Page 3 of 6 FirstFirst 12345 ... LastLast
Results 21 to 30 of 59

Thread: Ishq Ka Qaaf

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Ishq Ka Qaaf

    عشق کا قاف
    مصنف : سرفراز احمد راہی



    موسم‘ طوفان ِ باد و باراں کےاشاروں پر رقص کررہا تھا۔
    سپیڈ کم ہوئی اور کار رک گئی۔اس نےہا رن دبایا۔تیسری آواز پرگیٹ کھل گیا۔
    بادل ایک بار پھر بڑےزور سےگرجی۔ بارش میں اور شدت آگئی۔کار آگےکو سرکی مگر اس سےپہلےکہ کار گیٹ سےاندر داخل ہو تی‘بجلی زور سےچمکی۔فانوس سےروشن ہوگئی۔
    وہ چونک اٹھا۔
    اس کی تیز نظریں گیٹ کےباہر بائیں ہاتھ بنےچھوٹےسےسائبان تلےچھائےاندھیرےمیں جم گئیں۔
    ”کیا بات اےصاب! “ پٹھان چوکیدار نےبارش میں بھیگتےہوئےپوچھا۔
    ”خان۔۔۔“لیکن اس سےپہلےکہ وہ فقرہ پورا کرتا‘برق پھر کوندی۔وہ تیزی سےکار کا دروازہ کھول کر باہر کو لپکا۔اس دوران خان بھی گیٹ سےباہر نکل آیا۔
    بارش اور تیز ہوا کی پرواہ کئےبغیردو تین لمبےلمبےڈگ بھر کر وہ اس اندھیرےکونےمیں پہنچ گیا‘جہاں دو بار برق نےاجالا کیا تھا۔
    ایک سایہ تھا جو بیدِ مجنوں کی طرح لرز رہا تھا۔
    ”کون ہو تم؟“ اس نےجلدی سےپوچھا اورایک بار پھر اس کی نظریں چندھیا گئیں۔
    ”میں۔۔۔“ ایک کمزور سی نسوانی آواز ابھری ۔ پھراس سےپہلےکہ وہ اجنبی وجود زمین پر آرہتا‘ اس کےمضبوط اور گرم بازوؤں نےاسےسنبھال لیا۔
    ”خان۔“ اس نےپلٹ کر پکارا۔
    ”جی صاب۔ “قریب ہی سے آواز ابھری۔
    ”میں کمرےمیں جارہا ہوں ۔گاڑی گیراج میں بند کرکےوہیں چلے آؤ۔ جلدی۔“
    ”جی صاب۔ “وہ تعمیل حکم کےلئےجلدی سےگاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
    اس نےاس نازک ، برف سےزیادہ سرد اور لہروں سےزیادہ نرم وجود کو باہوں میں بھر لیا‘جو اَب لکڑی کی مانند کھردرا اور پتھر کی مانند سخت ہوا جارہا تھا۔تیز تیز چلتا ہواوہ پورچ پار کرکےبر آمدےمیں پہنچا۔ پاؤں کی ٹھوکر سےدروازہ کھولااور مختصر سی راہداری کو طےکرکےہال میں چلا آیا۔ایک لمحےکو کچھ سوچا‘ پھرسیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔
    ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرےکمرےکےدروازےپر پہنچ کر اس نےپھر دائیں پاؤں سےکام لیا ۔اندر داخل ہوا اور بستر کی طرف بڑھ گیا۔
    دھیرےسےاس نےاپنےبازوؤںمیں بھرےاس ریشمیں خزانےکو احتیاط سےسمیٹ کر بیڈ پر رکھ دیا‘پھراسےگرم لحاف میں چھپا دیا۔ شاید اس لئےکہ کوئی اور دیکھ نہ لی۔ایک لمحےکو اس کی نظریں اس سمٹےپڑےخزانےکےتر بتر چہرےپرجم گئیں‘جہاں سیاہ لانبی زلفیں کسی بادلوں میں چھپےچاندیا گھٹاؤں میں قید برق کا سماں پیش کررہی تھیں۔اسی وقت خان اندر داخل ہوا۔
    ”اوہ خان۔“ اس نےجلدی سےکہا۔کچھ سوچا پھر تیزی سےٹیلی فون کی طرف بڑھ گیا۔
    ڈاکٹر کو فون کرکےوہ حکم کےمنتظر اور چور نظروں سےاس خوابیدہ حسن کو تکتےخان کی طرف متوجہ ہوا اور ہولےسےمسکرایا۔
    ”خان۔“
    ”جی صاب۔“ وہ گھبرا سا گیا۔
    ”تمام نوکر تو سوچکےہوں گی۔“
    ”جی صاب۔“ اس نےاپنا مخصوص جواب دہرایا۔
    ”ہوں ۔“وہ کچھ سوچنےلگا۔پھر کہا۔”تم نیچےچلےجاؤ ۔ اپنےڈاکٹر صاحب آرہےہیں۔ان کو لےکر اوپر چلے آنا۔“
    ”جی صاب!“ اور خان ایک نظر بستر پر ڈال کر دروازےکی طرف بڑھ گیا۔
    اس نے آگےبڑھ کر سوئچ بورڈ پر ایک بٹن دبا دیا۔ایر کنڈیشنڈ سسٹم گہری نیند سےجاگ گیا۔پھر اس کی نادیدہ تپش نےدھیرےدھیرےکمرےکو گرم کرنا شروع کیا۔اس نےمطمئن انداز میں سرہلا کر بند کھڑکیوں کی جانب دیکھا اور کرسی گھسیٹ کر بسترکےقریب لے آیا۔ بیٹھتےہوئےوہ قدرےجھک گیا اور نظریں اس خاموش گلاب پر جما دیں جس کی دو پنکھڑیاں اپنی سرخی کھونےلگی تھیں۔ نیلاہٹ ابھری چلی آرہی تھی۔
    وہ آہستہ سےلرزی تو بےچینی سےوہ کلائی پر بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈال کر رہ گیا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔
    اس کی بےتاب نظریں اس غنچہ دہن پر جم گئیں‘جس میں اب پھر کوئی حرکت نہیں تھی۔ آہستہ سےاٹھا۔ جھکا اور لحاف کو اچھی طرح اس پر لپیٹ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔اب وہ بےچینی سےٹہلنےلگا۔ اسی وقت ایسا محسوس ہوا جیسےکوئی تیزی سےسیڑھیاں چڑھتا چلا آرہا ہو۔
    ” آئیے آیئےانکل۔ “وہ کمرےمیں داخل ہوتےادھیڑ عمر مگر مضبوط جسم کےمالک ڈاکٹر ہاشمی کی طرف بڑھا۔ڈاکٹر ہاشمی نےرین کوٹ اتار کر اس سےمصافحہ کیا۔
    ”کیا بات تھی بیٹی۔ میں تو تمہارا فون سنتےہی۔۔۔“اور ان کی آواز حلق ہی میںاٹک گئی۔حیرت زدہ نظریں بستر پر پڑی جوان اور نیلی پڑتی لڑکی کےوجود پر ٹھہر گئیں۔وہ تیزی سےاس کی طرف بڑھی۔چند لمحوںبعدان کا تجربہ کارہاتھ لڑکی کےماتھےسےہٹا تو وہ کچھ مضطرب سےنظر آرہےتھی۔
    ”خان۔ ۔۔میرا بیگ ۔“ وہ بولےاور خان کےساتھ ہی وہ بھی ان کےقریب چلا آیا۔
    بیگ کھلا اور ڈاکٹر اپنےفرض میں ڈوبتا چلا گیا۔وہ خاموشی سےڈاکٹر ہاشمی کی کوششوں کا جائزہ لیتا رہا۔کتنی ہی دیر گذر گئی اور تب ڈاکٹر ہاشمی ایک طویل سانس لےکر بستر کی پٹی سےاٹھ کھڑےہوئی۔
    ”انکل!“ وہ مضطربانہ انداز میں اتنا ہی کہہ سکا۔
    ”الحمدللہ ۔خطرہ ٹل چکا ہی۔ “ وہ آگےبڑھ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔”خان۔ کچن سےدودھ لے آؤ۔“انہوں نےکہا اور خان کمرےسےنکل گیا۔”ہاں۔اب کہو۔ یہ سب کیا چکر ہی؟“ ڈاکٹر ہاشمی کےہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
    ”چکر۔۔۔؟“ وہ جھینپ گیا۔”چکر تو کوئی نہیں ہےانکل! میں پکچر دیکھ کر لوٹا تو یہ باہر گیٹ کےپاس کھڑی نظر آئی۔ میں کار سےنکل کر اس کےقریب پہنچامگرکچھ پوچھنےاور بتانےکی نوبت ہی نہ آئی اور یہ بےہوش ہوگئی۔ میں اسےاٹھا کر اندر لے آیا اور آپ کو فون کردیا۔ بس ‘یہ ہےساری بات۔“
    ”ہوں ۔ڈاکٹر ہاشمی کےہونٹ شرارت سےپھڑکی۔” بیٹے۔ لڑکی تھی ناں۔ اگر صنف کرخت ہوتی تو۔۔۔“
    ” آپ مجھےاچھی طرح جانتےہیں انکل۔“وہ مسکرا کر بولا اور ڈاکٹر ہاشمی ہنس دیی۔
    ”میں تو مذاق کررہا تھا۔ ہاں۔۔۔بیگم صاحبہ زمینوں سےنہیں لوٹیں ابھی؟“
    ”جی نہیں ۔ابھی کافی دن رکیں گی وہاں۔“
    اسی وقت خان دودھ کا بھر ا جگ اور گلاس لئےاندر داخل ہوا۔”صاب۔ دودھ بہوت تا۔ہم گرم کر لائی۔ “وہ جگ میز پر رکھتےہوئےبولا۔
    ”یہ تو بہت اچھا کیاخان۔ “وہ دودھ گلاس میں انڈیلتا ہوا بولا۔
    دودھ پی کر فارغ ہوگئےتو ڈاکٹر ہاشمی اٹھ کھڑےہوئی۔”اچھا بیٹی۔ میں چلتا ہوں۔بارش کا زور کم ہو رہا ہے۔کہیں پھر زور نہ پکڑلی۔“
    ”بہتر انکل۔ “وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔خان نےڈاکٹر کا بیگ تھام لیا۔
    ”صبح دس بجےسےپہلےہوش نہیں آئےگا۔ پریشان نہ ہونا۔ “وہ پھر مسکرا دیےاور وہ جھینپ کران کی ہدایات کو ذہن نشین کرنےلگا۔” نیند کےانجکشن کا اثر کم از کم نو گھنٹےرہےگا۔ کیپسول تپائی پر پڑےہیں۔ ہوش آنےپر ہر چار گھنٹےبعد گرم دودھ سےدو کیپسول دیتےرہنا۔“ ڈاکٹر ہاشمی رخصت ہوگئی۔
    کمرہ خاصا گرم ہوچکا تھا۔نیلےہونٹ اب کچھ کچھ گلابی نظر آرہےتھی۔اس نےمطمئن انداز میں سر ہلایااور بستر کےقریب چلا آیا۔ سانس اب مناسب رفتار سےچل رہا تھا۔چہرہ پُرسکون تھا۔کتنی ہی دیر تک وہ اس محو استراحت حسنِ بےپرواہ کو تکتا رہا۔
    ”صاب۔“ خان کی آواز اسےبچھو کےڈنک ہی کی طرح لگی۔
    وہ تیزی سےپلٹا۔ ”تم ابھی تک یہیں ہو۔“اس کےلہجےمیں کچھ اکتاہٹ تھی مگر خان بھی مجبور تھا۔ اسےنیند نےتنگ کررکھا تھا۔ وہ بلاوجہ اس کی محویت کو ختم کرنےکا قصور وار نہ ہوا تھا۔
    ”کوئی حکم صاب؟“ وہ ڈر سا گیا۔
    ”کچھ نہیں۔بس جاؤ۔اور دیکھو۔ اس کمرےمیں کوئی مت آئی۔ میںساتھ والےکمرےمیں آرام کروں گا۔ “
    ”جی صاب۔“وہ سلام کرکےدروازےکی طرف بڑھ گیا۔
    چند لمحےوہ بستر پر پڑےمصور کےاس حسین خیال کوگل پاش نظروں سےدیکھتا رہا۔ پھر پلٹ کر دھیرےدھیرےچلتا ہوا کمرےسےباہر نکل گیا۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  2. #21
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    رات کا کھانا عشاءکےفوراً بعد کھا لیا گیا۔ پھر دوبارہ سےصفیہ کو تو عورتوں نےگھیر لیا اور طاہر‘ ملک کےساتھ چوپال میں چلا گیا۔
    چوپال گائوں کےمغربی کنارےپر قبرستان کےساتھ ایک ایسی بےدرو دیوار کی چھت کےنیچےنشست کی جگہ تھی‘ جو آٹھ مدور ستونوں پر قائم تھی اور اس کےنیچےتقریباً پانچ سو آدمیوں کےبیٹھنےکی گنجائش تھی۔ اس کےمشرقی گوشےمیں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کےباہر چولہا بنا ہوا تھا۔ اس پر وہاں خدمت گار بابا شمسو روزانہ شام ہوتےہی چائےکا بڑا سا پتیلا چڑھا دیتا جو گائوں والوں اور اجنبی مہمانوں کی سیوا کےلئےلذت ِکام و دہن کا سبب بنتا۔بید کےموڑھےاور بڑی بڑی چارپائیاں چوپال میں پڑی رہتیں‘ جن پر رات کو گائوں والوں کی بلاناغہ محفل جمتی۔
    سفید شلوار قمیض اور سیاہ گرم واسکٹ میں ملبوس ‘ پائوں میں زرتار کھسہ پہنےطاہر‘ بلال ملک کی معیت میں وہاں پہنچا تو گائوں کےپچیس تیس بڑےبوڑھےاور جوان آدمی بیٹھےحقےگڑگڑا تےہوئےباتیں کر رہےتھے۔
    طاہر کی آمد پر سب لوگ ایک بار کھڑےہوئی‘ پھر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئی۔ وہ ان کےنیم دائرےمیں ایک موڑھےپربیٹھ گیا اور فرداً فرداً سب کا حال چال پوچھنےلگا۔ ہوتےہوتےباتوں کا موضوع گائوں کےسکول ماسٹر شیخ محسن کی بیٹی پر آ کر رک ساگیا۔
    ”ماسٹر کی بیٹی زبیدہ نےاپنےلئے آیا ہوا اپنی برادری کےایک چالیس سالہ شخص نثار شیخ کا رشتہ صاف ٹھکرا دیا جی۔“ ملک کہہ رہا تھا۔
    ”زبیدہ کی اپنی عمر کتنی ہی؟“ طاہر نےدلچسپی سےپوچھا۔
    ”بیس اکیس سال ہو گی جی۔“
    ”پھر تو اس نےٹھیک کیا۔“ طاہر نےتائید کی۔” دگنی عمر کےبندےسےوہ کیوں شادی کری؟“
    ”وہ تو ٹھیک ہےجی مگر۔۔۔“ ملک نےدوسرےلوگوں کی طرف دیکھا۔ کسی نےبھی اس کی نظر کا ساتھ نہ دیا اور یوں ظاہر کیا جیسےوہ سب اس بات سےناواقف ہوں۔
    ”مگر کیا ملک۔ بات پوری کیا کرو ۔ ادھار کی رقم کی آدھی واپسی کی طرح درمیان میں وقفہ نہ ڈالا کرو۔“
    ”ایسی بات نہیں ہےچھوٹےمالک۔“ ملک کھسیانا سا ہو گیا۔ ” میں یہ کہہ رہا تھا کہ بات اس آدمی کی زیادہ عمر ہی کی نہیں تھی۔ بات کچھ اور بھی تھی۔“
    ”وہ کیا؟“
    ”زبیدہ کسی اور کو پسند کرتی تھی جی۔“ ملک نےکہا اور اس کےسر سےجیسےبہت بڑا بوجھ اتر گیا۔
    ” تو۔۔۔۔؟“ طاہر نےاس کےچہرےپرجما دیں۔
    ”ماسٹر محسن نےاس بات کا علم ہونےپر زبیدہ کی وہ دھنائی کی کہ اللہ دےاور بندہ لی۔“
    ”کیا مطلب ؟“ طاہر بری طرح چونکا۔
    ”ظاہر ہےجی۔ جوان بیٹی جب منہ سےبر مانگ لےتو غیرت مند باپ تو اسےجان سےہی مار دےگا۔“ ملک نےگردن اکڑا کر کہا۔” وہ تو شکر ہےکہ زبیدہ کی ماں نےاسےبچا لیا ورنہ ماسٹر محسن تو شاید اس کی گردن اتار دیتا۔“
    ”اس کےبعد کیا ہوا؟“ طاہر نےاضطراب سےپوچھا۔
    ” ہونا کیا تھا چھوٹےمالک۔“ ملک بلال نےلاپروائی سےکہا۔ ” یہ پندرہ دن پہلےکی بات ہی۔ زبیدہ کا رشتہ ہونےسےپہلےہی ختم ہو گیا۔ ماسٹر نےاسےمار مار کر ادھ موا کر دیا۔اب وہ چارپائی پر پڑی ہی۔ “
    ”اور جس سےوہ خود شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔“
    ”وہ۔۔۔ وہ بےغیرت کا بچہ گھر میں منہ چھپائےبیٹھا ہے۔ “
    ”کون ہےوہ؟“ طاہر کا اضطراب اب بھی باقی تھا۔
    ”لالو تیلی کا بیٹا عادل۔“
    ”عادل۔“ طاہر پھر چونکا۔ ”وہی عادل‘ جس نےپچھلےسال وظیفےکےامتحان میں ٹاپ کیا تھا اور جو آج کل محکمہ زراعت میں نوکری کر رہا ہی۔“
    ”وہی جی ۔ وہی بےغیرت عادل۔“ ملک نےنفرت سےکہا۔
    ”اس نےاس معاملےمیں کچھ نہیں کیا؟“ طاہر نےسر جھکائی‘ پائوں سےزمین کریدتےاور غیر محسوس آواز میں حقےگڑگڑاتےان مٹی کےمادھوئوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جن کی غیرت اور بےغیرتی کا اپنا ہی معیار تھا۔
    ”کیا تھا جی۔ اس نےاپنےماں باپ کو ماسٹر کےہاں زبیدہ کےرشتےکےلئےبھیجا تھا۔ جواب میں ماسٹر نےانہیں بےعزت کر کےگھر سےنکال دیا اور ایک بار پھر بیٹی کی خوب دھلائی کی۔“
    ”لاحول ولا قوة۔“ بےاختیار طاہر کےلبوں سےنکلا۔ پھر اس نےبڑی کڑی نظروں سےملک کو دیکھا۔ ”میرا خیال تھا کہ تعلیم اور بدلتےماحول نےوجاہت آباد کےلوگوں کو فراخ دل اور وسیع النظر بنا دیا ہےمگر لگتا ہےاس کےلئےابھی وقت لگےگا۔“
    ”کیا مطلب چھوٹےمالک۔“ بلال ملک نےگھبرا کر اس کی جانب دیکھا۔ باقی سب لوگوں نےبھی چونک کر سر اٹھائےاور طاہر کی طرف متوجہ ہو گئی۔
    ”اس کا جواب میں تھوڑی دیر بعد دوں گا۔تم فوری طور پر ماسٹر محسن ‘ لالو اور عادل کو یہاں بلائو۔“
    ” آپ کیا کرنا چاہتےہیں چھوٹےمالک؟“ ملک باقاعدہ گھبرا گیا۔
    ”جو کروں گا تم سب دیکھ ہی لو گی۔ فی الحال جو کہا ہےاس پر عمل کرو۔ ان تینوں کو بلائو یہاں۔ ابھی۔“ طاہر کا لہجہ سخت ہو گیا۔
    ”جی چھوٹےمالک۔“ ملک نےبیچارگی سےیوں کہا جیسےخود کو ماں بہن کی گالی دےرہا ہو کہ اس نےطاہر کےسامنےیہ بات کی ہی کیوں؟ پھر اس نےبائیں ہاتھ چارپائی پر بیٹھےایک ادھیڑ عمر آدمی کو ہاتھ کےاشارےسےاٹھ جانےکو کہا۔
    ”اوئےشکوری۔ جا۔ لالو‘ ماسٹر محسن اور عادل کو بلا کر لا۔ کہنا چھوٹےمالک نےبلایا ہی۔“
    ”جی ملک صاحب۔“ شکورا اٹھا اور چل پڑا۔
    ”اور سن۔ “ ملک نےاسےروکا۔ ” تینوں کو اکٹھا نہ کر لینا ۔ کہیں یہاں پہنچنےسےپہلےخون خرابہ کر بیٹھیں۔ لالو کا گھر پہلےہی۔ اسےجاتےہوئےپیغام دےجا۔ پھر ماسٹر کےگھر جانا۔ اور دونوں میں سےکسی کو نہ بتانا کہ دونوں کو یہاں اکٹھےبلایا گیا ہی۔“
    ”جی ملک صاحب۔“ شکورا سر ہلا کر چل دیا۔
    ”تم اچھےبھلےعقلمند آدمی ہو ملک۔“ طاہر نےاس کی بات سےمتاثر ہو کر کہا۔ ”مگر میری سمجھ میں یہ نہیں آتاکہ روایتی معاملوں میں تمہاری عقل کس جنگل میں گھاس چرنےچلی جاتی ہی۔“
    ”یہ غیرت کےمعاملےمیںکسی کےقابو نہیں آتےچھوٹےمالک۔“ ملک خجل ہو گیا۔”میں نےان دونوں خاندانوں کو بہت سمجھایا مگر سب بےسود۔“
    ”‘ آئندہ یاد رکھنا۔ایسا کوئی بھی معاملہ ہو‘ اگر تمہارےقابو میں نہ آئےتو مجھےفوراً خبر کرنا۔ میں گائوں میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتا۔“
    ”جی چھوٹے مالک۔“ ملک نےسر جھکا لیا۔
    اسی وقت موبائل گنگنا اٹھا۔طاہر نےسائڈ کی جیب سےسیٹ نکالا ۔ سکرین پر صفیہ کا نام دیکھ کراس نےیس کا بٹن دبادیا۔
    ”ہیلو۔“ اس نےموبائل کان سےلگا لیا۔ ”کیا بات ہی؟“
    ” آپ کب تک لوٹیں گی؟“ صفیہ نےپوچھا۔
    ”خیریت؟“
    ”جی ہاں۔ بالکل خیریت ہی۔ ایک ضروری معاملہ آپ کےگوش گزار کرنا تھا۔“
    ”کوئی ایمر جنسی ہےکیا؟“ طاہر نےچونک کر پوچھا۔
    ”ایسی ایمر جنسی بھی نہیں مگر میں چاہتی تھی کہ یہ بات آپ کےعلم میں جتنی جلدی آ جائی‘ اس کا کوئی حل نکل آئےگا۔“
    ”میں بھی یہاں ایک خاص معاملےمیں الجھا ہوا ہوں ۔ اس وقت آٹھ بجےہیں۔ نو بجےتک لوٹوں گا۔ کیا اتنی دیر۔۔۔“
    ”یہ کوئی دیر نہیں۔ “ صفیہ نےجلدی سےکہا۔” میں نےبتایا ناں کہ بہت زیادہ ایمرجنسی کی بات نہیں ہی۔ آپ نو بجےتک آ جائیےگا۔ پھر بات کریں گی۔“
    ”اگر معاملہ زیادہ سیریس ہےتو ۔۔۔“
    ”جی نہیں۔ موبائل پر کرنےکی بات نہیں ہی۔ آپ گھر آ جائیی۔ تسلی سےبات کریں گی۔“
    ”اوکی۔ میں جلدی آنےکی کوشش کروں گا۔ اللہ حافظ۔“
    ”اللہ حافظ۔“ صفیہ نےرابطہ کاٹ دیا۔
    ”خیریت ہےچھوٹےمالک۔“ ملک ‘ہونےوالی گفتگو سےکچھ اندازہ نہ لگا پایا تو پوچھا۔
    ”ہاں۔ حویلی جائوں گا تو پتہ چلےگا۔ ویسےخیریت ہی ہو گی۔ ورنہ تمہاری مالکن مجھےفوراً آنےکو کہتی۔“
    ملک جواب میں محض سر ہلا کر رہ گیا۔ چوپال میں خاموشی چھا گئی۔ کبھی کبھی حقےکی گُڑ گُڑ اس میں ارتعاش پیدا کر دیتی اور بس۔

    نماز سےفارغ ہو کر حافظ عبداللہ کچھ دیر چٹائی پر سر جھکائےبیٹھا رہا۔ وہ اب تک کی صورتحال پرغور کر رہا تھا۔ درویش کی باتیں اس کےدل و دماغ میں بھونچال سا پیدا کر رہی تھیں۔ اس کی کئی باتوں کا مفہوم اسےاب سمجھ آ رہا تھا۔
    کتنی ہی دیر گزر گئی۔ پھر وہ اس وقت چونکا جب لڑکی کےادھ کھلےہونٹوں سےایک ہلکی سی کراہ خارج ہوئی۔ وہ آہستہ سےاٹھا اور چارپائی کےپاس چلا آیا۔ لڑکی غنودگی ہی کےعالم میں کراہی تھی۔ ابھی تک اس کےہوش میں آنےکے آثار واضح نہیں تھی۔ اس نےتو اب تک کروٹ بھی نہ لی تھی۔ چت پڑی تھی۔
    حافظ عبداللہ نےاس کےچہرےپر نظریں گاڑ دیں۔ وہ اچھی خاصی قبول صورت تھی۔ عمر بیس بائیس سےزیادہ نہ ہو گی۔ شادی شدہ بھی نہ لگتی تھی۔کانوں میں سونےکی بالیاں تھیں۔ ناک میں لونگ نےاس کی کشش کو بڑھا دیا تھا۔ اس کےہونٹوں کی نیلاہٹ اب تقریباً ختم ہو چکی تھی۔کمبل میں مستور اس کےبدن کا گداز حافظ عبداللہ کو یاد آیا تو وہ تھرا کر رہ گیا۔ ”استغفر اللہ“ کہہ کر اس نےلڑکی کی چہرےسےنظریں ہٹانا چاہیں ‘ مگر چونک کر رک گیا۔ نجانےکیوں اسےلگا کہ لڑکی بڑا کھینچ کر سانس لےرہی ہےاور اس کےچہرےپر نمایاں ہوتی ہوئی تمتماہٹ کمرےکےماحول یا کمبل کی گرمی کی وجہ سےنہیں ہی۔ اپنا شک دورکرنےکےلئےاس نےاپنا ہاتھ لڑکی کےصبیح ماتھےپر رکھا اور گھبرا کر واپس کھینچ لیا۔ ماتھا تو آگ کی طرح تپ رہا تھا۔اپنےاندیشےکی تصدیق کیلئےاس نےذرا سا کمبل سرکایا اور لڑکی کا پہلو میں پڑا ہاتھ چھو کر دیکھا۔ ہاتھ بھی انگارہ بنا ہوا تھا۔
    ”کہیں اس پر نمونیہ کا حملہ تو نہیں ہو گیا؟“ اس کےذہن میں ایک خیال سرسرایا۔
    یہ ناممکن بھی نہیں تھا۔ وہ نجانےکب سےسیلاب کےیخ پانی میں بہ رہی تھی۔ پانی سرد ‘ اوپر سےسردی کا موسم۔ اس کا اکڑا ہوا بدن تو اب نرمی پکڑ رہا تھا مگر سردی یقیناً اس پر اپنا اثر دکھا چکی تھی۔
    لڑکی کا ہاتھ کمبل کےاندر کر کےوہ سیدھا ہو گیا۔ اس وقت‘ اس جگہ وہ اس کی کوئی بھی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ دوا کےنام پر وہاں پھانکنےکو دھول تک نہ تھی۔ اور اس صورتحال میں وہ اس کےلئےکیا احتیاطی اور طبی تدبیر کرتا ‘ اس سےوہ نابلد تھا۔
    کچھ سوچ کر وہ باہر نکلا ‘ دروازہ بھیڑ دیا اور ساتھ والےکمرےمیںچلا آیا۔ یہ وہ کمرہ تھا جس کےاندر سےاسےدرویش کےنماز میں قرات کرنےکی آواز سنائی دی تھی۔ کمرےکےقبلہ رخ طاق میں چراغ جل رہا تھا۔مغربی دیوار کےپاس آگےپیچھےدو چٹائیاں بچھی تھیں۔ آگےوالی چٹائی پر عین درمیان میں رحل پر سبز جزدان میں ملفوف قر آن ِحکیم دھرا تھا۔اس کےعلاوہ کمرےمیں اور کوئی سامان نہ تھا۔
    وہ چاروں طرف نظر دوڑا کر باہر نکل آیا۔ اب اس کا رخ مزار کی جانب تھا۔ مزار کےباہر چپل اتار کر اس نےسبز دروازہ وا کیا اور اندر داخل ہو گیا۔ صحن کےپار سامنےسبزمنقش چادروں اور پھولوں سےڈھکی بابا شاہ مقیم کی قبر پر چند اگربتیاں سلگ رہی تھیں‘ جن کی بھینی بھینی خوشبو سےوہاں کا ماحول اس اکیلی رات میں عجیب پُراسرار سا ہو گیا تھا۔صحن کےبائیں ہاتھ بنےکمرےکو دیکھتا ہوا وہ بابا شاہ مقیم کےگنبد میں داخل ہو گیا۔
    گنبد کےاندر شمالی جانب ایک لکڑی کی الماری میں اَن گنت قر آن پاک کےنسخی‘ سیپارےاور دوسری وظائف کی کتب پڑی تھیں۔چھت کےدرمیان کسی چاہنےوالےنےقندیل لٹکا دی تھی۔ دیواروں پر پھولدار ٹائلیں جڑی تھیں۔ قبر کےارد گرد دیواروں تک کی تقریباً چار چار فٹ کی جگہ پر کھجور کی صفیں ترتیب سےبچھی تھیں۔مشرقی سمت میں ایک بڑی کھڑکی تھی جو اس وقت بند تھی۔قبلہ رخ محراب بنی تھی تاکہ اگر کوئی وہاں نوافل وغیرہ پڑھنا چاہتا تو اسےدقت نہ ہوتی۔
    حافظ عبداللہ آہستہ قدموں سےچلتا ہوا بابا شاہ مقیم کےچہرےکی جانب آیا اور دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ بےاختیار اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ سر جھک گیا اور ہاتھ گود میں آ پڑی۔ کچھ دیر اسی عالم میں گزری تو غیرمحسوس انداز میں اس کےدل کی دھڑکن مدھم سی ہو گئی اور وہ ارد گرد سےبےخبر ہو گیا۔
    بڑی آہستگی سےایک انجانی سی مہک کا ایک جھونکا جاگا اور حافظ عبداللہ کےگرد ہالہ سا تن گیا۔ مہک نےاسےاپنےحصار میں لےلیا۔ اسےلگا ‘ اس کےبالوں میں بڑی نرمی سےکوئی اپنی انگلیاں پھیر رہا ہی۔ اسےدلاسہ دےرہا ہی۔ تشفی دےرہا ہی۔پیار کر رہا ہی۔ ہمت بندھا رہا ہےاس کی۔ حوصلہ دےرہا ہےاسی۔
    کتنی دیر گزری‘ اسےپتہ نہ چلا۔ جب یہ احساس مدھم پڑا تو دھیرےسےاس نےسر اٹھایا‘ تب اسےعلم ہوا کہ اس کی داڑھی آنسووں سےتر تھی۔ شبنم ‘ اس کےگود میں دھرےہاتھوں پر قطرہ قطرہ گر رہی تھی۔ گریبان بھیگا ہوا تھا اور اندر جیسےدُھل سا گیا تھا۔
    آہستہ سےاس نےہاتھ چہرےپر پھیری۔ اشک سارےچہرےپر ملتےہوئےلگا جیسےاس نےوضو کر لیا ہو۔
    ”بابا۔ “ اس کےنہاں خانہ دل سےبےاختیار ایک سرگوشی ایک بار پھر آنسوئوں کی برسات لئےنکلی اور ماحول میں رچی مہک کےساتھ ہو لی۔ ہچکیاں لیتےہوئےاس نےقبر کےتعویذ پر سر ٹیک دیا۔
    وہ کیوں رو رہا تھا؟ اسےخود معلوم نہ تھا لیکن اسےتو سب معلوم تھا جو اسےرُلا رہا تھا۔ نہیں۔رُلا نہیں رہا تھا‘ اسےپاکیزگی کا غسل دےرہا تھا۔اس پانی سےوضو کرا رہا تھا جو ہر ایک کےاندر تو ہوتا ہی‘ باہر نصیب والوں ہی کے آتا ہی۔
    ٭
    ماسٹر محسن‘ لالو تیلی اور اس کا بیٹا عادل ‘ تینوں آ چکےتھی۔
    ماسٹر محسن ان دونوں کو بار بار بڑی کینہ توز نظروں سےدیکھ رہا تھا جبکہ وہ باپ بیٹا سر جھکائےبیٹھےتھی۔
    ماحول پر ایک تنائو سا طاری تھا۔طاہر نےملک کی جانب دیکھا۔ اس نےاس کا عندیہ جان کر چاچا شمسو کو ہاتھ اٹھا کر دور ہی سےاشارہ کیا ۔ اسی وقت دو تین آدمی اپنی جگہوں سےاٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ آدمی چاچا شمسو کےساتھ سب لوگوں کو چائےکےپیالےتھما رہےتھی۔
    ملک نےطاہر کےبائیں ہاتھ موڑھےپر بیٹھےلالو اور عادل اور دائیں ہاتھ بیٹھےماسٹر محسن کو خود چائےکےپیالےپیش کئی‘ جو خاموشی سےلےلئےگئی۔ طاہر اور ملک نےسب سے آخر میں چائےلی اور ہولےہولےچسکیاں لینےلگی۔
    پھر جب لالو اور ماسٹر محسن نےخالی پیالےزمین پر رکھےتو طاہر نےبھی اپنا پیالہ ملک کےحوالےکر دیا۔ پہلو بدلا۔ سنبھل کر بیٹھا اور ماسٹر محسن کی طرف متوجہ ہوا۔
    ”ماسٹر صاحب۔ میں نے آپ کو جس مقصد سےیہاں بلایا ہی‘ وہ تو آپ سمجھ گئےہوں گی۔“ اس نےبڑےناپ تول کر الفاظ زبان سےنکالی۔
    ”جی۔“ ماسٹر محسن نےاس کی جانب نظریں اٹھائیں۔ ” پھر بھی میں آپ کی زبان سےسننا چاہوں گا ۔“ اس کی آواز بالکل سپاٹ تھی۔
    ”میں آپ سےعمر میں بھی چھوٹا ہوں اور منصب میں بھی ماسٹرصاحب۔ آپ خیر بانٹتےہیں۔ علم کی آبیاری کرتےہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ میری کسی بات سے آپ کی دل آزاری نہ ہو اور اگر ایسا ہو جائےتو وہ سہواً ہو گا۔ پھر بھی اس کےلئےمیں پیشگی آپ سےمعذرت چاہتا ہوں۔“ طاہر کےلہجےمیں جو ادب تھا اس نےماسٹر محسن کی پیشانی پر ٹوٹی ٹھیکریوں میں نمایاں کمی کر دی۔کچھ دیر رک کر اس نےپھر زبان کھولی۔
    ”میں اس جھگڑےکی تفصیل میں نہیں جائوں گا جو ہو چکا ہی۔ صرف یہ چاہوں گا کہ اس جھگڑےکےاثرات مٹ جائیں۔“
    ”کیسی؟“ ماسٹر محسن کا لہجہ بڑا تلخ تھا۔
    ”اس کا حل تو موجود ہےماسٹر صاحب مگر اس کےلئے آپ کی رضامندی بنیادی شرط ہی۔“ طاہر نےاس کڑواہٹ کو نظر انداز کر دیا۔
    ”اور اگر میں اس پر راضی نہ ہوں تو؟“ ماسٹر نےبڑےضبط سےکہا۔
    ”میں پھر بھی کوشش ضرور کروں گا ماسٹر صاحب۔ یہ میرا حق ہےاور مجھ پر فرض بھی۔ اپنےوالد کےبعد گائوں کےدُکھ سُکھ کی ذمہ داری مجھ پر سب سےپہلےاور سب سےزیادہ عائد ہوتی ہی۔“
    ”کیا مجھےکھل کر کچھ کہنےکی اجازت ہےچھوٹےمالک؟“ اچانک ماسٹر محسن کا پیمانہ صبر جیسےلبریز ہو گیا۔ اس کےلہجےمیں ٹیس سی محسوس کر کےطاہر کےچہرےپر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔
    ” آپ جو کہناچاہیں‘ جیسےکہنا چاہیں‘ آپ کو اس کےلئےاجازت لینےکی ضرورت نہیں ہےماسٹر صاحب۔ یہاں آپ کی کسی بات کا برا منانےوالا میرےسمیت کوئی ایک فرد بھی موجود نہیں ہی۔“
    ”تو مجھےصرف یہ بتائیےکہ اگر میری جگہ ۔۔۔“ ماسٹر محسن ایک ثانئےکو رکا‘ طاہر کی جانب دیکھا اور انگلی اس کی طرف اٹھا دی۔” آپ ہوتےتو۔۔۔“
    ”ماسٹر۔۔۔“ بلال ملک نےتیزی سےکہنا چاہا۔ باقی کےسب لوگ بھی ہکا بکا رہ گئی۔ ماسٹر سےاتنی بڑی بات کی توقع کسی کو بھی نہ تھی۔ لالو اور عادل بھی پہلو بدل کر رہ گئی۔
    ”ملک۔“ طاہر نےہاتھ اٹھا کر اس کی بات کاٹ دی اور مزید کچھ کہنےسےتحکمانہ اشارےسےروک بھی دیا۔ ملک بادل ِ نخواستہ واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ تاہم اس کےانداز سےناراضگی واضح تھی۔
    ” آپ گھبرائیےنہیں ماسٹر صاحب۔“ طاہر کا لہجہ پھر نرم ہو گیا۔ ” میں نےکہا ناں‘ آپ کو جو کہنا ہےاور جس طرح کہنا ہی‘ کہئی۔ میں نے آپ کا دُکھ سننےہی کےلئے آپ کو یہاں بلایا ہی۔“
    ”مجھےزیادہ نہیں کہنا۔“ ماسٹر محسن کا لہجہ شکستگی سےکٹ گیا۔ ہاتھ نیچےہو گیا۔ ”صرف یہ پوچھنا ہےکہ اگر میری جگہ آپ ہوتےتو کیا کرتی؟“ اس کا سر جھک گیا۔
    ”ماسٹر صاحب۔“ طاہر نےاس کےچہرےپر نگاہیں جمادیں۔ ” آپ کےسوال کا جواب میرےان چند چھوٹےچھوٹےسوالوں میں پوشیدہ ہےجو میں آپ سےپوچھنا چاہتا ہوں‘ اگر آپ کو برا نہ لگےتو۔۔۔“
    ”جی ۔ پوچھئی۔“ ماسٹر محسن نےدونوں بازو سینےپر باندھ لئےاورخاک آلود اینٹوں کےفرش کو گھورنےلگا۔
    ”اتنا تو آپ بھی جانتےہیں ماسٹر صاحب کہ ہمارےمذہب نےشادی میں پسند اور ناپسند کےجو حقوق مرد کو دیےہیں وہی عورت کو بھی حاصل ہیں۔“
    ”جی۔“ ماسٹر نےمختصر سا جواب دیا۔
    ”زبیدہ نےنثار کےرشتہ سےکیوں انکار کیا؟“ طاہر نےہولےسےپوچھا۔
    ”وہ ۔۔۔ وہ۔۔۔“ ماسٹر محسن مضطرب سا ہوا۔
    ”مجھےمعلوم ہےکہ اس نےانکار کیوں کیا ماسٹر صاحب اور یہی بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم بیٹےکو اس کی پسند کےبارےمیں پوچھ کر‘ کبھی کبھار اسےلڑکی دکھا کر بھی شادی کےبارےمیں اس کی رائےکو ترجیح دیتےہیں تو زندگی کےاس سب سےبڑےفیصلےکےبارےمیں بیٹی کو زبان کھولنےکی اجازت کیوں نہیں دیتی‘ جبکہ ہمارا دین اس کےلئےبیٹی کو بھی یہ حق دیتا ہےکہ وہ اپنی پسند سے آگاہ کر سکتی ہی۔ جس سےاس کا نکاح کیا جا رہا ہی‘ اسےنکاح سےپہلےدیکھ سکتی ہےاور ہاں یا نہ کا حق محفوظ رکھتی ہی۔ جب زبیدہ نے آپ کےمجوزہ رشتےسےانکار کرتےہوئے آپ کو اپنی پسند سے آگاہ کیا تو آپ نےاس پر سنجیدگی سےغور کرنےکےبجائےاس کےساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا۔ اسےمارا پیٹا۔ کیوں؟“ طاہر کی آواز بلند ہو گئی۔ ” آپ کو یہ حق تو ہےکہ اگر اس کےلئےعادل کا رشتہ موزوں نہ تھا تو اس کی اونچ نیچ سےزبیدہ کو آگاہ کرتی۔ اسےسمجھاتی۔ مگر اس پر ہاتھ اٹھانا کیا مناسب تھا؟دوسرےجب عادل کےگھر والےاس کا رشتہ لےکر آپ کےدروازےپر پہنچےتو آپ کو پورا حق تھا کہ آپ اس رشتےسےانکار کر دیتی‘ جیسا کہ آپ نےکیابھی لیکن اس کےبعد آپ نےایک بار پھر زبیدہ ہی کو کیوں پیٹا؟“
    ” باتیں کرنا بہت آسان ہیں چھوٹےمالک۔“ ایک دم ماسٹر محسن کی زبان کا تالا کھلا۔ ”سمجھانےکےنام پر نصیحتیں کرنا بھی کوئی مشکل کا م نہیں۔ مجھےعلم کی روشنی تقسیم کرنےوالا خیال کر کےمیری اس جاہلانہ حرکت پر مجھ سےجواب طلبی بھی کی جا سکتی ہےلیکن خاندان اور گائوں والوں کی باتوں کےزہریلےنشتر‘ ان کےطعنوں کا پگھلا ہوا سیسہ قطرہ قطرہ کانوں میں اتارناکتنا مشکل ہی‘ اس کا آپ کو علم نہیں ہی۔ اس کیفیت سےگزر کر دیکھئےچھوٹےمالک‘جس سےقسمت نےمجھےدوچار کر دیا ہی۔ پھر آپ کو احساس ہو گا کہ جس پھول سی بیٹی کو میں نےکبھی جھڑکی نہیں دی‘ اس پر ہاتھ اٹھاتےہوئےمیرےدل کےکتنےٹکڑےہوئےہوں گی۔ “ ماسٹر محسن کی آواز بھرا گئی۔ ” میں ایک عام سا‘ کمزور آدمی ہوں چھوٹےمالک‘ جس کےسر پر استاد ہونےکا تاج ہےتو دامن میں صرف عزت کےچند ٹکڑی‘ جن کےچھن جانےکےاحساس نےمجھےاپنی بیٹی کےساتھ قصائیوں کا سا سلوک کرنےپر مجبور کر دیا۔میں دین کےبارےمیں وہ بھی جانتا ہوں جو اس چوپال میں بیٹھےسب لوگوں کےلئےشجر ِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہےمگر مجھےانہی کےدرمیان رہنا ہی۔ انہی کےساتھ رشتےاور تعلقات نبھانےہیں۔ نثار کا رشتہ میں نےکیوں قبول کیا‘ اس کےپیچھےمیری صرف ایک مجبوری تھی۔ میرےپورےخاندان میں زبیدہ کےلئےایسا کوئی لڑکا موجود نہیں ہےجس کےساتھ میں اس کی شادی کر سکوں۔ لڑکےاَن پڑھ ہیں یازبیدہ سےعمر میں چھوٹےہیں ۔ میری بیٹی ایف اےپاس ہی۔ میں دل کا مریض ہوں چھوٹےمالک۔ کب زندگی کی شام ہو جائے‘ نہیں جانتا۔مجھےدور دور تک اس کےلئےجب مناسب رشتہ نظر نہ آیا تو دل پر جبر کر کےمیں نےنثار کےرشتےکےلئےہاں کہہ دی۔“
    ”ایک منٹ ماسٹر صاحب۔“ طاہر نےاس کی بات روک دی۔” یہاں تک میں آپ کی ہر بات سےپوری طرح متفق ہوں۔ آپ نےجو کیا‘ درست کیا لیکن جب زبیدہ نےانکار کیا اور اس کےبعد عادل کا رشتہ بھی اس کےلئے آیا تب آپ نےخدا کا شکر ادا کرنےکےبجائےانکار اور مار پیٹ کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ میرا خیال ہےعادل ‘ ہر طرح سےزبیدہ کےلئےموزوں ہی۔“
    ”مگر وہ ہماری برادری سےنہیں ہےچھوٹےمالک۔“
    ”لاحول ولا قوة۔“ بےاختیار طاہر کی زبان سےنکلا۔” ماسٹر صاحب۔ اب آپ کی سوچ پر مجھےافسوس نہ ہو تو یہ میری اپنےساتھ زیادتی ہو گی۔ آپ پڑھےلکھےہو کر بھی ذات برادری کےچکر میں غوطےکھا رہےہیں؟ “
    ”یہ معمولی بات نہیں ہےچھوٹےمالک۔“ ماسٹر محسن نےسر اٹھایا۔ ” میں نےشروع میں پوچھا تھا کہ اگر آپ میری جگہ ہوتےتو کیا کرتی؟ اس سوال کا جواب دینےکا یہ بہت اچھا موقع ہی۔ آپ نےبھی تو ابھی ابھی شادی کی ہی۔ آپ نےخاندان‘ ذات برادری دیکھ کر ہی تو نکاح کیا ہو گا؟“
    طاہر کےہونٹوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ نےہلکورا لیا۔
    ”ماسٹر صاحب۔ اگرمیرےجواب نےذات برادری کی نفی کر دی تو؟“ اس نےماسٹر محسن کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔
    ”تو میں وعدہ کرتا ہوں چھوٹےمالک کہ مجھے آپ کا ۔۔۔“ ماسٹر صاحب نےپورےعزم سےکہا۔” ہر فیصلہ منظورہو گا۔“
    ”سوچنےکی مہلت نہیں دوں گا میں آپ کو۔“ طاہر نےدو ٹوک لہجےمیں کہا۔
    ”میں ایک سیکنڈ کا وقت نہیں مانگوں گا ۔“ وہ بھی آخری دائو کھیلنےکےسےانداز میں بولی۔
    ”تو سنئےماسٹر صاحب۔ میری بیوی اور آپ کی چھوٹی مالکن نہ تو میرےخاندان سےہی‘ نہ میری ذات برادری سےاور نہ ہی کسی کروڑ پتی گھرانےسے۔ وہ متوسط طبقےسےتعلق رکھنےوالی ایک یتیم لڑکی ہےجس کی شرافت اور خوب سیرتی نےمجھےاسیر کر لیا اور اس اسیری کی بھی وضاحت کر دوں۔ میں نےاسےشادی سےپہلےدیکھا تک نہ تھا۔ آپ کی بڑی مالکن نےاسےپسند کیا اور ہم دونوں کو نکاح کےبندھن میں باندھ دیا۔ اب کہئےکیا کہتےہیں آپ؟“
    ماسٹر محسن منہ کھولےطاہر کو دیکھےجا رہا تھا۔ وہاں موجود گائوں والوں کو بھی اس حقیقت کا شاید آج ہی علم ہوا تھا‘اس لئےوہ بھی حیران حیران سےتھی۔
    ”میں آپ کی حیرت ختم ہونےکا منتظر ہوں ماسٹر صاحب۔“ کتنی ہی دیر بعد طاہر نےماسٹر محسن کو مخاطب کیا تو وہ دھیرےسےچونکی۔
    ”جی ۔۔۔ “ ماسٹر صاحب نےپلکیں جھپکیں تو نمی رخساروں پر ڈھلک آئی۔” میں حیران کم اور شرمندہ زیادہ ہوں چھوٹےمالک۔“ انہوں نےچشمہ اتار کر آنکھیں پونچھتےہوئےکہا۔
    ” آپ کو شرمندہ کرنا میرا مقصد نہیں تھا ماسٹر صاحب۔“ طاہر نےان کےکندھےپر ہاتھ رکھ کر ہلکےسےدبایا۔”میں تو اس مسئلےکا حل چاہتا ہوں جس نے آپ جیسےذی علم انسان کو کانٹوں کےبستر پر لا پھینکا۔“
    ”اب کوئی چبھن نہیں چھوٹےمالک۔“ ماسٹر محسن نےچشمہ دوبارہ آنکھوں پر چڑھا لیا۔ ”میرا دل مطمئن ہی۔ آپ جو فیصلہ کریں گےمجھےمنظور ہی۔“
    ”نہیں ماسٹر صاحب۔ “ طاہر نےاس کےکندھےسےہاتھ اٹھا لیا۔ ”فیصلہ اب بھی آپ ہی کا ہی۔ میں تو صرف مشورہ دےسکتا ہوں ۔“
    ”میرےلئےوہ بھی حکم ہو گا چھوٹےمالک۔ آپ فرمائیی۔“ ماسٹر محسن کا لہجہ بیحد پُرسکون تھا۔
    ”عادل بہت اچھا لڑکا ہےماسٹر صاحب۔میں اس سےزیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔“ طاہر نے آہستہ سےکہا اور ہونٹ کاٹتےلالو کی جانب دیکھا جو کسی بھی لمحےرو دینےکو تھا۔ عادل سر جھکائےفرش کو گھور رہا تھا۔
    ” آپ تاریخ مقرر کر دیجئےچھوٹےمالک۔میری طرف سےکوئی دیر نہیں ہی۔“ ماسٹر محسن سب کچھ نبٹا دینےپر تلےبیٹھےتھی۔
    ”کیوں لالو چاچا؟“ طاہر نےاس کی جانب دیکھا اور ایک دم لالو کندھےپر پڑےرومال کےکونےمیں منہ چھپا کر بلک پڑا۔ اس کی ہچکی سی بندھ گئی۔ وہ بچوں کی طرح روئےجا رہا تھا۔
    ملک نےایک دم اٹھ کر اس کی طرف بڑھنا چاہامگر طاہر نےاسےروک دیااور ماسٹر محسن کی جانب دیکھا۔ ایک دم ماسٹر صاحب اٹھےاور دو قدم بڑھ کر لالو کےسامنےجا کھڑےہوئی۔
    ”لالو ۔ “ ان کےہونٹوں سےنکلااور لالو نےان کےدونوں ہاتھ تھام کر برستی آنکھوں سےلگا لئی۔ماسٹرصاحب نےچند لمحےانتظار کیا۔ پھر ہاتھ اس کی گرفت سےنکال کر اسےکندھوں سےپکڑ کر اٹھایا اور سینےسےلگا لیا۔
    کتنی ہی آنکھیں نم نظر آ رہی تھیں۔ ملک ہنسا تو اس کےہونٹوں کےگوشےلرز رہےتھی۔ رہا طاہر ۔۔۔ تو وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائےان دونوں کو ایسی فتح مندانہ مسکراہٹ کےساتھ دیکھ رہا تھا جس میں گائوں کا بڑا ہونےکا غرور چھلکا پڑ رہا تھا۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  3. #22
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    رات آدھی سےزیادہ جا چکی تھی۔
    حافظ عبداللہ چٹائی پر بیٹھا تھا۔ جو قر آن پاک رحل پر اس کےسامنےکھلا رکھا تھا ‘ یہ وہی تھا جو اسےدوسرےکمرےمیں ملا تھا۔ مزار سےنکل کر جب وہ لڑکی والےکمرےمیں آیا تو لڑکی ابھی تک بےسدھ تھی۔ تاہم مزار سےواپسی پر جب اس نےاس کےماتھےپر ہاتھ رکھ کر حرارت کی شدت جاننا چاہی تو حیرت انگیز طور پر اس میں نمایاں کمی آ چکی تھی۔ اس کا دل تشکر اور ممنونیت سےلبالب ہو گیا۔ یہ صاحب ِ مزار کی کرامت ہی تو تھی جو اللہ کےفضل سےظاہر ہوئی تھی۔
    اس نےلڑکی کو ہوش میں لانےکا خیال ترک کر دیا۔ ساتھ والےکمرےمیں گیا اور وہاں سےقر آن پاک اور رحل اٹھا لایا۔ کمرےکا دروازہ بھیڑ دیا ۔ کھیس کی بکل ماری۔ طاق میں رکھےچراغ کےقریب ‘چٹائی پر دوزانو بیٹھ کر قر آن پاک کو بوسہ دیا۔ کھولا اور منزل کرنےمیں لگ گیا۔
    کبھی کبھی وہ آہستہ سےگردن گھما کر لڑکی کا طائرانہ سا جائزہ لےلیتااور دوبارہ دہرائی میں محو ہو جاتا۔
    وقت گزرنےکا اسےاحساس تو ہو رہا تھا مگر کتنا گزر گیا‘ یہ اسےعلم نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد سےجلد صبح ہو جائےتاکہ وہ گائوں جا سکی۔ گائوں کا خیال آیا تو اس کا دھیان مسجد کی جانب چلا گیا۔ مغرب اور عشا ءکےوقت وہ وہاں موجود نہ تھا۔ نمازیوں کو بڑی دقت ہوئی ہو گی اور ساتھ ہی وہ فکرمند بھی ہوئےہوں گےکہ آج حافظ کہاں چلا گیا؟ کسی کو بھی پتہ نہ تھا کہ وہ عصر کےبعد روزانہ کہاں جاتا ہی؟ ورنہ اب تک اسےکوئی نہ کوئی تلاش کرتا یہاں تک آ ہی چکاہوتا۔
    قر آن پاک کےالفاظ زبان سےادا ہو رہےتھےاور دماغ ایسی ہی ادھر ادھر کی سوچوں میں بار بار الجھ رہا تھا۔ ایک آیت ختم کرتےہوئےاس نےلڑکی کا جائزہ لینےکےلئے آہستہ سےگردن گھمائی اور الفاظ لڑکھڑا گئی۔وہ اپنےہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔ شاید اسےپیاس لگی تھی۔
    لڑکی کی پیاس کا خیال جب تک حافظ عبداللہ کےدل میں آتا‘ تب تک برانگیختہ کر دینےوالی کتنےہی سوچیں اس پر یلغار کر چکی تھیں۔ لڑکی کا لبوں پر زبان پھیرنےکا انداز اتنا دلفریب تھا کہ حافظ عبداللہ کا دل بےقابو ہو گیا۔
    ”پانی۔۔۔“ اسی وقت لڑکی کےلبوں سےبڑی مہین سی آواز نکلی۔
    حافظ عبداللہ چونک کر اپنی دگرگوں کیفیت سےباہر آیا۔ کھیس کو بدن سےالگ کیا۔ چنگیر کےپاس پڑا مٹی کا پیالہ اٹھا یا اور کمرےسےنکل گیا۔ چند لمحےبعد لوٹا توپیالےمیں پانی تھا ۔ ساتھ ہی اس کےچہرےپر وضو کےاثرات نمایاں تھی۔ سرد پانی نےاسےاپنی غیر ہوتی ہوئی حالت کو سنبھالنےمیں بڑی مدد دی تھی۔
    وہ چارپائی کےقریب آ کھڑا ہوا۔ لڑکی کےپپوٹےلرز رہےتھی۔ اب بھی وہ ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی اور ”پانی ۔۔۔پانی“ کےالفاظ وقفےوقفےسےادا کرتےہوئے آہستہ آہستہ سر کو دائیں بائیں حرکت دےرہی تھی۔
    ”لیجئی۔ پانی پی لیجئی۔“ حافظ عبداللہ نےاسےپکارا۔
    لڑکی نےجیسےاس کی بات سنی ہی نہ تھی۔ حافظ عبداللہ نےاسےچار پانچ بار پکارا مگر وہ تو نیم بیہوشی کےعالم میں پانی مانگ اور سر دائیں بائیں مار رہی تھی۔
    حافظ عبداللہ تھوڑی دیر پیالہ ہاتھ میں لئےکچھ سوچتا رہا پھر اس نےجیسےکوئی فیصلہ کر لیا۔ پانی کا پیالہ دائیں ہاتھ میں لےکر اس نےدل کڑا کیا اور بایاں ہاتھ لڑکی کی گردن میں ڈال دیا۔ پھر اسےاوپر اٹھاتےہوئےذرا سا جھکا اور جگہ بنتےہی چارپائی کی پٹی پر ٹک گیا۔ اب لڑکی کےجسم کا سارا بوجھ اس کےسینےپر آ رہا۔ جسم کی کپکپی پر قابو پانےکی کوشش کرتےہوئےاس نےپیالہ لڑکی کےہونٹوں سےلگا دیا۔ چھوٹےچھوٹےتین چار گھونٹ بھر نےکےبعد لڑکی نےمنہ ہٹا لیا تو حافظ عبداللہ نےاٹھتےہوئےاسےواپس چارپائی پر لٹا دیا اور خود پھولےہوئےسانس کےساتھ پرےہٹ گیا۔
    سردی کی رات میں ابھی چند منٹ پہلےوہ یخ پانی سےوضو کر کے آیا تھا۔ اس کےباوجود اس کی پیشانی پسینےکےگرم قطروں سےیوں بھیگ چکی تھی جیسےوہ اب تک دہکتےتندور پر جھکا رہا ہو۔ لڑکی اب اتنی بےسدھ نہ تھی۔ حافظ عبداللہ کو لگا‘ تھوڑی دیر میں وہ ہوش میں آ جائےگی کیونکہ اس کی آنکھوں پر جھکےپپوٹےہولےہولےپھڑک رہےتھےاور وہ بار بار گلا تر کرنےکےانداز میں تھوک بھی نگل رہی تھی۔
    حافظ عبداللہ کی حالت بڑی مشکل سےسنبھلی۔ ایک خوبصورت ‘ جوان اور مدافعت کےناقابل لڑکی کےجسم کا اس کےساتھ لگنا ایک ایسی کیفیت کا حامل عمل تھا ‘ جس کےاثرات سےاس کا جسم اب تک جھنجھنا رہا تھا۔
    پیالےمیں ابھی کچھ پانی باقی تھا۔حافظ عبداللہ نےچاہا کہ پانی پی لےتاکہ اس کےحواس میں بھڑکتی آگ میں کچھ تو کمی آئے۔ پھر نجانےکیا سوچ کر رک گیا۔ اس نےپیالہ چارپائی کےسرہانےفرش پر رکھا اور کمرےسےنکل گیا۔ ہینڈ پمپ پر جا کر اس نےایک بار پھر چہرےپر سرد پانی کےچھینٹےماری۔ اوک میں لےکر حلق تک پانی پیا۔ پھر کرتےکےدامن سےچہرہ اور ہاتھ خشک کرتا ہوا واپس لوٹ آیا۔
    کمرےمیں داخل ہوا تو چونک پڑا۔
    لڑکی ہوش میں آ چکی تھی۔ اس نےکمبل ایک طرف ڈال دیا تھااور لرزتی کانپتی چارپائی سےاتر چکی تھی۔ حافظ عبداللہ پر نظر پڑی تو وہ ٹھٹکی۔ گھبرا کر اس نےکمبل سےاپنےنیم برہنہ جسم کو چھپا یا اور دیوار کی طرف الٹےپائوں سرکتےہوئےمتوحش ہرنی کی طرح اسےدیکھنےلگی۔
    ”گھبرائیےنہیں۔“ حافظ عبداللہ نےہاتھ اٹھا کر اسےمزید پیچھےہٹنےسےروک دیا۔ ”مجھ سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔“ اس نےدروازےکےاندر آتےہی اپنےقدم روک لئی۔اتنی دیر میں وہ دیوار کےبالکل ساتھ جا لگی۔
    ”میں اس وقت کہاں ہوں؟“ کچھ دیر تک حافظ کو بغور گھورتےرہنےکےبعد اس نے آہستہ سےپوچھا۔
    ”نور پور گائوں یہاں سےکچھ ہی دور ہی۔ “ حافظ عبداللہ نےجواب دیا اور ایک قدم آگےبڑھ آیا۔
    ”نور پور؟“ حیرت سےاس کا منہ کھل گیا۔
    ”جی ہاں۔“ حافظ عبداللہ نےچٹائی پر پڑا کھیس اٹھا کر اپنےجسم کےگرد لپیٹتےہوئےکہا۔ ” میں نور پور کی اکلوتی مسجد کا امام ہوں۔ یہ جگہ بھی نور پور ہی کی حد میں آتی ہی۔ بابا شاہ مقیم کےمزار کا ایک کمرہ ہےجہاں آپ اس وقت موجود ہیں۔“
    ”بابا شاہ مقیم۔“ لڑکی بڑبڑائی۔” مگر میں اتنی دور۔۔۔“
    ” آپ ایک درخت کےساتھ چمٹی ہوئی سیلابی ریلےمیں بہتی جا رہی تھیں۔ میں اتفاق سےوہاں ٹبےپر موجود تھا۔ اللہ نےہمت دی اور میں آپ کو پانی سےنکال لایا۔ “
    ”یہ کب کی بات ہی؟“لڑکی اب بھی پریشان تھی۔
    ” آج شام کےقریب کا وقت تھا۔ تب سے آپ بیہوش پڑی تھیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے آپ نےپانی مانگا تو میں نےچند گھونٹ آپ کو پلائی۔ پھر میں۔۔۔“ حافظ عبداللہ کہتےکہتےرک گیا۔ ایک پل کو اس کےبدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ پھر وہ نظر اس کےسراپےسےہٹا کر بولا۔ ”وضو کرنےچلا گیا۔ واپس آیا تو آپ شاید بھاگنےکی تیاری میں تھیں۔“ ہلکی سی مسکراہٹ اس کےہونٹوں پر کھیلنےلگی۔
    ”نن۔۔۔ نہیں ۔بھاگنےکی نہیں۔ “ وہ گڑبڑا گئی اور ہونٹوں پر زبان پھیر کر حافظ عبداللہ کی طرف دیکھا۔
    ”میں آپ کی کیفیت سمجھ سکتا ہوں۔“ حافظ عبداللہ نےکہا۔ ” اس صورتحال میں آپ کا کوئی بھی اقدام اپنی حفاظت اور مجھ پر بد گمانی کےلئےجائزہی۔“ اس نےدروازہ آدھا بھیڑ دیا۔
    ”یہ دروازہ کیوں بند کر دیا آپ نی؟“ وہ جلدی سےدو قدم آگے آ گئی۔
    ”ہوا بہت سرد ہی۔“ حافظ عبداللہ نےنرمی سےکہا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ” آپ کا بخار شاید اب کم ہو گیا ہی۔تاہم جب میں آپ کو پانی سےنکال کر لایا تھا تو آپ انگارےکی طرح دہک رہی تھیں۔ابھی ٹھنڈی ہوا آپ کےلئےنقصان دہ ہی۔ پھر میں نےدروازہ بند نہیں کیا ‘ صرف بھیڑ دیا ہی۔ آپ خود کو سنبھالئی۔ شک اوراندیشہ اس وقت آپ کا حق ہےمگرہم دونوں کےعلاوہ بھی ایک ہستی یہاں موجود ہی‘ جس کےہوتےہوئے آپ کو ہر اندیشےسےبےنیازہو جانا چاہئی۔“
    ”کون۔۔۔کون ہےتیسرایہاں؟“ لڑکی نےچونک کر پوچھا۔
    ”وہ۔۔۔“ حافظ عبداللہ نےچھت کی جانب انگلی اٹھا دی۔”وہ‘ جو ہر جگہ موجود ہی۔ صرف آپ کو اس کا یقین ہوناچاہئی‘ جیسےمجھےہی۔“ وہ مسکرا دیا۔
    ”اوہ۔۔۔“ لڑکی خجل سی ہو گئی۔ اس نےشرمندہ شرمندہ سی نظروں سےحافظ عبداللہ کی طرف دیکھا اور سر جھکا کر پائوں کےناخن سےزمین کریدنےلگی۔
    ”صبح تک آپ کو یہیں ٹھہرنا ہو گا۔“ حافظ عبداللہ نےپھر کہا۔ ” کل کی بارش نےکیچڑ بہت کر دیا ہی۔ سواری کوئی موجود نہیں ہےاور گائوں تک اس اندھیرےمیں پیدل جانا نری مصیبت ہی۔ آپ نےنجانےکب سےکچھ نہیں کھایا۔ وہ طاق میں چنگیر رکھی ہی۔ کھانےکو اس وقت یہی میسر ہی۔ کھا لیجئی۔ پیالےمیں پانی بھی ہی۔“ اس نےچارپائی کےسرہانےزمین پر پڑےمٹی کےپیالےکی جانب اشارہ کیا۔پھر چٹائی کےپاس آگیا۔
    قر آن پاک کو چوم کر سینےسےلگایا۔ رحل اٹھائی اور لڑکی کی جانب دیکھا جو دیوار سےلگی کھڑی اسےبڑی گہری نظروں سےدیکھ رہی تھی۔ حافظ عبداللہ کو لگا ‘ اس کی نظروں میں عجب سحر سا کروٹیں لےرہا ہی۔ اس کی آنکھوں میں تیرتےسرخ ڈورے‘ گالوں پر بکھری دو تین لٹیں اور سینےکا زیر و بم ‘کسی بھی خیال ‘ کسی بھی سوچ کو گمراہی کا راستہ دکھانےکےلئےکافی تھی۔
    ”اگر آپ کو اپنےاور میرےاللہ پر بھروسہ ہےتو بےفکر ہو جائیی۔ کھانا کھائیے اور چارپائی پر آرام کیجئی۔“ اچانک حافظ عبداللہ کی آواز نےکمرےکی خاموشی میں ارتعاش پیدا کر دیا۔ ”میں دوسرےکمرےمیں جا رہا ہوں۔ آپ اندر سےکنڈی لگا لیجئی۔ صبح ہوتےہی میں آپ کو نورپور لےچلوں گا۔ وہاں چوہدری حسن دین آپ کو آپ کےگھر بھجوانےکا انتظام کر دیں گی۔“
    دروازےکےقریب پہنچ کر وہ رک گیا۔ پلٹ کر لڑکی کی جانب دیکھا جو ابھی تک اپنی سابقہ حالت میں تھی۔
    ”اگر کوئی کام ہو تو اس کھڑکی پر دستک دےدیجئےگا۔“ اس نےدونوں کمروں کی درمیانی دیوار میں بنی چار ضرب چار کی بند کھڑکی کی طرف اشارہ کیا اور دروازےسےنکل گیا۔
    لڑکی خاموش کھڑی کتنی ہی دیر تک خالی دروازےکو گھورتی رہی۔ اس کےدل و دماغ میں ایک جنگ سی جاری تھی۔ حافظ عبداللہ کی باتیں اور اب تک کا رویہ اسےقائل کر رہا تھا کہ وہ اس پر اعتبار کر لےجبکہ ایک جوان مرد کےساتھ ‘ اس جگہ رات بھر رہنےکا فیصلہ کرنا اس کےلئےبڑا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ جہاں دو جوان جسم موجود ہوں ‘ وہاں شیطان کو آتےدیر نہیں لگتی ۔ اور وہ ایسی طاقتور بھی نہیں تھی کہ شیطان اور حافظ عبداللہ کا تنہا مقابلہ کر سکتی۔
    اس نےسر جھکا لیا اور ایک ایک کر کےحافظ عبداللہ کی باتوں پر غور کرنےلگی۔ اس کی کسی بات میں کوئی ول چھل نہ تھا۔ اس کی نگاہوں میں اسےاپنےلئےکوئی ایسا تاثر نہ ملا تھا جس سےیہ ظاہر ہوتا کہ وہ اس کےلئےخطرہ ہی۔ اگر وہ اس کےساتھ کوئی الٹی سیدھی حرکت کرنا چاہتا تو وہ بقول حافظ عبداللہ کی‘ شام سےاس کےپاس اس کمرےمیں بیہوش پڑی تھی۔ اس دوران اسےروکنےوالا کون تھا مگر وہ محفوظ رہی۔ اور اب تو وہ جاگ رہی تھی۔ پورےہوش و حواس میں تھی۔ اب وہ کم از کم اس کےکسی اقدام کےخلاف مدافعت تو کر ہی سکتی تھی۔
    سوچ سوچ کر اس کا دماغ درد کرنےلگا۔ بدن میں تھکاوٹ سی در آئی تو اس نےخود کو اللہ کے آسرےپر موجودہ صورتحال کےسپرد کرنےکا ارادہ کر لیا۔
    سر اٹھا کر اس نےکھلےدروازےکی جانب دیکھا۔ پھر اندر سےکنڈی لگانےکےخیال سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی چلی۔چراغ کےقریب سےگزرنےپر اس کی لو تھرتھرائی ۔
    وہ دروازےکےقریب پہنچی تو ایک خیال کےتحت ایک پل کو رکی۔ پھر دبےپائوں باہر نکل آئی۔ ساتھ والےکمرےکےدروازےکےپاس ٹھہر کر اس نےذرا سی گردن آگےنکالی اور بھڑےہوئےدروازےمیں سےاندر جھانکا۔
    حافظ عبداللہ کی پشت کمرےکےدروازےکی جانب تھی اور وہ کھیس کی بکل مارےچٹائی پر بیٹھا تھا۔ قر آن پاک اس کے آگےرحل پر کھلا دھرا تھا۔ چراغ اس نےاپنےدائیں ہاتھ اینٹوں کی ایک ڈھیری پر رکھ چھوڑا تھا تاکہ اس کی روشنی قر آن پاک پر پڑتی رہی۔ وہ سر جھکائےہولےہولے آگےپیچھےہل رہا تھا۔
    غور سےسنا تو لڑکی کےکانوں میں قر آن پاک پڑھنےکی ہلکی سی آواز کسی خوشخبری کی طرح اترتی چلی گئی۔سکون اور اطمینان نےاس کےحواس پرتسلی کی چادر تان دی۔
    چند لمحےوہاں کھڑا رہنےکےبعد اس نےگردن پیچھےکھینچ لی۔ خاموش قدموں سےکمرےمیں لوٹی۔ دروازہ بند کیا تو اس کا دل ایک بار پھر زور سےدھڑکا۔یہ دیکھ کر کہ دروازےکےاند کی جانب کنڈی کا نام و نشان ہی نہ تھا۔ لگتا تھا بہت دیر پہلےوہ ٹوٹی اور دوبارہ کسی نےاسےلگانےکی کوشش ہی نہ کی۔
    خشک ہوتےہونٹوں پرزبان پھیرتےہوئےاس نےخود کو سنبھالا۔ دروازےکو اچھی طرح بند کیا مگر جب کنڈی ہی نہ تھی تو وہ بند رہتا یا کھلا‘ ایک برابر تھا۔
    کچھ سوچ کر وہ کھڑکی کےقریب آئی۔ کھڑکی بند ضرور تھی مگر اس میں بھی کوئی کنڈی یا چٹخنی موجود نہ تھی۔ شاید دوسرےکمرےکی طرف ہو گی۔ ایک بار پھر غیر محفوظ ہونےکا خیال اندھیرےکی دبیز چادر کی طرح اس کےدماغ پر پھیلا۔ بےاختیار اس کا سر کھڑکی سےجا لگا۔ اسےچکر سا آ گیامگر دوسرےہی لمحےاس کےسارےاندیشےبند کھڑکی کی دوسری طرف سے آتی حافظ عبداللہ کی تلاوت کی آواز پر قربان ہو گئی۔ اس کا جی چاہا وہ اس آواز کو سنتی رہےجو اس کےجسم و جان میں عجب سکون بھری سرگوشیاں کر رہی تھی۔ اسےاپنےاللہ پر بھروسےکا سبق دےرہی تھی۔اسےبتا رہی تھی کہ وہ وہاں اکیلی نہیں ہی۔ بقول حافظ عبداللہ کے‘ وہاں اس کا خالق و مالک موجود ہی۔ اور وہ تو ہر جگہ موجود ہی‘ بس ہمیں اس کا یقین نہیں آتا۔
    اس خیال کا آنا تھا کہ اس کےجسم میں ایک طاقت عود کر آئی۔یقین ‘ بھروسےاور اعتبار کی طاقت۔ اس نےجھکا ہوا سراٹھایا ۔ چند لمحوں تک بند کھڑکی کو گھورتی رہی۔ پھر دھیرےدھیرےقدم اٹھاتی چارپائی کےپاس آ گئی۔
    چنگیر پر نظر پڑی تو بھوک جاگ اٹھی۔ وہ چارپائی پر بیٹھ گئی۔ کمبل کےپلو کھولے۔ اسےاپنےشانوں پر دائیں بائیں پھیلایا۔ چنگیر اٹھا کر گود میں رکھی۔ رومال کی تہہ کھولی تو اندر مکئی کی دو روٹیوںپر سرسوں کا ساگ دیکھ کر پیٹ میں اینٹھن سی ہوئی۔ ایک نظر بند دروازےاور کھڑکی پر ڈالی‘ پھر اس کا ہاتھ بےاختیار روٹی کی طرف بڑھ گیا۔
    ٭
    طاہر حویلی واپس آیا تو رات کےساڑھےنو بج رہےتھی۔
    حویلی کےاندر اور باہر سکوت طاری تھا۔ ملازموں میں سےکچھ جاگ رہےتھے‘ زیادہ تر سونےکےلئےجا چکےتھی۔ ملک اس سےرخصت ہوا تو طاہراندر چلا۔ اس کا رخ لیڈیز ڈرائنگ روم کی جانب تھا۔
    ”چھوٹےمالک۔“ اچانک ایک آواز نےاسےکاریڈور میں روک لیا۔ اس نےپلٹ کر دیکھا۔ حویلی کی ایک ملازمہ فہمیدہ اس کی طرف سر جھکائےچلی آ رہی تھی۔
    ”مالکن آپ کےکمرےمیں ہیں۔ “ فہمیدہ نےاس کےقریب آ کر ادب سےکہا ۔
    ”اچھا۔ “ اس نےموبائل جیب میں ڈالتےہوئےکہا اور اس کےپیچھےچل پڑا۔ کاریڈور سےبائیں مڑتےہی پہلا کمرہ اس کا تھا‘ جو اس کی عدم موجودگی میں شاذہی کھلتا تھا۔ فہمیدہ دروازےپر رک گئی۔
    ”کھانا لگا دوں چھوٹےمالک؟“ اس نےپوچھا۔
    ”تمہاری مالکن نےکھا لیا؟“ اس نےکھلےدروازےمیں قدم رکھا۔
    ”جی نہیں۔ آپ کےانتظار میں تھیں۔“
    ”تو کھانا یہیں لے آئو۔“
    ”جی بہتر۔“ وہ لوٹ گئی۔
    طاہر اندر داخل ہوا تو یہ دیکھ کر اسےکوئی حیرت نہ ہوئی کہ ابھی تک صفیہ کو چند عورتیں گھیرےبیٹھی تھیں۔اسے آتا دیکھ کر وہ کپڑےسنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پھر اسےباری باری سلام کرکےوہ کمرےسےنکل گئیں۔ آخر میں ایک نوجوان لڑکی اٹھی تو صفیہ نےاسےروک لیا۔
    ”تم رکو۔“
    ”جی۔“ لڑکی نےگھبرا کر طاہر کی جانب دیکھا۔
    ”بیٹھ جائو۔“ صفیہ نےنرمی سےاس کا ہاتھ تھام کر دوبارہ قالین پر رکھےکشن پر بٹھا دیا۔ خود بھی و ہ بیڈسےٹیک لگائےایک کشن پر شال اوڑھےبیٹھی تھی۔ کمرہ ایر کنڈیشنڈ ہونےکےباعث سردی کےاثرات سےمبرا تھا۔
    ”کیا بات ہی؟“ طاہر نےایک نظر سر جھکائےبیٹھتی لڑکی کی جانب اور پھر سوالیہ انداز میں صفیہ کو دیکھا۔
    ” آپ نےکھانا کھا لیا؟“ اس کا سوال گول کرتےہوئےوہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”نہیں۔ فہمیدہ یہیں لا رہی ہی۔“ وہ گرم واسکٹ اتارتےہوئےبولا۔
    صفیہ نےاس کی واسکٹ تھام ایک طرف ڈال دی۔وہ بیڈ کی پٹی پر ٹک گیا۔ صفیہ نےہاتھ بڑھائےکہ اس کےپائوں سےزرتار کھسہ نکال دی۔
    ”کیا کر رہی ہو؟“ طاہر نےاس کا ہاتھ تھام لئی۔
    ”اوں ہوں۔“ صفیہ نے آنکھ کےاشارےسےاسےلڑکی کےکمرےمیں ہونےکا احساس دلایا اور ہاتھ اس کےکھسےپر ڈال دیی۔وہ ایک طویل سانس لےکر رہ گیا۔ صفیہ اس کی کسی بات کا برا نہ مانتی تھی مگر کرتی وہی تھی جو اسےطاہر کےبارےمیں اچھا لگتا تھا۔ کھسےکےبعداس نےطاہر کی جرابیں اتاریںاور چپل آگےکر دی۔
    ” آپ منہ ہاتھ دھو لیں۔ اتنی دیر میں کھانا لگ جائےگا۔“
    ”تم نےتو کھا لیا ہوتا۔ خواہ مخواہ آدھی رات تک بھوکی بیٹھی ہو۔“ وہ اٹھتےہوئےبولا۔
    ”پہلےکبھی کھایا ہےجو آج آپ سےپہلےکھا لیتی۔“ صفیہ نےمسکرا کر ہولےسےکہا۔ وہ خاموشی سےاٹیچ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
    ”چھوٹی بی بی۔“ لڑکی نےاٹھنا چاہا۔”مجھےجانےدیجئی۔ چھوٹےمالک کےسامنےمیں۔۔۔“
    ”خاموشی سےبیٹھی رہو۔“ صفیہ نے آنکھیں نکالیں۔
    ”بی بی۔ دس بجنےکو ہیں۔“ اس نےدیوار گیر کلاک کی طرف نگاہ اٹھائی۔”گھر والےمیرا انتظار کر رہےہوں گی۔“
    ”انہیں میں نےفہمیدہ کےہاتھ پیغام بھجوا دیا تھا کہ تم میرےپاس ہو۔ دیر سےلوٹو گی۔“
    اب شاید اس کےپاس کوئی بہانہ نہ رہا۔ ہونٹ کاٹتےہوئےوہ واپس کشن پر ٹک گئی مگر انداز ایسا تھا کہ بس صفیہ کی نظر چوکتےہی بھاگ لےگی۔
    جتنی دیر میں طاہر ہاتھ منہ دھو کر نکلا‘ فہمیدہ نےکمرےکےایک گوشےمیں موجود ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا دیا۔
    ”کھانا کھائو گی؟“ صفیہ نےاٹھتےہوئےپوچھا۔
    ”جی نہیں۔“ وہ گھبرا کر بولی تو صفیہ بےاختیار مسکرا دی۔ اس نےاصرار نہ کیا اور طاہر کےساتھ کھانےکی میز پر جابیٹھی۔ صفیہ سمجھ گئی کہ طاہر سےحجاب اور شرم نےاس کا برا حال کر رکھا ہی۔
    ”کیا بات ہی؟ یہ لڑکی کون ہی؟“ طاہر نےنیپکن ڈالتےہوئےپوچھا۔
    ”کھانا خاموشی سےکھانا چاہئی۔“ صفیہ نےاس کی پلیٹ میں سالن نکالتےہوئےکہا۔
    طاہر نےاس کےبعد کوئی بات نہ کی۔ دونوں نےخاموشی سےکھانا کھایا۔ فہمیدہ برتن لےگئی۔ وہ طاہر کو ساتھ لئےواپس اس جگہ آ گئی جہاں وہ لڑکی ابھی تک سر جھکائےکسی سوچ میں گم بیٹھی اپنےناخنوں سےقالین کرید رہی تھی۔ سر پر اس نےدوپٹہ اس طرح لےرکھا تھا کہ طاہر اس کےچہرےکےخد و خال بمشکل دیکھ پایا۔ وہ بیحد سادہ سےنقوش کی مالک تھی‘ مگر چہرےسےشرافت نمایاں تھی۔
    ”ہاں ۔ اب بولو۔“ طاہر نےان دونوں سےکچھ پرےایک کشن پر براجمان ہوتےہوئےکہا۔
    ”میں نے آپ کو جو فون کیا تھاوہ اسی کےمعاملےمیں تھا۔“ صفیہ نےلڑکی کی طرف اشارہ کیا جس کا سریہ سن کر کچھ اور جھک گیا۔ اضطراب کی حالت میں وہ اپنی انگلیاں مروڑنےلگی۔”یہ آپ کےگائوں کےایک عزت دار شخص ماسٹر محسن کی بیٹی زبیدہ ہی۔“
    ”زبیدہ۔“ایک دم طاہر چونک کر سیدھا ہو بیٹھا۔
    ”کیا ہوا؟“ صفیہ اس کےانداز پر حیران سی ہوئی۔
    ”کچھ نہیں۔ تم کہو‘ کیا کہہ رہی تھیں۔“ وہ زبیدہ کو غور سےدیکھ کر بولا۔
    ”میں بتا رہی تھی کہ۔۔۔“ صفیہ نےاس کی حالت پر غور کرتےہوئےکہنا شروع کیا اور اس کےچہرےپر نظریں جمائےہوئےوہ ساری بات بتائی جو طاہر چوپال میں سن چکا تھا۔ اس دوران زبیدہ مسلسل اضطراب کےعالم میں ہونٹ کاٹتی رہی۔ انگلیاں مروڑتی رہی اور پہلو بدلتی رہی۔ اس کا سر ایک بار بھی نہ اٹھا۔ طاہر کبھی کبھار اس پر نظر ڈال لیتا اور بس۔ اس نےساری توجہ صفیہ کی آواز پر مرکوز رکھی۔
    ”اب صورتحال یہ ہےکہ زبیدہ کو اس کےوالد ماسٹر محسن مستقل طور پر اس کےننھیال بھجوانےکی تیاری کر رہےہیں ۔ ان کا فیصلہ ہےکہ شادی تک یہ وہیں رہےگی اور شادی اگر نثار سےنہیں ہو گی تو عادل سےبھی نہیں ہو گی۔ کس سےہو گی؟ یہ ابھی کسی کو نہیں معلوم۔“
    صفیہ نےجیسےبات ختم کر دی۔
    ”ہوں۔“ طاہر نےایک طویل ہنکارا بھرا۔ ایک بار زبیدہ کی جانب دیکھا جو شاید رو رہی تھی۔
    ” اری۔“ صفیہ نےاس کی طرف توجہ کی اور اسےکھینچ کر ساتھ لگا لیا۔ ”پگلی۔ رو کیوں رہی ہی؟ طاہر ہیں ناں۔ سب ٹھیک کرلیں گی۔“
    زبیدہ سسک پڑی۔ اس کے آنسو ‘ ہچکیوں میں ڈوب گئی۔ صفیہ اس کا شانہ تھپک رہی تھی مگر اس کی تسلی زبیدہ کو اور بےکل کر رہی تھی۔
    ”چھوٹی بی بی۔“ اس کی سرگوشی کراہ سی بن گئی۔ ”میرےابو نےمجھےکبھی سخت نگاہ سےنہیں دیکھا‘ مگر اس بات پر انہوں نےمجھےاس طرح مارا کہ۔۔۔“ وہ بات پوری نہ کر سکی اور دوپٹےمیں منہ چھپاکر بلکنےلگی۔
    ”ماں باپ اگر سختی کریں تو اس پر دل برا نہیں کیا کرتےزبیدہ۔“ طاہر کی آواز میں سرزنش تھی۔ زبیدہ اس کی آواز پر ایک دم سُن سی ہو گئی۔ ”جس باپ نے آج سےپہلےتمہیں پھول نہیں مارا ‘ ذرا سوچو کہ اسےکتنی تکلیف ہوئی ہو گی تمہاری کسی بات سےجو وہ تم پر ہاتھ اٹھانےپر مجبور ہو گیا۔“
    صفیہ نےطاہر کی بات پر کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا۔ بس زبیدہ کو بازو کےحلقےمیں لئےاس کا شانہ تھپکتی رہی‘ جو بالکل ساکت ہو گئی تھی۔ لگتا تھا اس کےجسم میں جان ہی نہیں رہی۔ آنسو ‘ سسکیاں‘ ہچکیاں سب تھم گئی تھیں۔
    ” میں بزرگوں کےلئےبھی گائوں کا بڑا صرف اس لئےہوں کہ اپنےوالد کےبعد میں نےان کی جگہ بیٹھ کر یہاں کےلوگوں کو کبھی چھوٹا نہیں سمجھا۔ میں ان کےدُکھ سُکھ کا ساجھی ہوں ۔ میں وہاں چوپال میں ابھی تمہارا ہی قضیہ نمٹا کر آ رہا ہوں۔“
    ”کیا مطلب؟“ صفیہ چونکی تو زبیدہ بھی سیدھی ہو بیٹھی۔ اس نےپلو سے آنکھیں خشک کیں اور دوپٹہ سر پر ٹھیک طرح سےلےلیا۔ طاہر نےدیکھا ‘ رونےسےاس کا چہرہ نکھر سا آیا تھا۔ متورم آنکھوں نےاس کی سادگی کو سجا دیا تھا۔ وہ سر جھکائےخاموش بیٹھی کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر پھڑکتےہونٹوں سے آواز نہ نکل رہی تھی۔
    ”کیا ہوا وہاں؟ مجھےبھی تو بتائیی۔“ صفیہ پوری طرح طاہر کی طرف متوجہ ہوگئی۔یوں اس نےزبیدہ کی مشکل آسان کر دی۔ اس کےکان طاہر کی آواز پر لگ گئی۔
    ”پہلےزبیدہ سےیہ پوچھو کیا واقعی یہ عادل کو پسند کرتی ہی؟“ طاہر نےدھیرےسےکہا۔
    ”نہیں۔ ان دونوں کی آج تک ملاقات نہیں ہوئی۔ “ صفیہ نےجواب دیا۔ ”زبیدہ مجھےسب بتا چکی ہی۔“
    ”تو پھر اس نےکیسےعادل کےلئےماسٹر صاحب کےسامنےزبان کھول دی؟“ طاہر حیرت سےبولا۔
    ”یہ ایک اتفاق ہےطاہر‘ جس سےزبیدہ نےفائدہ اٹھانا چاہا۔ ہوا یہ کہ جب نثار کےرشتےسےزبیدہ نےانکارکیا تواسی وقفےمیں اسےاپنی ایک سہیلی سےپتہ چلا کہ عادل کےماں باپ اس کےلئےزبیدہ کا رشتہ مانگنےان کےگھر آنےوالےہیں۔ زبیدہ نےنثار سےجان چھڑانےکےلئےماسٹر صاحب سےکہہ دیا کہ وہ عادل کو پسند کرتی ہی۔ ماسٹر صاحب سہہ نہ سکےکہ ان کی بیٹی اس معاملےمیں ایسی بات زبان پر لائے۔ انہوں نےزبیدہ کو پیٹ ڈالا۔ غضب یہ ہوا کہ اس سےدوہی دن بعد عادل کےوالدین زبیدہ کےرشتےکےلئے آن پہنچی۔ بس‘ یہ اتفاق ماسٹر صاحب کو یقین دلانےکےلئےکافی تھا کہ زبیدہ اور عادل ایک دوسرےسےملتےہیں۔ ایک عزت دار باپ کےلئےیہ بات کسی گالی سےکم نہیں تھی۔ وہ اپنا ذی علم ہونا تو بھول گئی۔ صرف یہ یاد رہا کہ بیٹی نےان کےاعتماد کو دھوکہ دیاہی۔ اور یہ بات ایسی ناقابل برداشت تھی کہ وہ زبیدہ پر ہاتھ اٹھا بیٹھی۔“
    ”بس بس۔ میں سمجھ گیا۔“ طاہر کےہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنےلگی۔ ”اس مانو بلی نےاپنی جان تو چھڑا لی مگر باپ کو جو اذیت دی اس کا کیا ؟“
    مانو بلی کا خطاب پا کرجہاں زبیدہ شرمائی وہیں ماسٹر صاحب کی تکلیف کا خیال آنےپر آبدیدہ ہو گئی۔
    ”میں ۔۔۔ میں۔۔۔ ابو سےمعافی مانگ لوں گی۔“ اس کےہونٹ پھڑکےاور بےاختیار وہ سسک پڑی۔” میں نثار سےشادی کروں گی۔ نہیں چاہئےمجھےایساسُکھ جو ابو کو دُکھ دےکر ملی۔“
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  4. #23
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    ”یہ بات تو تمہیں پہلےسوچنا چاہئےتھی زبیدہ۔ اب تو ایسا نہیں ہو سکتا۔“طاہر نےسپاٹ لہجےمیں کہا۔
    ”کیوں نہیں ہو سکتا۔ کیا ابو مجھ سےاتنےناراض ہیں کہ معاف بھی نہیں کریں گی۔“ وہ بلک کر بولی۔
    ”نہیں ۔ اب ایسی بات بھی نہیں ہی۔“ طاہر لاپروائی سےبولا اور صفیہ نےصاف دیکھا کہ وہ اپنی مسکراہٹ دبا رہا ہی۔ ایک پل میں ساری بات اس پر روشن ہو گئی۔ اسےلگا کہ طاہر کو روتی ہوئی زبیدہ پر لاڈ آ رہا ہی۔ وہ بلکتی ہوئی اسےاچھی لگ رہی ہےاور وہ اسےمحض تنگ کر رہا ہی۔
    ”طاہر۔“ زبیدہ کو ایک بار پھر ساتھ لگاتےہوئےصفیہ نےطاہر کی جانب نگاہ کی۔ ”کیا بات ہی؟ سچ سچ بتائیی۔“
    ”کیا سچ سچ بتائوں؟“ طاہر بھولپن سےمنہ بنا کر بولا۔”کیا یہ بتائوں کہ ماسٹر صاحب نےزبیدہ کی شادی ۔۔۔“ ایک پل کو وہ رکا۔ سر جھکائے آنسو بہاتی زبیدہ کی طرف دیکھا اور پھر کہا۔ ”عادل کےساتھ طےکر دی ہی۔ “
    ”کیا؟“ ایک جھٹکےسےزبیدہ نےسر اٹھایا اور بےیقینی سےطاہر کی جانب دیکھنےلگی۔
    ”ہوں۔۔۔“ صفیہ نےمعنی خیز انداز میں سر ہلایا۔ ”تو میرا شک درست تھا۔“ اس نےطاہر کو گھور کر دیکھا۔ ” آپ خواہ مخواہ بچی کو اب تک رلا رہےتھی۔“
    ”چھوٹی بی بی۔“ زبیدہ نےاس کی جانب بےاعتباری سےدیکھا۔ ” کیا ۔۔۔ کیا یہ سچ ہی؟“
    ”سولہ آنےسچ ہےزبیدہ۔“ طاہر کو محبت پاش نظروں سےدیکھتےہوئےیقین سےسرشار لہجےمیں صفیہ نےکہا۔ ”تمہارےچھوٹےمالک کو جھوٹ بولنا آتا ہی نہیں۔ ورنہ میں اتنی آسانی سےانہیں نہ پکڑ پاتی۔ میں تو ان کےبات کرنےکےانداز سےسمجھ گئی تھی کہ یہ تمہارےرونےکا مزہ لےرہےہیں۔ “
    اور زبیدہ نےصفیہ کی بغل میں چہرہ چھپا لیا۔وہ ایک بار پھر رو دی مگر یہ آنسو خوشی کےتھی۔ تشکر کےتھی۔
    ”کیا ہوا چوپال میں؟مجھےسب کچھ تفصیل سےبتائیی۔“ صفیہ نےزبیدہ کا شانہ تھپک کر اسےخود سےالگ کیا ۔
    جواب میں طاہر نےانہیں چوپال میں ہونےوالی ساری بات سنا دی۔ وہ خاموش ہوا تو زبیدہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”چھوٹی بی بی۔ اب مجھےجانےدیجئی۔ بہت دیر ہو گئی۔“ اس نےکلاک پر نظر دوڑائی جس پر رات کےگیارہ بجنےوالےتھی۔
    ”اری۔“ صفیہ نےوقت دیکھا تو حیرت سےبولی۔ ” پتہ ہی نہ چلا وقت گزرنےکا۔ واقعی اب تمہیں جانا چاہئی۔ “ وہ بھی اٹھ گئی۔ ”فہمیدہ کو بلائو۔ “
    ”بیل دےدو۔“ طاہر نےبیڈ سوئچ کی طرف اشارہ کیا۔
    صفیہ سر ہلا کر آگےبڑھی اور وہ بیڈ سوئچ دبا دیا‘ جس کےنیچےبیل کا نشان بنا تھا۔ دور کہیں گھنٹی کی آواز ابھری۔ چند لمحوں کےبعد فہمیدہ کمرےمیں آ پہنچی۔
    ”فہمیدہ۔ کسی ملازم سےکہو زبیدہ کو اس کےگھر چھوڑ آئی۔“ صفیہ نےکہا۔
    ”اس کا بھائی کتنی دیر سے آیا بیٹھا ہےجی۔ اسےلےجانےکےلئی۔“
    ”اری۔ تو تم نےبتایا کیوں نہیں؟“ صفیہ نےتیزی سےکہا۔ طاہر کو بھی یہ بات اچھی نہ لگی۔وہ بھی اپنی جگہ سےاٹھ گیا۔
    ”اس نےمنع کر دیا تھا جی۔“ فہمیدہ بولی۔ ” اس کا کہنا تھا کہ جب چھوٹی بی بی اجازت دیں گی تب وہ زبیدہ کو لےجائےگا۔ اتنی دیر وہ مردانےمیں انتظار کرےگا۔“
    ”پھر بھی۔“ صفیہ کو پشیمانی سی ہو رہی تھی۔
    ”محسوس نہ کرو۔“ طاہر نےنام لئےبغیر صفیہ کو تسلی دینےکےانداز میں کہا۔ ” یہ ان لوگوں کی محبت کی ایک جھلک ہی‘ جو یہ ہم سےکرتےہیں۔اس کا مزہ لو۔ پشیمان ہو کر اس کی لذت کو گرہن نہ لگائو۔“
    صفیہ نےنظر اٹھا کر طاہر کی جانب دیکھا۔ اس کی نظر میں کچھ ایسا تھا کہ طاہر نےاس سےنظریں چرا لیں۔ مسکرا کر صفیہ نےزبیدہ کی طرف دیکھا۔ پھر اسےسر کےاشارےسےجانےکی اجازت دےدی۔
    زبیدہ نے آہستہ سےصفیہ کا دایاں ہاتھ تھاما اور سر جھکا کر پہلےچوما۔پھر ماتھےسےلگالیا۔ صفیہ نےاس کا سر تھپکا ۔ وہ صفیہ کا ہاتھ چھوڑ کرپلٹی اور دھیرےدھیرےچلتی ہوئی طاہر کےسامنے آ کھڑی ہوئی۔ سر جھکائی۔ پلو سر پر ڈالی۔
    طاہر چند لمحےاسےپیار بھری نظروں سےدیکھتا رہا پھر مسکرا دیا۔
    ”جائو۔“ آہستہ سےاس نےکہا۔” بس یہ یاد رکھنا کہ ماں باپ کبھی اولاد کا بُرا نہیں چاہتی۔ مجھےخوشی ہےکہ تم نےماسٹر صاحب کےبھروسےمیں نقب نہیں لگائی۔ اچھی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔“ طاہر کا ہاتھ اس کےسر پر آ گیا۔ ” خوش رہنا۔ اور اسےبھی خوش رکھنا جس نےتمہارےجھوٹ پر اپنی خاموشی کا پردہ ڈال کر اتنی ہی بدنامی سہی‘ جتنی تمہارےحصےمیں آئی۔ نصیبوں والی ہو کہ ایسا بَر خدا نےتمہاری جھولی میں ڈال دیا۔ جائو۔“
    طاہر نےتھپکی دےکر ہاتھ اس کےسر سےہٹا لیا۔ زبیدہ نےنچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا تھا۔ نمی اس کی آنکھوں سےابلنےکو تھی مگراس نےخود پر قابو پائےرکھا۔ پھر ایک دم جھکی۔اس سےپہلےکہ وہ اسےروکتا اس نےطاہر کےدونوں پائوں ہاتھوں کی انگلیوں سےچھوئےاور انگلیاں چومتی ہوئی سیدھی ہو گئی۔طاہر محض ”ارےاری“ کر کےرہ گیا‘ تب تک زبیدہ کمرےسےجا چکی تھی۔
    ”اوں ہوں۔۔۔“ صفیہ نےایک قدم آگےبڑھ کر اس کےہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔” یہ احترام اور محبت کا اظہار ہےطاہر۔ اس کا مزہ لیجئی۔ “ مسکرا کر صفیہ نےکہا۔
    طاہر کی آنکھوں میں اس کےلئےایک رنگ سا لہرایا‘ جسےصفیہ کی نظروں نےاپنےدامن میں لپک لیا۔اس نےانگلی طاہر کےہونٹوں سےہٹاکر چوم لی۔ آہستہ سےپلٹی اور دونوں ہاتھ سینےپر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا سانس ایک دم بوجھل سا ہو گیا۔ نظرسےوہ رنگ دل میں اتر رہا تھا‘ جو اس نےطاہر کی آنکھوں میں اپنےنام کھلتا ہوا پایا تھا۔ یہ کیسا احساس تھا؟ کیسی لذت تھی؟ کیسی سرشاری تھی جس نےاس کی روح کو ہلکا اور جسم کو ایسا وزنی کر دیا تھا کہ اس سےقدم اٹھائےنہ اٹھ رہےتھی۔ بمشکل وہ دو قدم چلی اور یوں بستر پر گر پڑی جیسےپھولوں سےلدی ڈال اپنی ہی خوشبو کا بوجھ نہ سہار سکی ہو۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  5. #24
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    حافظ عبداللہ پوری طرح محو ہو کر منزل کر رہا تھا۔
    قر آن پاک اس کےسامنےرحل پر کھلا پڑا تھا ۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ ہولےہولےجھومتا ہوا بڑی نرمی‘ آہستگی اور جذب کےساتھ تلاوت کر رہا تھا۔ چودہ سطری قر آن پاک کا ایک ایک صفحہ سطر بہ سطر اپنے آغاز و اختتام کےالفاظ کےساتھ اس کےذہن پر نقش اور دل میں محفوظ تھا۔ جونہی صفحےکا آخری لفظ اس کی زبان سےادا ہوتا‘ غیرارادی طور پر اس کا دایاں ہاتھ حرکت میں آتا ‘ ورق الٹ جاتا اور زبان اگلےصفحےکی عبارت کو چومنےلگتی ۔
    دوسرا پارہ اختتام کو پہنچا تو اس نے آنکھیں وا کیں۔سر جھکا کر قر آن پاک کو بوسہ دیا۔ چند لمحےکچھ سوچتا رہا پھر قر آن پاک بند کر کےاٹھ گیا۔ کھیس اتار کر وہیں رکھا۔ دروازےمیں پڑی چپل پہنی۔ باہر نکلا ۔ چار قدم چلا اور ساتھ والےکمرےپر آ رکا۔ آہستہ سےہاتھ دروازےپر رکھ کر دبایا۔ دروازہ ہلکی سی چرر کی آواز کےساتھ کھلتا چلا گیا۔اس نےقدم اندر رکھا۔ چراغ کی لو تھرتھرائی۔ اس نےوہیں رک کر چارپائی کی طرف دیکھا۔ لڑکی کمبل میں سمٹی پڑی تھی۔ اس کا چہرہ دروازےہی کی جانب تھا اور وہ سو رہی تھی۔
    وہ چند لمحوں تک اس کےصبیح چہرےکو تکتا رہا۔ سوچوں کی پرچھائیاں اس کی آنکھوں میں تیر رہی تھیں۔ بال آخر آہستہ سےپلٹ کر وہ باہر نکل گیا۔دروازہ بند ہوااور اس کےقدموں کی آواز دور ہوتی چلی گئی۔
    آواز ختم ہوتےہی ایک دم لڑکی اٹھ بیٹھی۔ اس کےچہرےکا رنگ سرخ ہو چکا تھا۔ ایک طویل سانس سینےسےخارج کرتےہوئےوہ چارپائی سےاتر آئی۔ اب اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ اس نےاسی وقت سانس روک لیا تھا جب حافظ عبداللہ نےدروازہ کھولا تھا۔ پلکوں کی درز سےوہ اسےاس وقت تک بےحس و حرکت پڑی دیکھتی رہی‘ جب تک وہ واپس نہ لوٹ گیا۔ حافظ عبداللہ کا اس وقت کمرےمیں آنا‘ اسےخاموش کھڑےہو کر دیکھتےرہنا‘ آگےبڑھتےقدم کو روک لینا اور پھر جیسےمجبوراً لوٹ جانا۔ پھر حافظ عبداللہ کا باہر سےدروازےکی کنڈی لگا دینا۔ان سب باتوں نےاس کےکانوں میں خطرےکی گھنٹی بجا دی تھی۔
    بے آواز قدموں سےچلتی ہوئی وہ دروازےتک آئی۔ کان لگا کر سننےکی کوشش کی۔ باہر مکمل خاموشی تھی۔ کمبل میں لپٹی وہ کھڑکی کےپاس آئی اور اس کےپٹ سےکان لگا دیی۔ دوسری طرف سےکتنی ہی دیر تک جب کوئی آواز نہ سنائی دی تو اس کا حلق خشک ہو گیا۔ لبوں پر زبان پھیرتےہوئےاس نےکمرےمیں چاروں طرف نظر دوڑائی۔ وہاں کوئی ایسی شےموجود نہ تھی جسےوہ کسی بھی خطرےکےوقت اپنی حفاظت اور مدافعت کےکئےاستعمال کر سکتی۔
    اضطراب کےعالم میں اس نےلکڑی کی کھڑکی کی ایک درز سے آنکھ لگا دی۔ دوسرےکمرےکا منظر اس کی آنکھ میں اترا اور وہ سُن ہو کر رہ گئی۔ حافظ عبداللہ کمرےمیں شمالاً جنوباً بیتابی سےاس طرح چٹائی پر ٹہل رہا تھا کہ اس کےقدموں کی آواز نہ ابھر رہی تھی۔ کھڑکی سےدو فٹ دور سےوہ واپس لوٹ جاتا۔ اس کےماتھےپر شکنوں کا جال تنا ہوا تھا۔ لگتا تھا وہ کسی گہری سوچ میں ہےاور کوئی فیصلہ نہیںکر پا رہا۔ اس نے آنکھ درز سےہٹا لی اور گہرےگہرےسانس لینےلگی۔
    ”وہ کیا سوچ رہا ہی؟ “اس نےاپنےدل سےپوچھا۔ فوراً ہی جواب اس کےذہن میں اتر آیا۔ظاہر ہےوہ بد نیتی سےاور اسی کےبارےمیں سوچ رہا تھا۔ اگر اس کی نیت ٹھیک ہوتی تو وہ چوروں کی طرح اس کےکمرےمیں نہ آتا۔ اس کا خاموشی سےواپس لوٹ جانا اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا مگر اسےاس طرح بےچینی سےٹہلتےدیکھ کر اسےیقین ہو گیا کہ وہ اسی کےبارےمیں کوئی فیصلہ کرنےکی حالت سےدوچار ہی۔ شاید وہ کوئی ایسی ترکیب سوچ رہا تھا جس پر عمل کر کےوہ اس پر قابو پا لےاور ۔۔۔۔
    اس سے آگےکی بات کا خیال آتےہی دونوں ہاتھ جوڑ کر اس نےُپر نم آنکھوں سےکمرےکی چھت کی جانب دیکھا۔ ”یااللہ۔“ بےاختیار اس کےلبوں سےنکلا اور ماتھا جڑےہوئےہاتھوں پر ٹکا کر وہ سسک پڑی۔ اس وقت وہ بھاگ کر جاتی بھی کیسےاور کہاں؟
    حافظ عبداللہ بیتابی سےچٹائی پر ٹہل رہا تھا۔ وہ ساتھ والےکمرےمیں یہ دیکھنےگیا تھا کہ لڑکی کا حال کیا ہی؟ دوبارہ بخار نےتو اسےنہیں آ لیا؟ اسےپیاس نہ لگی ہو۔ لڑکی کا خیال رکھنا لازم تھا۔ وہ اسےاپنی ذمےداری لگنےلگی تھی مگرجس طرح وہ بےسدھ سو رہی تھی‘ اس کےپُرکشش چہرےکو دیکھ کر اس کےجذبات میں آگ سی لگ گئی۔ اکیلی لڑکی ‘ رات کی تنہائی‘ کسی تیسرےکا وہاں نہ ہونا۔ ان سب نےمل کر اس کےدل و دماغ پر یلغار کر دی۔ جتنی دیر وہ وہاں کھڑا رہا‘ بڑےضبط سےکھڑا رہا تھا۔ پھرخدا کےخوف سےدل کو تھپکتا ہوا وہ بڑی مشکل سےباہر نکلا۔ دروازےکی کنڈی لگائی تو اس خیال سےکہ اس کےکھٹکےسےلڑکی جاگ جائےاور وہ اپنےشہوانی خیالات کو لڑکی کےجاگ جانےکی لگام دےسکی۔
    اپنےکمرےمیں آ کر اس نےمنزل کرنےکی بڑی سعی کی مگر دل تو کسی اور ادھیڑ بُن میں لگ گیا تھا۔ اسےسمجھ نہ آ رہی تھی کہ وہ کیا کری؟ حیوانی جبلت اسےشیطان کےہاتھوں بِک جانےپر اکسا رہی تھی مگر اس کےاندر چھپا بیٹھا حافظ ِ قر آن خود کو مسلسل کمزور پڑتا دیکھ کر باقاعدہ ہاتھ پائوں مارنےلگا تھا۔کشمکش تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔ الائو تھا کہ اس کی تپش اسےجھلسائےدےرہی تھی۔
    ٹہلتےٹہلتےایک دم وہ رک گیا۔ قدم قدم چلتا ہوا ننگےپائوں باہر نکلا۔ گھور اندھیرےمیں اسےسوائےمزار ‘ دور دور تک پھیلی خاموشی‘ اکیلےپن اور سناٹےکےکچھ بھی نہ ملا۔ و ہ چند لمحےکھڑا سرد ہوا کو گھونٹ گھونٹ جذبات کےحلق سےنیچےاتارتا رہا۔ تپتا ہوا جسم باہر سےسرد ہونےلگا تو اسےاپنی کنپٹیوں میں سنسناہٹ سی دوڑتی محسوس ہوئی۔ ایسی سنسناہٹ‘ جس میں بےچینی کےبگولےریت اڑا رہےتھی۔ بیتابی کا غبار سانسوں کو بوجھل کررہا تھا۔حلق میں کانٹےسےپڑ گئےتو اس نےتھوک نگلنےکی ناکام کوشش کی۔ درد بھری ایک ٹیس ابھری اوراس کےجبڑےاکڑ سےگئی۔ منہ کھول کر اس نےفضا میں رچی ٹھنڈک کو پی لینا چاہا۔ ایک دم اسےجھرجھری سی آ گئی۔ ایک نظر مزار پر ڈال کر وہ واپس جانےکےلئےپلٹا۔ اسی وقت پھر کسی نےاسےپکارا۔ اس نے آواز کی سمت کا اندازہ لگاناچاہا مگر کامیاب نہ ہوا۔ سر جھٹک کر اس نےخود کو قائل کرنا چاہا کہ یہ اس کا وہم تھا۔ پھر وہ کمرےکی جانب چل دیا۔
    ”حافظ۔“ ایک دم اس کےقدم زمین میں گڑ گئی۔ اس نےپلٹ کر دیکھنا چاہا مگر گردن اکڑ گئی تھی۔ آواز کس کی تھی‘ اسےصاف پتہ چل گیا۔ اس کی آنکھیں یوں مند گئیں جیسےکسی نےزبردستی انہیں بند کر دیا ہو۔ ان پر کس کر پٹی باندھ دی ہو۔
    ”حافظ۔“ درویش نےاس کےکان کےقریب سرگوشی کی تو اس کےرونگٹےکھڑےہو گئی۔ ” بُوٹی لینےباہر آیا ہی۔ نقل مارنا چاہتا ہی۔ فیل ہو جائےگا ۔ یہ امتحان تجھےبغیر کسی کی معاونت کےدینا ہی۔ میں تجھےایک موقع لےکر دینےمیں بڑی مشکل سےکامیاب ہوا ہوں۔ دوبارہ اس کی امید نہ رکھنا۔ اندر جا اور پرچہ حل کر۔ جا۔ تھوڑا سا وقت رہ گیا ہی۔ ہمت سےگزار لی۔ جا۔“
    اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ سارا بوجھ‘ سارا وزن ختم ہو گیا۔ اس نےچاروں طرف دیکھا۔ وہ اکیلا کمرےکےباہر کھڑا تھا۔درویش وہاں کہاں تھا؟ اس نےمحسوس کیا کہ اس کا جسم ہوا کی طرح ہلکا ہو گیاہی۔ کوئی تپش اب اسےجھلسا رہی تھی نہ کوئی الائو اس کےاندر دہک رہا تھا۔ ایک بار پھر اس نےدرویش کی تلاش میں چاروں طرف دیکھا۔ پھر مزار کی جانب نگاہ کی۔ دل میں تشکر دھڑکا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا دوسرےکمرےکےدروازےپر پہنچا۔ آہستگی سےکنڈی کھولی اور لوٹ کر اپنےکمرےمیں داخل ہو گیا۔ دروازہ اپنےپیچھےبھیڑ کر وہ سر جھکائےچٹائی پر آ بیٹھا۔ کھیس کی بُکل ماری اور چراغ کی جانب دیکھا۔ اس کی ہلکی ہلکی زرد روشنی اسےبڑی بھلی لگی۔ چند لمحےوہ اسےعجیب سی نظروں سےدیکھتا رہا۔ پھر ایک طویل سانس لےکر اس نےقر آن پاک کو بوسہ دےکر کھولا ۔ تیسرےپارےکی پہلی سطر پر نگاہ ڈالی اور آنکھیں موند لیں۔
    ”اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔“ اس کےلبوں سےنکلااور آواز بھرا گئی۔
    ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔“ زبان پر خوشبو پھیلی اور آنسو رخساروں پر آ گئی۔
    ”تلک الرسل۔۔۔“ ایک ہچکی تھی جو اس کےحلق سے آزاد ہوئی اور وہ اپنے آپ سےجدا ہو گیا۔
    آنسو وضو کراتےرہی۔زبان ‘ آیتوں کو بوسےدیتی رہی۔ حواس میں پاکیزگی اترتی چلی گئی اور وہ اس بات سےبےخبر ہلکورےلیتا اپنےمعبود کی ثنا کرتا رہا کہ کوئی اسےکھڑکی کی درز سےمسلسل دیکھ رہا ہی۔ اس کی کیفیت پر انگشت بدنداں ہی۔ اس کی کیفیت کو سمجھنےکی ناکام سعی کر رہا ہےاور روح کو سیراب کرتی ہوئی نمی ۔۔۔ وہ تو اس جھانکنےوالےکی آنکھوں میں بھی ہی۔
    ”لن تنالو البر“ کےالفاظ اس کی زبان پر تھےکہ اسےلگاجیسےدونوں کمروں کی درمیانی کھڑکی پر ”ٹھک“ کی آواز ابھری ہو۔ ایک لمحےکو وہ رکا۔ پھرتلاوت کرتی اس کی آواز بلند ہو گئی۔ ”ٹھک“ کی آواز پھر ابھری۔ اس نےکان بند کرنےکےلئےان پر ہاتھ رکھ لئی۔تیسری بار آواز ابھری تو اس نے آنکھوں کو اور زور سےبند کر لیا۔ آنکھوں پر زور پڑنےکی دیر تھی کہ چارپائی پر بےسدھ پڑا وہ جوان سراپا اس کےسامنےنمایاں ہو گیا جو تنہائی اور موقع سےمزین تھا۔گھبرا کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ قر آن پاک کےالفاظ پر دھیان جماتےہوئےاس نےصفحہ پلٹا تو لگا جیسےالفاظ اس کی نگاہوں سےاوجھل ہو گئےہوں۔ صفحہ اسےبالکل کورا دکھائی دیا۔ کانوں میں سائیں سائیں ہونےلگی۔ نظروں میں دھند سی پھیلی اور زبان مروڑا کھا گئی۔ دماغ ایک دم سکرین بن گیا جس پر ایک جوان بدن پڑا اسےصدائیں دےرہا تھا۔ اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا چاہا مگر اس کےسامنےکھلےپڑےقر آن پاک کا سامنےکا صفحہ بالکل کورا  بالکل صاف تھا۔ اس پر کچھ لکھاہوا نہ تھا۔اس نےحافظےپر زور دےکر یاد کرناچاہا مگر کچھ یاد نہ آیا کہ وہ کیا اور کہاں سےتلاوت کر رہا تھا ؟
    خوف کی ایک لہر اس کےسارےجسم میں دوڑ گئی۔ یہ کیا ہوا؟ مجھےیاد کیوں نہیں آ رہا کہ میں قر آن پاک کہاں سےدہرا رہا تھا؟ یہ ۔۔۔ یہ صفحات کورےکیوں ہو گئی؟ قر آن پاک کےالفاظ کہاں غائب ہو گئی؟ سنا اور پڑھا تھا کہ قیامت کےقریب قر آن پاک کےالفاظ خود بخود صفحات سےاڑ جائیں گی۔غائب ہو جائیں گی۔ تو کیا قیامت آ گئی؟ کیا۔۔۔؟
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  6. #25
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    اور اس ”کیا “ کے آگےسوچنا اس کےلئےمحال تھا۔ سوچ پر تو وہ جوان جسم قابض تھا جو چارپائی پر پڑا اسےپکار رہا تھا۔
    ”میرےمالک۔“ اس کےپھڑکتےلبوں سےایک سرگوشی آزاد ہوئی۔ ”میرےمعبود۔ میری مدد فرما۔ اپنےحبیب کریم کےصدقےمیں میری آزمائش نہ لی۔ میں تیری کسی آزمائش ‘ کسی امتحان کےقابل نہیں ہوں۔ مجھےمعاف فرما دی۔ مجھےمعاف فرما دی۔ مجھےمعاف فرما دی۔“ اس نےدونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھا ان پر رکھ دیا ۔ سرگوشی مدھم ہوتےہوتےناپید ہو گئی۔
    کتنی ہی دیر گزر گئی۔اس نےسراٹھایا۔ لڑکی کا سراپا ابھی تک اس کےذہن میں رقصاں تھا۔ اس کی بھویں تن گئیں۔ دانت بھینچ کر اس نےایک پل کو کچھ سوچا۔ پھر نجانےکیا ہوا۔ آہستہ سےاس نےگردن کو حرکت دی اور دایاں ہاتھ چراغ کی لو پر سائبان کر دیا۔ لو بھڑکی اور اس کی ہتھیلی چاٹنےلگی۔ اس کی آنسوئوں سےلبریز آنکھیں اپنےہاتھ پر جم گئیں جو چراغ کی لو پر ساکت ہو چکا تھا۔
    گوشت جلنےکی چراند کمرےمیں پھیلی۔ درد کی ایک لہر اس کےسارےبدن میں دوڑ گئی مگر اس درد میں کیا لذت چھپی تھی کہ اسےنشہ سا ہونےلگا۔ اسےلگا جیسےایک دم آنکھوں کےسامنےسےساری دھند چھٹ گئی ہو۔ نظر جھکائی تو کورےکاغذ کا دامن گلاب رنگوں سےپُر دکھائی دیا۔ قر آن پاک کےالفاظ اس کی جانب سر اٹھائےمسکرا رہےتھی۔ قیامت ٹل گئی تھی۔ اسےتوبہ کا وقت مل گیا تھا۔ زبان کی اینٹھن روانی میں بدل گئی۔حافظ اسی مقام پر جا کھڑا ہوا جہاں پر وہ آیت سےجدا ہوا تھا۔
    ہاتھ لو پر جلتا رہا۔ مگر اس جلن میں درد نہ تھا ‘ ایک سرور تھا جو اسےلوریاں دےرہا تھا۔ زخم نہ تھا‘ گلاب تھا جو کھلتا ہی جا رہا تھا۔ منزل ہو رہی تھی یا منزل اس کی جانب خود چل پڑی تھی؟ کون جانی۔ جانےتو بس وہ جانےجو اوپر بیٹھا اپنے آدم کی آزمائش لےرہا تھا۔ فرشتوں کو دکھا رہا تھا اورکہہ رہا تھا:
    ”کیا میں نےکہانہ تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتی۔ وہ دیکھو۔ میرا آدم میری طرف چل کر آ رہا ہےاور مجھےدوڑ کر اس کی طرف جانا ہی۔ اسےگرنےسےپہلےتھام لینا ہی۔ جائو۔ اس کےہاتھ کا ‘ اس کےجسم کا سارا درد سمیٹ کر اس میں وہ مستی بھر دو جس میں صرف میرا ذکر ‘ میرا شکر اور میراامر لو دےرہا ہو۔“
    کھڑکی کےدوسری جانب دم بخود کھڑی لڑکی کےحواس مختل ہو چکےتھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ منظر سما ہی نہ رہا تھا۔ حافظ عبداللہ کا ہاتھ جل رہا تھا۔ گوشت پگھل کر قطرہ قطرہ گر رہا تھامگر اسےجیسےاپنا ہوش ہی نہ تھا۔ وہ جھوم جھوم کر تلاوت کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بندتھیں۔ چہرہ اور اب جسم بھی پسینےمیں یوں بھیگا جا رہا تھا جیسےکسی نےاس پر جگ بھر پانی انڈیل دیا ہو مگر وہ ہر احساس سےبےنیازمنزل کر رہا تھا۔ منزل اس کی جانب بھاگی چلی آ رہی تھی۔
    اسی وقت باہر سے” اللہ اکبر“ کی صدا ابھری۔
    درویش لوٹ آیا تھا۔ وہ فجر کی اذان دےرہا تھا۔
    امتحان کا وقت ختم ہو گیا تھا اور شاید امتحان بھی۔
    یہ صدا اعلان تھی اس بات کا کہ حافظ عبداللہ کامیاب ہو گیا۔
    لڑکی کےکانوں میں اللہ اکبر کی صدا پڑی تو وہ چونکی۔ گھبرا کر درز سےپیچھےہٹی اور دروازےکی طرف لپکی۔ ایک پُرشور آواز کےساتھ دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی۔ کمبل اس کےشانےپر لٹکا ہوا ساتھ ساتھ گھسٹتا آ رہا تھا۔ تقریباً بھاگتی ہوئی وہ دوسرےکمرےمیں داخل ہوئی ۔ دیوانہ وار آگےبڑھی اور نیم بیہوش مگر تلاوت میں محو حافظ عبداللہ کےپاس جا رکی۔
    ”حافظ صاحب۔“ ایک چیخ اس کےلبوں سےنکلی اور اس نےاس کا جلتا ہوا ہاتھ کھینچ کر چراغ کی لو سےپرےہٹادیا۔
    ایک دم حافظ عبداللہ نے آنکھیں کھول دیں اور جیسےہوش میں آ گیا۔ اس کی سرخ سرخ آنکھیں دیکھ کر لڑکی ایک پل کو دہشت زدہ ہوئی پھر اس کی طرف سےنگاہ ہٹا کر اس نےکمبل کےپلو میں حافظ عبداللہ کا چرر مرر ہاتھ لپیٹ لیا۔
    ”یہ آپ نےکیا کیا ؟“ اس کی آواز میں درد ہی درد تھا۔
    ”کیا کیا؟“ حافظ عبداللہ نےمسکرانےکی کوشش کی۔ حواس میں آتےہی درد اس پر پوری شدت سےحملہ آور ہو گیا۔
    ”حی علی الفلاح۔“
    اچانک وہ باہر سے آتی ہوئی درویش کی آواز پر چونکا۔”بابا۔“ اس نےسرسراتےلہجےمیں کہا۔” بابا لوٹ آئی۔“
    ”کون بابا؟“ لڑکی کی آواز اب بھی بھرائی ہوئی تھی۔ وہ کمبل میں لپٹا اس کا ہاتھ تھامےبیٹھی آنسو ضبط کرنےکی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
    مگر حافظ عبداللہ اس کےسوال کا جواب دینےسےپہلےہی غش کھا گیا۔ اب درد کی اذیت اس کی برداشت سےباہر ہو چکی تھی۔
    ”حافظ صاحب۔ ۔۔حافظ صاحب۔“ لڑکی اسےباہوں میں سنبھالتی ہوئی بےاختیار پکارےجا رہی تھی۔
    ”بس۔ “ اچانک ایک آواز سن کر وہ چونکی۔ ایک جھٹکےسےگردن گھما کر اس نےاندر آتےہوئےدرویش کو دیکھا جو تین چار لمبےلمبےڈگ بھر کر اس کےپاس پہنچا اور حافظ عبداللہ کا سر گود میں لےکر بیٹھ گیا۔
    ” آرام کرنےدےاسی۔“ وہ والہانہ حافظ عبداللہ کےچہرےکو دیکھےجا رہا تھا۔ اس کےگالوں پر محبت سےہاتھ پھیر رہا تھا۔ ” سونےدےاسی۔ ساری رات امتحان دیتا رہا ہےپگلا۔ تھک گیا ہی۔ سونےدےاسی۔“
    ”بابا۔ “ لڑکی نےاس سےپوچھنےکی کوشش ہی نہ کی کہ وہ کون ہی۔ وہ اسےاجنبی لگا ہی نہ تھا۔ بالکل ایسا لگا جیسےوہ برسوں سےاسےجانتی ہو۔ ”بابا۔ ان کا ہاتھ۔۔۔“
    ”کیا ہوا اس کےہاتھ کو؟“ درویش نےاس کا ہاتھ کمبل کےپلو سےباہر نکالا۔ پھر جلےہوئےہاتھ کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
    ”بابا۔ انہوں نےدیےکی لو پر اپنا ہاتھ رکھ چھوڑا تھا۔ ہاتھ جلتا رہا مگر انہیں خبر ہی نہ ہوئی۔ وہ تو میں نہ آ کر ہٹاتی تونجانےکیا ہو جاتا۔“ وہ مزید سہہ نہ سکی اور سسک کر رو پڑی۔
    ”پگلی ہےتو بھی۔“ درویش نےاس کےسر پر تھپکی دی۔” کچھ نہیں ہو گا اسی۔ میرا اللہ چاہےتو ابھی اس کا ہاتھ یوں ہو جائےجیسےاس پر کبھی کوئی خراش تک نہیں آئی مگر۔۔۔“
    ”مگر کیا بابا؟“ لڑکی نےبیتابی سےپوچھا۔
    ”مگر میرا اللہ چاہتا ہےکہ حافظ عبداللہ کا ہاتھ دوا سےٹھیک ہو۔ اس کا نقص باقی رہے۔ یہ عیب والا ہو جائی۔“
    ”وہ کیوں بابا؟“ وہ سوال پر سوال کئےجا رہی تھی اور درویش اس کےہر سوال کا جواب یوں دےرہا تھا جیسےکوئی باپ اپنی بیٹی سےلاڈ کررہا ہو۔
    ”اس لئےپگلی کہ اپنےاللہ سےمحبت کا یہ نشان اس کےہاتھ پر باقی رہی۔ اسےاور تجھےیاد رہےکہ یہ ہاتھ کیوں اور کیسےجلا تھا؟“
    ”میں سمجھی نہیں بابا؟“ ایک دم لڑکی کا ذہن جیسےسلیٹ کی طرح صاف ہو گیا۔
    ”کیا تو نہیںجانتی کہ حافظ نےاپنا ہاتھ جلتےچراغ کی لو پر کیوں رکھ دیا تھا؟“ اچانک درویش کا لہجہ عجیب سا ہو گیا۔ ”شیطان آ گیا تھا اس کےپاس۔ شیطان جو آگ سےبنا ہے۔ نفس کی آگ کو حافظ عبداللہ نےاپنےاللہ کےحکم پر نور کےالائو میں دھکیل دیا۔ نفس جل گیا ۔ شیطان خاک ہو گیا۔ نور باقی رہا۔ اب اس نور کا نشان تاعمر میرےحافظ کےہاتھ پر باقی رہی‘ اس کےاللہ کی نشانی اس کےپاس رہی‘ یہی اس کےمعبود کی رضا ہی۔ سمجھیں پگلی۔“ درویش نےاس کی جانب پیار سےدیکھا۔
    ”ہاں بابا۔“ لڑکی کی آواز جیسےکسی گہرےکنویں سے آئی۔’ ’سب سمجھ گئی۔ “ اس کی نگاہیں جھک گئیں۔رات بھر کی ساری کیفیات ایک پل میں اس کی نظروں میں پھر گئیں۔ اس کی ساری بدگمانیاں شرمندگی کا پسینہ بن کر اس کی پیشانی سےبہہ نکلیں۔ وہ حافظ عبداللہ کی حرکات سےکیا اخذ کرتی رہی اور حقیقت کیا تھی؟ یہ جان کر اسےخود پر شرم آ گئی۔
    ”کمبل سےاپنا جسم ڈھانک لےپگلی۔ سردی لگ جائےگی۔“ درویش نےحافظ عبداللہ کو بازئووں میں اٹھا تےہوئےکہا تو وہ چونکی۔ کمبل کو جسم پر ٹھیک سےلپیٹا ۔پھر اس کےپیچھےپیچھےوہ بھی دوسرےکمرےمیں آ گئی۔
    درویش نےحافظ عبداللہ کو چارپائی پر لٹایا۔ جلتا ہوا چراغ اٹھا کر لایا اور چارپائی کےپاس نیچےکچےفرش پر رکھ دیا۔
    ”میں نماز پڑھ لوں ۔ تم اتنی دیر اس کےزخم پر چراغ کا تیل چپڑتی رہو۔باقی کا علاج صبح گائوں جا کر ہو جائےگا۔“
    درویش کمرےسےنکل گیا۔
    لڑکی نےایک پل کو کچھ سوچا۔ پھر چارپائی کی پٹی سےلگ کر زمین پر بیٹھ گئی۔ حافظ عبداللہ کا جلا ہوا ہاتھ تھام کر اس نےدوسرےہاتھ کی انگلیوں سےچراغ سےتیل لیا اور زخم پر چپڑنےلگی۔ وقفےوقفےسےوہ اس کےچہرےپر بھی نظر ڈال لیتی ‘جہاںسکون کا ایک عالم آباد تھا۔ ایساملکوتی سکون اسےپہلےکہاں دیکھنا نصیب ہوا تھا؟
    ٭
    ”میرا نام سکینہ ہےجی۔“ لڑکی نےکہا ۔”میں سائیاں والا کےمیاں اشرف کی بیٹی اور میاں نذرو کی بھتیجی ہوں۔“
    ”اری۔“ چوہدری حسن دین چونکا۔ ”پھر تو تُو میری بیٹی اور بھتیجی ہوئی۔میاں نذرو تو میرےبڑا یارہی۔ “
    ”چلئی۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ یہ آپ کےجاننےوالوں کی کچھ لگتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہےکہ میری ذمہ داری ختم ہوئی۔ اب آپ انہیں ان کےگھر بھجوانےکا انتظام کر دیں چوہدری صاحب۔“ حافظ عبداللہ نےمفلر کےساتھ گلےمیں لٹکےہاتھ کو دوسرےہاتھ سےچھوتےہوئےکہا جس پر کچھ دیر پہلےگائوں کےاکلوتےڈاکٹر جمع حکیم‘ مرزا امیر حسین نےڈریسنگ کی تھی۔
    پو پھٹتےہی درویش نےان دونوں کو گائوں کےراستےپر خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ سورج نکل رہا تھا جب وہ دونوں چوہدری حسن دین کی حویلی جا پہنچی۔ اندر خبر کی گئی تو فوراً ان دونوںکو بیٹھک میں بٹھایا گیا۔ رفاقت اور چوہدری حسن دین آئےتو حافظ عبداللہ نےمختصر لفظوں میں انہیں ساری بات بتائی۔ مسجد سےغیر حاضری کی وجہ بھی سامنے آ گئی۔اب آخر میں جب سکینہ نےاپنا نام اور پتہ بتایا تو سارا مسئلہ ہی حل ہو گیا۔
    ”سکینہ بیٹی۔تم اندر جائو۔ نہا دھو کر کپڑےبدلو۔ میں اتنی دیر میں تمہارےچچا کو خبر کرتا ہوں۔ ہاں‘ یہ تو بتائو کہ تم کب سیلاب کےپانی میں گریں؟“
    ”کل صبح چوہدری صاحب۔ “ سکینہ نےجواب دیا اور جھرجھری لےکر رہ گئی۔ ”میں اپنی دو سہیلیوں کےساتھ پُل پر کھڑی سیلاب کےپانی کا تماشہ دیکھ رہی تھی کہ پائوں پھسل گیا۔ وہ دونوں شور مچاتی کسی کو مدد کےلئےبلانےبھاگیں ۔ میں ڈوبتےڈوبتےایک درخت کےتنےسےجا چمٹی جو نجانےکہاں سےبہتا چلا آ ر ہا تھا۔ پانی نےمیرےحواس چھین لئےاور میں بےسدھ ہو گئی۔ ہوش آیا تو بابا شاہ مقیم کےمزار پر تھی۔“
    ”بس بیٹی۔ یہ اللہ والوں کی کرامتیں ہیں۔ایک تو تیری جان بچ گئی اوپر سےحافظ عبداللہ جیسےنیک بندےکےہاتھ لگ گئیں۔ اگر کہیں غلط ہاتھوں میں پڑ جاتیں تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔“چوہدری حسن دین نےکانوں کو ہاتھ لگاتےہوئےکہا۔” اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائےکم ہی۔“
    ”جی۔“ سکینہ نےکرسی پر سر جھکائےبیٹھےحافظ عبداللہ کی طرف عجیب سی نظروں سےدیکھا ۔
    ”نادرہ کو بلائو۔“ چوہدری حسن دین نےرفاقت سےکہا۔
    ”جی ابا جان۔“ رفاقت اٹھا اور کمرےسےنکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنےساتھ چودہ پندرہ سالہ صحتمند اور ہنستی کھیلتی نادرہ کو لئےواپس آیا۔
    ”سلام حافظ صاحب۔“ اس نےاندر داخل ہو کر حافظ عبداللہ کو سلام کیا۔ حافظ عبداللہ نےجواب دیتےہوئےاس کےسر پر پیار سےہاتھ پھیرا۔
    ”نادرہ پتر۔ سکینہ بہن کو اندر لےجا۔ اسےنہلا دھلا کر اس کےکپڑےبدلوا۔ ناشتہ واشتہ کرا اور آرام کرنےکےلئےبستر میں گھسا دی۔ یہ بہت تھکی ہوئی ہی۔“
    ”جی ابا۔“ نادرہ نےاپنی چمکتی ہوئی آنکھیں مٹکائیں۔ ”مگر یہ ہیں کون؟“
    ”میرےایک مرحوم دوست کی بیٹی ہی۔ یہ کل سیلاب کےپانی میں بہہ گئی تھی۔ تیرےاستاد صاحب نےاسےبچا لیا ۔“
    ”بچانےوالی تو اللہ کی ذات ہےچوہدری صاحب۔“ حافظ عبداللہ نےجلدی سےکہا۔
    ”ہاں جی۔ مگر کوئی حیلہ وسیلہ بھی تو ہوتا ہےناں۔ “ چوہدری حسن دین نےزور دےکر کہا۔” اب وہ خود تو نیچےاتر کر اسےپانی سےنکالنےسےرہا۔ آپ کو بھیج دیا کہ جا بھئی۔ اپنا فرض ادا کر۔“
    حافظ عبداللہ مسکرا کر خاموش ہو رہا۔نادرہ ‘ سکینہ کو اندر لےگئی۔
    ”رفاقت۔ یار سائیاں والا تک کا راستہ تو سارا سیلاب کےپانی میں ڈوبا ہوا ہی۔ وہاں فون کی سہولت بھی موجود نہیں۔ اب نذرو کو خبر کیسےکی جائی؟“
    ”اباجان۔“ رفاقت نےکمرےمیں داخل ہوتےملازم کےہاتھ سےناشتےکی ٹرےتھام کر حافظ عبداللہ کے آگےتپائی پر رکھی اورچوہدری حسن دین سےمخاطب ہوا۔ ”وجاہت آباد کےراستےسائیاں والاپہنچا جا سکتا ہی۔“
    ”یار۔ بڑا لمبا ہو جائےگا راستہ۔“ چوہدری حسن دین نےسوچ میں ڈوبےلہجےمیں کہا۔
    ”اب کا م تو یہ کرنا ہےابا جان۔ راستہ لمبا ہو یا چھوٹا۔ جانا تو پڑےگا۔“رفاقت کہہ کر حافظ عبداللہ سےمخاطب ہوا۔” حافظ صاحب۔ آپ ناشتہ شروع کیجئی۔ سوچ کیا رہےہیں؟“
    ”کچھ نہیں یار۔ سوچنا کیا ہی؟“ حافظ عبداللہ نےبایاں ہاتھ آگےبڑھایا۔ پھر واپس کھینچ لیا۔”یہ بائیں ہاتھ سےکھانا کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔“
    ”اب یہ تو مجبوری ہےحافظ صاحب۔“ چوہدری حسن دین نےہمدردی سےاس کی جانب دیکھا۔ ” ہاں۔ اگر آپ کی شادی ہو گئی ہوتی تواور بات تھی۔ پھر آپ کی بیگم لقمےبنا بنا کر آپ کو کھلاتیں اور آپ دعا کرتےکہ آپ کا ہاتھ ذرا دیر سےٹھیک ہو۔“ مزاح کی عادت سےمجبورچوہدری حسن دین رہ نہ سکا اور گوہر افشانی کرنےلگا۔ بات ختم کر کےوہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ حافظ عبداللہ جھینپ کر رہ گیا۔ رفاقت نےاستاد کو شرمندہ ہوتےدیکھا تو مسکرا کر منہ پھیر ا اور ذرا پرےجا بیٹھا۔ ”مگر آپ نےکیسی لاپروائی دکھائی کہ سوتےمیں ہاتھ جلتےچراغ پر دےمارا۔ اگر کہیں چراغ کپڑوں پر آگر تا تو۔۔۔“
    ”بس چوہدری صاحب۔ سوتےمیں کیا پتہ چلتا ہی۔“ حافظ عبداللہ نےکہا اور بائیں ہاتھ سےبہ امر مجبوری پراٹھا توڑنےلگا۔اس نےہاتھ جلنےکےبارےمیں یہی بتایا تھا کہ سوتےمیں پتہ نہ چلا اور ہاتھ جلتےچراغ پر جا پڑا۔ پھر جب تک وہ سنبھلتا آگ نےہاتھ جلا ڈالا۔ مرزا امیر حسین نےزخم دیکھ کر کہنا چاہا تھا کہ لگتا ہےبہت دیر تک ہاتھ آگ پر پڑا رہا ہی۔ تاہم حافظ عبداللہ نےبات کو ہوں ہاں میں ٹال دیا۔
    ناشتہ کر کےحافظ عبداللہ نےاجازت لی اور مسجد کو چل دیا۔ کچھ دیر بعدچوہدری حسن دین نےاپنےایک ملازم شفیق مصلی کو میاں نذرو کی طرف روانہ کرتےہوئےکہا۔
    ”وجاہت آباد کےملک بلال کو تم خوب جانتےہو ۔میں دیر سےاس کا فون ٹرائی کر رہا ہوں مگر رابطہ نہیں ہو رہا۔ شاید بارش کی وجہ سےلائنیں ڈسٹرب ہو گئی ہیں۔ تم اس سےجا کر ملنا۔ اگر آگےراستہ صاف نہ ہوا تو وہ تمہاری ہر ممکن مدد کرےگا۔ اور اگر صاف ہوا تو وہاں زیادہ ٹھہرنےکی ضرورت نہیں۔ جتنی جلدی ہوسکی‘ میاں نذرو سےجا کر ملو اور اسےبتائو کہ اس کی بھتیجی یہاں ہمارےپاس ہےاور بالکل خیر خیریت سےہی۔ جب چاہیں آ کر لےجائیں ۔ وہاں فون کی لائن ابھی تک بچھی نہیں ‘ ورنہ میں جناب کو تکلیف نہ دیتا۔راستہ رکا ہوا نہ ہوتا تو میں خود ہی سکینہ بیٹی کو چھوڑ آتا ۔سمجھ گیا یا سب کچھ لکھ کر دوں دُن وٹی؟“ چوہدری حسن دین نےاس کےچہرےپر بکھری حماقت سےبیزار ہو کر کہا۔
    ”سمجھ گیا ہوں جی۔“ شفیق مصلی بولا تو ساری حماقت اس کےچہرےسےچھٹ گئی۔ معلوم ہوا کہ جب تک چپ رہتا احمق لگتا تھا مگر زبان کھلتےہی وہ سمجھدارلگنےلگتا تھا۔” آپ فکر نہ کریں۔ جیسا آپ نےکہا ہی‘ ویسا ہی ہو گا۔“
    ”تو بس۔ اب چل دےمیرےٹٹو۔تجھےسائیکل پر جانا ہےاور راستہ کافی طویل ہی۔“ چوہدری حسن دین کرسی سےاٹھ کھڑا ہوا۔ ” ویسےتو وجاہت آباد کب تک پہنچےگا‘ اس وقت بارہ بجےہیں دن کی۔“
    ”ڈیڑھ دو گھنٹےکا راستہ تو ہےجی۔ بس زیادجہ سےزیادہ دو بجےتک پہنچ جائوں گا۔“
    ”ٹھیک ہی۔ اگر کوئی خاص بات ہوئی تومجھےفون پر آگاہ کرنا۔ بس اب روانہ ہو جا اللہ کا نام لےکر۔“
    ”جی چوہدری صاحب۔“ شفیق مصلی نےسلام کیا اور باہر نکل گیا۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  7. #26
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    دوپہر کےکھانےکےبعد طاہر حویلی سےکچھ دور ڈیرےمیں بیٹھا بلال ملک اور چند دوسرےلوگوں کےساتھ بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا۔ موضوع بحث عادل اور زبیدہ تھےجن کی شادی کا معاملہ ایسےاحسن انداز میں طےہو ا تھا کہ سب لوگوں پر طاہر کی معاملہ فہمی اور فراخ ذہنی کی دھاک بیٹھ گئی ۔
    ”ملک صاحب۔ نور پور سےچوہدری حسن دین کا آدمی آیا ہےاور آپ سےملنا چاہتا ہی۔“ دروازےسےاندر داخل ہوتےایک ملازم نےکہا۔
    ”اوہو۔“ ملک سیدھا ہو بیٹھا۔ ” خیر تو ہی۔“
    ”پتہ نہیں جی۔ بس آپ سےملنےکو کہتا ہی۔“
    ”تو بھیجو اسےاندر۔ سوچ کیا رہےہو؟“ ملک نےڈپٹ کر کہا۔
    ”جی ملک صاحب۔“ ملازم لوٹ گیا۔
    کچھ دیر بعد شفیق مصلی نےاندر داخل ہوکر بلند آواز میں سب کو سلام کیا۔ جواب میں سب نےوعلیکم السلام کہا۔طاہر خاموشی سےصوفےپر نیم دراز سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔
    ” آئو بھئی شفیقی۔ خیریت تو ہی؟“ ملک نےاسےپہچان لیا۔ملک نےاسےبیٹھنےکا اشارہ کیا۔
    ”جی ملک صاحب۔ سب خیر ہےاور چوہدری صاحب بھی خیریت سےہیں۔ ایک ضروری کام سے آیا ہوں جی۔“ وہ ایک موڑھےپر ٹک گیا۔
    ”ہاں ہاں۔ کہو۔ کیا بات ہی؟“
    جواب میں شفیق مصلی نےاسےچوہدری حسن دین کےپیغام سے آگاہ کیا۔ طاہر اس کی بات سنتا رہا اور غور کرتا رہا۔
    ”راستہ تو آگےکا صاف ہی ہےشفیقی۔پھر بھی کسی قسم کی مدد درکار ہو تو بتائو۔“
    ”نہیں جی۔ آپ کو چوہدری صاحب کا سلام دینا تھابس۔ اگر راستہ صاف ہےتو پھر مجھےچلنا چاہئی۔“
    ”او نہ بھئی۔ یہ کیسےہو سکتا ہی۔ تو ہمارےبابا جی کےگائوں سے آیا ہی۔“ عقیدت سےملک نےسر خم کر کےکہا۔ ”لسی پانی کےبغیر کیسےجائےگا تو۔ اوئےکرامت۔“ ملک نےدور بیٹھےایک آدمی کو پکارا۔
    ”جی ملک صیب۔“ وہ اٹھ کر قریب چلا آیا۔
    ”شفیقےکو ساتھ لےجا۔ اس کی خوب ٹہل سیوا کرکےجانےدینا اسی۔کوئی کسر رہ گئی تو بابا شاہ مقیم کو جانتا ہےناں؟“ ملک نےاسےخوف دلایا۔
    ”فکر نہ کریں ۔ آپ کو کوئی شکایت نہیں ملےگی ملک صیب۔“ کرامت نےڈرےڈرےلہجےمیں کہا اور شفیق سب کو سانجھا سلام کر کےاس کےساتھ رخصت ہو گیا۔
    ”ملک۔ بابا شاہ مقیم کےمزار پر اپنا کوئی بندہ ہی جڑ دینا تھا ۔ وہاں کی دیکھ بھال سےہمارا بھی اندر دھلتا رہتا۔“ طاہرنےسیدھا ہو کر بیٹھتےہوئےکہا۔
    ”اب اس کی ضرورت نہیں رہی چھوٹےمالک۔ ایک اللہ والےنےوہاں کا چارج سنبھال لیا ہی۔“
    ” یہ کب کی بات ہی؟“طاہر نےحیرت سےپوچھا۔
    ”کافی عرصہ ہو گیا جی۔ بس وہاں کا ذکر نہیں آیا تو آپ کو خبر نہ ہوئی۔“
    ”اچھا۔ کیسا اللہ والاہےوہ‘ جس نےبابا کےدل میں گھر کر لیا۔ وہ تو کسی کو اپنےمزار پر ٹکنےہی نہیں دیتی۔“
    ”بس جی۔ یہ کوئی ان کا دُلارا لگتا ہےجو دھونی رمائےبیٹھا ہےوہاں۔“
    ”اچھا۔ پھر تو ملنا چاہئےاسی۔“ طاہر کےلہجےمیں دلچسپی عود کر آئی۔
    ”جب حکم کریں ‘ چلےچلیں گےجی۔ “
    ”کل صبح چلیں؟“ طاہر نےفراغت کےوقت کا بہترین استعمال سوچ لیا۔ وہ پچھتا رہا تھا کہ جب سے آیا ہےاسےبابا شاہ مقیم کےمزار پر جانےکا خیال کیوں نہ آیا۔ پچھلےتین چار سال سےمصروفیت کےباعث وہاں نہ جانےکی کوتاہی تو ہو رہی تھی اس سی‘ مگر اس بار تو وہ بالکل فارغ تھا۔ اسے آتےہی وہاں جانا چاہئےتھا۔
    ”ٹھیک ہےجی۔ میں انتظام کرا لیتا ہوں۔“ ملک نےسر ہلاتےہوئےکہا۔ ”صبح سات آٹھ بجےنکل چلیں گی۔ سہ پہر تک لوٹ آئیں گی۔“
    ”ٹھیک ہی۔ تم تیاری کر لو۔ اور ہاں۔ سالانہ عرس پر تو ہمارا حصہ جا رہا ہےناں وہاں؟“
    ”یہ بھی کوئی پوچھنےکی بات ہےچھوٹےمالک۔“ ملک مسکرایا۔ ” بڑےصاحب کےزمانےسےجو معمول بندھا تھا‘ برابر جاری ہی۔ بیگم صاحبہ نےکبھی اس میں کوتاہی آنےدی ہےنہ کمی۔“
    ”ایسا ہی ہونا چاہئی۔ “ اس نےسر ہلایا۔” بہت بڑی ہستی ہیں بابا شاہ مقیم۔“
    ”ہاں جی۔ اس میں کیا شک ہی؟“ ملک نےتائید کی۔
    پھر بابا شاہ مقیم کی باتیں چھڑیں تو وقت گزرنےکا احساس اس وقت ہوا جب حویلی سےسہ پہر کی چائےکا پیغام آ گیا۔
    طاہر حویلی چلا گیا اور ملک چند ملازموں کےساتھ اپنے آفس نما کمرےمیں‘ جو ڈیرےکی حدود میں ہی واقع تھا۔ اسےصبح کےسفر کی تیاری کرنا تھی۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  8. #27
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    میاں نذرو اپنےبیٹےسلیم اور سکینہ کی ماں تاج بی بی کےساتھ اگلےدن چوہدری حسن دین کےہاں پہنچ گیا۔ شفیق مصلی انہیں حویلی چھوڑ کر رخصت ہو گیا۔ وہ لوگ اپنےشاہی تانگےپر آئےتھی۔ شفیق مصلی سائیکل پر ان کےساتھ ساتھ چلتا رہا تھا۔
    تاج بی بی کی بےچینی کےپیش نظر وہ تو رات ہی کو پہنچ جاتےمگر شفیق مصلی نےانہیں خوب تسلی دےکر اس بات پر آمادہ کرلیا کہ صبح نور کےتڑکےنکلنا چاہئے۔ رات کا سفر خراب راستےکےباعث مناسب نہیں ہی۔ رات جیسےتیسےگزار کر وہ فجر کی نماز کےفوراً بعد ناشتہ کر کےچل پڑےاور آٹھ بجےکےقریب یہاں آن پہنچی۔
    ان کےملنےکا منظر بڑا دلگداز تھا۔ سکینہ‘ ماں اور چچا کےگلےلگ کر بچوں کی طرح روئی۔ تاج بی بی اسےپیار کرتےنہ تھکتی تھی۔ سلیم نےبھی سر پر پیار دیا اور اسےسینےسےلگا کر آبدیدہ ہو گیا۔
    ”مر جانئی۔ اگر تجھےکچھ ہو جاتا تو تیرا یہ بھائی کس کی ماں کو ماسی کہتا۔“ اس نےبھرائی ہوئی آواز میں کہا اور روتےہوئےچہروں پر مسکراہٹیں کھیل گئیں۔
    ”واہ بھئی واہ۔“ چوہدری حسن دین نےسلیم کی جانب دیکھ کر قلقاری ماری۔ ” تم تو اپنی برادری کےلگتےہو۔ روتےبھی ہو تو سُر میں۔“
    ”بس چاچا۔ یہ رونق ہےہمارےگھر کی۔“ اس نےسکینہ کے آنسو پونچھتےہوئےکہا۔ ”اسےکیا پتہ ‘ ہم نےکل رات تک کا وقت کیسےگزارا ہی؟ اس کی تلاش میں دریا کی تہہ کہاں کہاں تک نہیں کھنگالی ہم نی۔ وہ تو آپ کا بندہ پہنچا تو جان میں جان آئی۔“
    ”شکر کرو بھائی رب سوہنےکا کہ اللہ نےحافظ عبداللہ کو رحمت کا فرشتہ بنا کر وہاں بھیج رکھا تھا۔ ورنہ یہ پتہ نہیں کہاں جا کر رکتی۔ درخت تو اس نےکرائےپر لےہی لیا تھا۔“
    ”چاچا۔“ سب کےقہقہےپر سکینہ نےشرما کر چوہدری حسن دین کی طرف شکایتی نظروں سےدیکھا۔
    ”ارےبیٹی۔ انہیں ہنس لینےدی۔ پتہ نہیں تیرےلئےکتنا روئےہیں؟“ چوہدری حسن دین نےنرمی سےاسےسمجھایا تو وہ ایک بار پھر ماں سےلپٹ گئی۔
    ”اور سنا بھئی چوہدری۔ کیسی گزر رہی ہی؟“ میاں نذرو اس کی طرف سیدھا ہوا۔
    ”بتاتا ہوں ۔ پہلےتم لوگ کچھ اَن پانی چھک لو۔“ چوہدری حسن دین نےرفاقت اور نادرہ کےساتھ ملازم کو کھانےپینےکی اشیا لےکر اندر آتےدیکھ کر کہا۔
    ”بھابی کہاں ہی؟ “ میاں نذرو نےذرا دیر بعد پوچھا۔
    ” میکےگئی ہی۔“ چوہدری حسن دین نےمنہ بنا کر کہا۔ ” بوڑھی ہو گئی پر اس کا میکےکا چسکا نہ گیا۔ ایک دو دن کا کہہ کر جاتی ہےاور سات دن بعد لوٹتی ہی۔“
    ”ناراض نہ ہوا کر یار۔“ میاں نذرو نےمٹھائی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔” اب تک تو تجھےاس کا عادی ہو جانا چاہئےتھا۔“
    ”عادی تو ہو گیا ہوں یار مگر اکثر یہ ہوتا ہےکہ بڑےاہم موقع پر وہ گھر میں موجود نہیں ہوتی۔ اب یہی دیکھ لو کہ تم لوگ آئےہو اور وہ ۔۔۔“
    ”اچھا چھوڑ۔ یہ بتا ‘رفاقت کی شادی کب کر رہا ہی؟اب تو یہ ماشا ءاللہ جوان ہو گیا ہی۔“ میاں نذرو نےبات کارخ بدلنا چاہا۔
    ”میں اس کےلئےایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں جس کےمیکےوالےسب کےسب اللہ تعالیٰ کےمہمان ہو چکےہوں۔ تاکہ یہ میری طرح بیوی کی راہ نہ تکتا رہی۔“ اس نےبیزاری سےکہا۔
    ”خیر کی بات نکال منہ سی۔“ میاں نذرو نےاسےسرزنش کےانداز میں کہا۔ ”ہنستےبستےگھروں میں جانا آنا لگا ہی رہتا ہی۔ تو تو بالکل ہی ۔۔۔“
    ”اچھا اچھا۔ “ چوہدری حسن دین نےاس کی بات کاٹ دی۔ ” اب بس۔ تم لوگ آئےکس کام سےہو اور لگ کس کام میں گئےہو۔ چلو ۔ کھانا پینا ہو جائےتو ذرا تم لوگوں کو گائوں کی سیر کرائوں۔“
    ”گائوں کی سیر؟“ میاں نذرو حیرت سےبولا اور چائےکا کپ ہاتھ سےرکھ دیا۔ ”بھائی۔ ہم کیا کراچی سے آئےہیں جو ہمیں گائوں کی سیر کرائےگا؟ جیسا ہمارا گائوں ہےویسا ہی یہ گائوں ہی۔ پھر کون سی خاص چیز ہےیہاں ‘ جسےدیکھنےکےلئے۔۔۔“
    ”ایک خاص چیز تو حافظ عبداللہ ہےابا جی۔ ہمیں سب سےپہلےاس کا شکریہ ادا کرنےکےلئےاس کےپاس جانا چاہئی۔“ اچانک سلیم نےکہا تو وہ سب اپنے آپ کو مجرم سا محسوس کرنےلگی۔ یہ کام تو انہیں آتےہی کر لینا چاہئےتھا۔
    ”خوش کیتا ای پُتر۔“ چوہدری حسن دین نےاسےتحسین آمیز نظروں سےدیکھتےہوئےکہا۔ ” واقعی۔ یہ بات تو میرےبھی ذہن سےنکل گئی۔ میں تو تم لوگوں کو بابا شاہ مقیم کےمزار پر لےجاناچاہتا تھا‘ جن کی دعا برکت سےسکینہ بیٹی کی جان بچی۔ یہ میرا اپنا خیال ہی۔ آپ لوگوں کا میرےمراسلےسےمتفق ہونا ضروری نہیں۔“
    ”ہم اس سےبالکل اتفاق کرتےہیں بھائی جی۔ “ تاج بی بی نےپہلی بار زبان کھولی۔ ”ایسےاللہ والوں ہی کی وجہ سےتو دنیا آباد ہی۔ ہمیں وہاں ضرور جانا چاہئی۔“
    ”مگر پہلےحافظ عبداللہ۔۔۔“ سلیم نےاشتیاق سےکہا۔وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہےجس نےاس کی بہن کی جان بچائی۔ وہ اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔
    ”تو ٹھیک ہی۔ “ چوہدری حسن دین اٹھ گیا۔ ”چلو ۔ اس کی مسجدمیں چلتےہیں۔“
    ”کس کی مسجد میں جا رہےہیں ابا جان؟“ رفاقت نےاندر داخل ہوتےہوئےپوچھا۔
    ”حافظ عبداللہ کی مسجد میں بیٹی۔“
    ”مگر وہ تو مسجدمیں نہیں ہیں۔“ رفاقت نےبتایا۔
    ”تو پھر کہاں ہیں؟“
    ”بابا شاہ مقیم کےمزار پر۔ میں فجر پڑھنےگیا توانہوں نےمجھ سےکہا کہ ظہر کےوقت تک لوٹ آئیں گی۔“
    ”چلو۔ یہ بھی ٹھیک ہی۔ وہاں تو ہمیں جانا ہی تھا۔ وہیں مل لیں گی۔ کیوں میاں گھگو؟“ اس نےمیاں نذرو کا پھلکا اڑایا۔
    ”ہاں ہاں۔ وہیں چلےچلتےہیں۔“ میاں نذرو نےاس کی بات اَن سنی کر دی تاکہ اور زیادہ مذق کا نشانہ نہ بننا پڑی۔تاج بی بی بھی کھڑی ہو گئی۔
    ”سکینہ۔“ اس نےکسی سوچ میں ڈوبی بیٹی کا شانہ ہلایا۔ ”تو بھی چل۔“
    ” آں ۔۔۔ہاں۔“ وہ جیسےکسی خواب سےچونکی۔”کہاں اماں؟“
    ”کہاں کھوئی ہوئی ہےدھی رانی؟ “ میاں نذرو نےپیار سےاسےمخاطب کیا۔ ”ہم بابا شاہ مقیم کےمزار پر جا رےہیں۔ حافظ عبداللہ سےبھی وہیں مل لیں گی۔“
    ”ٹھیک ہےچاچا۔ میں بھی چلتی ہوں۔“ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ تاج بی بی نےصاف محسوس کیا کہ وہ اب بھی کسی سوچ میں ہی۔مگر کس سوچ میں؟ یہ تو شاید سکینہ کو خود بھی معلوم نہ تھا۔
    تھوڑی دیر بعد تاج بی بی‘ سکینہ‘ سلیم اور چوہدری حسن دین میاں نذرو کےشاہی تانگےمیں سوار بابا شاہ مقیم کےمزار کی طرف جا رہےتھی۔
    ٭
    دن تو جیسےتیسےگزر گیا مگر رات کا اکثر حصہ حافظ عبداللہ نےجاگ کر گزارا۔
    پچھلی رات جو کچھ اس کےساتھ پیش آیا تھا‘ وہ ایسا انہونا تھا کہ وہ اب تک خود کو خواب کی کیفیت میں محسوس کر رہا تھا۔ درویش تو ایسا اس کےخیالوں پر سوار ہوا کہ ایک پل کو وہ اس کی طرف سےدھیان ہٹاتا ‘ دوسرےپل وہ پھر آ دھمکتا۔ رہ گئی سکینہ‘ تو اس کےتصور میں آتےہی اس کےہاتھ کا زخم دل میں ٹیس سی دوڑا دیتا۔ اس کا جی چاہتا وہ آنکھیں بند کئےپڑا ”سکینہ سکینہ “ کا ورد کرتا رہی۔
    فجر کی اذان کا وقت ہو ا تو وہ آدھا جاگا آدھا سویاایک دم اٹھ بیٹھا۔ لاحول پڑھ کر جسم پر پھونک ماری اور رفع حاجت کےبعد وضو کےلئےمسجد کےچھوٹےسےوضو خانےمیں آگیا۔ مرزا امیر حسین نےاسےزخم پر پانی ڈالنےسےمنع کیا تھا۔ ویسےبھی ہاتھ میں حرکت دینےسےدرد جاگ اٹھتا تھا۔ اس نےدائیں ہاتھ کا مسح کیا اور باقی وضومکمل کر کےاذان کےلئےمسجد کی چھت پر چلا گیا۔
    اذان کےبعد دعا مانگ کر وہ نیچے آنےکےلئےسیڑھیوں کی طرف چلا تو ٹھٹک کر رک گیا۔ دور ‘ نور پور سےباہر بابا شاہ مقیم کا مزار جیسےاسےصدا دےرہا تھا۔ اس نےسوچا کہ درویش نےبھی وہاں اذان دی ہو گی۔درویش کا خیال آتےہی اس کا جی چاہاکہ وہ سب کام چھوڑ کر اس کےپاس چلا جائی۔ اس کی انوکھی‘ اسرار سےلبالب باتیں جسم میں سنسنی سی پیدا کر دیتی تھیں۔ ایک بار پھر تصور ہی تصور میں وہ کمرہ امتحان میں پہنچ گیا۔ جہاں چارپائی پر سکینہ پڑی تھی‘ دروازےمیں درویش کھڑا تھا اور وہ خود سراپا حیرت بنا درویش کی باتیں سن رہا تھا۔
    اسی وقت بڑی مدھم سی ”اللہ اکبر“ کی ندا اس کےکانوں سےٹکرائی۔ اس کا سارا جسم لرز گیا۔ درویش اذان دےرہا تھا۔ حافظ عبداللہ کا دل سینےمیں کسی پنچھی کی طرح پھڑپھڑایا اور سانس لینا دوبھر ہو گیا۔اذان ختم ہونےتک وہ آنکھیںبند کئےکھڑا کانپتا رہا۔ پھر جونہی درویش نے آخرمیں ”لا الہٰ الا اللہ“ کہا ‘ حافظ عبداللہ بید ِ مجنوں کی طرح لرزتا کانپتا چھت سےنیچےاتر آیا۔
    فجر کی نماز میں بمشکل سات آٹھ نمازی تھی‘ جن میں رفاقت بھی شامل تھا۔ نماز کےبعد وہ لوگ اس کی خیریت دریافت کرتےہوئےرخصت ہو گئی۔ اس نےکسی کو نہ بتایا کہ کل رات وہ کہاں تھا۔ بس ایک ضروری کام کا کہہ کر ٹال دیا۔ ہاتھ جلنےکےبارےمیں اس کی جگہ رفاقت نےسب کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ جلتےچراغ پر ہاتھ جا پڑا تھا۔
    پو پھٹ رہی تھی جب رفاقت نےاس سےاجازت چاہی۔
    ”رفاقت۔ میں بابا شاہ مقیم کےمزار پر جا رہا ہوں۔ ظہر تک لوٹ آئوں گا۔ اگر مجھےدیر ہو گئی تو اذان دےدینا‘ جماعت میں خود آکےکرائوں گا۔“
    ”ٹھیک ہےحافظ صاحب لیکن آپ اتنی صبح صبح۔۔۔ ذرا دن چڑھےچلےجائیےگا۔“ رفاقت نےرواروی میں کہا۔
    ”نہیں یار۔“ حافظ عبداللہ نےسر پر ٹوپی درست کرتےہوئےجواب دیا۔ ” بس ۔ دل اکھڑ سا گیا ہی۔ وہاں جائوں گا تو سکون ملےگا۔ “
    ”جیسے آپ کی مرضی جی۔ اور ناشتہ؟“ اچانک رفاقت کو یاد آ گیا۔
    ”وہ میں کر لوں گا۔رات کا کھانا بچا پڑا ہی۔“ حافظ عبداللہ نےجلدی سےکہا۔
    ”میں ابھی دس منٹ میں لے آتا ہوں جی۔“
    ”نہیں بھئی۔ “ حافظ نےہاتھ اٹھا کر اسےحتمی طور پر روک دیا۔”میں کر لوں گا۔تم جائو۔ ابا جی کو میرا سلام دینا۔ اور ہاں۔۔۔“ وہ کہتےکہتےرک گیا۔
    ”جی حافظ صاحب۔ کچھ کہہ رہےتھے آپ؟“ جب وہ خاموش ہی رہا تو رفاقت نےجیسےاسےیاد دلایا۔
    ”کچھ نہیں۔“ حافظ عبداللہ نے آہستہ سےکہا۔”تم جائو۔“
    رفاقت اس سےمصافحہ کر کےرخصت ہو گیا۔ اب وہ اسےکیسےبتاتا کہ وہ اس سےسکینہ کا حال پوچھنا چاہتا تھا۔الفاظ اس کی زبان تک آ کر رک گئی۔ اس نےخدا کا شکر اد ا کیا کہ کوئی ایسی بات اس کی زبان سےنہ نکل گئی جس سےا س کےدل کا چور پکڑاجاتا۔ اور یہ تو شاید اسی کےدل کا چور تھا‘ سکینہ کو اس کی خبر ہو گی ‘ اسےاس بات کا قطعاً یقین نہ تھا۔
    سورج نکل آیا تھا جب وہ بابا شاہ مقیم کےمزار پر پہنچا۔ حسب معمول درویش اسےباہر کہیں دکھائی نہ دیا۔وہ مزار کےاندر چلا گیا۔ سلام کر کےبابا کےسرہانے‘ ان کےچہرےکےعین سامنےدوزانو بیٹھ کر اس نے آنکھیں بند کر لیںاور درود شریف کےبعد ذرا بلند آواز میں سورہ محمد کی تلاوت شروع کر دی۔ سرور کی ایک نئی دنیا میں قدم رکھنےکےبعد جب اسےہوش آیا تو وہ پھر درود شریف ہی کا ورد کر رہا تھا۔ سورہ محمد کی تلاوت کےبعد اس نےدرود شریف کا ورد کب شروع کیا ‘ اسےکچھ خبر نہ تھی۔ بس یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس کا اندر شفاف ہو گیا ہی۔ دُھل گیا ہی۔ بےتابی کا کہیں نام و نشان نہیں ہےاور سکون ہےکہ اس پر سایہ فگن ہی۔
    اس نےدعا مانگی اور آمین کہتےہوئےجب چہرےپر ہاتھ پھیرےتو پتہ چلا ‘ اس کا چہرہ اور داڑھی آنسوئوں میں تر تھی۔ سر جھکائےچند لمحےبیٹھا رہا پھر ایک طویل سانس لےکر اٹھ کھڑا ہوا۔ جھک کر مزار کا ماتھا چوما۔ سلام کیا اور الٹےپائوں باہر نکل آیا۔
    باہر قدم رکھا تو بائیں ہاتھ کھڑےدرویش نے آنکھیں کھول دیں۔
    ” آ گیا حافظ۔“ وہ اس کی طرف بڑھا۔ ” میں کب سےکھڑا تیرا انتظار کر رہا ہوں۔ “ اس نےمحبت سےاس کا ہاتھ تھام لیا۔
    ”بابا ۔۔۔ آپ۔“ حافظ نےجلدی جلدی چپل پائوں میں ڈالی اوراس کا ہاتھ دونوںہاتھوں میں لےکر چوم لیا۔
    ”اوں ہوں۔۔۔“ درویش نےسرزنش کی۔” آج کیا ہی۔ آئندہ ایسا نہیں کرنا۔ کیوں مجھےابلیس کےحوالےکرنےپر تُلاہےتو۔ “ وہ حافظ عبداللہ کو سینےسےلگاتےہوئےبولا۔ ”اسےبھی فخر اور تکبر لےڈوبا تھا۔ جس کےہاتھ پائوں چومےجائیں اسےوہ بڑی جلدی آن لیتا ہی۔ اسےسمجھاتا ہےکہ وہ دوسروں سےافضل ہی۔ اور یہ سوچ ہی وہ تازیانہ ہےجو انسان کےاندر سےعاجزی کو مار مار کر بھگا دیتی ہی۔ “
    ”بابا۔“ حافظ عبداللہ نےاسےعجیب سی نظروں سےدیکھا۔ ” میں یہیں آپ کےپاس نہ آ جائوں؟“
    ”سیانا ہےتو۔“ درویش مسکرایا۔ اس کےکندھےپر ہاتھ رکھا اور ٹبےکی طرف چل پڑا۔ ”میرےپاس کیا رکھا ہی۔ سوائےتنہائی‘ اداسی اور جلی بھنی باتوں کی۔تجھےبھری پُری جگہ پر رہنا ہی۔ پھلنا پھولنا ہی۔ یہاں آ کر کیا کرےگا ؟“
    ”بس میرا جی چاہتا ہےبابا۔ میں ہر وقت آپ کےپاس رہوں۔“ حافظ عبداللہ کےلبوں سےنکلا۔
    ”جی تو بہت سی باتوں کو چاہتا ہےحافظ۔ سبھی پوری تو نہیں ہو جاتیں۔“ درویش اس کےساتھ ٹبےپر چڑھا اور دونوں پیپل تلےبیٹھ گئی۔” تو یہ بتا ۔ اس پگلی کا کیا حال ہی؟“
    ”کس کا بابا؟“ حافظ عبداللہ کا دل زور سےدھڑکا اور نظر جھک گئی۔
    درویش نےسر نیچا کئی‘ گھاس کےتنکےتوڑتےحافظ عبداللہ کی طرف چند لمحوں تک دیکھا۔ پھر ہنس دیا۔
    ”اچھا ہی۔“ اس نےسر ہلایا۔ ” اچھا ہی‘ جو تو اسےبھول جانا چاہتا ہی۔ نیکی کو نسیان کےدریا میں ڈال دینا ہی اچھا ہی۔“
    حافظ عبداللہ نےسر اٹھایانہ درویش کی بات پر کوئی تاثر ظاہر کیا۔وہ اب ایک تنکا دانتوں میں دبا ئےخاموش بیٹھا تھا۔
    ”چل ۔اشراق پڑھ لیں۔وقت نہ نکل جائی۔“ اچانک درویش نےکہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نےحافظ کےکندھےسےچادر کھینچی اور ٹبےپر بچھا دی۔ دونوں قبلہ رخ کھڑےہوئےاور اپنےاللہ کےدربار میں حاضر ہونےکےلئےعبادت کےدروازےپر اس کی دی ہوئی توفیق سےدستک دینےلگی۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  9. #28
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    دن کےساڑھےنو بجےتھےجب میاں نذرو کا شاہی تانگہ بابا شاہ مقیم کےمزار کےباہر آن رکا۔ وہ سب لوگ نیچےاترےاور مزار کےاندر سلام کےلئےچلےگئی۔
    سکینہ نےاندر جاتےہوئےادھر ادھر دیکھا۔ درویش اور حافظ عبداللہ میں سےکوئی نظر نہ آیا۔ ”شاید کمرےمیں ہوں گی۔“ اس نےسوچا اور گھر والوں کےساتھ مزار کےاندر چلی گئی۔
    پھولوں کی چادر چڑھائی گئی جو میاں نذرو نےرستےمیں گائوں کےپھلیرےسےلےلی تھی۔دعا مانگی گئی۔ اللہ کا شکر ادا کیا گیا جس نےانہیں سکینہ صحیح سلامت لوٹا دی تھی۔
    سکینہ نےسر جھکایا تو اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اسےخود پر قابونہ رہا۔ نہ زبان سےکوئی لفظ نکل رہا تھا نہ دل سےکوئی دعا۔ بس اشک تھےکہ بہتےچلےجا رہےتھی۔ سسکی تک اس کےلبوں تک نہ آئی۔ چہرےکو ڈھانپتا دوپٹہ بہت بڑی ڈھال بن گیا ۔ کسی کو معلوم نہ ہوا کہ وہ اشک اشک کیوں ہو رہی ہی؟
    دعا کےبعد وہ نذرانہ مزار کےاندر دروازےکےپاس رکھےبکس میں ڈال کر باہر نکلےتو حیران ہوئی۔ سامنےبرگد کےدرخت تلےدھاری دار دو تین دریاں بچھی تھیںاور درویش ان سےکچھ دور ایک بڑےسےمسطح پتھر پر کھڑےگھٹنےبازوئوں کےکلاوےمیں لئےبیٹھاتھا۔ جبکہ میاں نذرو کا کوچوان دری کےکونےپر سر جھکائےحافظ عبداللہ کےپاس بیٹھا تھا۔ انہیں حیرت یہ تھی کہ جب وہ پہنچےتھےتو وہاں ایسی کسی چیز کا نام و نشان نہ تھا مگر اب یوں لگتا تھا کہ یہ سارا اہتمام ہی ان کےلئےکیا گیا ہی۔
    انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر درویش اپنی جگہ سےاٹھ کھڑا ہوا۔ سکینہ نےاسےدیکھا اور جیسےبھاگ کر اس کےقریب چلی گئی۔
    ” آ گئی تو۔“درویش نےاس کےسر پر ہاتھ پھیرا۔ ”جیوُن جوگئی۔ رو کیوں رہی ہی؟“ اس نے آہستہ سےکہا اور اسےساتھ لگا لیا۔ ”کیااپنا بھید سب کو بتائےگی ۔ چُپ ہو جا۔ روک لےاس نمکین پانی کو ۔ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔“
    سکینہ نےاس کےکندھےسےلگےلگےبڑےغیر محسوس انداز میں پلو سے آنکھیں خشک کر لیں اور الگ ہو گئی۔
    ” آئو جی بھاگاں والیو۔“ درویش نےان سب کو دونوں ہاتھ اٹھا کر دور سےکہا اور ساتھ ہی اپنےگھٹنےچھونےسےصاف منع کر دیا۔ اس طرح اس نےان سےمصافحہ کرنےسےبھی جان بچا لی۔
    ”بابا۔ “ چوہدری حسن دین نےاس سےدو قدم دور رک کر ہاتھ جوڑ دیی۔”ہم آپ کا اور حافظ عبداللہ کا شکریہ ادا کرنے آئےہیں۔“
    ”شکر ادا کراس کا چوہدری۔جس نےیہ سارا کھیل رچایا ہی۔“ درویش نے آسمان کی جانب انگلی اٹھا دی۔” میں نےکیا ہی کچھ نہیں تو شکریہ کس بات کا قبول کروں۔ باقی رہا حافظ‘ تو وہ بیٹھا ہے۔ وہ جانےاور تم جانو۔ تم جتنا چاہو اسےشرمندہ کر لو۔“
    ”نہیں بابا۔ شرمندہ کیوں کریں گےہم اسی؟ ہم تو اس کےاحسان کا بدلہ نہیں چکا سکتی۔ ہماری بیٹی کی جان بچا کر اس نےہمیں خرید لیا ہی۔“ میاں نذرو نےممنونیت سےکہا۔
    ”تو کیا کہتا ہےمیاں؟“ درویش نےسلیم کا رخ کیاجو کبھی اسےاور کبھی حافظ عبداللہ کو دیکھ رہا تھا۔
    ”میں ۔۔۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں جی۔ میرےلئےتو وہ دنیا کا سب سےعظیم انسان ہےجس نےمیری بہن کو مرنےسےبچا لیا۔“
    ”بس۔“ اچانک درویش بھڑک اٹھا۔ ”مرنےسےتیری بہن کو میرےاللہ نےبچایا ہی‘ حافظ عبداللہ کون ہوتا ہےاسےبچانےوالا۔ تم لوگ شرکیہ الفاظ زبان سےنکالتےہوئےذرا نہیں سوچتی۔“
    ”معافی چاہتا ہوں بابا۔“ سلیم سہم سا گیا۔ ”میرا یہ مطلب نہیں تھا۔“
    ”پتہ ہی۔ پتہ ہی۔“ درویش ایک دم ٹھنڈا ہو گیا اور بیزاری سےبولا۔ ”شرک کی نیت نہیں ہوتی‘ اسی لئےبچ جاتےہو تم لوگ۔پھر بھی بولنےسےپہلےسوچا کرو۔ سوچا کرو کہ تم کیا کہہ رہےہو ۔“
    ”جی بابا۔“ سلیم کےساتھ ساتھ دوسرےلوگ بھی متاثر نظر آ رہےتھی۔
    ”لےبھئی حافظ۔ بابا شاہ مقیم نےتیرےمہمان بھیجےہیں۔ ان سےباتیں کر۔ میں ان کےلئےتبرک لے آئوں۔“ درویش نےوہیں سےکہا اور سکینہ کےسر پر پیار دےکر پلٹ گیا۔
    وہ سب لوگ حافظ عبداللہ کی طرف چل پڑےجو اپنی جگہ سےکھڑا ہو گیا تھا۔میاں نذرو‘ سلیم اور چوہدری حسن دین نےاس سےبڑی گرمجوشی سےمصافحہ کیا۔ اس کا حال چال پوچھا۔ تاج بی بی نےاس کےسر پر پیار سےہاتھ پھیرا اور ڈھیروں دعائیں دےڈالیں۔سکینہ ‘ ماں کےعقب میں سر جھکائےکھڑی کنکھیوں سےبار بار حافظ عبداللہ کےپٹی میں ملفوف ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔ پھر وہ سب اس کےپاس ہی دری پر بیٹھ گئے۔
    ”حافظ صاحب۔ ہم آپ کا شکریہ ادا کر کےاس نیکی کا درجہ نہیں گھٹانا چاہتےجو آپ نےسکینہ ہمیں زندہ سلامت لوٹا کر ہمارےساتھ کی ہی۔“ سلیم نےحافظ عبداللہ کا بایاں ہاتھ بڑی محبت سےتھام کر کہا۔”میں سکینہ کا بھائی ہوں جی۔ زندگی میں کبھی میری جان کی ضرورت بھی پڑ جائےتو مانگ لینا ۔ رب کی قسم۔ انکار کروں تو کافر ہو کر مروں جی۔“
    ”کیسی باتیں کر رہےہیں آپ۔“ حافظ عبداللہ نےگھبرا کر ہاتھ کھینچ لیا۔ ”میں نےکیا کیا ہی۔ یہ تو میرےسوہنےاللہ کا کرم ہےکہ سکینہ بی بی کی جان بچ گئی۔ میں تو ایک حیلہ بن گیا اور بس۔ میں نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا میری جگہ۔ سکینہ بی بی پھر بھی بچ جاتیں۔“
    ”سچ ہےبیٹا۔ “ میاں نذرو نےسر ہلا کر کہا۔ ” مگر اب تو تم ہی ہمارےلتےاس نیکی کا سبب بنےہو ناں۔ زبان سےتمہارےشکریےکےالفاظ ادا کر نےسےدل کو ذرا تسلی ہو جائےگی۔ باقی اس نیکی کا نہ کوئی بدل ہےنہ انعام۔“
    ”بس کرو یار اَب۔“ ایک دم چوہدری حسن دین بول پڑا۔ ”تم تو اپنےشکریےکےبوجھ تلےمیرےحافظ صاحب کاسانس روک دو گی۔ بس اب مزید کچھ کہنےکی ضرورت نہیں۔“ اس نےحافظ عبداللہ کو مزید مشکل میں پڑنےسےبچا لیا۔
    ”پھر بھی ابا جی۔ ہمیں حافظ صاحب کےلئےکچھ نہ کچھ کرنا چاہئی۔ زبانی جمع خرچ سےکیا فائدہ۔“ سلیم نےباپ کی طرف دیکھا۔
    ”کیا کریں پتر۔ تو بتا ؟“ میاں نذرو بیٹےکی طرف متوجہ ہوا۔
    ”دیکھئی۔ آپ لوگوں نےمیرا شکریہ ادا کر لیا۔ اس سےزیادہ کچھ کرنےکےبارےمیں آپ لوگ سوچیں بھی مت۔ اس سےمجھےتکلیف ہو گی۔“ حافظ عبداللہ نےان کی نیت بھانپ کر جلدی سےکہا۔اسی وقت اس کی نگاہ سکینہ پر پڑی جو اسےبڑی عجیب سی نظروں سےدیکھ رہی تھی۔ اس نےفوراً ہی چہرہ دوسری جانب پھیر لیا۔
    ”اماں۔ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔“ اچانک سکینہ نےزبان کھولی تو سب لوگ چونک پڑی۔ اس کےوجود سےتو وہ جیسےبےخبر ہی ہو گئےتھی۔
    ”ہاں ہاں بیٹی۔ تو کہہ۔“ تاج بی بی کےساتھ میاں نذرو بھی بول اٹھا۔” شاید تیری ہی بات کچھ ایسی ہو کہ ہمارےدل اطمینان پا سکیں۔“
    ”رک جا ئوبیٹی۔“ چوہدری حسن دین نےہاتھ اٹھا کر اسےروک دیا۔ ”ادھر آ۔ پہلےچاچا بھتیجی صلاح کر لیتےہیں ۔ پھر انہیں بتائیں گی۔ آ جا۔“ وہ دری سےاٹھا اور جوتےپہننےلگا۔
    سکینہ نےایک پل کو کچھ سوچا۔ ایک نگاہ بھر حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا ۔لگتا تھا وہ اسےکچھ بھی کہنےسےروکنا چاہتا ہےمگر پھر نجانےکیوں اس نےسکینہ سےنظر ملتےہی نچلا ہونٹ دانتوں میں داب کر سر جھکا لیا۔سکینہ ‘ چوہدری حسن دین کےساتھ ان لوگوں سےتیس پینتیس قدم دور کھیتوں کےکنارےچلی آئی۔
    ”اب بتا بیٹی۔ کیا کہنا چاہتی ہےتو؟“ چوہدری حسن دین یوں کھڑا ہو گیا کہ اس کا رخ باقی لوگوں کی طرف تھا اور سکینہ کی پشت۔
    ”چاچا۔“ سکینہ نےزبان پھیر کر اپنےہونٹوں کو تر کیا۔” میں ۔۔۔میں۔۔۔“ اس نےنظر جھکا لی۔
    ”دیکھ بیٹی۔ بات تو حافظ عبداللہ کا شکریہ ادا کرنےکی ہی۔ وہ اسےروپیہ پیسہ‘ مکان وغیرہ دےکر ادا کیا جاسکتا ہی۔ اب تیرےذہن میں کیا ہی‘ تو وہ بتا دی۔“
    ”کسی کی جان بچانےکی قیمت کیا یہی کچھ ہےچاچا؟“ سکینہ نےاس کی جانب دیکھا۔
    ”نہیں۔“ خلاف معمول چوہدری حسن دین اس وقت بالکل سنجیدہ تھا۔”مگر ہم اس کےسوا اور کر بھی کیا سکتےہیں بیٹی؟“
    ”جان میری بچائی ہےاس نےچاچا۔ تو کیا اس کا شکریہ ادا کرنےکا موقع مجھےنہیں ملنا چاہئی؟“ اچانک سکینہ نےجیسےحوصلہ پکڑ لیا۔
    ”بالکل ملنا چاہئےبیٹی۔ “ چوہدری حسن دین نےاس کی آنکھوں میں بڑےغور سےدیکھ کر کہا اور اس بار سکینہ نےنظر نہ جھکائی بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی رہی۔”تو بتا۔ کیا کرنا چاہتی ہےتو؟“
    اور جواب میں اس نےجو کہااسےسن کر چوہدری حسن دین کےپائوں تلےسےزمین سرک گئی۔اس نےجیسےلڑکھڑانےسےبچنےکےلئےدونوں ہاتھ سکینہ کےشانوں پر رکھ لئی۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور دل سینےمیں دھڑکنا بھول گیا ۔
    ”ہاں چاچا۔“ سکینہ نےپُرسکون لہجےمیں کہا۔”یہی میرا شکریہ ہےحافظ عبداللہ کےحضور۔“
    ”مگر کیوں بیٹی؟ اتنا بڑا فیصلہ۔۔۔“
    ”میں نےیہ فیصلہ خوب سوچ سمجھ کر کیا ہےچاچا۔ نہ یہ اچانک ہےاور نہ کسی دبائو کےتحت۔ یہ حتمی ہے۔ اس میں کوئی لچک ممکن نہیں۔“ اس نےچوہدری حسن دین کی بات کاٹ دی۔
    اس کی آواز میں نجانےکیا تھا کہ چوہدری حسن دین کا سانس سینےمیں رک سا گیا۔ اس نےپلکیں زور سےجھپک کر نظر میں اڑتی دھول صاف کرنےکی کوشش کی ۔ پھر آہستہ سےسکینہ کےکندھوں سےہاتھ ہٹا لئی۔
    ”سکینہ بیٹی۔ میں تجھےوہاں ‘ ان لوگوں کےپاس سےیونہی اٹھا کر نہیں لے آیا تھا۔ جب سےہم یہاں آئےہیں‘ میں محسوس کر رہا تھا کہ تو حافظ عبداللہ کو بار بار کنکھیوں سےدیکھ رہی ہی۔میری بات کا برا نہ منانا۔ میں نےاس بات کو اچھا نہ سمجھا اور دل میں بدگمانی کا شکار بھی ہوا‘ کیونکہ حافظ عبداللہ کی میرےدل میں بڑی عزت ہی۔ وہ میرےبچوں کا استاد ہی۔ اس کی شرم مارتی ہےمجھی۔جب تو نےکہا کہ تو حافظ عبداللہ کےلئےکچھ کہنا چاہتی ہےتو میں یہ سوچ کر تجھےوہاں سےاٹھا لایا کہ تو نادانی میں کوئی ایسی بات زبان سےنہ نکال دےجسےبھگتنا ہمارےلئےمشکل ہو جائےمگر مجھےیہ اندازہ قطعی نہیں تھا کہ تو اتنی بڑی بولی لگا دےگی اپنی جان بچانےکی۔ ابھی تک میں یہ بھی نہیں جان پایا کہ تو نےیہ فیصلہ کیوں کیا؟“
    ”وہ میں سب کےسامنےبتائوں گی چاچا۔“ سکینہ نےپُرسکون لہجےمیں کہا۔
    ”سب کےسامنی؟“ چوہدری حسن دین چونکا۔ ”مگر کیوں؟ دیکھ بیٹی۔ مجھےیہیں بتا دےتاکہ میں وہاں بات کو سنبھال سکوں۔“
    ”ایسی کوئی بات نہیں ہےچاچا‘ جس کےلئےمجھےکسی کی سفارش کی ضرورت پڑی۔ بات بالکل صاف‘ سیدھی اور سچی ہےجو میں سب کو ایک ساتھ بتاناچاہتی ہوں۔“
    ”بیٹی۔۔۔“ چوہدری حسن دین نےکہنا چاہا۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  10. #29
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    ”بس چاچا۔ اور کچھ نہیں۔“ سکینہ نےجیسےبات ختم کر دی۔ ” آئیےچلیں۔ سب لوگ نجانےکیا کیا سوچ رہےہوں گی۔“ وہ سر جھکائے آہستہ سےپلٹی۔ چوہدری حسن دین نےاسےروکنا چاہا‘ مگر وہ قدم اٹھا چکی تھی۔ بیچارگی سےہونٹ کاٹتےاور دماغ میں اٹھتےبگولوں سےدامن بچانےکی کوشش کرتےہوئےوہ بھی اس کےپیچھےچل پڑا۔ آنےوالےلمحات میں کیا طوفان جنم لینےوالا تھا‘ اس کا احساس اسےبخوبی ہو رہا تھا۔
    سکینہ لوٹی اور سر جھکائےاس طرح آ کر دری پر بیٹھ گئی کہ اب اس کےسب لوگ اس کےسامنےاور حافظ عبداللہ کچھ فاصلےپر بائیں ہاتھ پر تھا۔ چوہدری حسن دین لمبےلمبےڈگ بھرتا آیا اور سکینہ کےساتھ بیٹھ گیا۔ سب حیران تھےکہ سکینہ ان کےپاس بیٹھنےکےبجائےان کےسامنےکیوں آ بیٹھی ہی؟ درویش ابھی تک نہ لوٹا تھا۔
    التحیات پر جیسےعورتیں بیٹھتی ہیں‘ اس انداز میں بیٹھ کر سکینہ نےبائیں ہتھیلی زمین پر بچھا کر جسم کا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا اور دوپٹہ سر پر ٹھیک کر لیا۔
    ”چاچا۔ آپ بات کریں گےیا میں بولوں؟“ اس نےاپنےساتھ بیٹھےچوہدری حسن دین سے آہستہ آواز میں پوچھا‘ جس کی ساری شگفتگی ہوا ہو چکی تھی۔
    ”نہیں۔ تم ابھی خاموش رہو۔“ چوہدری حسن دین نےبھی آہستہ سےجواب دیا اور کھنکار کر گلا صاف کیا۔
    سب لوگ انہیں اشتیاق بھری نظروں سےدیکھ رہےتھی۔ آخر میاں نذرو رہ نہ سکا اور بول پڑا۔”کیا بات ہوئی بھئی تم چاچےبھتیجی میں۔ اب بتا بھی دو ۔ کیوں ہمارا ضبط آزما رہےہو۔“
    ”میاں ۔ “ چوہدری حسن دین نےبجھی بجھی نظروں سےاس کی جانب دیکھا۔ ”سکینہ بیٹی۔۔۔“ وہ رک گیا۔ اس کا حوصلہ نہ پڑ رہا تھا کہ بات ایک دم سےزبان سےنکال دی۔
    ”سکینہ بیٹی۔“ اس نےخشک لبوں پر زبان پھیری۔ ” وہ چاہتی ہےکہ ۔۔۔“
    ”ارےبابا۔ کیوں تیرا پیشاب خطا ہو رہا ہی۔ کہہ دےجلدی سے۔ میرا دل تو ہول کھانےلگا ہےکہ نجانےکیا بات کہنےوالا ہےتو؟“ میاں نذرو کی بیتابی شدید ہو گئی۔
    ” تو سن میاں۔ “ چوہدری حسن دین نےسر جھٹک کر کہا۔ اس نےسوچ لیا کہ اب جو ہو سو ہو‘ اسےبات کر دینی چاہئی۔ ” مگر میری بات سننےسےپہلےیہ جان لےکہ اگر بات تم لوگوں کی عقل اور سمجھ سےاوپر کی ہوئی تو فوری طور پر کوئی جوابی اقدام کرنےسےگریز کرنا۔ بات اتنی ہی نازک ہےکہ میں بھی بڑی مشکل سےسمجھ پایا ہوں۔“
    سب لوگوں کےکان کھڑےہو گئی۔ حافظ عبداللہ نےگھبرا کر سکینہ اور چوہدری حسن دین کی جانب دیکھا۔ سکینہ تو سر جھکائےبیٹھی تھی اور چوہدری حسن دین نےاس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ضرور مگر وہاں اس کےلئےکوئی پیغام تھا نہ تسلی۔
    ”سکینہ بیٹی چاہتی ہےکہ اس کی شادی حافظ عبداللہ سےکر دی جائی۔“
    چوہدری حسن دین کےالفاظ تھےیا بجلی کا کڑاکا۔ انہیں یوں لگا جیسےان کی سماعتیں انہیں دھوکا دےرہی ہوں۔ وہ کچھ اور سننا چاہتےتھےمگر سنائی کچھ اور دےرہا تھا۔
    ”کیا کہہ رہےہو چوہدری؟“ میاں نذرو ایک دم ہتھےسےاکھڑ گیا۔ اس نےگھور کر حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا جو اپنی جگہ پر دم بخود بیٹھا تھا۔ اسےخود سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اس نےجو سنا وہ غلط تھا ‘ یا جو سکینہ کی نظریں کہہ رہی تھیں ‘ وہ سچ تھا۔ سکینہ نےاسےایک بار بھرپور نگاہوں سےدیکھا ‘ پھر سر جھکا لیا۔
    ”میں درست کہہ رہا ہوں۔ مجھ سےسکینہ بیٹی نےیہی کہا ہی۔“ چوہدری حسن دین نےسنبھالا لیا۔ ” اور میاں۔ میں پہلےبھی کہہ چکا ہوں کہ تمہیں بات کی باریکی کو سمجھنےسےپہلےکوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہئی۔“
    ”اور بات کی باریکی کو سمجھا کیسےجائےگا چاچا؟“ اچانک سلیم کی زہریلی آواز ابھری۔ وہ اپنےغصےکو ضبط کی لگام دینےکی کوشش کر رہا تھا۔
    ”سکینہ بیٹی کی بات سن کر۔ اس نےیہ فیصلہ کیوں کیا؟ یہ جاننےکےبعد ہی ہم کسی نتیجےپر پہنچ سکتےہیں کہ ہمیں اس کی بات ماننا چاہئےیا نہیں؟“
    ”مگر بھائی صاحب۔ یہ کیسےممکن ہی؟“ تاج بی بی کی کمزور سی آواز ابھری۔ اسےسکینہ سےایسےاقدام کی امید ہی نہ تھی۔ ویسےبھی وہ اپنےدیور کےرحم و کرم پر تھی۔ اسےزندگی کی ہرسہولت ضرور میسرتھی مگر ہر فیصلےکا اختیار صرف میاں نذرو کےپاس تھا۔ اب اسےیہ خوف ستا رہا تھا کہ سکینہ کی اس بات کےرد عمل کےطور پر ان ماں بیٹیوں کےساتھ جوسلوک ہو گا‘ اس کی ابتدا کس ستم سےہو گی۔
    ”ممکن اور ناممکن کا فیصلہ کرنےسےپہلےاگر آپ لوگ مجھےکچھ کہنےکا موقع دیں تو شاید میں آپ کو سمجھا سکوں۔“ سکینہ نےبڑی مشکل سےبوجھل پلکیں اٹھائیں اور حافظ عبداللہ کی جانب دیکھاجس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔نہ پائےماندن نہ جائےرفتن کےمصداق وہ اپنی جگہ جیسےگڑ کر رہ گیا تھا۔
    ” پہلی بات یہ ہےکہ میں نےیہ فیصلہ اپنی ذات میں رہ کر‘ اپنےطور پر کیا ہی۔ اس میں حافظ صاحب کا کوئی دخل نہیں ہی‘ اس لئےانہیں کسی بھی طرح قصوروار نہ سمجھا جائی۔“
    ”اور دوسری بات؟“ شعلہ بار انداز میں سلیم نےاسےگھورتےہوئےپوچھا۔
    ”دوسری بات یہ کہ میرےاس فیصلےکی‘ ایک عورت ہونےکےناطی‘ میرےپاس بڑی معقول وجہ موجود ہی۔“
    ”وہ بھی کہہ ڈالو۔“ سلیم کا لہجہ اب بھی بڑا تلخ تھا۔
    ”ایک عورت کےلئےسب سےمحترم وہ مرد ہوتا ہےجو سب سےپہلےاس کےجسم کو چھوتا ہی۔“
    ”کیا مطلب؟“ ایک دم سلیم اور میاں نذرو کےہونٹوں سےنکلا اور وہ آگ بگولہ ہو گئی۔ ان کےنظروں کا ہدف حافظ عبداللہ بنا مگر اس سےپہلےکہ وہ کچھ اور کہتے‘ سکینہ کی آواز نےانہیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
    ”میری بات کا غلط مطلب نہ لو سلیم بھائی۔ مجھےاپنی بات پوری کرنےدو۔“
    ”یہ ٹھیک کہہ رہی ہےسلیم۔“ چوہدری حسن دین نےدونوں باپ بیٹےکو تنبیہ کرنےکےانداز میں کہا۔”اس کی بات پوری سن تو لو۔“
    ”سننےکےلئےرہا کیا ہےاب چاچا۔ سب کچھ تو صاف ہو گیا ہی۔“ سلیم بھڑکا۔
    ”کچھ صاف نہیں ہوا ۔ کچھ نہیں سنا ابھی تم نی۔“ سکینہ کی آواز بلند ہو گئی۔ ” مجھےبات پوری کر نےدو۔غصہ نکالنےکےلئےتمہیں بہت وقت مل جائےگا۔ “
    سلیم اور میاں نذرو نےاسےبڑی کڑی نظروں سےدیکھتےہوئےبادل نخواستہ خاموشی اختیار کر لی اور حافظ عبداللہ نےایک بار پھر امید بھری نظروں سےبابا شاہ مقیم کےمزار کی جانب دیکھا۔ ابھی تک درویش باہر نہیں آیا تھا۔ اس کےہوتےشاید حالات وہ خراب رخ اختیار نہ کرتی‘ جس کی طرف وہ اب جا رہےتھی۔
    ”مجھےجب سیلاب سےحافظ صاحب نےنکالا تویہ شام کےقریب کا وقت تھا اور میں اس وقت بیہوش تھی۔ میرےکپڑےجگہ جگہ سےپھٹ چکےتھی۔ وہ مجھےچادر میں لپیٹ کر اپنےکندھےپر اٹھا کر اس کمرےمیں لےگئےاور چارپائی پر ڈال دیا۔“ سکینہ نےاس کمرےکی طرف ہاتھ سےاشارہ کیا جس میں اس نےرات گزاری تھی۔ سب نےپلٹ کر اس جانب دیکھا اور پھر اس کی طرف متوجہ ہو گئی۔ وہ کہہ رہی تھی۔
    ”میں جب ہوش میں آئی تو وہ نماز پڑھ رہےتھی۔ مجھےبتایا کہ میں بابا شاہ مقیم کےمزار پر ہوں۔ مجھےکھانےکو روٹی دےکر وہ دوسرےکمرےمیں چلےگئےاور قر آن پاک کی تلاوت میں محو ہو گئی۔”میرےساتھ میرا اللہ موجود ہی۔‘ ‘یہ بات مجھےبےخوف کرنےکےلئےحافظ صاحب نےکہی تھی‘ مگر ایک اجنبی جوان مرد کےساتھ انجان جگہ پر موجود ہونےکا احساس مجھےپلک نہ جھپکنےدیتا تھا۔ میرا جسم پانی کےتھپیڑےکھا کھا کر چور ہو چکا تھا ۔ میں تھکن سےبےحال تھی۔ سو جانا چاہتی تھی۔ جاگ جاگ کر جب حواس میرا ساتھ چھوڑنےلگےتو میں نےکمرہ اندر سےبند کیا اور لیٹ گئی۔ تب ‘ حافظ صاحب چپکےسے آئے۔ مجھےسوتا دیکھ کر چند لمحےکھڑےرہےپھر لوٹ گئی۔ میں نےان کےجانےکےبعد اٹھ کر کھڑکی کی درز سےدیکھا۔ وہ بےتابی سےکمرےمیں ٹہل رہےتھی۔ شاید وہ بھی اسی کیفیت کا شکار تھےجو مجھےنہ سونےدےرہی تھی۔ میں گھبرا گئی اور اپنےاللہ سےرو رو کر مدد مانگنےلگی۔“
    سکینہ رکی۔ اس نےسر جھکائےبیٹھےحافظ عبداللہ پر ڈالی۔ پھر میاں نذرو‘ سلیم اور اپنی ماں کی جانب دیکھا‘ جو خاموشی سےاس کی بات سن رہےتھی۔ ان کی حالت میں ایک ٹھہرائو تو آیا تھا مگر ماتھےاب بھی شکن آلود تھی۔
    ”کافی دیر بعد میں نےدوبارہ ڈرتےڈرتےکھڑکی کی درز سےجھانک کر دیکھا اور میرا سانس رک گیا۔ میرےحواس میرا ساتھ چھوڑ گئی۔ جب صورحال میری سمجھ میں آئی تو مجھےلگا ‘ میں کسی اور ہی دنیا میں ہوں۔ حافظ صاحب مجھےاس دنیا کےفرد نہ لگی۔ میں ان کےسامنےخود کو حقیر ترین محسوس ہوئی۔ آپ جانتےہیں ‘ میں نےکیا دیکھا؟
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  11. #30
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,860
    Mentioned
    108 Post(s)
    Tagged
    8578 Thread(s)
    Thanked
    111
    Rep Power
    21475000

    Default Re: Ishq Ka Qaaf

    سکینہ نےبات روک کر دھندلائی ہوئی نظروں سےان سب کو باری باری دیکھا۔ وہ سب اس کی بات مکمل ہونےکےانتظار میں اسی کی طرف دیکھ رہےتھی۔کوئی جواب دیتا بھی تو کیا‘ خود چوہدری حسن دین تک تو حیرت میں گم یہ قصہ عجب شب سن رہا تھا۔
    ”میں نےدیکھا۔“ سکینہ کی آواز بھیگتی چلی گئی۔ ” حافظ صاحب تلاوت میں اس طرح منہمک ہیں کہ انہیں یہ تک ہوش نہیں کہ شیطان کو اپنےخیالوں سی‘ اپنی سوچوں سےنکال پھینکنےکےلئےانہوں نےاپنا جو ہاتھ جلتےچراغ کی لو پر رکھا تھا‘ وہ خشک لکڑی کی طرح آگ پکڑ چکا ہی۔جل رہا ہے۔ پگھل رہا ہی۔ میں بھاگی۔ ان کےکمرےمیں پہنچی۔ ان کےقریب پہنچی تو درویش بابا نےمزار کےباہر اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔ میں نےحافظ صاحب کا ہاتھ جلتےچراغ سےہٹایا۔ وہ سر سےپائوں تک پسینےمیں ڈوبےہوئےتھی۔درد اور تکلیف کا احساس انہیں تب ہوا جب میں نےان کا ہاتھ کمبل کےپلو میں لپیٹا اور انہوں نےمجھےدیکھا۔ ایک کراہ کےساتھ وہ غش کھا گئی۔ اسی وقت درویش بابا اذان ختم کر کےاندر آئےاور انہوں نےحافظ صاحب کو لےجا کر اسی چارپائی پر ڈال دیا جس پر ساری رات میں کروٹیں بدلتی رہی تھی۔ یہ ہاتھ۔۔۔“ سکینہ نےسسکی لی اور حافظ عبداللہ کےجلےہوئےہاتھ کی جانب اشارہ کیا۔” خود بخود جلتےہوئےچراغ پر نہیں جا پڑا تھا۔ حافظ صاحب نےاسےخود آگ کےحوالےکر دیا تھا‘ تاکہ ان کےخیالوں میں بار بار نقب لگاتا شیطان جل کر خاک ہو جائی۔ درد اور اذیت کی جس منزل سےوہ گزرےہیں ‘ میں اور آپ اس کےبارےمیں سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔اور یہ سب انہوں نےصرف اس لئےکیا کہ ان کا دھیان میری طرف سےہٹا رہی۔ میں ان کی نفسانی گمراہی سےمحفوظ رہوں ۔ سکینہ کی عزت بچی رہی۔ سکینہ اپنےپچھلوں تک پہنچےتو اس کا دامن پاک ہو۔ “وہ ہونٹ کاٹتےہوئےاپنی لرزتی آواز پر قابو پانےکی کوشش کرنےلگی۔ آنسو بہنےکا اسےکوئی ہوش نہ تھا۔
    چوہدری حسن دین بُت بنا سب کچھ سن رہا تھا تو باقی لوگوں کا حال بھی اس سےمختلف نہ تھا۔ان کےاذہان میں آندھیاں چل رہی تھیں۔وہ سب کچھ سن رہےتھےاور تصور میں فلم سی چلتی دیکھ رہےتھی۔
    ”ایک جوان لڑکی کو اپنےنفس کی بھینٹ چڑھنےسےبچانےکےلئےحافظ صاحب نےخود کو جس امتحا ن میں ڈالا‘ کیا وہ کسی عام انسان کےبس کی بات ہی؟“ سکینہ نےچند لمحوں کےبعد آنکھیں خشک کرتےہوئےان سب سےسوال کیا۔ ” ان کا ہاتھ زندگی بھر کےلئےناکارہ ہو گیا۔ ایک دن میری شادی ہونا ہی ہی۔ جس طرح ہر لڑکی چاہتی ہےکہ اس کا ہونےوالا شوہر خوبصورت ہو۔ خوبیوں میں ایسا ہو کہ دوسری لڑکیاں اس پر رشک کریں۔اسی طرح میں بھی اپنےلئےایسا ہی شوہر چاہتی ہوں۔ ۔۔لیکن کیا مجھےحافظ صاحب جیسا مرد ملےگا؟ ایسا مرد جس نےاپنےنفس کو پچھاڑ کر ثابت کر دیا کہ مردانگی عزت لوٹنےکا نام نہیں‘ عزت کی حفاظت کرنےکا نام ہی۔میرےجسم کو صرف ایک غیر مرد نےاب تک چھوا اور وہ حافظ صاحب ہیں۔ انہوںنےجن حالات میں مجھےمس کیا‘ وہ ان کی مجبوری تھی لیکن انہوں نےمیری مجبوری سےکوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ میرا جسم میرےشوہر کی امانت ہی۔ میں چاہتی ہوں ‘ چار کلمےپڑھ کر جس انسان کو میرےجسم کا مالک بننا ہی‘ وہ وہی ہو جس نےپہلی اور آخری بار میرےجسم کو چُھوا اور اس میں اس کی بدنیتی کو کوئی دخل نہ تھا۔۔۔ہاں مگر اس کےلئےمیں حافظ صاحب کی رضا کی مکمل پابند ہوں۔ اگر وہ نہیں چاہتےتو میں انہیں اس کےلئےمجبور نہیں کروں گی کہ وہ مجھ سےشادی کےلئےہاں کریں۔“
    سکینہ خاموش ہو گئی۔
    چوہدری حسن دین نےہاتھ بڑھایااور اسےبازو کےکلاوےمیں لےکر اس کا ماتھا چوم لیا۔ وہ سسکتی ہوئی اس کےسینےسےلگ گئی۔
    سب لوگ سر جھکائےبیٹھےتھی۔ انہیں فیصلہ کرنےمیں دقت ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ یہ کوئی گڈےگڑیا کا بیاہ نہیں تھا جس کےلئےبغیر سوچےسمجھےہاں کر دی جاتی۔ حافظ عبداللہ نےایک بار پھر مزار کی طرف نظر اٹھائی اور یہ دیکھ کر چونکا کہ مزار کےبجائےدرویش گائوں کی طرف سے آنےوالےرستےپر چلا آ رہا تھا۔ اس کےسر پر مٹھائی کی ٹوکری تھی جسےوہ ایک ہاتھ سےسنبھالےہوئےتھا۔
    اسے آتا دیکھ کر حافظ عبداللہ نےبڑا حوصلہ محسوس کیا۔ درویش نےچوہدری حسن دین کےقریب پہنچ کر مٹھائی کی ٹوکری اسےتھما دی۔
    ”بابا۔ یہ کیا ہی؟“ وہ حیرت سےبولا۔
    ”بابےشاہ مقیم کی طرف سےتبرک بھی ہےاور منہ میٹھا کرنےکےلئےمبارک بھی۔“ درویش نےدھیرےسےکہا۔پھر باقی لوگوں کی طرف متوجہ ہوا جو اس کےاحترام میں کھڑےہو گئےتھی۔
    ”بیٹھو بیٹھو اللہ والیو۔ کھڑےکیوں ہو گئی۔ بیٹھ جائو۔ لگتا ہےابھی بات تم لوگوں کےحلق سےنہیں اتری۔میرےحافظ کو تول رہےہو ابھی۔ “ وہ رکا تو حافظ عبداللہ اٹھا اور تیزی سےچلتا ہوا اس کےپاس آ کھڑا ہوا۔ سکینہ اب درویش کےدائیں اور حافظ عبداللہ بائیں طرف تھا۔ باقی سب لوگ اس کےسامنےتھی۔حافظ عبداللہ نےکچھ کہنا چاہا مگر درویش نےاسےہاتھ اٹھا کر خاموش کرا دیا۔ اس کےبیٹھنےپر سب لوگ پھر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے
    ”ہاں۔ تو ابھی تک حافظ کا تول پورا نہیں ہوا۔ یہی بات ہےناں؟“ درویش نےمیاں نذرو اور سلیم کی طرف دیکھا۔
    ”بات یہ ہےبابا۔۔۔ “ میاں نذرو نےزبان کھولی۔
    ”حافظ عبداللہ کا رنگ سانولا ہی۔ چہرہ مہرہ بھی واجبی سا ہی۔ مال دولت پلےہےنہیں۔ مسجد کےحجرےمیں رہتا ہی۔ آگےپیچھےرونےوالا بھی کوئی نہیں۔سکینہ جیسی پڑھی لکھی‘ خوبصورت‘ اچھےاور اونچےگھرانےکی لڑکی کےقابل نہیں ہےوہ۔ یہی بات ہےناں میاں ؟“ درویش نےمیاں نذرو کی بولتی بند کر دی۔”مگر اس سےشادی کا فیصلہ تو سکینہ نےکیا ہی۔ وہ بالغ ہی۔ اپنی پسند کا نکاح کر سکتی ہی۔ پھر تم لوگوں کو کیا اعتراض ہےاس پر؟“
    ”اعتراض ہےبھی اور نہیں بھی بابا۔“ اس بار سلیم نےکہا۔
    ”جو میں نےگِنوائےہیں‘ ان کےعلاوہ کوئی اور اعتراض ہو تو کہو۔“ درویش نےاسےمسکراتی ہوئی نظروں سےدیکھا۔
    ”لڑکی کی ماں سےبھی تو پوچھ لینا چاہئی۔“
    ”ہاں۔ یہ جائز بات ہے۔“ درویش نےتاج بی بی کا رخ کیا۔ ”تو بول۔ توکیا کہتی ہےبی بی۔ تجھےکیا اعتراض ہےاس انہونی پر؟“
    ”مجھی؟“ تاج بی بی نےگھبرا کر میاں نذرو اور پھر سلیم کی طرف دیکھا جو اسےسرد سی نظروں سےتک رہےتھی۔”مجھےکیا اعتراض ہو گا باباجی۔ جو فیصلہ کرنا ہےسکینہ کےچا چا اور سلیم پتر نےکرنا ہی۔“
    ”مطلب یہ ہےکہ تجھےاس نکاح پر کوئی اعتراض تو نہیںناں؟“
    ”میں کیا کہہ سکتی ہوں جی؟“ تاج بی بی نےبیچارگی سےکہا اور سر جھکا لیا۔
    ”ہاں۔ تو کیا کہےگی بیچاریی۔ تیری زبان پر تو بیوگی نےتالا ڈال رکھا ہی۔ بولےگی تو بےگھر ہو جائےگی اس عمر میں۔ اپنا کیا ہےتیرےپاس‘ سوائےسکینہ کی۔ ۔۔“ درویش نےطنز بھری نگاہوں سےمیاں نذرو اور سلیم کی جانب دیکھا جنہوں نےسر جھکا لئےتھی۔
    ” آپ ہماری مجبوری کو سمجھنےکی کوشش کریں بابا۔“ سلیم نے آہستہ سےکہا۔ ”لوگ کیا کہیں گی۔ برادری کیا کیا باتیں نہ بنائےگی؟ہم کس کس کا منہ بند کرتےپھریں گی۔“
    ”باقی سب کی فکر چھوڑ۔صرف اپنا منہ بند کر لی۔ “ درویش نےاس کی جانب انگلی اٹھائی۔ ”تو نہ چاہےگا تب بھی یہ نکاح تو ہو گا۔“
    ”کوئی زبردستی ہی؟“ سلیم ہتھےسےاکھڑ گیا۔
    ”نہیں۔“ درویش مسکرایا۔ ”زبردستی نہیں۔ فیصلہ ہےاس کا۔“ اس نے آسمان کی جانب دیکھا۔ ” اور اس کےفیصلےتیرےمیرےچاہنےسےنہیں بدلتی۔ تو زور لگا کر دیکھ لی۔ ہو گا وہی جو اس کی مرضی ہی۔“
    ”ابا۔ اٹھ جا۔ چلیں اب۔ بہت ہو گئی۔چل تائی۔ سکینہ کو ساتھ لےاور گھر چل۔“ سلیم نےاچانک اپنی جگہ چھوڑ دی۔
    میاں نذرو نےاس کی جانب دیکھا ۔ پھردوپٹےمیں منہ چھپائےبیٹھی آنسو بہاتی تاج بی بی پر نگاہ ڈالی۔ آخر میں اس کی نظر سر جھکائےبیٹھی سکینہ پر جم گئی۔ چند لمحےوہ انگلیاں مروڑتی سکینہ کو دیکھتا رہا۔ پھر حافظ عبداللہ کی طرف نگاہ اٹھائی‘ جو اپنےجلےہوئےہاتھ کو گھور رہا تھا۔
    ”ابا۔۔۔“ سلیم نےاس کا شانہ ہلایا۔
    میاں نذرو نے آہستہ سےاس کا ہاتھ شانےسےہٹا دیا اور درویش کی طرف متوجہ ہوا۔ ”بابا۔ آپ نےفیصلہ تو سنا دیامگر اب تک حافظ عبداللہ سےنہیں پوچھا کہ اس کی کیا مرضی ہی؟“
    ”تواب پوچھ لیتےہیں اللہ والیا۔ “ درویش نےحافظ عبداللہ کی طرف دیکھا۔ ”کیوں حافظ ۔ تجھےسکینہ سےنکاح منظور ہےیا نہیں؟ دل سےجواب دینا ۔ کوئی زبردستی ہےنہ دبائو۔ تو اپنےفیصلےمیں آزاد ہی۔“
    ”بابا۔“ حافظ عبداللہ نےایک نظر سکینہ پر ڈالی جو اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نجانےکیا تھا کہ حافظ عبداللہ ان میں کھو کر رہ گیا۔ پھر چند لمحوں کےبعد اس نےسر جھکا لیا۔ ” میں خود کو اس قابل نہیں پاتا ۔“
    ”سیانا نہ بن۔“ درویش نےاسےجھڑکی سی دی۔ ”جو نعمت اللہ تجھےدےرہا ہےاس کا کفران کر رہا ہی۔ شرم کر شرم۔“
    “بابا۔۔۔میں۔۔۔“ حافظ ہکلا کر رہ گیا۔
    ”سکینہ۔پگلئی‘ یہ تو بڑا بزدل نکلا۔ ڈرتا ہی۔ امتحا ن سےنہیں ڈرا ۔ نتیجےسےڈر گیا۔“ درویش نےسکینہ کی جانب گردن جھکائی۔ ” اب بول۔ کیا کرےگی تو؟“
    ”کچھ نہیں بابا۔ “ سکینہ نےبڑےسکون سےکہا۔ ” میں نےکہا ناں۔ مجھےجس نےایک بار چھو لیا ‘ وہی میرا صاحب ہی۔ یہ میرےقابل نہیں ‘ بات یہ نہیں ۔ اصل میں‘ مَیں ان کےقابل نہیں ہوں۔ یہ مجھےنہ اپنائیں۔ ان کی مرضی۔ میں ساری زندگی ان کےنام پربیٹھ کر گزار دوں گی۔ لوگوں کےسائیں پردیس بھی تو چلےجاتےہیں بابا۔“
    ”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟“ حافظ عبداللہ نےگھبرا کر اس کی طرف دیکھا۔
    ”ٹھیک کہہ رہی ہوں حافظ صاحب۔ “ اس کےلبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔ ”میں نے آپ کا رنگ ڈھنگ‘ آپ کا نام نسب‘ آپ کا خاندان اور مال و دولت نہیں دیکھی۔ آپ نےیہ سب کچھ دیکھا۔فیصلہ آپ کا رہا۔ آپ نےمجھےٹھکرا دیا مگر میں نے آپ کو اپنا لیا ہی۔ اپنا مان لیا ہی۔“
    ” آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔“ حافظ کا لہجہ بھرا گیا۔” میں اس قابل نہیں ہوں کہ آپ کو کوئی سُکھ دےسکوں۔ لوگوں کےدیےہوئےپر دو وقت کی روٹی چلتی ہی۔ مسجد کےحجرےمیں رہتا ہوں۔ آپ نازوں کی پلی میرےساتھ رُل جائیں گی۔“
    ”رُل جانےدیجئےمجھی۔ میں مرضی سےرُل جانےکو تیار ہوں۔ آپ مجھےنہ رُلنےپر مجبور کرنےوالےکون ہوتےہیں؟“ سکینہ کی آواز ڈوب گئی۔
    ”بابا۔“ اچانک چوہدری حسن دین نےدرویش کی جانب دیکھا۔ ”مجھےکچھ کہنےکی اجازت ہی۔“
    ”ہاں ہاں۔ سب اپنی اپنی بولیاں بول رہےہیں۔ تو بھی بول۔ مجھےپتہ ہےتو اچھا ہی بولےگا۔ بول۔“
    ”اگر بات اتنی ہی سی ہےتو ۔۔۔“ اس نےجیب سےچابیوں کا گچھا نکالا۔ اس میں سےایک چابی نکالی اور دری پر رکھ دی۔”یہ میرے آبائی مکان کی چابی ہی۔ میں ابھی اسی وقت یہ مکان اور اپنےچار کھیت جو اس مکان کےساتھ جڑےہیں‘ حافظ عبداللہ کےنام کرتا ہوں۔ میرا خیال ہےاب انہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئی۔“
    سب لوگوں کےمنہ کھلےکےکھلےرہ گئی۔ سلیم کا حال سب سےبرا تھا۔ اسےیقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ حقیقت میں ہو رہا ہی۔
    ”یہ کی ناں پگلوں والی بات۔“ درویش قلقاری مار کر ہنسا۔” اب بول حافظ۔ اب کیا کہتا ہی۔ اب تو تو بھی ساہوکار ہو گیا۔اب کیسےہچر مچر کرےگا؟“
    ”بابا۔“ حافظ عبداللہ کی آواز حلق میں پھنس گئی۔ درد کی ایک لہر آنسوئوں میں بھیگ کر پلکوں سےاتری اور رخساروں پر پھیل گئی۔وہ بایاں ہاتھ چہرےپر رکھ کر سسک پڑا۔
    ”مبارک ہو سکینہ۔ تیرا پگلا پن کام آ گیا۔“ درویش نےمسکراتےہوئےسکینہ کی جانب دیکھا۔ وہ سرخ سرخ آنکھوں سےاسےدیکھ کر ہولےسےہنس دی۔
    ”پگلی۔ اٹھا لےیہ رسید۔ اس پر قبولیت کےدستخط ہو گئےہیں۔“ درویش نےچابی کی طرف اشارہ کیا تو چوہدری حسن دین نےنفی میں سر ہلایا۔
    ”نہیں بابا۔ میں نےخالی خولی صلح نہیں ماری تھی۔ یہ سب اب حافظ۔۔۔“
    ”پتہ ہے۔ پتہ ہی۔ “ درویش نےچابی اٹھا کر اس کی جیب میں ڈال دی۔ ” تو نےجس نیت سےکہا تھا ‘ وہی تو قبول ہوئی ہےپگلی۔ رہےیہ دونوں۔ تو ان کےلئےمیرا اللہ اور اس کا پیارا حبیب کافی ہیں۔“
    چوہدری حسن دین خاموش ہو گیا۔
    ” ہاں بھئی چھوٹےمیاں۔ اب کیا خیال ہےتیرا؟“ درویش نےسلیم کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ جواب میں وہ خاموشی سےاٹھا اور ایک طرف سر جھکا کر جابیٹھا۔
    ”بابا۔ “ چوہدری حسن دین کی آواز پر وہ سب ایک دم چونکی۔”اگر اجازت ہو تو میں حافظ عبداللہ کےلئےمیاں نذرو سےسکینہ بیٹی کا ہاتھ باقاعدہ مانگ لوں۔“
    ”تو بھی مانگنا چاہتا ہےچوہدری۔“ درویش بڑےاچھےموڈ میں تھا۔” مانگ لی۔ مانگ لی۔ تو بھی نام لکھوا لے۔ جلدی کر ۔“
    اور چوہدری حسن دین نے آگےسرک کر اپنی اچکن کا پلہ میاں نذرو کےسامنےپھیلا دیا۔”میاں۔ اپنی بیٹی میرےحافظ صاحب کےلئےمیری جھولی میں ڈال دےیار۔“
    ”اس کا اختیار میری بھرجائی کو ہےچوہدری۔“ میاں نذرو نےتاج بی بی کی طرف اشارہ کر دیا۔
    چوہدری نےاس کی طرف رخ کیا تو تاج بی بی نےگردن گھما کر نم آنکھوں سےسلیم کی طرف دیکھا۔ ”سلیم پتر۔ تیری بہن کا ہاتھ مانگ رہےہیں چوہدری صاحب۔ کیا ہاں کر دوں بیٹا؟“
    ”تائی۔“ سلیم اٹھ کر آیا اور تاج بی بی سےلپٹ گیا۔وہ بچوں کی طرح رو رہا تھا۔
    ”واہ بھئی واہ۔ آج تو یہاں سب ہی اللہ والےاکٹھےہو گئی۔ “ درویش جھومتےہوئےبولا۔” آج تو سب کےاندر دھوئےجا رہےہیں۔ سب کا میل نکالا جا رہا ہی۔واہ میرےمالک۔ آج تو کیا دکھانا چاہتا ہی؟“ وہ آسمان کی طرف دیکھتےہوئےبولا۔
    ”میری ایک درخواست ہےچوہدری صاحب۔“ حافظ عبداللہ نےجھجکتےہوئےچوہدری حسن دین سےکہا۔
    ” آپ حکم دیں حافظ صاحب۔ درخواست کیوں کرتےہیں آپ۔“ وہ بڑےخلوص سےبولا۔
    ”اگر یہ بات طےہو ہی گئی ہےتو میں چاہوں گا کہ نکاح بڑی سادگی اور خاموشی سےہو۔ کوئی ہلا گلا نہ کیا جائی۔“
    ”مگر۔۔۔“ سلیم نےکہنا چاہا۔
    ”حافظ صاحب ہمارےسر کےصاحب ہیں سلیم پتر۔ یہ جیسا چاہتےہیں ویسا ہی کرو۔“ میاں نذرو نےسلیم کی جانب دیکھ کر کہا۔” اگر ہم اسےروایتی شادی کےطور پر کریں گےتو شرعی پابندیوں کا تماشا ضرور بنےگا اور میرا خیال ہی‘ حافظ صاحب چاہتےہیں کہ ایسا نہ ہو۔“
    ”جی ہاں۔“ حافظ عبداللہ نےنظر اٹھائی۔ ”میرا یہی مطلب تھا۔“
    ”تو ٹھیک ہی۔ “ چوہدری حسن دین نےدخل دیا۔ ”اگر معاملہ اسی طرح توڑ چڑھنا ہےتو دیر کس بات کی۔ ابھی نکاح پڑھائو اور دھی رانی کو وداع کر دو۔“
    ”اتنی جلدی اور اس حالت میں؟“ اب کےتاج بی بی بولی۔
    ”ارےبہن میری۔ نیک کام میں دیر کی جائےتو شیطان سو سو حیلےرکاوٹیں پیدا کر دیتا ہی۔یہاں داج وری کا جھگڑا تو ہےکوئی نہیں۔ اللہ کا دیا میرےپاس حافظ صاحب کےلئےسب کچھ موجود ہی۔ میں تو کہتا ہوں بابا شاہ مقیم کی دعائوں کی چھائوں میں یہ کام آج ابھی کر کےسرخرو ہو جائو۔“
    بابا شاہ مقیم کا نام آیا تو سب کےمنہ بند ہو گئی۔ حافظ عبداللہ کےسر پر چوہدری حسن دین نےاپنا پٹکا ڈالا اور سکینہ کا گھونگھٹ نکال کر اس کی ماں کےپاس بٹھا دیا گیا۔ حافظ عبداللہ نےاپنا نکاح خود پڑھایا۔ حق مہر کی ادائیگی اسی وقت چوہدری حسن دین نےاپنی انگلی سےسونےکی انگوٹھی اتار کےکردی۔ حافظ عبداللہ نےخود سکینہ کو انگوٹھی پہنائی۔
    نکاح ہو گیا تو درویش نےمبارک مبارک کا شور مچا دیا۔
    ”لائو بھئی لائو۔ مٹھائی لائو۔ بابا شاہ مقیم انتظار میں ہوگا۔ چلو چوہدری ۔ سب کا منہ میٹھا کرائو بھئی۔“ وہ بچوں کی طرح خوش تھا۔ سب سےپہلےاس نےمٹھائی کا ٹکڑا اٹھا کر سکینہ کےمنہ سےلگایا۔ پھر حافظ عبداللہ کو برفی کھلائی۔اس کےبعد ہاتھ چوہدری حسن دین کے آگےپھیلا دیا۔
    ”لائو چوہدری۔ میرا حصہ؟“
    ”بابا۔“ چوہدری حسن دین حیرت سےبولا۔” آپ کا حصہ کیسا؟ یہ سب آپ ہی کا تو ہی۔“ اس نےمٹھائی کا ٹوکرا درویش کے آگےکر دیا۔
    ”نہیں بھائی۔ میرا حصہ دیتا ہےتو دی۔ ورنہ میں چلا۔“ وہ جیسےناراض ہو گیا۔
    چوہدری حسن دین نےجلدی سےایک بڑا گلاب جامن اٹھا کر درویش کےہاتھ پر رکھ دیا۔
    ”میرےپگلےکا حصہ بھی دی۔“ اس نےدوسرا ہاتھ آگےکر دیا۔
    ”پگلا؟“ چوہدری حسن دین کےساتھ باقی سب بھی حیران ہوئی۔ ” وہ کون ہےبابا؟“
    ”تجھےاس سےکیا کہ وہ کون ہی؟ تو اس کا حصہ دےدی۔ لا جلدی کر۔“
    چوہدری حسن دین نےاس کی ناراضگی کےڈر سےفوراً ہی دوسرا گلاب جامن اس کےہاتھ پر رکھ دیا۔
    درویش ایک دم پلٹا اور یوں تیز تیز قدموں سےمزار کی جانب چل دیا‘ جیسےوہ ان میں سےکسی کا واقف ہی نہ ہو۔ پھر مزار کےاندر جا کر اس نےدروازہ بند کر لیا۔
    سکینہ اور حافظ عبداللہ نےایک دوسرےکی جانب دیکھااور ان کےسر جھک گئی۔ خاموشی ۔ سناٹا۔ چُپ ۔ ہر طرف ہُو کا عالم طاری تھا۔ انہیں صرف اپنےاپنےدل دھڑکنےکی صدا سنائی دےرہی تھی اور بس۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Page 3 of 6 FirstFirst 12345 ... LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •