نیو میکسیکو کا قومی پرندہ، روڈ رنر امریکہ کی جنوب مغربی ریاست نیو میکسیکو کا قومی پرندہ ایک کوئل نما پرندہ ہے جسے روڈرنر کہا جاتا ہے۔اس کی وجہٴ تسمیہ یہ ہے کہ یہ اڑتا تو ہے ہی، ساتھ ہی ساتھ زمین پر تیز دوڑنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

اس ریاست میں ایک ایسا کمپیوٹر نصب کیا جا رہا ہے جسے اسی پرندے کی مناسبت سے روڈ رنرکا نام دیا گیا ہے۔

کل اس کمپیوٹر کے ابتدائی ٹیسٹ کیے گئے جن کے بعداسے باضابطہ طور پر دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر کا اعزاز دیا گیا۔
آپ نے سنا ہو گاکہ آج کل نئے کمپیوٹروں میں دو پروسیسر لگے ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر روڈ رنر میں 116,640پروسیسر نصب ہیں، جن کی مدد سے روڈ رنر ایک سیکنڈ میں دس لاکھ ارب کیلکیولیشنز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ یوں لگائیے کہ اگر دنیا کے تمام چھہ ارب انسان ایک ایک کیلکیولیٹر لے کر حساب کریں تو انھیں وہ سوال حل کرنے میں پونے پانچ گھنٹے لگیں گے جو روڈ رنر ایک ہی سیکنڈ میں حل کر لے گا۔

اس سپر کمپیوٹر کی قیمت ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے، اسے آئی بی ایم کمپنی نے مشرقی امریکی ریاست نیویارک میں تیار کیا ہے، جہاں سے اسے نیو میکسیکو لے جاکر امریکی فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔
ویسے تو اس کمپیوٹر کا بنیادی فریضہ امریکی دفاعی معاملات پر تحقیق کرنا ہے لیکن اس کی زبردست طاقت کو سائنسی مسائل کی چھان بین کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ مثال کے طور پرروڈ رنر کی مدد سے ایڈز کی ویکسین بنانے اور انسانی دماغ کے ان حصوں کے بارے میں تحقیق کی جائے گی جو بصارت سے متعلق ہیں۔ اس سپر کمپیوٹر کے ذمے دوسرے کاموں میں ایٹمی فیوژن کے ذریعے صاف ستھری توانائی پیدا کرنے کے طریقے دریافت کرنا اور موسمیات کی درست پیش گوئیاں کرنے کے ماڈل بنانا شامل ہیں۔
دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر روڈ رنر
سائنس دانوں کو توقع ہے کہ جو مسائل حل کرنے میں دوسرے کمپیوٹر سالہا سال لگا دیتے تھے، وہ روڈ رنر چٹکی بجاتے ہی حل کر دے گا۔

یہ سپر کمپیوٹر بھی انسانی ذہن کی ذہانت کے سامنے طفلِ مکتب ہے اس زبردست سپر کمپیوٹر کا وزن 230 ٹن ہے اور اسے 221 ٹرکوں پر لاد کر نیویارک سے امریکہ کے دوسرے سرے یعنی ریاست نیو میکسیکو لے جایا جائے گا۔لیکن شاید آپ کو یہ جان کر تعجب ہو کہ اس تمام تر دیو ہیکل پن کے باوجود اس کمپیوٹر کی ذہانت ایک عام انسان کے دماغ کے مقابلے میں 50 گنا کم ہے۔

کمپیوٹر کے خالق کہتے ہیں کہ ایسا کمپیوٹر بنانے میں ابھی مزید کئی برس لگیں گے جس کی ذہانت انسان کے برابر ہو۔