saleem altaf - Saleem Altaf


پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم الطاف کو فوری طور پر ڈائریکٹر ورلڈ کپ2011ء کے عہدے سے ہٹادیا ہے۔

ان پر کرکٹ بورڈ کی خفیہ معلومات میڈیا کو بتانے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس کی سلیم الطاف کی سختی سے تردید کی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ سلیم الطاف کی خدمات کی ضرورت نہیں تھی لہذا ان کا کنٹریکٹ ختم کردیا گیا ہے۔
سلیم الطاف نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ بورڈ کی خفیہ معلومات میڈیا کو بتارہے تھے جس پر انہوں نے ڈاکٹر نسیم اشرف سے کہا کہ ایسی کونسی اہم معلومات ہیں جو صرف انہیں پتہ ہیں۔ بورڈ میں جو بھی ہوتا ہے وہ سب کو پتہ ہوتا ہے۔

سلیم الطاف نے کہا کہ انہوں نے پی سی بی کے چیئرمین سے پوچھا کہ کیا آپ ان کی فون پر ہونے والی ذاتی گفتگو بھی ٹیپ کرارہے تھے تو ڈاکٹر نیسم اشرف نے اس کا جواب اثبات میں دیا اور کہا کہ یا تو آپ استعفی دے دیں یا پھر برطرف ہونے کے لئے تیار ہوجائیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ استعفی نہیں دیں گے آپ انہیں برطرف کردیں اور اس معاملے کو سب کے سامنے لے آئیں۔

سلیم الطاف نے کہا کہ وہ بھی وکیل ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کی فون پر ذاتی گفتگو ریکارڈ کرنا جرم ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنے قانونی مشیروں سے مشورہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر انہیں شرمندگی ہو۔

سلیم الطاف نے کہا کہ بورڈ کے چیئرمین نے غیرضروری طور پر یہ تنازعہ کھڑا کیا ہے کیونکہ وہ ان کے لئے قابل قبول نہیں تھے انہیں کوئی بھی اچھا مشورہ دیا جاتا وہ ناگواری کا مظاہرہ کرتے تھے۔

سلیم الطاف کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیا منصور سہیل سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مختصراً کہا کہ قواعد وضوابط کے مطابق سلیم الطاف کا کنٹریکٹ ختم کیا گیا ہے اس سے زیادہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرینگے