Results 1 to 2 of 2

Thread: بہادر نوجوان ۔ ۔ ۔ بچوں کی کہانی

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel بہادر نوجوان ۔ ۔ ۔ بچوں کی کہانی

    پیارے بچوں۔۔۔۔ آج ہم آپ کو ايک بہادر نوجوان کا قصہ سناتے ہيں، ان کا نام تھا سلمہ بن اکوع رضي اللہ عنہ، يہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے صحابي تھے، بڑے چُست اور پُھر تيلے تھے، تير اندازي ميں بھي بڑے ماہر تھے۔
    ايک دفعہ عجيب حادثہ ہوا، مدينہ منورہ سے باہر ايک جنگل تھا جسے غابہ کہتے تھے، وہاں رسول پاک صلي اللہ عليہ وسلم کي اُونٹنياں چرا کرتي تھي، کافر ڈاکوؤں نے وہاں ہملہ کيا، اونٹنيوں کے چرواہے کو قتل کرديا اور اونٹنياں اپنے ساتھ لے گئے، يہ سب کچھ رات کے آخري پھر ميں طلوع سحر کے قريب ہوا۔
    حضرت سملہ بن اکوع رضي اللہ عنہ تير کمان لئے ہوئے صبح کي اذان سے پہلے اسي جنگل کي طرف جا رہے تھے کہ کسی نے ان کو حادثہ کی اطلاع دی، حضرت سملہ رضي اللہ عنہ فورا ايک پہاڑ پر چڑہ گئے اور مدينہ کي طرف منہ کرکے زور سے اعلان کيا کہ
    ڈاکہ پڑ گيا ہے مدد کيلئے جلدي آؤ۔
    يہ اعلان کرکے حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ خود اکيلے ان کافروں کے پيچھے دوڑے اور جلد ہي ان کے قريب پہنچ گئے اور ان پر تير برسانے شروع کئے اور ساتھ ساتھ نعرہ لگارہے تھے، ان ابن الاکوع، اليوم يوم الرضع
    ميں ابن اکوع ہوں، آج تمہيں چھٹی کا دودھ ياد آئے گا۔
    حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ کا نشانہ بے خطا تھا، جس کافر کو لگتا زخمي يا ہلاک ہو کر گر پڑتا، پہلے تو کافر يہ سمجھتے رہے کہ بہت سارے مسلمان ہمارے پيچھے لگے ہوئے ہيں اور تير چلا رہے ہيں اس لئے وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے،مگر بعد ميں ان کو اندازہ ہوگيا، کہ يہ ايک اکيلا لڑکا ہے جو ہميں پريشان کئے ہوئے ہے، ان کافروں نے کئی بار کو شش کی کہ پلٹ کر حملہ کريں اور ان کو پکڑ ليں مگر جو ں ہی کوئی کافر گھوڑا موڑ کر ان کی طرف آتا يہ کسی درخت يا پتھر کے پيچہے چُھپ جاتے اور تير مار کر اس کے گھوڑے کو زخمی کر ديتے وہ اپنی جان بچانے کيلیے واپس بھاگ جاتا۔
    حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے دير تک ان کا تعاقب کيا، کافر اتنے بدحواس ہوئے کہ حضور کی لوٹی ھوئي اونٹنياں بھی پيچھے چھوڑ ديں اور جان بچا کر تيزی سے بھاگنے کيلئے اپنے سامان سفر اور زائد ہتھيار کے بوجھ سے بھي آزاد ہوتے گئے، تيس چادريں، اور تيس نيزے انہوں نے راستے ميں پھينکے اور بھاگتے چلے گئے۔
    آگے چل کر ان کافرون کی ايک اور جماعت مدد کيلئے مل گئي، اب ان کی جان ميں جان آئی اور سب نے مل کر حضرت سلمہ رضي اللہ کو گھيرنے کی کوشش کی، حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ ايک پہاڑ پر چڑہ گئے اور للکارا کر کہا
    ميں ابن اکوع ہوں قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد صلي اللہ وسلم کو عزت دی ہے تم ميں سے کوئی مجھے نہيں پکڑ سکتا ہے اور ميں جس کو چاہوں پکڑ سکتا ہوں۔
    وہ لوگ گھبرا کر رک گئے، حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے ان لوگوں کو باتوں ميں لگائے رکھا، تاکہ مدينہ سے مسلمانوں کی مدد آجائے، چناچہ کچھ دير بعد دور سے صحابہ کرام رضي اللہ تعالي عنہم کا ايک دستہ گھوڑوں پر سور آتا دکھائی ديا۔
    ان کے ميدان ميں پہنچتے ہي لڑائی شروع ہوگئی،کچھ دير بعد کافروں کا سردار مارا گيا باقی کافر بھاگ نکلے حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ ايک بار پھر ان کے پيچھے دوڑے، دير تک ان کا پيچھا کرتے رہے يہاں تک کہ شام ہوگئي، بھاگنے والے کافر ايک تالاب کے پاس رک گئے تاکہ پانی پی ليں، مگر جب حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ کو آتے ديکھا تو خوف کے مارے برا حال ہوگيا، پانی پئيے بغير بھاگ کھڑے ہوئے۔
    ان ميں سے ايک آدمي ذرا پيچھے رہ گيا، حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے دوڑتے دوڑتے ايک پہاڑی گھاٹی ميں اس کا جاليا اور تير چلاتے ہوئے نعرہ لگايا۔
    Last edited by Mohammad Sajid; 16-05-2010 at 10:17 AM.

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: بہادر نوجوان ۔ ۔ ۔ بچوں کی کہانی

    ميں ابن اکوع ہوں، ذليل لوگوں کی ہلاکت کا دن ہے۔
    تير اس کے کندھےسے پار ہوگيا اور وہ تکليف سے چلاتا ہوا بولا ارے تو وہی صبح والا اب اکوع ہے ابھی تک ہمارے پيچھے لگا ہوا ہے حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے جواب ديا ہاں اپنی جان کے دشمن ميں وہی صبح والا ابن اکوع ہوں۔
    اس کے بعد حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے کافروں کے دو گھوڑے اپنے قبضے ميں لئے اور حضور اکرم صلي اللہ عليہ وسلم کي خدمت ميں حاضر ہوئے ديکھا کہ کافر جو اونٹنياں چادريں اور نيزے چھوڑ گئے تھے صحابہ کرام نے ان کو جمع کرليا ہے، حضرت بلال رضي اللہ تعالي عنہ ايک اونٹني صبح کرکے اس کي کليجي اور کوھان بھون رہے تھے تاکہ خضور صلي اللہ وسلم نوش فرمائيں۔
    حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت ميں عرض کيا سو آدمي ميرے ساتھ کرديں تو ميں دشمنوں کا مزيد تعاقب کرکے ان کو ختم کردوں گا، حضور نبی کريم کو اس کم نوعمر جانثار کي جرائت اور ہمت پر بے حد خوشی ہوئی آپ صلي اللہ عليہ وسلم ہنس دئيے اور فرمايا اب مزيد تعاقب کي ضرورت نہيں وہ لوگ اپنے قبائل ميں پہنچ گئے ہيں۔
    رات بھر آرام کرکے صبح جب مدينہ منورہ کي طرف واپسی ہوئي تو حضور نبي اکرم نے حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ کو يہ اعزاز عطا کيا کہ ان کو اپنے ساتھ اپنی اونٹني پر بٹھاليا، حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ کيلئے اس سے بڑہ کر خوشي کی بات بھلا اور کيا ہوسکتي تھی۔
    ديکھا دوستوں ايک تنہا نوجوان نے کتنے کافرون کو مار بھگايا ايسی جرائت اور ہمت اسي کو نصيب ہوتی ہے جو اللہ تعالٰی کا ہوجاتا ہے اور صرف اور صرف اللہ تعالٰی ہی سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالٰی کي نافرمانی سے بچتا ہے پھر اسے دنيا کی کسی طاقت کا خوف نہيں رہتا ہے بلکہ ساري دنيا اس سے ڈرتي ہے۔

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •