غٰربت بحثیت موضوع شاعروں ، کہانی نویسوں اور سیساستدانوں سمیت دنیا کی مختلف آرگنائزیشن اور ریسرچ کرنے والوں کا پسندیدہ ترین موضوع رھا ھے ۔ سب نے صفحوں کے صفحے کالے کر دیئے کبھی ملکی اکنامکس کی بےترتیبی کو موردٍالزام ٹھہرایا تو کبھی تعلیم کی کمی کو آڑے ھاتھوں لیا ۔ کسی نے حکومتوں کی تبدیلیوں کو کوسا تو کسی نے بیرونی مداخلتوں کو وجہ جانا ۔ آج جب جناب سید مصباح حسین (آسٹریلیا) کا مضمون کیا موسیٰ بک گیا؟ پڑھ رھی تھی تو بےاختیار سوچتی گئی کی یہ کتنی بڑا اور بھیانک ادراک ھے کہ غربت سے اب تک کوئی نہیں جیت سکا ھے ۔ مجھے اٍس وقت ایک اور بات بھی آپ سب سے کہنے کو جی کر رھا ھے تاکہ آپ اندازہ لگا سکے کہ میں یہ سب کس کیفیت میں لکھ رھی ھوں ۔

میری ڈیوٹی اکثر اتوار کو لگ جایا کرتی ھے جو مجھے ھر حال میں کرنی پڑتی ھے سو اٍس دفعہ بھی اتوار کو میں سارادن ہسپتال میں ھی تھی ۔ ایک مریض کو گھر بھیجنا تھا سو ضروری کاروائی کے بعد اسے گھر بیجھ دیا گیا ۔ میری عادت ھے کہ میں اگلے روز ضرور ھی فون کرتی ھوں تاکہ مریض کو یہ نہ لگے کہ وہ اکیلا رہ گیا ھے سو حسب عادت خیریت کے لیئے فون کیا تو اٰس کی بیوی نے بتایا کہ وہ رو رھا ھے ۔

کیوں ؟ میں نے حیرت سے پوچھا تو اٰس نے جواب دیا کہ گھر کی حالت اس سے برداشت نہیں ھو رھی ۔ میرا دوسرا سوال یہ تھا کہ گھر کو کیا ھوا ھے جو ھمارے علم میں نہیں ۔ اس نے بہت تکلیف سے مجھے بتایا کہ گھر میں بچوں کے لیئے کھانا نہیں ھے اور نہ ھی ان کے پاس پیسے ھیں سو اس نے ابھی لائف لائن والوں کو فون کیا ھے اور درخواست کی ھے کہ اگر وہ کچھ کھانے کو ان لوگوں کو دےجایئں ، پھر ۔۔۔ پھر ۔۔ دوستوں مجھ سے کچھ سوچا نہیں گیا ۔۔ بس کوشش کرتی رھی کہ کسی طرح آج اٍس بھوک کو شکست دیدوں چاھے وہ ایک ھی وقت کی کیوں نہ ھو ۔۔۔ اٍس وقت جناب مصباح حسین کے مضمون کو پڑھتے ھوئے جو میرے دل پر گزری ھے وہ شاید لفظوں میں نہ لکھ پاؤں لیکن اٍس بات کو اور آگے بڑھانا چاھتی ھوں کسی اور انداز میں خواھش ھے کہ آپ سب میرے ساتھ رھیں اور سوچیں کہ آخر یہ مسلہ اتنا سنگین کیوں ھو گیا ھے ۔۔

غریب کی تعریف یہ ھے کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس نقد زر یاتو بالکل نا ھو یا اٍتنا ھو جواس کے لیئے ناکافی ھو ،اٍسی طرح اس کے پاس سہولیات ٍ زندگی یا تو بلکل نا ھو یا اتنی ھو جواس کے لیئے ناکافی ھوں ۔ فروری 2008 میں پوری دنیا 6.602249 بلین لوگوں پر مشتمل تھی جس میں پاکستان کی آبادی 169 ملین بتائی گئی ۔ پوری دنیا میں غربت 60 فیصد بتائی جاتی ھے اور ان میں 30 فیصد وہ لوگ ھیں جنہں صرف ایک وقت کا کھانا میسرھے ۔

پوری دنیا کے ترقی پزیر ملکوں کی 70 فیصد آبادی گاؤں میں رھتی ھے تو ترقی یافتہ ملکوں میں 55 فیصد لوگ گاؤں میں رھتے ھیں ۔ گاؤں میں رھنے والے 60 فیصد لوگوں کے پاس تھوڑی سی یا بالکل زمین نہیں ھوتی اور جو تھوڑی سی ھوتی ھے وہ زیادہ تر وراثت میں ملی ھوتی ھے اور اٍس قابل نہیں ھوتی کہ اس پر کچھ اٰگایا جا سکے یا پھر کچھ اور انڈستڑی یا پولٹری فارم وغیرہ ھی بنا لیا جائے سو وہ بس نام کی زمین ھی ھوتی ھے ۔

ترقی پزیر ملکوں میں 50 فیصد ماڈرن تعلیم کی سہولت نہیں ھوتی اور اٍن ملکوں میں 60 فیصد عورتیں ان پڑھ ھوتی ھیں سو وہ معاشی مددگار نہیں ھوتی ۔ کہتے ھیں کہ جس ملک میں 40 فیصد بچوں کی پاپولیشن ھو وہ سب سے روشن مستقبل والا ملک ھوتا ھے کہ ان بچوں میں کوئی شاعر ھو سکتا ھے تو کئی موسیقار تو کوئی سیاستدان تو کوئی سائینس دان اور انہی میں سے کوئی ڈاکٹر تو کوئی انجینر لیکن ھماری بدقسمتی دیکھیے انہی بچوں میں دنیا بھر میں روزانہ 30 ھزار بچے مر جاتے ھیں جن میں سے ھر ایک گھنٹے میں 40 بچے ایڈز سے مر جاتے ھیں ۔ مراکو کے اعداد شمار نے ایک اور دل دھلانے والی رپورٹ لکھی ھے کہ وہاں 98 فیصد بچے سڑکوں پر رہتے ھیں اور صرف اٰس کے ایک شہر کیسل بلانکا میں 50 ھزار بچے سڑکوں پر سوتے ھیں ۔

آیئے آگے بڑھنے سے پہلے یہ دیکھے کہ دنیا کے نقشے پر دس امیر ترین ملک کونسے ھیں اور غریب ترین کونسے ھیں

CIA World Factbook کے مطابق دنیا کے امیر ترین دس ملک مندرجہ زیل ھیں اور یہ ترتیب ملکوں میں رھنے والوں کی قوتٍ خرید سے بنائی جاتی ھے ۔

1 Luxembourg
2 Equatorial Guinea
3 United Arab Emirates
4 Norway
5 Ireland
6 United States
7 Andorra
8 Iceland
9 Denmark
10 Austria

یہ وہی ملک ھیں جہاں اٍتنا غلہ اور اناج ھوتا ھے کہ انہیں سمندروں میں بہا دیا جاتا ھے کہ ان کی ایک چوتھائی عوام میں قوتٍ خرید نہیں ھوتی اور وہ ان میں ان میں آللہ واسطے بانٹ نہیں سکتے اور انہی ملکوں کے لوگ تخمینے لگاتے ھیں کہ چار لوگوں پر مشتمل فیملی کو یومیہ اوسطاُ شہر میں غربت سے بچنے کے لیئے کم سے کم صرف 2.4 ڈالر چاھیئے ھوتے ھیں اور گاؤں میں رہنے والوں کو صرف 2 ڈالر درکار ھیں ۔ اور انہی ملکوں کے لوگ غربت کا نقشہ ایسے بھی کھینچتے ھیں کہ ایک روٹی یا ڈبل روٹی کا ٹکڑا کو کھانے والے اوسطاُ چھ افراد ھوتے ھیں ۔

CIA World Factbook کے مطابق دنیا کے غریب ترین ملک
1 Malawi
2 Somalia
3 Comoros
4 Solomon Islands
5 Congo, Democratic Republic of the
6 Burundi
7 East Timor
8 Tanzania
9 Afghanistan
10 Yemen

غربت کو ختم کرنے کے لیئے جب Global Peace کی بات کرنے والے UNO میں بیٹھ کر غریب ملکوں کی سلامتی کا سودا انہیں ھتھاروں کی خریداری میں الجھا کر کرتے ھیں تو وہی پر دنیا کا سب سے بڑا دھوکے باز 85 فیصد زرمبادلہ کی مد میں آمدنی انہی ھتھیاروں کے خرید و فرخت سے اکٹھا کرتا ھے اور پوری دنیا کا مالک و مختار بن جاتا ھے ۔

وہی کبھی غریب فلسطین کو اسرایئل کے ھاتھوں یرغمال رکھواتا ھے تو کبھی افغانستان کو سویت یونین کو توڑنے کے لیئے استعمال کرتا ھے اور کبھی عراق کو دہشت گردی کی سزا دیتا ھے تو کبھی ایران کواس کی بہادری پر دھمکاتا ھے اور پھر ساری دنیا کو ملک سلامتی کی اس دوڑ میں لا کھڑا کرتا ھے جہاں ورلڈ ملٹری بجٹ 1000 بلین سالانہ ھو جاتا ھے اور بات یہی نہیں ختم ھوتی بلکہ یہ بجٹ 2005 میں 1.1 ٹرلین تک تجاوز کر جاتا ھے اور اسی کے ملک کی Unicef کے فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق غریبوں میں روٹی ، کپڑا اور مکان تقسیم کرنے کے لیئے سالانہ 10.5 بلین بجٹ بنایا جاتا ھے اور امن و امان قائم کرنے کے لیئے صرف 5 بلین ڈالر خرچ کیے جاتے ھیں جو ملٹری بجٹ کا صرف 0.5 فیصد ھے ۔ یہ ھیں غریبوں کے ھمدرد اور داد رسی کرنے والے ملک ۔

اکتوبر 2006 کے سروے کے مطابق پاکستان میں ایک چوتھائی عوام غریب ھے اور غربت کا گراف اوپر سے اوپر ھی بڑھتا جا رھا ھے
اٰسی سال کے Human Devlopment Index کے مطابق انڈیا میں سب سے زیادہ غربت تھی ( 0. 611) اور پھر دوسرے نمبر پر پاکستان ( 0.539) اور تیسرے نمبر پر بنگلہ دیش ( 0.530) تھا یعنی غربت میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو شکست دیدی اور اور اپنے معاشی استحکام کو بلند کیا اور میعارٍ زندگی کو بہتر بنایا ۔ پاکستان 1991 میں سب سے زیادہ غربت کا شکار رھا جب اس کا گراف 35 فیصد ھو گیا تھا ۔ اور یہ وہی دور ھے جب غریب غریب تر ھوا تھا اور امیر ، امیر ترین بن گیا تھا ۔

1999 میں پاکستان کی تاریخ میں سندھ میں غربت کی شرح کم ھوئی تھی اور فرنٹیر میں بڑھی تھی ۔ آپ کو یاد ھو گا کہ یہ وہی زمانہ ھے جب سویت یونین کی مداخلت سے طالبان کے دورٍ حکومت کا آغاز ھوتا ھے ۔ پاکستان کی غربت میں ایک اور بہت بڑا ھاتھ تعلیم کی کمی ھے اور وہ بھی خواتین میں جس کی وجہ سے وہ گھر کی معاشی صورتٍ حال کو بہتر کرنے میں اکثر فعال حصہ نہیں لے سکتی

اب یہی دیکھیئے کہ ناخواندگی 55 فیصد ھے اور نمایئندگی کے طور پر ایوانوں میں عورتوں کو صرف 3 فیصد سیٹیں حاصل ھیں ۔ پاکستان کو کمزور کرنے میں جہاں اندورنی ، بیرونی سازشوں کا ھاتھ رھا ھے وھاں فوجی ڈکٹیٹر شپ نے سب سی زیادہ دھچکا پہنچایا ھے اور جب بھی تھوڑے ہی عرصے کے لیئے جمہوریت آئی بھی تو ان کی من مانی کے جمہوری قوانین نے اور بھی صورتٍ حال کو خراب کیا ۔

پاکستانی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بالواسطہ اور بلاواسطہ سب سے زیادہ غریب ھی متاثر ھوئے ۔ کیا یہ دل ھلا دینے والا انکشاف نہیں ھے کہ پاکستان کی 169 ملین کی آبادی میں 1.2 ملین بچے سڑکوں پر سوتے ھیں جن میں زیادہ تر بچے بھکاری ھیں یا پھر راج مزدوری کرنے والے ھیں ۔ اور ان میں کچھ بچے صرف ایک روٹی کے لیئے کسی کے لیئے ڈرگ بیچتے ھیں تو کبھی ان کے لیئے چوری کرتے ھیں تو کبھی اسمگلنگ جیساگھناؤنا جرم کرتے ھیں ۔ جو بچے اٍس کم ّعمری میں خوف و حراس ۔ بھوک افلاس اور تنہائی اور بے یقینی میں رھتے ھوں وہ کس کے روشن مستقبل کی ضمانت ھو سکتے ھیں ۔۔

تو دوستو یہ ھے ھمارا آپ کا شاندار مستقبل جس پر ایک انسان ھونے کے ناطے کسی کو بھی اپنی انسان دوستی کا دعویٰ کرنے سے پہلے ایک بار نہیں کئی سوچنا پڑے گا ۔ آج میں بہت ھی دکھی ھو کر لکھ رھی ھوں کہ پاکستان میں وڈیروں ، جاگیرداروں اور ساھوکاروں نے اپنے طاقت کے زور پر غریب لوگوں کی عزت ، ایمان اور جان سب ھی کچھ لوٹا ھے اور روٹی کپڑے اور مکان کے وعدے پر کام لینے والوں نے انہیں روٹی کے ایک ٹکڑے تک کے لیئے بھی ترسایا ھے ۔

اور اٍسی پر بس نہیں اٍسی جھوٹ پر ووٹ بھی خریدے ھیں اور انہی پرحکومت بھی کی ھے اور ایسے ھی چند حکومتی لوگوں نے انہیں تعلیم کے نام پر کئی مدرسے کھول کر دیئے اور جہاد کی پٹی ان کی آنکھوں پر باندھ کر اپنے ھی انتقام کے لیئے استعمال بھی کیا ۔ اور پھر جب دل کیا انہیں اپنے ھی ملک میں اپنی ھی فوج سے مروا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ھیومن رائٹ یعنی انسانی حقوق والوں نے غربت کم کرنے کے لیئے ایک سروے کیا اور اس سروے کے مطابق لوگوں کی رائے کچھ یوں تھی

١) دنیا کی بڑھتی ھوئی آبادی کو کم کرنا چاھئیے ( 62 %)
٢) امن و امان کی بحالی اور جنگوں سے ھر ممکن گریز ھونا چاھیئے ( 26% )
٣) جاب کو ھر ممکن یقینی بنایا جائے ( 21% )
٥) تنخواؤں میں اضآفہ ھونا چاھیئے ( 2% )
٦) کرپشن پر کنٹرول ( 1%)
٧) سیاسی استحکام ( 1% )

یقین جانیئے کہ غربت یہ نہیں ھے کہ کسی ملک میں کوئی پڑھا لکھا نہیں ھے یا اگر کوئی پڑھا لکھا ھے مگر اس کے پاس اچھی نوکری نہیں ھے بلکہ غریب وہ ھے جس کے پاس فقط ایک دن کا بھی جینے کا آسرا نہیں ھے۔
نہ ایک وقت کی روٹی نہا ایک وقت دھوپ بارش سے بچنے کا سامان ، اور نہ خوف سے بےخبری کی نعمت میسر ھوتی ھے ۔ اور جب یہی غریب لوگ گندے پانیوں میں سے کیڑے نکال کر پانی پینے سے اور کچرے کے ڈھیر سے کھانا ڈھونڈھ کر کھانے سے بچے بڑے اور بوڑھے جب بیمار پڑ جاتے ھیں تو مسیحا بھی مفت مسیحائی سے انکار کر دیتا ھے کہ اٰس کو بھی اپنی غربت سے بچنا ھوتا ھے ۔ سو پھرغریب تو وہ ھوا نا جس کے پاس نہ آزادی ھے نہ اختیار بس ھر طرف بےبسی اور بند دروازے ھیں ۔

سنا ھے کہ پاکستان نے بھی ورلڈ بینک اور پرایئویٹ آرگنایزیشن کی مدد سے غربت کو مات دینے ک لیئے 10 بلین کا حدف پورا کر لیا ھے اور پورے ملک میں 40 ھزار کمیونٹی سینٹر کھولے ھیں مگر پھر بھی پاکستان کے ایک بچے موسی کو بکنے سے نہیں بچا پا رھی ۔۔ یہ دکھ مجھے آج کچھ اور نہیں سوچنے دے رھا ۔۔۔۔

یہی غنیمت ھےکہ بچے خالی ھاتھ نہیں ھیں
اپنے پرکھوں سے دکھ کی میراث تو لیتے ھیں