Results 1 to 6 of 6

Thread: Qaid e Azam Muhammad Ali Jinnah

  1. #1
    پاکستانی's Avatar
    پاکستانی is offline تلاش ہے کسی بیگانے کی
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    Land of Silence,
    Posts
    2,327
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474847

    Default Qaid e Azam Muhammad Ali Jinnah

    Attachment 4681

    قائد اعظم محمد علی جناح

    محمد علی جناح
    مدت دفتر : [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/14_%25D8%25A7%25DA%25AF%25D8%25B3%25D8%25AA[/ame], [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/1947[/ame] � [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/11_%25D8%25B3%25D8%25AA%25D9%2585%25D8%25A8%25D8%25B1[/ame], [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/1948[/ame] جانشین: خواجہ نظام الدین تاریخ پیدائش: [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%25A2%25D9%25A5%25D8%25AF%25D8%25B3%25D9%2585%25D8%25A8 %25D8%25B1[/ame], [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/1876[/ame] جائےپیدائش: [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DA%25A9%25D8%25B1%25D8%25A7%25DA%2586%25DB%258C[/ame] تاریخ وفات: [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/11_%25D8%25B3%25D8%25AA%25D9%2585%25D8%25A8%25D8%25B1[/ame] [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/1948[/ame] جا‎ئےوفات: [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DA%25A9%25D8%25B1%25D8%25A7%25DA%2586%25DB%258C[/ame] زوجہ: ایمی بائی, رتن پٹیٹ سیاسی جماعت: [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2585%25D8%25B3%25D9%2584%25D9%2585_%25D9%2584%25DB%258 C%25DA%25AF[/ame] اغزاز: بانى پاكستان
    قائد اعظم محمد علی جناح ([ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/25_%25D8%25AF%25D8%25B3%25D9%2585%25D8%25A8%25D8%25B1[/ame] [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/1876%25D8%25A1[/ame] � [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/11_%25D8%25B3%25D8%25AA%25D9%2585%25D8%25A8%25D8%25B1[/ame] [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/1948%25D8%25A1[/ame]) ایک پاکستانی سیاستدان اور آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر تھے جن کی قیادت میں [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2585%25D8%25B3%25D9%2584%25D9%2585%25D8%25A7%25D9%2586 %25D9%2588%25DA%25BA[/ame] نے [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A8%25D8%25B1%25D8%25B7%25D8%25A7%25D9%2586%25DB%258C %25DB%2581[/ame] سے آزادی حاصل کی، یوں پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A8%25D8%25A7%25D8%25A8%25D8%25A7%25D8%25A6%25DB%2592 _%25D9%2582%25D9%2588%25D9%2585[/ame] یعنی �[ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2582%25D9%2588%25D9%2585_%25DA%25A9%25D8%25A7_%25D8%25 A8%25D8%25A7%25D9%25BE[/ame]� بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے، اس دن پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے۔
    آغاز میں آپ [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A7%25D9%2586%25DA%2588%25DB%258C%25D9%2586_%25D9%258 6%25DB%258C%25D8%25B4%25D9%2586%25D9%2584_%25DA%25A9%25D8%25 A7%25D9%2586%25DA%25AF%25D8%25B1%25D8%25B3[/ame] میں شامل ہوئے اور مسلم ہندو اتحاد کے حامی تھے۔ آپ ہی کی کوششوں سے 1916ء میں [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A2%25D9%2584_%25D8%25A7%25D9%2586%25DA%2588%25DB%258 C%25D8%25A7_%25D9%2585%25D8%25B3%25D9%2584%25D9%2585_%25D9%2 584%25DB%258C%25DA%25AF[/ame][ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B9%25D9%2584%25D8%25A7%25D9%2585%25DB%2581_%25D8%25A 7%25D9%2582%25D8%25A8%25D8%25A7%25D9%2584[/ame] کی کوششوں کی وجہ سے آپ واپس آئے اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔جناح عقائد کی نقطہء نظر سے ایک معتدل مزاج مسلمان تھے۔[1][2][3][4][5]
    کئی مسلمان رہنماؤں نے جناح کو 1934ء ہندوستان واپسی اور مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کے لئے راضی کیا۔ جناح 1940ء کی قراردادِ پاکستان (قرار دادِ لاہور) کی روشنی میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست بنام پاکستان بنانے کے لئے مصروفِ عمل ہوگئے۔1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی بیشتر نشستوں میں کامیابی حاصل کی اور جناح نے پاکستان کے قیام کے لئے براہ راست جدوجہد کی مہم کا آغاز کردیا، جس کے ردِ عمل کے طور پر کانگریس کے حامیوں نے [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25AC%25D9%2586%25D9%2588%25D8%25A8%25DB%258C_%25D8%25A 7%25DB%258C%25D8%25B4%25DB%258C%25D8%25A7%25D8%25A1[/ame] میں گروہی فسادات کروادئیے۔ مسلم لیگ اور کانگریس کے اتحاد کی تمام تر کوششوں کی ناکامی کے بعد آخر کار برطانیہ کو پاکستان اور بھارت کی آزادی کے مطالبے کو تسلیم کرنا پڑا۔ بحیثیت گورنرجنرل پاکستان، جناح نے لاکھوں پناہ گزینوں کی آبادکاری، ملک کی داخلی و خارجی پالیسی، تحفظ اور معاشی ترقی کے لئے جدوجہد کی۔ اور انڈین نیشنل کانگرس میں معاہدہ ہوا۔ کانگرس سے اختلافات کی وجہ سے آپ نے کانگرس پارٹی چھوڑ دی اور مسلم لیگ کی قیادت میں شامل ہو گئے۔ آپ نے خودمختار ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کئے۔ مسلم لیڈروں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ انڈیا چھوڑ کر برطانیہ چلے کئے۔ بہت سے مسلمان رہنماؤں خصوصا

    ابتدائی زندگی



    جناح کی جوانی کی ایک، روایتی لباس میں
    آپ [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/25_%25D8%25AF%25D8%25B3%25D9%2585%25D8%25A8%25D8%25B1[/ame] [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/1876%25D8%25A1[/ame] کو [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2588%25D8%25B2%25DB%258C%25D8%25B1_%25D9%2585%25DB%258 C%25D9%2586%25D8%25B4%25D9%2586[/ame]، [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DA%25A9%25D8%25B1%25D8%25A7%25DA%2586%25DB%258C[/ame]، [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B3%25D9%2586%25D8%25AF%25DA%25BE[/ame] میں پید اہوئے[6]، جوکہ اُس وقت [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A8%25D9%2585%25D8%25A8%25D8%25A6%25DB%258C[/ame] کا حصہ تھا۔ آپ کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی[7] رکھا گیا۔ گوکہ ابتدائی اسکول کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جناح کی تاریخِ پیدائش [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/20_%25D8%25A7%25DA%25A9%25D8%25AA%25D9%2588%25D8%25A8%25D8%2 5B1[/ame] 1875ء تھی، [8]آ لیکن بعد میں جناح نے خود اپنی تاریخِ پیدائش 25 دسمبر 1876ء بتائی۔ آپ اپنے والد پونجا جناح (1857ء-1901ء) کے سات بچوں میں سے سب سے بڑے تھے۔ آپ کے والد [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DA%25AF%25D8%25AC%25D8%25B1%25D8%25A7%25D8%25AA[/ame] کے ایک مالدار تاجر تھے جو کہ جناح کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے کاٹھیاوار سے [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DA%25A9%25D8%25B1%25D8%25A7%25DA%2586%25DB%258C[/ame] منتقل ہو گئے۔[6][9] اُن کے دادا کا نام جناح میگجی تھا،[10] جوکہ کاٹھیاوار کی ریاست گوندل میں بھاٹیا نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ابتدائی طور پر یہ گھرانہ ہجرت کرکے [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2585%25D9%2584%25D8%25AA%25D8%25A7%25D9%2586[/ame] کے نزدیک [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B3%25D8%25A7%25DB%2581%25DB%258C%25D9%2588%25D8%25A7 %25D9%2584[/ame] میں آباد ہوا۔ کچھ ذرائع سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جناح کے آباؤ اجداد [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B3%25D8%25A7%25DB%2581%25DB%258C%25D9%2588%25D8%25A7 %25D9%2584[/ame]، [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%25BE%25D9%2586%25D8%25AC%25D8%25A7%25D8%25A8[/ame] سے تعلق رکھنے والے [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DB%2581%25D9%2586%25D8%25AF%25D9%2588[/ame][ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B1%25D8%25A7%25D8%25AC%25D9%25BE%25D9%2588%25D8%25AA[/ame] تھے جوکہ بعد [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2585%25D8%25B3%25D9%2584%25D9%2585%25D8%25A7%25D9%2586[/ame] ہوگئے۔ [9] جناح کے دیگر بہن بھائیوں[ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A8%25DA%25BE%25D8%25A7%25D8%25A6%25DB%258C[/ame] اور تین [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A8%25DB%2581%25D9%2586[/ame] تھیں، [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A8%25DA%25BE%25D8%25A7%25D8%25A6%25DB%258C%25D9%2588 %25DA%25BA[/ame] میں احمد علی، بندے علی اور رحمت علی جبکہ بہنوں میں مریم جناح، [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2581%25D8%25A7%25D8%25B7%25D9%2585%25DB%2581_%25D8%25A C%25D9%2586%25D8%25A7%25D8%25AD[/ame] اور شیریں جناح شامل تھیں۔ جناح کے خاندان والے شیعہ مذہب کی شاخ کھوجہ شیعہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن جناح بعد میں شیعہ مذہب کی ہی دوسری شاخ اثناء عشری کی جانب مائل ہوگئے۔ [1] ان کی مادری [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B2%25D8%25A8%25D8%25A7%25D9%2586[/ame] [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DA%25AF%25D8%25AC%25D8%25B1%25D8%25A7%25D8%25AA%25DB%258C[/ame] تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DA%25A9%25DA%2586%25DA%25BE%25DB%258C[/ame]، [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B3%25D9%2586%25D8%25AF%25DA%25BE%25DB%258C[/ame]، [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25AF%25D9%2588[/ame] اور [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A7%25D9%2586%25DA%25AF%25D8%25B1%25DB%258C%25D8%25B2 %25DB%258C[/ame] بھی بولنے لگے۔ [11]
    نوجوان جناح ایک بے چین [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2585%25D8%25AA%25D8%25B9%25D9%2584%25D9%2585[/ame] تھے، جنہوں نے کئی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ کراچی میں [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B3%25D9%2586%25D8%25AF%25DA%25BE_%25D9%2585%25D8%25A F%25D8%25B1%25D8%25B3%25DB%2583_%25D8%25A7%25D9%2584%25D8%25 A7%25D8%25B3%25D9%2584%25D8%25A7%25D9%2585[/ame]، ممبئی میں گوکل داس تیج پرائمری اسکول اور بالآخر مسیحی تبلیغی سماجی اعلٰی درجاتی اسکول، کراچی میں آپ زیرِ تعلیم رہے[7]۔ جہاں سے آپ نے سولہ 16 سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان جامعہء ممبئی سے پاس کیا۔ [12] اسی سال 1892ء میں آپ برطانیہ کی گراہم شپنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی میں تربیتی پیش نامہ کے لئے گئے، ایک ایسا تجارتی کام جوکہ پونجا بھائی جناح کے [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25DA%25A9%25D8%25A7%25D8%25B1%25D9%2588%25D8%25A8%25D8%25A7 %25D8%25B1[/ame] سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔[7] تاہم برطانیہ جانے سے پہلے آپ کی [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2588%25D8%25A7%25D9%2584%25D8%25AF%25DB%2581[/ame] کے دباؤ پر آپ کی شادی آپ کی ایک دور کی رشتہ دار ایمی بائی سے کردی گئی، جوکہ آپ سے دو سال چھوٹی تھیں۔[7]تاہم یہ شادی زیادہ عرصے نہ چل سکی کیونکہ آپ کے برطانیہ جانے کے کچھ مہینوں بعد ہی ایمی جناح وفات پا گئیں۔[9] [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D9%2584%25D9%2586%25D8%25AF%25D9%2586[/ame] جانے کے کچھ عرصہ بعد آپ نے ملازمت چھوڑ دی اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لے لیا اور 1895ء میں وہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور 19 سال کی عمر میں برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے کم سن ترین ہندوستانی کا اعزاز حاصل کیا۔[9] اس کے ساتھ [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25B3%25DB%258C%25D8%25A7%25D8%25B3%25D8%25AA[/ame]دادا بھائی ناؤروجی اور سر فیروز شاہ مہتہ سے متاثر ہونے لگے۔[13] اس دوران آپ نے دیگر ہندوستانی طلبہ کے ساتھ مل کر برطانوی پارلیمنٹ کے انتخابات میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔اس سرگرمیوں کا اثر یہ ہوا کہ جناح وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی آئین ساز خود مختار حکومت کے نظریہ کے حامی ہوتے گئے اور آپ نے ہندوستانیوں کے خلاف برطانوی گوروں کے ہتک آمیز اور امتیازی سلوک کی مذمت کی۔ میں تین میں بھی آپ کی دلچسپی بڑھنے لگی اور آپ ہندوستانی سیاستدانوں

    ممبئی میں واقع جناح ہاؤس

    [ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25A7%25D9%2586%25DA%25AF%25D9%2584%25D8%25B3%25D8%25AA %25D8%25A7%25D9%2586[/ame] میں قیام کے آخری دنوں میں جناح والد کے کاروبار کی تباہی کی وجہ سے شدید دباؤ میں آگئے۔ آپ برطانیہ واپس تشریف لائے اور ممبئی میں وکالت کا آغاز کیا اور جلد ہی نامی گرامی وکیل بن گئے۔ خصوصاً سرفیروز شاہ کے سیاسی مقدمے کی جیت نے آپ کی شہرت و نام کو چار چاند لگا دئیے۔ یہ مقدمی 1905ء میں ممبئی کی ہائی کورٹ میں دائر ہوا، جس میں جناح نے سر فیروز شاہ کی پیروی کی اور جیت بھی جناح ہی کے حصے میں آئی۔[13] جناح نے جنوبی ممبئی میں واقع مالا بار میں ایک گھر تعمیر کروایا جو کہ بعد میں �[ame]http://ur.wikipedia.org/wiki/%25D8%25AC%25D9%2586%25D8%25A7%25D8%25AD_%25DB%2581%25D8%25A 7%25D8%25A4%25D8%25B3[/ame]� کہلایا۔ ایک کامیاب وکیل کے طور پر اُن کے بڑھتی شہرت نے ہندوستان کے معروف رہنما بال گنگا دھر کی توجہ اُن کی جانب مبذول کرائی اور یوں 1905ء میں بال گنگا دھر نے جناح کی خدمات بطور دفاعی مشیرِ قانون حاصل کیں تاکہ وہ اُن پر سلطنتِ برطانیہ کی جانب سے دائر کئے گئے، نقصِ امن کے مقدمے کی پیروی کریں۔ جناح نے اس مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے، اپنے موکل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہندوستانی اگر اپنے ملک میں آزاد اور خود مختار حکومت کے قیام کی بات کرتا ہے تو یہ نقصِ امن یا غداری کے زمرے میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود بال گنگا دھر کو اس مقدمے میں قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔

    Last edited by Arslan; 07-08-2012 at 11:55 PM.

  2. #2
    پاکستانی's Avatar
    پاکستانی is offline تلاش ہے کسی بیگانے کی
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    Land of Silence,
    Posts
    2,327
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474847

    Default Re: قائد اعظم محمد علی جناح


    ابتدائی سیاسی زندگی



    محمد علی جناح ایک نوجوان وکیل کے روپ میں
    1896ء میں جناح نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی جوکہ اُس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی لیکن اُس وقت کے دیگر کانگریسی رہنماؤں کی طرح جناح نے یکسر آزادی کی حمایت کرنے کی بجائے اُنہوں نے ہندوستان کی تعلیم، قانون، ثقافت اور صنعتمرکزی مشاورتی کونسل (امپیریل لیگسلیٹیو کونسل) کے ممبر بن گئے لیکن اس کونسل کی اپنی کوئی حیثیت یا طاقت نہیں تھی اور اس میں شامل زیادہ تر افراد غیر منتخب، سلطنتِ برطانیہ کی زبان بولنے والے یورپی تھے۔ اس کے باوجود جناح متحرک رہے اور کم عمری کی شادی کے لئے قانون اور مسلمانوں کے وقف کے حق کو قانونی شکل دینے کے لئے کام کرتے رہے، انہیں کاوشوں کے نتیجے میں سندھرسٹ کمیٹی بنائی گئی، جس نے ڈھیرا ڈن میں انڈین ملٹری اکیڈمی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔[14][6] پہلی جنگ عظیم کے دوران جناح نے دیگر ہندوستانی ترقی پسندوں کے ساتھ برطانوی جنگ کی تائید کی، اس اُمید کے ساتھ کہ شاید اس کے صلے میں ہندوستانیوں کو سیاسی آزادی سے نوازا جائے۔ مہاتما گاندھی کی ہندوپرست پالیسیوں نے جناح کو کانگریس چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ تاہم ابتداء میں جناح نے 1906ء میں قائم کی گئی آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرنے سے گریز کیا کیونکہ مسلم لیگ پورے ہندوستان کے بجائے صرف مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تھی۔ آخر کار 1913ء میں جناح نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرہی لی اور 1916ء میں لکھنوء میں ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ کے صدر منتخب کرلئے گئے۔ جناح 1916ء کو کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان ہونے میثاقِ لکھنؤ کے معمار تھے، جو کہ خود مختاری، برطانیہ سے آزادی اور اس جیسے دیگر متفقہ مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک متحدہ پلیٹ فارم تھا۔
    ہندوستان واپسی کے بعد جناح صاحب نے ممبئی میں قیام کیا۔ برطانیہ کی سیاسی زندگی سے متعثر ہو کر ان میں اپنے ملک کو بھی اس ہی روش پر بڑھتے ہوئے دیکھنے کی امنگ نمودار ہوئی۔ جناح صاحب ایک آزاد اور خود مختار ہندوستان چاہتے تھے۔ ان کی نظر میں آزادی کا صحیح راستہ قانونی اور آئینی ہتھیاروں کو استعمال کرنا تھا۔ اس لئے انہوں نے اس زمانے کی ان تحریکوں میں شمولیت اختیار کی جن کا فلسفہ ان کے خیالات کے متابق تھا۔ یعنی انڈین نیشنل کانگریس اور ہوم رول لیگ۔ پر برطانوی اثرات کو ہندوستان کے لئے موثر قرار دیا۔ جناح ساٹھ رکنی

    اس ہی دوران میں آل انڈیا مسلم لیگ ایک اہم جماعت بن کر سیاسی افق پر ابھرنے لگی۔ جناح صاحب نے مسلمانوں کی اس نمائندہ جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ جناح صاحب ہندوستان کی سیاسی اور سماجی اصلیتوں میں مذہب کی اہمیت کو جانتے ہوئے اس بات کے قائل تھے کہ ملک کی ترقی کے لئے تمام تر لوگوں کو ملک مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس لئے انہوں نے ہندوستان کے دو بڑی اقوان یعبی ہندو اور مسلمان دونوں کو قریب لانے کی کوشش کی۔ جناح صاحب کی اس ہی کوشش کا نتیجہ 1916 کا معاہدہ لکھنؤ تھا۔
    چودہ نکات

    ہندو مسلم مسئلے کے حل کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح نے مارچ 1929ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں اپنے چودہ نکات پیش کیے جو کہ تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    یہ نکات درج ذیل ہیں

    • ہندوستان کا آئندہ دستور دفاقی نوعیت کو ہو گا۔
    • تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔
    • ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔
    • مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائ نمائندگی حاصل ہو۔
    • ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔
    • صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔
    • ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔
    • مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔
    • سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔
    • صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔
    • سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔
    • آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔
    • کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائ وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔
    • ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

    قائدِ اعظم کے متعلق اہلِ نظر کی آراء


    • علامہ شبیر احمد عثمانی

    آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ممتاز عالمِ دین جنہوں نے قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ قائدِ اعظم کے متعلق فرماتے ہیں۔




    • علامہ سید سلیمان ندوی

    عظیم سیرت نگار، برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے ١٩١٦ء میں مسلم لیگ کے لکھنئو اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
    ” اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھےکوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہاجبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہی جبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہا
    جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے
    جس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا
    بادہء حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکے
    دور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہا
    ملتِ دل بر کے گو اصلی قوا بیکار ہیں
    گوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہا
    ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید
    ڈاکٹر اس کا اگر ” مسٹر علی جینا” رہا

    • مولانا ظفر علی خان

    ” تاریخ ایسی مثالیں بہت کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبور و محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سرو سامانی اور مخالفت کی تندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا کر رکھ دی ہو ۔ “

    • علامہ عنایت اللہ مشرقی

    خا کسار تحریک کے بانی اور قائدِ اعظم کے انتہائی مخالف علامہ مشرقی نے قائد کی موت کا سن کر فرمایا -
    ” اس کا عزم پایندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا تھا۔ “

    • لیاقت علی خان

    پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور قائد کے دیرینہ ساتھی نواب زادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا۔
    ” قا ئدِاعظم بر گزیدہ ترین ہستیوں میں سے تھے جو کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ ان کا شمار عظیم ترین ہستیوں میں کرے گی “

    • علامہ اقبال

    ایک خط میں علامہ نے قائد کو لکھا “برطانوی ہند میں اس وقت صرف آپ ہی ایسے لیڈر ہیں جن سے رہنمائی حاصل کرنے کا حق پوری ملتِ اسلامہ کو حاصل ہے”۔
    علامہ کی بیماری کے دوران جواہر لال نہرو ان کی عیادت کو آئے ۔ دورانِ گفتگو نہرو نے حضرت علامہ سے کہا “حضرت آپ اسلامیانِ ہند کے مسلمہ اور مقتدر لیڈر ہیں کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ آپ اسلامیانِ ہند کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔” تو حضرت علامہ نے فرمایا، “جواہر لا ل! ہماری کشتی کا ناخدا صرف مسٹر محمد علی جناح ہے میں تو اس کی فوج کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں۔”
    مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینی

    قائدِ اعظم دسمبر 1946ء میں لندن سے واپسی پر قاہرہ میں ٹھہرے۔یہیں پر اخوان المسلمون کے عظیم رہنما امام حسن البنا شہید بھی آپ سے ملے اور آپ کو قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی پیش کیا یہ نسخہ اب بھی مقبرہ قائد کے ساتھ واقع میزیم کی زینت ھے۔ انہی دنوں مفتی اعظم قاہرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک تقریب میں آپ نے قائد کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا۔
    ” میں نے محمد علی جناح سے گفتگو کی ہے۔ مجھ سے زیادہ برطانوی ملوکیت کا دشمن شاید ہی کوئی ہو۔ میں نے محمد علی جناح کے خیالات کو انگریز دشمنی کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ وہ حقیقتاّ آزادی چاہتےہیں اور آزادی کے لیے انگریز سے مقابلے کا عزم رکھتے ہیں۔ میں ان سے گفتگو کے بعد اس نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ جناح صاحب نہ صرف دستوری اور آئینی شخصیت کے حامل ہیں بلکہ انقلابی رہنما بھی ہیں۔ انقلابی افکار و خیالات ان کے دل و دماغ میں راسخ ہو چکے ہیں۔ مجھے اس امر کا یقین ہو گیا ہے کہ ہندوستان کے عوام اپنی آزادی کے لیے برطانوی شہنشاہت اور ہندو سرمایہ داری دونوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے ہیں”۔
    پاکستان بننے کے بعد جناب مفتئ اعظم نے فرمایا، “اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلسطین کے بدلے میں پا کستان کا خطہ عنایت فرمایا ہے۔”
    مولانا ابوالکلام آزاد

    “قائدِ اعظم محمد علی جناح ہر مسئلے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے تھے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے” ۔
    فخر الدین علی احمد

    سابق صدر بھارت
    “میں قائدِ اعظم کو برطانوی حکومت کےخلاف لڑنے والی جنگ کا عظیم مجاہد سمجھتا ہوں” ۔
    کلیمنٹ اٹیلی

    وزیرِ اعظم برطانیہ
    “نسب العین پا کستان پر ان کا عقیدہ کبھی غیر متزلزل نہیں ہوا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے جو انتھک جدو جہد کی وہ ہمییشہ یاد رکھی جائے گی “۔
    مسولینی

    وزیرِ اعظم اٹلی
    “قائدِ اعظم کے لیے یہ بات کہنا غلط نہ ہو گی کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت تھے جو کہیں صدیوں میں جا کر پیدا ہوتی ہے” ۔
    بر ٹرینڈ رسل

    برطانوی مفکر
    “ہندوستان کی پوری تاریخ میں کوئی بڑے سے بڑا شخص ایسا نہیں گزرا جسے مسلمانوں میں ایسی محبوبیت نصیب ہوئی ہو” ۔
    مہاتما گاندھی

    “جناح کا خلوص مسلم ہے ۔ وہ ایک اچھے آدمی ہیں ۔ وہ میرے پرانے ساتھی ہیں ۔ میں انہیں زندہ باد کہتا ہوں” ۔
    پنڈت جواہر لال نہرو

    مسز وجے لکشمی پنڈت

    “اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا “۔
    ماسٹر تارا سنگھ

    سکھ رہنما
    “قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی ۔ اگر یہ شخص سکھوں میں پیدا ہوتا تو اس کی پوجا کی جاتی”۔
    سر ونسٹن چرچل

    برطانوی وزیرِ اعظم “مسٹر جناح اپنے ارادوں اور اپنی رائے میں بے حد سخت ہیں ۔ ان کے رویے میں کوئی لوچ نہیں پایا جاتا۔ وہ مسلم قوم کے مخلص رہنما ہی نہیں سچے وکیل بھی ہیں”۔
    مسز سروجنی نائیڈو

    مسز سروجنی نائیڈو بلبلِ ہند اور سابق گورنر یو پی کے تاثرات قائدِ اعظم کے متعلق۔ “ایک قوم پرست انسان کی حیثیت سے قائدِ اعظم کی شخصیت قابلِ رشک ہے۔ انہوں نے ذاتی اغراض کے پیشِ نظر کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اپنی بے لوث خدمت کے عوض ہندوستان کے مسلمانوں کے لیڈر ہیں ۔ ان کا ہر ارادہ ہر مسلمان کے لیے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ان کا ہر حکم مسلمانوں کا آ خری فیصلہ ہے جس کی انتہائی خلوص کے ساتھ لفظ بہ لفظ تعمیل کی جاتی ہے”۔
    پروفیسر اسٹینلے

    “جناح آف پا کستان” کے مصنف پروفیسر اسٹینلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکہ اپنے کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں ۔
    ” بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے
    Last edited by پاکستانی; 17-07-2010 at 03:16 AM.

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قائد اعظم محمد علی جناح

    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  4. #4
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default Re: قائد اعظم محمد علی جناح

    superb 1

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - Qaid e Azam Muhammad Ali Jinnah

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

  5. #5
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    *In The Stars*
    Posts
    18,093
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1271 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474862

    Default Re: قائد اعظم محمد علی جناح

    zaberdast...............




    Yahi Dastoor-E-ulfat Hai,Nammi Ankhon,
    Mein Le Kar Bhi,

    Sabhi Se Kehna Parta Hai,K Mera Haal,
    Behter Hai...!!


  6. #6
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Paris of East
    Posts
    10,491
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    1617 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474854

    Default Re: قائد اعظم محمد علی جناح

    chaye hue hain jinab ap har jagah...nice sharing

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •