خفا تو ہوں تم سے اے دوست
اپنے غم کی بات ہمیشہ تم کو بتانا چاہی

پروا نہیں تیری بظاہر مجھ کو ذرا بھی
تیری ہر غلطی پر صحیح بات تم کو سمجھانا چاہی

دیکھتا ہوں خریدتے ہوئے جب لوگوں کو تحائف
ہر خوبصورت چیز میں نے تم کو دلانا چاہی

دیکھا جب الجھا ہوا تجھے مصائب کے تانوں بانوں میں
مصائب کی ہر گھتی میں اپنے ہاتھوں سے سلجھانا چاہی

تمہیں گلہ ہے کہ نہ نبھا سکا میں رسمِ وفا
حالانکہ وفا کی ہر رسم میں نے نبھانا چاہی

کثرت عیشں سے اگرچہ مجھے ڈر ہے کہ تو بھول جائے گا
تیرے لیے خوشیوں کی دعا ہمیشہ میں نے کروانا چاہی