۔ “وہ بات بدل گیا۔ ”یہ تو میں نےپوچھا ہی نہیں کہ تمہارےوہ کرتےکیا ہیں؟“
    اور جذبات کےریلےمیں بہتی ہوئی امبر ساحل ِحواس پر آگری۔”وہ کالج میں لیکچرار ہیں سر۔“اس نے آہستہ سےکہا۔
    ”ہوں۔“وہ پھر کسی خیال میں ڈوب گیا۔
    ” آج کی ڈاک سر۔“نادر نےاندر داخل ہوتےہوئےکہا اور ڈاک میز پر رکھ کر واپس لوٹ گیا۔ وہ ایک طویل سانس لےکر سیدھا ہو بیٹھا۔ڈاک ایک جانب سرکا کر اس نےامبر کی طرف دیکھا۔دونوں کی نظریں ملیںاورجھک گئیں۔
    ”امبر۔ “
    ”یس سر۔“
    ”میں کچھ کہوں۔برا تو نہ مانو گی۔“
    ”کیسی باتیں کرتےہیں آپ سر۔“
    ”امبر۔۔۔ میں۔۔۔ “وہ کہتےکہتےرکا۔”میں تمہاری شادی میں نہ آسکوں گا۔“
    ”کیوں سر؟“ وہ تڑپ سی گئی۔
    ”مجھےگاؤں جانا ہےامبر۔ وہاں نجانےکتنےدن لگ جائیں۔“اس نےبڑی ہمت کر کےجھوٹ بولا۔”لیکن میں اس سےپہلےتمہارےاعزاز میں ایک شاندار پارٹی دینا چاہتا ہوں امبر۔“
    ”سر۔وہ سب ٹھیک ہی۔مگر۔ آپ۔۔۔“
    ”مجھےاحساس ہےامبر۔ لیکن یقین کرو‘وہ کام اتنا ہی اہم اور وقت طلب ہےکہ میں مجبور ہو گیا ہوں۔“وہ میز کےکونےپر بیٹھ گیا۔”دیکھو ۔ تم جس طرح چاہو‘ میں تم سےمعذرت کرنےکو تیار ہوںلیکن خدارا‘ مجھ سےخفا مت ہونا۔تم کہو تو میں اپنا کام چھوڑ کر تمہاری خوشی میں شریک ہونےکو چلا آؤں گا لیکن تم مجھ سےناراض مت ہونا۔“وہ اس کےشانوں پر ہاتھ رکھ کر اداس اور التجا آمیز لہجےمیں بولا۔
    ”نہیں سر۔ میں آپ سےناراض کیسےہوسکتی ہوں؟ آپ اپنا کام التوا میں مت ڈالئےلیکن اس کےلئے آپ کو میری بھی ایک بات ماننا پڑےگی۔“
    ”ہاں ہاں‘ کہو۔“
    ”شادی کےبعدمیں آپ کےاعزاز میں ایک پارٹی دوں گی‘ جس کےلئے آپ کوئی بہانہ نہ بنا سکیں گی۔ “
    وہ چند لمحوں تک اس کی پُرامید آنکھوں میں جھانکتا رہا۔”ٹھیک ہی۔“وہ میز سےاٹھ گیا۔ وہ کھل اٹھی۔
    ”لیکن۔۔۔“
    ”لیکن کیا سر؟“بےتابی سےاس نےپوچھا۔
    ”پارٹی یہاں‘ اسی آفس میں دی جائےگی۔تمام انتظام میراہوگااور تم اور تمہارےوہ مہمان خصوصی ہوں گی۔“
    ”بالکل نہیںسر۔ “وہ مچل سی گئی۔”پہلی بات تو ٹھیک ہےلیکن باقی دونوں باتیں غلط ہیں۔پارٹی ہم دیں گےاور مہمان آپ ہوں گی۔“
    ”غلط۔ بالکل غلط ۔جا تم رہی ہو۔اور الوداعی پارٹی جانےوالےکےاعزاز میں دی جاتی ہی۔لہذا میرا حق پہلےبنتا ہی۔“
    ”وہ حق تو آپ پارٹی دےکر استعمال کر ہی رہےہیں سر۔“
    ”نہیں ۔ یہ رسمی پارٹی ہی۔ بعد کی پارٹی اعزازی اور خاص ہو گی۔“
    ”سر۔“ وہ جیسےہارتےہارتےجیت کی امید پر بولی۔”سب کچھ تو آپ لےگئےسر۔ ہمارےہاتھ کیا آیا؟“ اس نےمنہ بنا کر کہا۔
    ”تمہارےحصےمیں ہماری دعائیں‘ہماری محبتیں‘ ہمارےجذبات یعنی یہ کہ خدا کرےتم اور تمہاری”وہ“ پھلوپھولو۔ دودھوں نہاؤ پوتوں پھلو۔ہماری خوشیاں بھی خدا تمہیں دےدی۔ وغیرہ وغیرہ۔“
    ”سر۔“ اس نےشرما کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا۔پھر کچھ دیر بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔وہ سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھنےلگا۔
    ”اب میں چلوںگی سر۔ “وہ سر جھکا کر بولی۔
    اورجیسےطاہر کےدل کو کسی نےمٹھی میں مسل ڈالا۔کتنی ہی دیر تک وہ اسےگھورتا رہا۔ زاہدہ بھی تو یوں ہی گئی تھی۔
    ”جاؤ۔“ اس کےلب کپکپا گئی۔
    اس نےجھکی ہوئی نظریںاٹھائیں۔
    ”سر۔“ پلکوں پر تیرتےموتی لرزگئی۔طاہرپھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر بکھیر کر رہ گیا۔ پھراس کی پلکوں کےگوشےبھی نم ہوگئی۔شاید‘ضبط کا آخری بندٹوٹنےکو تھا۔
    ”اللہ حافظ۔“اس نےبےساختہ اسےشانوں سےتھام کر کہا۔
    ”سر۔“وہ بہت اداس ہو رہی تھی۔
    ”پگلی۔“اس کا جی چاہا۔ اسےباہوں میں سمیٹ کر سینےمیں چھپالی۔پوری قوت سےبھینچ لےمگر دوسرےہی لمحےوہ اس کےہاتھوں کی گرفت سےپھسل کر دروازےکو چل دی۔
    ہارا ہوا جواری ‘اپنےغلط داؤ پر اس مرتبہ بھی پٹ گیا تھااوراب شاید اس کا دامن‘ہر آرزو‘ تمنا اور خواہش سےخالی ہوچکا تھا۔اسی لئےتو وہ اپنی غیر متوقع ہار کا انجام دیکھ کر اتنےتلخ انداز میں مسکرایا تھا کہ اس کےجذبات پر ناامیدی کی ایک سرد تہہ جمتی چلی گئی تھی۔
    وہ آفس سےنکل آیا۔ بےمقصد ادھر ادھر کار بھگائےپھرتا رہا‘ جو لمحہ بہ لمحہ سپیڈ پکڑتی جارہی تھی۔اس کی پتھرائی ہوئی آنکھیں تیزی سےپیچھےبھاگتی ہوئی سڑک پر منجمد تھیں۔ ذہن ‘ دل‘ خیالات‘ جذبات۔ ایک جنگ تھی جو اس کی سوچ اور احساس کےمابین شدت سےجارہی تھی۔
    ”تم پھر ہار گئی۔“
    ”جیت تمہاری تقدیر میں نہیں۔“
    ”تم زندگی بھر یونہی تنہائیوں میں بھٹکتےرہو گی۔“
    ”تمہارا دامن محبت سےسدا خالی رہےگا۔“
    ”تم ساری عمر تشنہ رہو گی۔“
    ”تم سراپا ہار ہو۔اپنےلئی‘اپنی ہر آرزو کےلئی‘ اپنی ہر تمنا کےلئی‘ اپنےہر جذبےکےلئی۔داؤ لگانا چھوڑ دو۔تم اناڑی جواری ہو۔تمہاری خواہشات کی تاش کا ہرپتہ بےرنگ ہی۔ بےوفا ہی۔“
    ”کوئی نہیں آئےگا جو تمہیں اپنےد ل کےنہاں خانےمیں محبت کےنام پر سجا لی۔ تم دیوتا ہو۔ انسان نہیں۔ لوگ تمہارا احترام تو کرتےہیں‘ تم سےمحبت نہیں کرتی۔کسی کی محبت تمہارےمقدر میں لکھی ہی نہیں گئی۔“
    ”تم بن منزل کےلٹےپٹےمسافر ہو۔ منزل کی تلاش چھوڑ دو۔چھوڑ دو۔منزل کی تلاش چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ “
    کار کےبریک پوری قوت سےچیخےاوربھاگتی ہوئی کار الٹتےالٹتےبچی۔
    گھر آ چکا تھا۔
    وہ یوں ہانپ رہا تھا‘جیسےمیلوںدور سےبھاگتا آیا ہو۔چہرہ پسینےمیں شرابور اور سانس دھونکنی کی مانندچل رہا تھا۔اس کےہاتھوں کی گرفت اسٹیئرنگ پر سخت ہوتی چلی گئی۔پھراس نےاپنا سراسٹیئرنگ پر دےمارا۔کتنی ہی دیر تک وہ بےحس و حرکت پڑا رہا۔پھر آہستہ سےاس نےچہرہ اوپر اٹھایا۔اب وہ بالکل پُرسکون تھا۔طوفان تھم گیا تھا۔بادل چھٹنےلگےتھی۔اس کےہاتھ کو حرکت دی۔ہارن چیخ اٹھا۔
    چند لمحوں بعدگیٹ کھل گیا۔وہ کار اندر لیتا چلا گیا۔کار کو گیراج میں بند کرکےوہ داخلی دروازےسےہال میں رکےبغیر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
    ”صاحب ۔بیگم صا حبہ کھانےپر آپ کا انتظار کر رہی ہیں ۔“سیف بابانےکمرےمیں داخل ہو کر کہا۔
    “ان سےکہو‘مجھےبھوک نہیں۔وہ کھالیں۔ “اس نےبجھےبجھےلہجےمیں کہا۔
    ”صاحب۔ وہ تبھی سےبھوکی ہیں جس دن سے آپ نےکھانا چھوڑرکھا ہی۔“
    ”کیا۔۔۔؟تمہا را مطلب ہےانہوں نےپرسوں سےکچھ نہیں کھایا۔“
    ”جی ہاںصاحب۔ ایسا ہی ہی۔“
    وہ تیزی سےدروازےکی طرف لپکا۔بیگم صاحبہ سرجھکائےمیز پر بیٹھی جانےکیا سوچ رہی تھیں۔اس کے آنےکی آہٹ سن کر انہوں نےسر اٹھایا۔
    ”امی۔۔۔“ وہ بےتابی سےکچھ کہتےکہتےرک گیا۔ سر جھک گیا۔ آہستہ سے آگےبڑھ کر وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔وہ چند لمحوں تک اسےبڑی درد بھری نظروں سےگھورتی رہیں۔
    ”کھانا کھائیےامی۔“ پلیٹ سیدھی کرتےہوئےوہ ان کی نظرو ں کی چبھن سےگھبرا گیا۔
    ایک طویل سانس لےکر انہوں نےپلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔دونوں نےخاموشی سےاور بہت کم کھایا۔سیف نےمیز صاف کردی۔طاہر نےبےقراری سےپہلو بدلا۔ انہوں نےایک طائرانہ نظر اس پر ڈالی۔
    ”جاؤ۔ سوجاؤ جا کر۔ رات کافی جاچکی ہی۔“
    اس نےکچھ کہنےکو منہ کھولامگر۔۔۔ نظریں ملتےہی وہ خاموش ہوگیا۔ آہستہ سےاٹھ کر چل دیا۔پھر رکا۔ایک نظر پلٹ کر دیکھا۔وہ اسی کی جانب دیکھ رہی تھیں۔تب وہ نہ چاہتےہوئےبھی دروازےکی طرف بڑھ گیا۔
    ”پگلا کہیں کا۔“وہ دھیرےسےبڑ بڑا ئیں اورکسی گہری سوچ میں ڈوبتی چلی گئیں۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Page 1 of 6 123 ... LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •