Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 11

Thread: ثمینہ راجہ

  1. #1
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    29
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel ثمینہ راجہ

    Attachment 3325
    ثمینہ راجہ


    ثمینہ اس وقت شاعری کی اس منزل پر ہیں جہاں آدمی مدتوں کی صحرا نوردی کے بعد پہنچتا ہے۔ وہ نظم اور ‏‏غزل دونوں میں اتنی خوب صورت شاعری کر رہی ہیں کہ آج انگلیوں پر گنے جانے والے گنتی کے شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان میں خواتیں شعرا اور مرد شعرا کی تخصیص نہیں، بلکہ سارے شعری طبقے میں ان کا ایک الگ مقام بن چکا ہے۔ شاعری بہت مشکل چیز بھی ہے اور بہت آسان بھی۔ آسان اس لیے کہ بے شمار شاعر ہر طرف آپ کو نظر آئیں گے۔ مگر مشکل اس وقت ہو جاتی ہے جب اتنی بڑی تعداد میں لکھنے والی مخلوق موجود ہو اور اس میں اپنا ایک الگ تشخص اور قدوقامت قائم کیا جا
    اور اس میں ثمینہ کو نہ صرف کامیابی ہوئ ہے بلکہ وہ ان سب سے آگے نظر آتی ہیں۔ شاعری کے علاوہ ان میں ایک اور وصف بھی ہے کہ کئ ادبی رسائل کی مدیر ہیں اور اس میں کوئ شک نہیں ان ہی کی وجہ سے ان رسالوں کا وقار بلند ہوا ہے ۔

    احمد فراز

    Last edited by Rubia; 08-12-2009 at 03:25 AM.

  2. #2
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    29
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel Re: ثمینہ راجہ


    ایک نگاہ اس طرف


    آئنہ رکھ دیا گیا عکس جمال کے لیے
    پورا جہاں بنا دیا، ایک مثال کے لیے
    خاک کی نیند توڑ کر آب کہیں بنا دیا
    ارض و سما کے درمیاں خواب کہیں بنا دیا
    خواب نمود میں کبھی آتش و باد مل گئے
    شاخ پر آگ جل اٹھی، آگ میں پھول کھل گئے
    ساز حیات تھا خموش، سوز و سرود تھا نہیں
    اس کا ظہور ہو گیا جس کا وجود تھا نہیں

    خاک میں جتنا نور ہے ایک نگاہ سے ملا
    سنگ بدن کو ارتعاش دل کی کراہ سے ملا
    دشت وجود میں بہار اس دل لالہ رنگ سے
    رنگ حیات و کائنات اس کی بس اک امنگ سے
    قرنوں کے فاصلوں میں یہ دل ہی مرے قریب تھا
    قصہء ہست و بود میں کوئی مرا حبیب تھا
    تیرہ و تار راہ میں ایک چراغ تھا مرا
    کوچہ ء بے تپاک میں کوئی سراغ تھا مرا

    ہو کے دیار خواب سے کیسی عجب ہوا گئی
    شیشہء تابدار پر گرد ہی گرد جم گئی
    بھول چکا ہے اپنی ذات بھول گیا ہے اس کا نام
    سوز و گداز کے بغیر، لب پہ درود اور سلام
    مدت عمر ہو گئی اس کو عجیب حال میں
    فرق ہی کچھ رہا نہیں شوق میں اور ملال میں
    دل کی جگہ رکھا ہے اب، سنگ سیاہ اس طرف
    ہجر و وصال کے خدا! ایک نگاہ اس طرف

    ***
    Last edited by Rubia; 08-12-2009 at 03:35 AM.

  3. #3
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    29
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel Re: ثمینہ راجہ


    صورت صبح بہاراں چمن آراستہ ہے
    چہرہ شاداب ہے اور پیرہن آراستہ ہے

    شہر آباد ہے اک زمزمہء ہجر سے اور
    گھر تری یاد سے اے جان من ! آراستہ ہے

    جیسے تیار ہے آگے کوئی ہنگامہء زیست
    اس طرح راہ میں باغ عدن آراستہ ہے

    کوئی پیغام شب وصل ہوا کیا لائی
    روح سرشار ہوئی ہے، بدن آراستہ ہے

    اے غم دوست!تری آمد خوش رنگ کی خیر
    تیرے ہی دم سے یہ بزم سخن آراستہ ہے

    دل کے اک گوشہء خاموش میں تصویر تری
    پاس اک شاخ گل یاسمن آراستہ ہے

    رامش و رنگ سے چمکے ہے مرا خواب ایسے
    نیند میں جیسے کوئی انجمن آراستہ ہے

    اس نے سورج کی طرح ایک نظر ڈالی تھی
    رشتہء نور سے اب بھی کرن آراستہ ہے

    کیا کسی اور ستارے پہ قدم میں نے رکھا
    کیسی پیراستہ دنیا، زمن آراستہ ہے

    کیسے آئے گا زمانہ مجھے ملنے کے لیے
    میرے رستے میں تو دنیائے فن آراستہ ہے

    ***
    Last edited by Rubia; 08-12-2009 at 03:34 AM.

  4. #4
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    29
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel Re: ثمینہ راجہ

    کب چراغوں کی ضرورت ہے ملاقاتوں میں
    روشنی ہوتی ہے کچھ اور ہی ان راتوں میں

    سر پہ جھکتا ہوا بادل ہے کہ اک یاد کوئی
    اور بھی گہری ہوئی جاتی ہے برساتوں میں

    ایک خوشبو سی کسی موسم ِ نادیدہ کی
    آخری چیز بچی عشق کی سوغاتوں میں

    یہ جو بنتا ہے اجڑتا ہے کسی خواب کے ساتھ
    ہم نے اک شہر بسا رکھا ہے ان ہاتھوں میں

    نقش کچھ اور بنائے گئے سب چہروں پر
    بھید کچھ اور چھپائے گئے سب ذاتوں میں

    شاعری،خواب،محبت، ہیں پرانے قصے
    کس لیے دل کو لگائے کوئی ان باتوں میں

    ہفت خواں یوں تو ملے عشق کے اس رستے پر
    ہجر ہی منزل ِ مقصود ہوئی ، ساتوں میں

    دست بردار ہوئے ہم تو تمناؤں سے
    عمر گزری چلی جاتی تھی مناجاتوں میں

    ***

  5. #5
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    29
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel Re: ثمینہ راجہ


    تو بھی رخصت ہو رہا ہے دھوپ بھی ڈھلنے کو ہے
    میرے اندر اک چراغ شام غم جلنے کو ہے

    کب تلک اس ہجر میں آخر کو رونا چاہئے؟
    آنکھ بھی خوں ہو گئ دامن بھی اب گلنے کو ہے

    گلستاں میں پڑ گئ ہے رسم تجسیم بہار
    اپنے چہرے پر ہر اک گل،خون دل ملنے کو ہے

    اجنبی سی سر زمیں نا آشنا سے لوگ ہیں
    ایک سورج تھا شناسا،وہ بھی اب ڈھلنے کو ہے

    ہر نئ منزل کی جانب صورت ابر رواں
    میرے ہاتھوں سے نکل کرمیرا دل چلنے کو ہے

    شہر پر طوفان سے پہلے کا سناٹا ہے آج
    حادثہ ہونے کو ہے یا سانحہ ٹلنے کو ہے

    اک ہوائے تند اور ہمراہ کچھ چنگاریاں
    خاک سی اڑنے کو ہے اور آگ سی جلنے کو ہے

    سامنے ہے نیند کی لمبی مسافت آج شب
    کاروان انجم و مہتاب بھی چلنے کو ہے

    ***

  6. #6
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    29
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel Re: ثمینہ راجہ

    سمندر اداس ہے


    سمندروں کی سرمئی ہوائیں کیوں اداس ہیں؟
    ہواؤں کے مزاج میں ۔۔سمندروں کی تند بو رچی ہوئی
    نمی کی اور مچھلیوں کے جسم کی کثیف بو
    یہ مردہ مچھلیوں کے اور سیپیوں کے سرد جسم
    ساحلوں کی زرد زرد ریت پر
    وہ جیتی جاگتی شریر مچھلیوں کے مضطرب بدن کی بو کہاں گئی
    سمندروں کے ساحلوں کی زرد ریت آج کیوں اداس ہے؟


    یہ ٹوٹتی ہوئی سی
    موج موج نے
    اداس ساحلوں سے آج کیا کہا
    سمندروں کے خوابناک ساحلوں پہ
    کیسا بے حساب
    وقتِ شوق بہہ گیا
    جو اس سے پہلے لوٹ
    کر نہ آ سکا ۔
    جو اس کے بعد لوٹ کر
    نہ آئے گا
    سمندروں کی موج موج کا
    وہ نیلگوں اتار اور چڑھاؤ
    کیا ہوا؟

    وہ صبح کا گلاب رنگ سا افق ۔۔
    وہ شام کی سیاہی میں گھلی شفق
    وہ پانیوںمیںآفتاب کا رخِ نگارِ آتشیں
    سمندروں کے ساحلوں پہ وہ بہارِ آتشیں
    بہار کیوں اداس ہے؟

    بہار کے پرند کیوں اداس ہیں؟
    سمندروں کا حسن ۔۔۔۔ساحلوں کی جان۔۔۔۔ آبی جاندار
    ساحلوں پہ جھمگٹا کیے ۔۔۔ سفید و سرمئی حسیں پرند
    نرم خو اڑان والے ۔۔۔ اونچی اونچی تان والے ۔۔۔موج موج پر رواں
    وہ موج کے، ہواکے، سرمئی فضا کے رازداں

    سمندروں پہ کشتیوں کا خوش نظر خرام کیوں اداس ہے؟
    سفید بادباں ۔۔۔ ابھی تو دور کے کسی سفر کے واسطے کُھلے نہیں
    ابھی مسافروںکے دل۔۔۔ نئی زمیں کی جستجو میں جھوم کر کِھلے نہیں
    مسافروں کے نرم دل نجانے کیوں اداس ہیں،
    وہ کشتیوں میں آبِ نیلگوںپہ دور دور جاتے مرد و زن کے رنگ رنگ پیرہن
    مسافروں کے ربطِ عام سے بدن کی وہ مہک
    نگاہ میں عجیب سا وہ خوف و اشتیاق ۔۔۔ ایک اجنبی زمین کا
    مگر جبیں پہ دھوپ سی چمک دمک
    یہ دھوپ کیوں اداس ہے؟

    یہ دھوپ ۔۔۔ ساحلوں کی سرد اور سیاہ ریت پر پڑی ہوئی
    یہ مردہ مچھلیوں کی طرح بے وقار اور اداس
    سبز پانیوں سے مل کے
    بوند بوند تابدار کرنے والی ۔۔۔ گہر گہر آبدار کرنے والی
    باوقار دھوپ کیا ہوئی؟
    وہ بادبانی کشتیوں پہ دور تک ۔۔۔۔ مسافتوں کا ساتھ دینے والی
    اگلے ساحلوں پہ انتظار کرنے والی ۔۔۔ بے شمار دھوپ کیا ہوئی؟ِ
    یہ ساحلوںکا شوقِ انتظار کیوںاداس ہے؟

    جہاز راں، جو اگلے ساحلوںکی سمت ۔۔۔ مستقل سفر کریں ۔۔۔ کہاں گئے؟
    سفید،نیلی وردیوںمیں کسرتی بدن ۔۔۔ جواںجہاز راں
    کمر میں جگمگاتی سرخ اور سنہری پیٹیاں کسے ہوئے
    وہ لمبی زندگی پہن کے دور جاتے
    گہرے پانیوں پہ اجنبی زمیں کا ۔۔۔ حیرتوں میں ڈوبتا ۔۔۔ عجیب راستہ بناتے
    عزم سے بھرے جواں جہاز راں
    وہ دیو ہیکلوں کو اپنے ہاتھ، اپنی آنکھ کے ۔۔۔۔خفی اشارے سے چلاتے ۔۔۔ مسکراتے
    آج کیوں اداس ہیں؟

    عجیب مرحلوں کی سمت ۔۔۔ اجنبی مہیب ساحلوں کی سمت
    اک سفر کا عزم کیوں اداس ہے؟

    ازل سے تا ابد حیات کا سفر ۔۔۔ ازل سے تا ابد یہ بحر نیلگوں
    یہ اونچی اٹھتی ۔۔۔ آسماں کو چھوتی لہر لہر میں
    تموّجِ حیات بھی ۔۔۔ شکوہِ کائنات بھی ۔۔۔ فنا بھی اور ثبات بھی
    ثبات کیوں اداس ہے؟

    فنا کا راستہ ابھی نہیں ملا ۔۔۔ ثبات کا پتہ ابھی نہیں ملا
    سفر میں آبِ نیلگوں ۔۔۔ سفر میں سب پرند ہیں
    سفر میں سب جہاز راں۔۔۔ سفر میں یہ زمینِ جاں ۔۔۔ سفر میں سبز آسماں
    مگر یہ خوابِ زندگی ۔۔۔ یہ سطحِ آب پر ۔۔۔ نگاہ میں، حبابِ زندگی
    سرابِ زندگی یہی ۔۔۔ یہی ہے آبِ زندگی
    سمندروں پہ پھیلتا ۔۔۔ سراب کیوں اداس ہے؟
    یہ خوابنائے خواب ۔۔۔ کیوں اداس ہے؟

    ***

  7. #7
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    29
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel Re: ثمینہ راجہ


    لیلٰی لیلٰی


    خیمے میں چراغ جل رہا ہے
    آئینے پہ چھائی ہے سیاہی
    سب نقش و نگار کھو گئے ہیں
    دھندلا ہے وجود کا یہ سایا
    اپنی ہی نگاہ سے چھپا کر
    کس شکل کو ڈھونڈتی ہے لیلٰی

    اس دشتِ فراق ِ آرزو میں
    اتری ہے ہمیشہ رات لیکن
    یہ آج کی رات کچھ عجب ہے
    خاموش ہیں پہرے دار سارے
    گل ہیں سبھی مشعلیں زمیں پر
    سوتے ہیں فلک پہ سب ستارے


    اک موج ِ ہوا کے ساتھ ہر پل
    آتی تھی حدی کی تان پہلے
    اب تو وہ صدا بھی دم بخود ہے
    وہ باد ِ شمال جس کے دم سے
    ہو جاتا تھا خوشگوار صحرا
    وہ نرم ہوا بھی دم بخود ہے

    اس دشتِ ملال ِ آرزو سے
    کچھ دور ہیں زندگی کی راہیں
    یہ کیسا غبار ہے کہ جس میں
    وہ شہر ِ جمال ِ یار گم ہے
    پاؤں سے لپٹ گئی مسافت
    اٹھتے ہیں بدن میں کیا بگولے
    آنکھوں میں ٹھہر گیا اندھیرا
    امید کا ہر دیار گم ہے

    اک خواب کی آرزو میں نکلی
    اور نیند کی آس توڑ آئی
    لے آئی شبیہ ِ یار لیکن
    آنکھوں کو وہیں پہ چھوڑ آئی
    اب سارے جہان سے چھپا کر
    کس شکل کو ڈھونڈتی ہے لیلٰی

    ملبوس میں اب نہیں وہ خوشبو
    آواز سے کھو گیا وہ جادو
    دل میں ہے مگر وہی تمنا
    تن کا ہے مگر وہی تقاضا
    اپنے ہی وجود سے الجھ کر
    کس درد سے ٹوٹتی ہے لیلٰی

    کیسی ہے بدن میں بیقراری
    آرام نہیں کسی بھی پہلو
    کانوں پہ رکھے ہیں ہاتھ لیکن
    اک شور مچا ہوا ہے ہر سو
    کیا عکس نے یہ صدا لگائی
    یا دیتا ہے آئنہ دہائی

    لیلٰی! ترا وقت کھو چکا ہے
    لیلٰی! ترا دشت لٹ گیا ہے
    لیلٰی! ترا باغ جل رہا ہے

    ***

  8. #8
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    29
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel Re: ثمینہ راجہ

    Attachment 3326

    ثمینہ راجہ

  9. #9
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default Re: ثمینہ راجہ




    khoob collection

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - ثمینہ راجہ

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

  10. #10
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    836 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1180
    Rep Power
    21474971

    Default Re: ثمینہ راجہ

    ahan v nice collection
    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •