Results 1 to 8 of 8

Thread: رشتے چاہتوں کے

  1. #1
    پاکستانی's Avatar
    پاکستانی is offline تلاش ہے کسی بیگانے کی
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    Land of Silence,
    Posts
    2,327
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474847

    Default رشتے چاہتوں کے

    Attachment 4683


    رشتے چاہتوں کے

    خوشیاں تو چھوٹی چھوٹی تتلیاں ہوتی ہیں جو محبتوں کے گلوں پر آسرا کرتی ہیں اگر نفرتوں کے کانٹوں سے گزر ہو تو کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہیں

    افراد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا سکون اور راحت کا دارومدار باہمی چاہت پر منحصر ہے او ر یہ صرف ایک ہی طور ممکن ہوسکتی ہے کہ دوسروں کو اہمیت دی جائے ، مساوات، ایثار اور قربانی کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔اس نیٹ ورکنگ اور شئیرنگ کے دور میں ہم دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک افراد سے روابط پیدا کرتے ہیں مگر کئی بار اپنے اردگرد بسنے والوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں جو جیتے جاگتے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں


    عمر ، رنگ و نسل سے بالا تر ہر رشتہ ایک انمول موتی ہے جو رویوں کے مالا میں پرو کر الفت کے کھونٹی پر لٹکا یا جاتا ہے اور کبھی کبھی لمحہ تنہائی میں گذشتہ ایام کو جپا جاتا ہے تو احساس کا آنگن یادوں کی مہک سے لبریز ہو جاتا ہے
    تحریر:محمدالطاف گوہر


    مذاہب عالم ہوں یا انسانیت کی نہج ، ہر حال میں میاں بیوی کے رشتے کی قدروں اور اصولوں کی پاسداری کا تعین کیا جاتا ہے اور اگر ان کو عملی زندگی میں شامل رکھا جائے تو یہ رشتے کبھی بھی کسی کڑواہٹ کی بھینٹ نہیں چڑھتے۔ نہ صرف گھر کا سکون بلکہ روزمرہ کے معمولات بھی کسی بھی فرد کی گھریلو زندگی پر تکیہ کئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک مرد جب اپنے گھر سے صبح توانائی کے سو پیکٹ لیکر نکلتا ہے تورات واپس آنے تک تقریباً سب خرچ کر چکا ہوتا ہے اور اگر اسکو گھر پر خوش آمدید کہنے والا نہ ہو، اسکی تکان اور راحت کا خیال رکھنے والا نہ ہو تو اگلے روز توانائی کی نئی امنگوں کا فقدان اسکے روزمرہ کو متاثر کرتا ہے کیونکہ اسے اگلے روز خالی ہاتھ جانا پڑتا ہے ،جبکہ یہ سلسلہ اگر قائم رہے تو معاملات ِ روزگار تو ایک طرف ،ذہنی اور جسمانی صحت کے فقدان کا باعث بنتا ہے۔
    اسلم لودھی صاحب کی تحریر وفاؤں کا حصار نظروں سے گزری جسے ایک مثالی، گھریلو زندگی کا حسین باب کہہ لیں تو بجا ہو گا۔اس تحریر میں نہ صرف جناب کی زوجہ محترمہ کا انکے لئیے پیار ، خلوص اور ذمہ داری پہلو دیکھنے کو ملا بلکہ جناب کی مروت اور چاہت کا ایک حسین امتزاج دیکھنے کو نظر آیا ، جبکہ انکی بصیرت اور غیرجانبداری کا پہلو بھی پیش پیش رہا۔ ایک مثالی بیوی کے ہوتے ہوئے گھر جنت کی نظیر ہوتا ہے اور ایسے شہکار جناب کی زندگی کے ہر موڑ پر انتظار فرما رہے ہوتے ہیں۔
    بلا شبہ یہ تحریر اسلم لودھی صاحب کی گھریلو زندگی کے مثالی پن اور قابل تقلید پہلو کو سموئے ہوئے میاں بیوی کے خوبصورت بندھن کا ایک حسین شہکار پیش کر رہی ہے، اللہ انکا زورِ قلم اور زیادہ کرے ۔نوائے وقت کے کالم نویس جناب اسلم لودھی صاحب کی زیر طبع کتاب وفاؤں کا حصار کیلئے مجھ سے جناب نے آرا مانگی تو مجھے احساس ہوا کہ جناب کتنا اہم کام انجام دے رہے ہیں۔
    رشتہ کوئی بھی ہو،چاہتوں اورکڑواہٹوں کا اگر موازنہ کیا جائے تو پلہ ہمیشہ چاہتوں کا بھاری رہتا ہے،کیونکہ نفرت یا کڑواہٹ بھی محبت کا ہی دوسرا نام ہے۔ رشتے عموماً ردِعمل کی ڈوری سے بندھے ہوتے ہیں جوکہ ہمارا دوسروں کیلئے رویہ پیدا کرتا ہے اور آگے چل کر یہی ایک ربط ثابت ہوتا ہے جو رشتوں کو نفرت یا محبت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ رشتوں کی نزاکت کا احساس اس وقت جنم لیتا ہے جب کبھی وہ ہم سے دور ہوجاتے ہیں یا پھر روٹھ جاتے ہیں۔
    اکثر دوسرے ہم سے چاہت کا اظہار کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں مگر ہماری لاپرواہی کی بھینٹ چڑھ کر نفرت میں بدل جاتے ہیں،اس مرحلے پر جذبے انگڑائی لیتے ہیں اور رشتوں کا تعین ہوتا ہے۔ البتہ کبھی کبھی عادت اپنا رنگ دکھاتی ہے اور انسان انجانے میں اپنے دوستوں یا دشمنوں کو بڑھا رہا ہوتا ہے۔دوسروں کو اہمیت دینا ، انکی ضرورتوں کا خیال رکھنا ، انکے لئے وقت نکالنا ، موقع مناسبت سے تحفے تحائف دینا،تکلیف کے وقت مدد کرنا اور بے لوث روابط رکھنا ایسی عادات ہیں کہ انکو اپنانے والا انجانے میں دوسروں کے دل میں بھی جگہ بنا لیتا ہے جبکہ اسکے برعکس عادات کا شکار فرد ہمیشہ رشتوں کی کڑواہٹ کے بھینٹ چڑھا رہتا ہے مگر نا سمجھ کا نا سمجھ رہتا ہے۔
    خوشیاں تو چھوٹی چھوٹی تتلیاں ہوتی ہیں جو محبتوں کے گلوں پر آسرا کرتی ہیں اگر نفرتوں کے کانٹوں سے گزر ہو تو کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہیں۔ جبکہ محبتوں اور چاہتوں کے آنگن سدا خوشیوں سے بھرے رہتے ہیں اور انکو جتنا بانٹا جائے بڑھتی جاتی ہیں ۔ زندگی کبھی خوشیوں کے سائے میں اور کبھی نفرتوں کی شاموں میں سفر جاری رکھتی ہے۔کئی بار تو ایسے بھی ہوا ہے کہ رشتوں کی قدروں کو پامال کیا جائے تو خوشیاں روٹھ جاتی ہیں اور انسان انکو منانے کی تگ و دو میں زندگی کے ماہ و سال گنوا دیتا ہے۔رشتوں کا تقدس انکی قدروں کی پاسداری ہے اور ہر رشتہ اپنی منفرد نوعیت کے باعث ایک جداگانہ اہمیت کا حامل ہے۔ہر انفرادی رشتہ اپنی ایک علیحدہ پہچان رکھتا ہے اور یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں کہ ہر رشتے کو ایک جیسے رویے اور سلوک سے دوچار کیا جائے بلکہ ہر نوعیت ایک جداگانہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور خصوصی توجہ کی طلبگار ہوتی ہے۔
    افراد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا سکون اور راحت کا دارومدار باہمی چاہت پر منحصر ہے او ر یہ صرف ایک ہی طور ممکن ہوسکتی ہے کہ دوسروں کو اہمیت دی جائے ، مساوات، ایثار اور قربانی کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔اس نیٹ ورکنگ اور شئیرنگ کے دور میں ہم دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک افراد سے روابط پیدا کرتے ہیں مگر کئی بار اپنے اردگرد بسنے والوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں جو جیتے جاگتے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔بہت سے رشتے اس ماورائی دینا ، انٹرنیٹ کے بھینٹ بھی چڑھ رہے ہیں ۔ اس مصنوعی دنیا نے نہ صرف افراد کی جیتی جاگتی دنیا کی جگہ لے لی ہے بلکہ بہت سے قریبی روابط کو بھی دیمک کیطرح چاٹ رہی ہے۔اس مہمل زندگی میں جب عہدوپیمان کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے تو اسی اثناء کسی قربت کا جگر بھی چھلنی ہو رہا ہوتا ہے۔ تصویریں ، آواز اور انٹر ایکٹیو ذرائع کیا اس ایک لمس کا مقابلہ کر سکتے ہیں جو کبھی بادِ صبا بنتا ہے اور کبھی بادِ نسیم؟
    جسطرح بہتا پانی شفاف اور تازہ رہتا ہے اسی طرح رشتے بھی روانگی مانگتے ہیں ،اور تسلسل کا پانی انہیں شاداب رکھتا ہے ۔ عمر ، رنگ و نسل سے بالا تر ہر رشتہ ایک انمول موتی ہے جو رویوں کے مالا میں پرو کر الفت کے کھونٹی پر لٹکا یا جاتا ہے اور کبھی کبھی لمحہ تنہائی میں گذشتہ ایام کو جپا جاتا ہے تو احساس کا آنگن یادوں کی مہک سے لبریز ہو جاتا ہے۔
    خیر اندیش
    محمد الطاف گوہر



  2. #2
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Someone's Heart
    Posts
    25,848
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    24 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474871

    Default Re: رشتے چاہتوں کے

    v true
    SD ki Basanti

    Chal DhanoOo

    I Love the feelings When U Hold My Hand....

    53339010150654137193873 - رشتے چاہتوں کے

  3. #3
    Join Date
    May 2010
    Location
    Islamabad
    Posts
    3,022
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    31 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474847

    Default Re: رشتے چاہتوں کے

    bahut khoob

  4. #4
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default Re: رشتے چاہتوں کے

    /up

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - رشتے چاہتوں کے

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

  5. #5
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    *In The Stars*
    Posts
    18,093
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1271 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474862

    Default Re: رشتے چاہتوں کے

    v.nice




    Yahi Dastoor-E-ulfat Hai,Nammi Ankhon,
    Mein Le Kar Bhi,

    Sabhi Se Kehna Parta Hai,K Mera Haal,
    Behter Hai...!!


  6. #6
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: رشتے چاہتوں کے

    V Nice
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  7. #7
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    manchester
    Age
    32
    Posts
    11,319
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    49 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474857

    Default Re: رشتے چاہتوں کے

    very well said ...bohat sach aur sahi kaha hai)
    thans for sharing

  8. #8
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Karachi,Pakistan
    Posts
    11,803
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    16 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474855

    Default Re: رشتے چاہتوں کے

    Very nice......
    Alhamdullilah

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •