Results 1 to 4 of 4

Thread: Manhos Din

  1. #1
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Islamabad, UK
    Posts
    88,506
    Mentioned
    1028 Post(s)
    Tagged
    9706 Thread(s)
    Thanked
    603
    Rep Power
    21474934

    Default Manhos Din

    منحوس دن



    خشک صحرا میں دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ وہ اور اس کا گھوڑا دونوں ہی بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو چکے تھے اور موت آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔ قریب تھا کہ وہ گھوڑے سے گر پڑتا کہ اچانک کچھ ہی دور اسے ایک جھونپڑی نظر آئی۔ پہلے تو وہ سمجھا کہ یہ آنکھوں کا فریب ہے، لیکن جب دوبارہ ذرا غور سے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ تیزی سے گھوڑا دوڑاتا ہوا جھونپڑی کے پاس پہنچا۔
    قریب پہنچ کر اس نے بلند آواز میں کہا:
    "کوئی ہے جو اس مسافر کی مدد کرے؟
    کوئی ہے؟"
    جھونپڑی کا پردہ ہٹا اور ایک شخص باہر آیا۔ اپنے دروازے پر ایک اجنبی کو دیکھ کر اس نے کہا:
    "خوش آمدید، اے معزز شخص۔"
    مسافر نے کہا: "کچھ کھانے پینے کو مل جائےگا؟"
    "کیوں نہیں؟ آپ اندر تشریف لائیے۔"
    میزبان کے پاس ایک ہی بکری تھی۔ اس نے دودھ دوھ کر اپنے مہمان کو پلایا اور بکری ذبح کر کے بیوی سے کہا کہ اسے پکاؤ۔ کھانا تیار ہوا تو مسافر نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا، میزبان کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا:
    "بھئی ایک اجنبی کی خاطر تم نے اپنی اکلوتی بکری ذبح کر ڈالی! بھلا یہ مہربانی کیوں؟"
    میزبان نے کہا: "معزز مہمان، آپ جانتے ہیں کہ عرب اپنے مہمان کی خاطر جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے، یہ تو پھر ایک حقیر سی دعوت تھی۔ میں حنظلہ ہوں اور میرا قبیلہ میزبانی کے لیے مشہور ہے۔
    مجھے جانتے ہو؟" مسافر نے پوچھا۔
    "نہیں۔"جو اب ملا۔
    "میں حیرہ کا بادشاہ "نعمان بن منذر" ہوں۔ شکار کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔ تم نہ ہوتے تو شاید اب تک صحرا کی گِدھوں کی خوراک بن چکا ہوتا۔ تمہارا بے حد شکریہ، تم نے میری خوب خدمت کی ہے۔ اس کے لیے میں تمہیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتا ہوں۔"
    "ضرور آؤں گا۔" میزبان نے جواب دیا۔
    بادشاہ نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دھول اڑاتا اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔
    ٹھیک دو سال بعد حنظلہ کا کسی کام سے حیرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ اپنا کام نپٹا کر اس نے سوچا کہ کیوں نہ نعمان سے بھی مل لیا جائے۔
    وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا لیکن یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بادشاہ نے اسے دیکھ کر بالکل خوشی کا اظہار نہیں کیا۔ بادشاہ نے اگرچہ حنظلہ کو دیکھتے ہی پہچان لیا تھا لیکن وہ کچھ دیر تک بالکل خاموش رہا، جیسے کوئی بہت بڑی فکر لگ گئی ہو۔ آخرکار بولا:
    "تم! تم آج کیوں آئے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج یوم بؤس (منحوس دن) ہے؟ ہمارا قانون ہے کہ آج کے دن جو بھی شخص ہمارے علاقے میں سب سے پہلے داخل ہوتا ہے اسے ہم قربانی کے لیے چن لیتے ہیں، تاکہ اس دن کی نحوست دور کی جا سکے۔"
    حنظلہ نے کہا: "میرے علم میں یہ بات ہوتی تو میں کبھی آج کے دن آپ کے پاس نہ آتا۔"
    "آج کے دن تو اگر میرا بیٹا بھی آتا تو میں اس کو قتل کرا دیتا، بہرحال میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔" نعمان نے بے رخی سے جواب دیا۔
    ماحول پر سناٹا چھا گیا، پھر بادشاہ کی آواز دوبارہ گونجی: "تم اپنی آخری خواہش بتاؤ اور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ مجھے تمہاری موت کا افسوس تو ہو گا مگر میں مجبور ہوں اور ہاں تمہیں تمہارا انعام بھی دے دیا جائے گا۔"
    حنظلہ نے نعمان بن منذر کے چہرے پر اٹل فیصلہ لکھا دیکھ لیا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو قسمت کے حوالے کیا اور بڑے اعتماد اور وقار سے بولا: "موت کی دہلیز پر کھڑا ہو کر انعام حاصل کر کے میں کیا کروں گا، مجھے اجازت دیں تو میں اپنے گھر والوں سے مل آؤں اور اپنا انعام انہیں دے آؤں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو بھی وقت آپ مقرر کریں گے، میں اپنی موت کے لیے حاضر ہو جاؤں گا۔"
    بادشاہ نے کچھ دیر سوچا، پھر کہا: "ٹھیک ہے، اپنا کوئی ضامن لے آؤ۔"
    حنظلہ نے بادشاہ کے پاس کھڑے شخص کو دیکھا۔ وہ بادشاہ کا وزیر "شریک بن عمرو" تھا۔ حنظلہ نے اسے ضامن بننے کی درخواست کی لیکن اس نے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک اور شخص "قراد" بھی موجود تھا۔ اس نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اس شخص کا ضامن بنتا ہوں ( یعنی اگر حنظلہ نہ آیا تو اس کی جگہ میں موت قبول کر لوں گا )۔ حنظلہ نے اس کا شکریہ ادا کیا اور بادشاہ سے اجازت چاہی۔ بادشاہ نے اسے پانچ سو اونٹ بطور انعام دیئے اور کہا ٹھیک ایک سال بعد تم اسی وقت، اسی جگہ ہم سے ملو گے۔"
    حنظلہ نے اونٹ لیے اور چلا گیا۔ ایک سال گزر گیا اور فیصلے کا دن آ پہنچا۔
    سب لوگ اس جگہ اکٹھے تھے اور حنظلہ کا انتظار کر رہے تھے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا، لوگوں کے چہروں پر مایوسی پھیل رہی تھی۔ لیکن قراد پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ کھڑا تھا۔ اسے یقین تھا کہ حنظلہ ضرور آئے گا۔
    مقررہ وقت ختم ہونے پر بادشاہ نے جلّاد کو حکم دیا کہ وہ حنظلہ کے بدلے قراد کی گردن اڑانے کی تیاری کرے۔ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک بے گناہ شخص کے قتل پر سب کو افسوس تھا۔ سب نے بادشاہ سے درخواست کی کہ کم از کم سورج غروب ہونے تک حنظلہ کے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ بادشاہ نے یہ بات مان لی۔
    پھر سورج کے غروب ہونے کا وقت بھی ہونے لگا اور لوگوں میں بے چینی بڑھنے لگی۔ جب وقت پورا ہو چکا تو بادشاہ نے جلاد کو حکم دیا کہ قراد کی گردن اڑا دی جائے۔
    اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف مضبوطی سے باندھ دیئے گئے اور قریب تھا کہ تلوار اس کی گردن تک پہنچتی کہ ایک شخص نے اچانک پکار کر کہا: "ٹھہرو " وہ دیکھو، کوئی آ رہا ہے!" یہ سن کر سب نظریں اٹھیں۔ دور کوئی شخص دوڑتا ہوا نظر آیا۔ جب وہ قریب آیا تو بادشاہ نے اسے پہچان لیا۔ اس نے فوراً حکم دیا:
    " تلوار واپس رکھ دو، حنظلہ آ گیا ہے"
    حنظلہ تیز دوڑتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچا۔ اس نے اپنا سانس بحال کیا، اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بڑے ادب سے معذرت کی اور کہا:
    "میں مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکا۔ پیدل آنے کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔ لیکن اب میں قتل ہونے کے لیے تیار ہوں۔" حنظلہ نے اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا۔
    نعمان بن منذر، حنظلہ کے اس کردار سے بہت متاثر ہوا اور پوچھا: " تمہیں کس چیز نے واپس آنے پر مجبور کیا؟"
    حنظلہ کا چہرہ روشن اور آواز جذبات سے لبریز تھی۔ اس نے بے ساختہ کہا: "ایفائے عہد! میری وجہ سے ایک بے گناہ شخص کی جان چلی جائے، یہ مجھے گوارا نہ تھا۔ مجھے عرب قوم کی عزت اور غیرت اپنی جان سے زیادہ پیاری ہے۔ آپ جلّاد کو حکم دیں کہ وہ مجھے قتل کر دے۔"
    حنظلہ کے اس کردار نے بادشاہ کی نظر میں اس کی عزت اور وقار اور بلند کر دیا۔ اچانک اسے وہ دن یاد آ گیا جب وہ صحرا میں موت و حیات کی پگڈنڈی پر سوار تھا تو اس شخص نے اپنی بیوی سے لڑ کر اپنی اکلوتی بکری اس پر قربان کر دی تھی۔ آج وہی شخص اپنے قول کو پورا کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ لیے حاضر تھا۔ بادشاہ اٹھا، اس نے حنظلہ کو گلے لگایا اور اسے معاف کر دیا اور یوم بؤس کی اس مکروہ رسم کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا، جو کئی برسوں سے بے گناہ لوگوں کے لیے موت کا پیغام لے کر آتی تھی۔

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Manhos Din

    Neki Beshak Zaaya Nahin Jaati

    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  3. #3
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    836 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1180
    Rep Power
    21474971

    Default Re: Manhos Din

    Manhos din koi b nahi ata sub insano ke banaye hue hian..
    achi sharing hia

  4. #4
    Join Date
    Sep 2008
    Location
    Multan
    Age
    27
    Posts
    3,457
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    54 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474849

    Default Re: Manhos Din


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •