Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 16

Thread: ماہِ رمضان اور ہم (۱) رمضان کے فائدے

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel ماہِ رمضان اور ہم (۱) رمضان کے فائدے


    ::: ماہِ رمضان اور ہم ::::: (۱) رمضان کے فائدے (فضیلتیں) :::::




    ::::: (۱) مغفرت کے مواقع :::::

    ::: ( ۱ )

    أبو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( مَن صَامَ رمضانَ اِیماناً و اِحتساباً غُفِرَ لَہُ مَا تَقّدَمَ مِن ذَنبِہِ ::: جِس نے اِیمان اور(بخشش کی) اُمید کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اُس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیںجو وہ آگے بھیج چُکا ہے ))) صحیح البُخاری ، حدیث ، ٢٠١٤
    ::: أبو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ((( الصَّلوَاتُ الخَمس و الجُمعَۃُ اِلیٰ الجُمعَۃِ(و رَمضَانُ اِلیٰ رَمضَانُ) مُکفَّراتٌ مَا بینَھُنَّ اِذا أجتَنَبتَ الکَبائِر ::: پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک ( اور رمضان سے رمضان تک کا وقت چھوٹے گناہوں میں سے ) جو کُچھ اِن (اوقات) کے درمیان ہے اُس کا کفارہ ہے ،(بشرطیکہ)تُم کبیرہ گناہوں سے بچے رہے ))) صحیح مُسلم ، حدیث ، ٢٣٣
    دیکھئیے کتنا بڑا موقع ہے مغفرت کا ، کہ ایک نماز سے لیکر دوسری نماز تک جو گُناہ ہوئے ہیں وہ معاف ہو سکتے ہیں کیونکہ آنے والی نماز اِن گناہوں کا کُفارہ ہو گی ، اِسی طرح ایک جمعہ سے اگلے جمعہ تک اور پھر رمضان سے رمضان تک جو صغیرہ یعنی چھوٹے گُناہ ہوئے ہیں وہ معاف ہو سکتے ہیں ، کیونکہ آنے والا جمعہ یا رمضان گُزر ے ہوئے وقت کے گُناہوں کا کُفارہ ہو گا ، مگر ایک شرط ہے کہ اِس عرصہ میں کبیرہ یعنی بڑے گناہوں سے بچا جائے ۔
    ::: أبو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( اِذا کانَت أَوَّلُ لَیلَۃٍ مِن رَمضَانِ ، صُفِّدَتِ الشَّیَاطِینُ وَ مَردَۃَ الجِنِّ ، وَ غُلِّقت أَبوابُ النَّارِ ، فَلَم یُفتَحَ مِنھَا بابٌ وَ فُتِّحت أبوابُ الجَنَّۃِ ، فَلَم یُغلَقُ مِنھَا بابٌ ، وَ نَادَی مُنَادٍ ، یَا باغی الخَیرِ أقبل ، یَا باغی الشَّرِّ أَقصِر ، وَ لِلَّہِ عُتَقَاءُ مِن النَّارِ ، وَ ذَلِکَ فِی کُلِّ لَیلَۃٍ :::جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سر کشّ جنّوں کو باندھ دِیا جاتا ہے ، اور آگ ( یعنی جہنم ) کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں پھر اُن میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا ( یعنی رمضان میں ) اور جنّت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، پھر اُن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ، اور آواز دینے والا آواز دیتا ہے ( یعنی اللہ کی طرف سے کِسی فرشتے کے ذریعے آواز دی جاتی ہے ) اے خیر کے چاہنے والے آگے بڑھ ، اے شر کے چاہنے والے باز آ ، اور اللہ ہر رات میں لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے ))) سُنن ابن ماجہ ، حدیث ، ١٦٤٢ ، اِمام الألبانی نے اِس حدیث کو صحیح قرار دِیا ۔ سُنن النسائی ، حدیث ، ٦٨٢ ۔
    اگر ہم اِس مُقدس مہینے میں جنّت کے کُھلے دروازوں سے بھی اندر نہ جا سکیں تو کتنی بد بختی ہے اللہ کی طرف سے تو مغفرت اور رحمت کا ہر سبب مہیا کر دیا جاتا ہے ، شیطانوں کو باندھ دِیا جاتا ہے ، پھر ہمارے اپنے نفوس کی شر انگیزی ہی رہ جاتی ہے جو ہمیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی پراُکساتا ہے بلکہ نافرمانی کرواتا ہے ، اے اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے نفوس اور ہر شر پھیلانے والے کے شر سے محفوظ فرما اور اُن میں بنا جنہیں تو اپنے اِس با برکت مہینے کی ہر رات میں آگ سے نجات دیتا ہے ۔
    ::: (٢) دُعاؤں کی قبولیت ::: أبو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ علیہ الصلاۃ و السلام فرمایا کرتے تھے ((( اِنَّ لِلَّہِ تعالیٰ عُتقاء فی کُل یَومٍ و لَیلَۃٍ ، لِکُلِ عَبدٍ مِنھُم دَعوۃٌ مُستَجَابۃٌ :::بے شک اللہ تعالیٰ ہر رات اور دِن میں ( یعنی رمضان کے دِن اور رات میں ) لوگوں کو (جہنم کی آگ سے )آزاد کرتے ہیں ، اور اِن آزاد ہونے والے بندوں میں سے ہر ایک کے لئیے ایک قُبول شدہ دُعا ہوتی ہے ) مُسند أحمد ، صحیح الجامع الصغیر ، حدیث ، ٢١٦٩ ۔
    یعنی افطار کے وقت اُس کی ایک دُعا ضرور قبول ہوتی ہے ، لہذا أفطاری کے وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بعد اپنے اور اپنے مُسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لئیے دُعا کرنا مت بُھولئیے، خاص طور پر اُن کے لیے جو ، کشمیر ، فلسطین ، شیشان، أفغانستان ، عِراق یا دُنیا کے کِسی بھی خطے میں کافروں کے ظُلم کا شکار ہو رہے ہیں ، اگر اُن کے لیے اور کُچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اُنہیں اپنی دُعاوں سے محروم نہ کیجیئے ۔
    ::٣ ) نیکیوں کے بڑے بڑے خزانے :::
    ::: أبو ھُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا ((( کُلُّ عَملَ ابن آدمَ لُہُ الحَسنَۃُ بِعَشرِ أمثَالِھَا اِلیٰ سبعمائۃَ ضَعف ، یَقُولُ اللّہ ُ عزَّ و جَلَّ ، اِلَّا الصَّیام فَاِنَّہُ ليَّ و أنا أجزِي بِہِ ، تَرَکَ شَھوُتَہُ و طَعامَہُ و شرابہُ مِن أجلي ، لِلصَّائمِ فَرحَتَانِ ، فَرحۃُ عِندَ فَطرِہِ و فَرحَۃُ عِندَ لِقاءَ رَبہِ و لَخَلوُفُ فَمِ الصَّائمِ أطیَّبُ عِندَ اللَّہِ مِن رِیحِ المِسّکِ ::: آدم کی اولاد کے (نیکی کے)ہر کام پر اُس کے لیے اُس نیکی جیسی دس سے سات سو تک نیکیاں ہیں ، اللہ عزّ و جلّ کہتا ہے ؛؛؛ روزے کے عِلاوہ ( یعنی نیکیوں میں اضافے کی یہ نسبت روزے کے عِلاوہ ہے )چونکہ میرے بندے نے میرے لیے اپنی بھوک پیاس اور خواہشات کو چھوڑا ، ( لہذا ) وہ ( یعنی روزہ ) میرے لیے ہے اور میں ہی اُس کا أجر دوں گا (یعنی جتنا چاہے دوں )؛؛؛ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت کی خوشی ، اور دوسری جب وہ اپنے رب سے ملے گا اُس وقت کی خوشی ، اور روزہ دار کے مُنہ کی بُو اللہ کے ہاں یقینا مِسک کی خوشبو سے بھی اچھی ہے ))) صحیح مُسلم ،حدیث١١٥١ ۔
    ::: عبداللہ ا بن عباس رضی ا للہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ الصّلاۃ و السّلام نے فرمایا ((( فَاِذا جَاءَ رَمضَانُ فَاعتَمرِی فَاِنّ عُمرۃً فِیہِ تَعدِلُ حَجَۃً و فی روایۃ حَجَۃً مَعِيَ :::جب رمضان آئے تو اُس میں عُمرہ کر لینا ، رمضان میں عُمرہ حج کے برابر ہے ))) صحیح مُسلم ، حدیث ، ١٢٥٦ ، سُنن النسائی ، حدیث ، ٢١٠٩ ۔
    جو مُسلمان اِس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وہ رمضان میں عُمرہ کر ے تو اُسے کرنا چاہیئے تا کہ وہ رسول اللہ علیہ الصّلاۃ و السّلام کے فرمان کے مُطابق حج کا أجر حاصل کر سکے ، مگر یہ ضرور یاد رکھے کہ عُمرہ کے لیے نکلنے سے پہلے اُس کی ادائیگی کا طریقہ جو رسول اللہ علیہ الصّلاۃ و السّلام کی سُنّت کے مُطابق ہو وہ طریقہ سیکھے اور پھر اُس کے مُطابق عُمرہ ادا کرے ، سُنی سُنائی باتوں یا کہانیوں پر عمل کر کے کئیے ہوئے کام اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوں گے ۔
    ''' عمرہ اور حج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ''' کے عنوان سے میری ایک برقی کِتاب تیار ہے ۔
    ::: (٤) شب قدر جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے :::
    اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے ((( شَھرُ رمضَانَ الَّذِی اُنزِلَ فِیہِ القُران :::رمضان کا مہینہ (وہ ہے)جِس میں قُران اُتارا گیا)))
    اور فرمایا ((( اِنَّا أنزلنَا ہُ فِی لیلَۃِ القدَرِ o وَ مَا أَد رئکَ مَا لَیلَۃُ القدَرِo لَیلَۃُ القدَرِ خَیرٌ مِن ألفِ شَھرٍ o تَنزَّلُ المَلائِکَۃُ والرُّوحُ فِیھَا بِاِذنِ رَبِّھِم من کُلِّ اَمرٍo سَلامٌ ہِیَ حَتیٰ مَطلعِ الفجر :::ہم نے اُسے(یعنی قُرآن کو )قدر کی رات میں اُتارا o اور تُم نہیں جانتے کہ قدر کی رات کیا ہے o قدر کی رات ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے o اِس رات میںفرشتے اور رُوح (جبرئیل علیہ السلام )اپنے رب کے حُکم سے ہر کام پورا کرنے کے لیے اُترتے ہیں o وہ رات فجر تک سلامتی ہے )))
    ::: أنس ابن مالک رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ علیہ الصّلاۃ و السّلام نے فرمایا ((( اَنَّ ھَذا الشَّھرَ قَد حَضرَکُم و فِیہِ لُیلُۃٌ خیرٌ مِن ألفِ شَھرٍ مَن حُرِمَھَا فَقَد حُرِمَ الخَیرَ کُلَّہُ وَ لَا یُحرَمُ اِلَّا کُلُّ مَحرُومً :::یہ مہینہ تمہارے پاس آ گیا ہے جِس میں قدر کی رات ہے ، جو کہ ہزار مہینوں سے زیادہ خیر والی ہے ، جو اِس سے محروم رہا وہ یقیناً ہر خیر سے محروم رہا ، اور قدر کی رات (کے فائدوں)سے سوائے بد نصیب کے کوئی اور محروم نہیں ہوتا ))) سُنن ابن ماجہ ، حدیث ، ١٦٤٤۔ اِمام الألبانی نے اِسے صحیح قرار دِیا ۔
    شب قدر کے بارے ایک الگ مضمون کی صُورت میں کُچھ تفصیلات ارسال کروں گا اِن شاءَ اللہ تعالیٰ۔
    اگلے مضمون میں روزے کی حقیقت کے بارے میں بات ہو گی ، انشاء اللہ تعالیٰ ،
    السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel ماہ رمضان اور ہم (۲) روزہ کیوں؟ کیا؟ اور ۲

    ماہِ رمضان اور ہم ۲
    روزہ ، کیوں ،کیا اور دیگر مسائل (۱)
    : روزے کی اصل اور حقیقی حِکمت '
    (یآ اَیّھا الَّذین اَمَنُوا کُتِبَ عَلِیکُم الصَّیامَ کَما کُتِبَ عَلیٰ الذیِنَ مِن قَبلِکُم لعلَّکُم تَتَّقُونَ) ( اے لوگوں جو اِیمان لائے ہو ، تُم پر روزے لکھ دیے(یعنی فرض کر دیے) گئے ہیں ، جیسا کہ تُم سے پہلے والوں پر لکھے گئے ، تاکہ تُم تقویٰ اِختیار کرو)البقرہ ، آیت ١٨٣
    اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان میں روزوں کی فرضیت کے حُکم کے ساتھ ساتھ اِس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ روزے کے ذریعے اپنے نفس کی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ترک کرنامطلوب ہے ،

    یہاں یہ بات بہت ہی اچھی طرح سے سمجھ کر یاد رکھنے کی ہے کہ صِرف بھوکا پیاسا رہنا ہی روزہ نہیں ، اور نہ ہی یہ مطلوب ہے کہ اللہ کی رضا مندی کے عِلاوہ کِسی اور مقصد کےلیے خود کو کھانے پینے سے روک لیا جائے، اگر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ علیہ الصّلاۃُ و السّلام کے احکامات کی پابندی نہ کی جائے تو اللہ کو کِسی کے بھوکے پیاسے رہنے کی ضرورت نہیں ہے ، رسول اللہ علیہ الصّلاۃُ و السّلام کا فرمان ہے :::
    (مَن لَم یَدعَ قولَ الزُورِ و العَملَ بِہِ فَلیس للّہِ حاجۃٌ اَن یَدَع طعامَہُ و شرابَہُ ) ( جِس نے جھوٹ بولنا اور اُس پر عمل نہیں چھوڑا اللہ کو اُس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ) صحیح البخُاری ، حدیث ١٩٠٣
    حافظ ابنِ حجر نے فتح الباری میں اِمام ابن بطال کا یہ قول نقل کیا '' اِس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ روزہ رکھنا چھوڑ دیا جائے ، بلکہ یقینا اِس کا معنیٰ جھوٹ بولنے اور اُس پر عمل کرنے سے روکنا ہے '' اور اِمام البیضاوی کا یہ قول نقل کیا '' اللہ کو اُسکی ضرورت نہیں'' سے مُراد اللہ کی طرف سے غیر مقبول ہونا ہے ''
    ابو ھُریرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ علیہ الصّلاۃُ و السّلام نے فرمایا( لَیسَ الصَّیامُ مِنَ الاکلِ و الشُّربِ ، اِنَّمَا الصَّیامُ مِنَ اللَّغُوِ والرَّفثِ ، فَاِن سَابَّکَ اَحَدٌ اَو جَھِلَ عَلِیکَ فَقُل اِني صائمٌ ) ( روزہ صِرف کھانے پینے کا نہیں ، بلکہ بلا شک روزہ فحش کلامی کرنے سے ہے ، اور اگر کوئی تُمہیں گالی دے یا تُمہارے ساتھ بدتمیزی کرے تو تُم کہو میں روزے میں ہوں ) مُستدرک الحاکم حدیث ، ١٥٧٠ ، اِمام الذہبی نے التلخیص میں اِمام الالبانی نے صحیح الجامع الصغیر ( ٥٣٧٦ ) میں اِس حدیث کو صحیح قرار دِیا ۔
    ** کیا آپ اُن میں سے تو نہیں جِن کے روزہ رکھنے کی وجہ صِرف یہ نہیں ہوتی کہ اللہ کی طرف سے فرض ہے بلکہاُن کا مطمع نیت صحت کی بہتری ، کچھ دبلا ہونا وغیرہ بھی ہوتا ہے ؟
    کیا آپ اُن روزہ داروں میں سے تو نہیں جو اپنے پیٹ کی خواہشات کو تو روک لیتے ہیں مگر نفس کی خواہشات پرکوئی روکاوٹ نہیں لگاتے ؟
    ** کیا آپ اُن میں سے تو نہیں جو روزے کی وجہ سے اپنی زُبان کو کھانے پینے کے ذائقے سے تو باز رکھتے ہیں مگر،،،،جھوٹ ،غیبت ، چُغلی ، گالی گلوچ اور گندی واہیات باتوں سے باز نہیں رکھتے ؟
    ** روزہ لگ رہا ہے ، ذرا وقت گزاری اور دہیان بدلنے کے لیے کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھ لیا جائے ، جِسم کا تو روزہ ہے روح کو ہی خوارک مہیا کی جائے، کوئی موسیقی گانا وغیرہ سُنا جائے ، اگر دین اور اِسلام کا خیال آ گیا تو موسیقی کی تال پر گائی ہوئی نعتیں ، قوالیاں ، کوئی عارفانہ کلام ، سُن لیا جائے **** کیا آپ اُن میں سے تو نہیں ہیں جو روزے کی شدت کو دور کرنے کے لیے آنکھوں اور کانوں کا زنا کرتے ہیں ؟ ( موسیقی کو روح کی خوراک کہہ کر شیطان نے بنی آدم کو اِس راہ پر لگا رکھاہے ، موسیقی والے درس میں اِس کا ذِکر تفصیل سے کیاگیا تھا ، اور وہ اب کتابی شکل میں بھی موجود ہے )
    ** اگر آپ اِن میں سے ہیں تو آپ کی بھوک پیاس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ، اور اگر آپ اِن میں سے نہیں توپھر آپکی بھوک پیاس اِنشاء اللہ آپ کے لئیے فائدہ مند ہو گی ۔
    ** ابوہُریرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِذا دخَلَ شھرُ رمضانُ فُتِحت اَبوابُ السَّماءِ وغُلِّقت اَبوابُ جھنَّمَ و سُلسِلَت الشیٰطین )( جب رمضان داخل ہوتا ہے تو شیطانوں کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیںاور آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ) صحیح البُخاری حدیث ، ١٨٩٩ ، اور صحیح مُسلم کی ایک روایت میں جنت کے دروازے کُھلنے اور آگ کے دروازے بند ہونے کا ذِکر ہے اور دوسری روایتمیں رحمت کے دروازے کُھلنے اور جہنم کے دروازے بند ہونے کا ذِکر ہے ، ( حدیث ، ١٠٧٩ )
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور کوئی کام جو صحیح سند کے ساتھ ہم تک پُہنچا ہو اُس فرمان یا کا م کا انکار کرنا بِلا شک کُفر ہے ، اور مذکورہ بالا حدیث بِلا شک صحیح ہے ، اب ذرا اِس صحیح حدیث کی روشنی میں غور فرمائیے کہ :::
    ** رمضان میں شیاطین تو باندھ دیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی مُسلمان گناہوں میں ملوث نظر آتے ہیں اور بڑی کثرت سے نظر آتے ہیں !!!
    ** رحمت اور جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پھر بھی اِن کُھلے دروازوں پر داخلے کے خواہش مند کم کم ہی دِکھائی دیتے ہیں!!!
    ** آگ اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں پھر بھی اُن پر جم غفیر نظر آتا ہے !!!
    ** کون ہے جو اُنہیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر مائل کرتا ہے ؟؟؟؟؟
    ** کیا اُنکے دِلوں میں اِیمان اِنتہائی کمزور نہیں ہو چُکا ؟
    ** کون ہے جو اُنہیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر مائل کرتا ہے ؟؟؟؟؟
    ** کیا اُنکے دِلوں میں اِیمان اِنتہائی کمزور نہیں ہو چُکا ؟
    ** کیا وہ اِس وسوسے کا شکار نہیں کہ فجر سے مغرب تک بھوکا پیاسا رہنا ہی روزہ ہے ، باقی سب کُچھ حسبِ معمول جاری رہے تو کوئی حرج نہیں ؟
    ** کیا اُنکے دِل و دماغ شیطان کے اتنے تابع فرمان نہیں ہو چکے کہ خود بخود ہی اُسکی راہ پر چلتے جا رہے ہیں ؟
    ** کہیں آپ بھی تو اُن میں سے نہیں ؟ اللہ نہ کرے کہ اِس کا جواب ''' جی ہاں ''' ہو اور اگر ایسا ہے تو پھر رمضان توبہ کر کے اللہ کی مغفرت حاصل کرنے کا سُنہری موقع(Golden Chance )ہے ،اِس موقع سے فائدہ اُٹھائیے ۔
    (وَسَارِعُوا اِلَی مَغفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُم وَجَنَّۃٍ عَرضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالاَرضُ اُعِدَّتْ لِلمُتَّقِینَ ) ( اور جلدی بھاگو اللہ کی طرف سے مغفرت کی طرف اور جنّت (کی طرف ) جِس کی چوڑائی (تمام ) آسمانوں اور زمین کے برابر ہے (اور) جو تقویٰ والوں کے لیے تیار کی گئی ہے) آل عمران /آیت١٣٣
    Last edited by Mohammad Sajid; 03-08-2010 at 12:37 AM.

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    snow روزہ کی بے انتہا فضیلت کیوں؟



    روزہ اور اس کے ثواب کی اس فضیلت کے دو سبب ہیں اول تو یہ کہ روزہ دوسرے لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا ہے، دوسری عبادتوں کے برخلاف کہ ان میں یہ وصف نہیں ہے جتنی بھی عبادات ہیں وہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں جب کہ روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا صرف روزہ دار ہی کو ہو تا ہے ۔ لہٰذا روزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہوتا ہے کہ اس میں ریاء اور نمائش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد فانہ لی کے ذریعے اسی طرف اشارہ فرمایا کہ روزہ خاص میرے ہی لیے ہے کیونکہ روہ تو صورۃ اپنے لیے
    وجود نہیں رکھتا جب کہ دوسری عبادتیں صورتا اپنے لیے وجود رکھتی ہیں۔ ‎‎


    ‎ دوم یہ کہ روزہ میں نفس کشی اور جسم وبدن کا ہلکان ونقصان ہے نیز روزہ کی حالت میں انتہائی کرب وتکلیف کی صورتیں بھوک وپیاس پیش آتی ہیں اور ان پر صبر کرنا پڑتا ہے جب کہ دوسری عبادتوں میں نہ اتنی تکلیف ومشقت ہوتی ہے اور نہ اپنی خواہش وطبیعت پر اتنا جبر چنانچہ باری تعالیٰ نے اپنے ارشاد یدع شہوتہ کے ذریعے اسی طرف اشارہ فرمایا کہ روزہ دار اپنی خواہش کو چھوڑدیتا ہے یعنی روزہ کی حالت میں جو چیزیں ممنوع ہیں وہ ان سب سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔


    ‎لفظ شہوتہ کے بعد لفظ طعامہ کا ذکر کیا تو تخصیص بعد تعمیم کے طور پر ہے یا پھر شہوت سے مراد تو جماع ہے اور طعام سے جماع کے علاوہ دوسری چیزیں مراد ہیں جو روزہ کو توڑنے والی ہوتی ہیں۔
    افطار کے وقت روزہ دار کو خوشی دو وجہ سے ہوسکتی ہے یا تو اس لیے کہ وہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ روزہ دار اپنے آپ کو اللہ رب العزت کے حکم اور اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ محسوس کرتا ہے، یا پھر یہ کہ وہ عبادت کی توفیق اور اس کی نورانیت کی وجہ سے اپنے آپ کو مطمئن ومسرور محسوس کرتا ہے، جو ظاہر ہے کہ خوشی کا سبب ہے اس کے علاوہ دنیاوی اور جسمانی طور پر بھی یوں خوشی محسوس ہوتی ہے کہ دن بھر کی بھوک وپیاس کے بعد اسے کھانے پینے کو ملتا ہے۔ ‎



    حدیث کے آخری جملے کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص روزہ دار کو برا بھلا کہے یا اس سے لڑنے کا ارادہ کرے تو وہ اس شخص کوانتقاما برا بھلا نہ کہے اور نہ اس سے لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہوجائے بلکہ اس شکص سے یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں اور یہ بات یا تو زبان سے کہے تاکہ دشمن اپنے ناپاک ارادوں سے بازرہے کیونکہ جب روزہ دار اپنے مقابل سے یہ کہے گا کہ میں روزہ دار ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں چونکہ روزہ دار ہوں اس لیے میرے لیے تو یہ جائز نہیں کہ میں تم سے لڑوں جھگڑوں اور جب میں خود لڑنے جھگڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں تو تمہارے لیے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ
    ایسی صورت میں تم مجھ سے لڑائی جھگڑے کا ارادہ کرو کیونکہ یہ اصول ومروت کے خلاف ہے ظاہر ہے کہ یہ انداز اور پیرایہ دشمن کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے گلط ارادوں سے باز رہے۔ ‎یا اس کے یہ معنی ہوں کہ میں چونکہ روزہ دار ہوں اس لیے اس وقت تمہارے لیے زبان درازی مناسب اور لائق نہیں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کی حفاظت میں ہوں۔



    ‎یا اس کے یہ معنی ہوں کہ میں چونکہ روزہ دار ہوں اس لیے اس وقت تمہارے لیے زبان درازی مناسب اور لائق نہیں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کی حفاظت میں ہوں۔
    یا پھر یہ کہ ایسے موقع پر روزہ دار اپنے دل میں یہ کہہ لے کہ میں روزہ دار ہوں میرے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ میں روزہ حالت میں کسی سے لڑائی جھگڑا کروں یا کسی کو اپنی زبان سے برا کہوں۔ ‎


    لفظ " الاالصوم" کے سلسلے میں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حدی ثکے بعض شارحین اس موقوع پر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ روزہ کی یہ خصوصیت کس وجہ سے ہے؟ تاہم ہمارے اوپر یہ بات واجب اور لازم ہے کہ بغیر کسی شک وشبہہ کے اس کی تصدیق کرے ہاں بعض محققین علماء نے اس خصوصیت کے کچھ اسباب بیان کئے ہیں چاننچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ روزہ ہی وہ عبادت ہے جو ایام جاہلیت میں بھی اہل عرب کے یہاں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے مخصوص تھی یعنی جس طرح کفار ومشرکین سجدہ وغیرہ اللہ کے علاوہ دوسری چیزون کے لیے بھی کرتے تھے اسی
    طرح وہ روزہ میں بھی اللہ کے علاوہ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے بلکہ روزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے رکھتے تھے۔ ‎‎اس طرح اس نکتہ کے ذریعے بھی اس کی خصوصیت کی طرف اشارہ کیا جاسکتاہے کہ در حقیقت جو شخص روزہ رکھتا ہے اور اس طرح وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ورضاء کی خاطر اپنا کھانا پینا اور دوسری خواہشات کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ ایک طرح کی لطافت وپاکیزگی حاصل کرتا ہے اور گویا وہ اس بارے میں باری تعالیٰ کے اوصاف وخلق کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے بایں طور کہ جس طرح اللہ رب العزت کھانے پینے سے منزہ اور پاک ہے اسی طرح بھی دن میں اپنے آپ کو دنیا وی خواہشات وعلائق سے منزہ رکھتا ہے لہٰذا اس سبب سے روزہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے۔عبرت خیز وعبرت آموز!


    ‎اس طرح اس نکتہ کے ذریعے بھی اس کی خصوصیت کی طرف اشارہ کیا جاسکتاہے کہ در حقیقت جو شخص روزہ رکھتا ہے اور اس طرح وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ورضاء کی خاطر اپنا کھانا پینا اور دوسری خواہشات کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ ایک طرح کی لطافت وپاکیزگی حاصل کرتا ہے اور گویا وہ اس بارے میں باری تعالیٰ کے اوصاف وخلق کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے بایں طور کہ جس طرح اللہ رب العزت کھانے پینے سے منزہ اور پاک ہے اسی طرح بھی دن میں اپنے آپ کو دنیا وی خواہشات وعلائق سے منزہ رکھتا ہے لہٰذا اس سبب سے روزہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے۔عبرت خیز وعبرت آموز!

    ابھی آپ نے اوپر پڑھا ہے کہ عرب کے مشرکین تک روزہ میں کسی کوا للہ کا شریک نہیں کرتے تھے ان کا روزہ بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص قرار دیتے تھے لیکن اب روزہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں رہ گیا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اب بعض بزرگوں کے نام پ اور ان کے لیے بھی روزہ رکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو گمراہی وضلالت کے اس راستے سے بچاہئے اور صرف اپنی مرضیات تابع وپابند بنائے آمین۔

  4. #4
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    snow سحری اور اِفطار کا ٹائم ٹیبل

    ھم سب کو رمضان مُبارک ھو
    اللھ سے دُعا ھے کہ ھم سب کو رمضان کے مُکمل روزے رکھنے کی توفیق حاصِل ھو،
    اور اللھ کی بارگاہ میں ھماری سب عِبا د تیں قبول ھوں،ٓامین
    تحفہ رمضان
    سحری اور اِفطار کا ٹائم ٹیبل
    پھلا روزہ 12 اگست کو ھو گا


    روزہ سحری اِفطا ر

    01 3:57 6:48
    02 3:58 6:47
    03 3:59 6:46
    04 3:59 6:46
    05 4: 00 6:45
    06 4:00 6:44
    07 4:01 6:43
    08 4:02 6:42
    09 4:03 6:41
    10 4:04 6:39
    11 4:05 6:38
    12 4:06 6:37
    13 4:07 6:36
    14 4:08 6:35
    15 4:09 6:34
    16 4:10 6:33
    17 4:10 6:32
    18 4:11 6:31
    19 4:12 6:30
    20 4:13 6:29
    21 4:14 6:28
    22 4:15 6:27
    23 4:15 6:26
    24 4:16 6:24
    25 4:17 6:23
    26 4:18 6:22
    27 4:18 6:20
    28 4:19 6:19
    29 4:20 6:18
    30 4:21 6:16

  5. #5
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default حاملہ عورت کے روزے کا حکم ؟

    بسم اللہ الرحمان الرحیم‏

    آج ہم حاملہ/دودھ پلانے والی عورت کے روزہ رکھنے کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں بحث کرتے ہیں . دراصل
    حاملہ اوردودھ پلانے والی
    عورت کو مریض پر قیاس کرتے
    ہوئے ان کے لیے روزہ چھوڑنا
    جائز ہوگا اوراس کے بدلے میں
    انہیں صرف قضاء میں روزہ
    رکھنے ہونگے ، چاہے انہيں
    اپنے آپ یا پھر بچے کو ضرر کا
    خدشہ ہو ۔
    اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم
    کا فرمان ہے :
    ( بلاشبہ اللہ تعالی نے
    مسافر اورمریض سے روزہ
    اورنماز کا ایک حصہ اٹھا دیا
    ہے اورحاملہ اوردودھ پلانے
    والی عورت سے روزہ رکھنا
    اٹھا دیا ہے ( سنن ترمذی حدیث
    نمبر ) 715 ( سنن ابن ماجہ
    حدیث نمبر ) 1667 ( ۔
    علامہ البانی رحمہ اللہ
    تعالی نے صحیح ترمذی ) 575 (
    میں اسے اس حدیث کو صحیح
    قراردیا ہے ۔

    اگر حاملہ عورت کواپنے
    آپ یا پھر بچے کو ضرر پہنچنے
    کا خدشہ ہو تووہ بھی مریض کا
    حکم میں داخل ہونے کی بنا پر
    روزہ ترک کردے گی اوراس کے
    بدلہ میں بطور قضاء بعد میں
    روزے رکھے گی کیونکہ اللہ
    تعالی کا فرمان ہے :
    { اورجوکوئي مریض ہو یا
    مسافر وہ دوسرے دنوں میں
    گنتی پوری کرے { البقرۃ
    ) 185 ( ۔
    لیکن اگرروزے کی وجہ سے اسے
    اپنے آپ یا پھر بچے پر کسی
    ضرر کا خدشہ نہ ہو تو اس پر
    روزہ رکھنا واجب ہے کیونکہ
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    { تم میں سے جو بھی اس ماہ
    مبارک کو پائے اسے روزہ
    رکھنا چاہیے { ۔
    اورغالب طورپریہ ہوتا ہے کہ
    حاملہ عورت کو روزہ رکھنے
    سےمشقت ہوتی ہے اورخاص کرحمل
    کے آخری مہینوں میں تو
    اوربھی زيادہ ہوجاتی ہے
    اورہوسکتا ہے روزہ رکھنا اس
    کے حمل پر اثرانداز بھی
    ہوجائے اس لیے اسے کسی ماہر
    ڈاکٹر کے مشورہ پر عمل کرنا
    چاہیے ۔

  6. #6
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default روزے کا جذبہ

    سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت
    " جن لوگوں کو روزے کی طاقت نہیں ہے وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں (البقرۃ 184) "
    اتری تو جو چاہتا وہ رمضان میں افطار کرتا تھا اور جو چاہتا فدیہ دیتا تھا اور یہی حکم رہا یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت اتری اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا یعنی اب طاقت والے پر روزہ رکھنا فرض ہوا اور اسے فدیہ دینا درست نہیں ہے .
    سیدنا عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ماہ کے پورے دنوں کے روزے رکھتے تھے ? " .
    انہوں نے کہا کہ : " میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینہ کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ کوئی پورا مہینہ افطار کیا بلکہ ہر مہینہ میں سے کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے تھے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے . اللہ تعالیٰ کا سلام اور رحمت ان پر

  7. #7
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default رمضان میں زبان کی حفاظت

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    حمد و ثناء کے بعد!
    اللہ کے بندو ! تم پر وہ ماہ مقدس سایہ فگن ھو چکا ہے جو بڑی عظمتوں اور بڑائیوں والا مہینہ ہے ، جس میں جنت کے دروا*زے کھول دیۓ جاتے ہیں اور نار جہنم کے دروا*زے بند کر دیۓ جاتے ہیں اور اس ماہ میں اللہ تمھارے نیکی کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو دیکھتا ہے ـ اللہ تعالی کو بھلائ کر کے دکھا دو ـ سعاتمند وہ ہے جسے رحمت الہی نے چھو لیا اور وہ مغفرت و رضاء اور اللہ کی خوشنودی پانے میں کامیاب ھو گیا اور شقاوت و بدبختی اس کا مقدر بن گئ جو اس رحمت و مغفرت اور جہنم سے آزادی کے اس ماہ میں بھی اللہ عزوجل کی رحمتوں سے محروم رہا

    مسلمانو ! کوتاہی کرنے والے ، اپنے اوقات کو برباد کرنے والے ، لہو و لعب میں مصروف ، غفلت مجرمانہ میں محو اور لاپرواہ انسانوں کے گروہ کے مقابلے بیدار مغز مؤمن صادق اپنی اس عمر کے اوقات کو غنیمت سمجھتا ہے جو اسے اللہ تعالی نے مرحمت فرماۓ ہیں اور ان اوقات میں سے سیزن برآوردہ ماہ رمضان میں روزوں کی گھڑیاں ہیں جنھیں وہ اپنے رب سے تجارت و استقامت کا خاص سیزن سمجھتا ہے اس امید کے ساتھ کہ اسکی دلی آرزو و تمنا پوری ھو جاۓ اور تاکہ اس کی دنیوی زندگی سنور جاۓ اور انجام بخیر ھو جاۓ اور قیامت کے دن بھی وہ حسن عاقبت سے سرفراز ھو جاۓ ـ

    روزے کے فوا‏ئد و ثمرات اور آثار جمیلہ حساب و شمار سے باھر ہیں البتہ ایک واضح اثر جو اس مبارک فریضہ میں دیکھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ سرکش و بے لگام زبانیں بھی اس ماہ میں نرم ، سیدھی اور پاک ھو جاتی ہیں اور ناپسندیدہ کلمات اور بری باتیں چھوڑ دی جاتی ہیں تاکہ اس سے مومن کامل کی وہ صفت وجود میں آ جاۓ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :
    مومن لعن طعن کرنے والا ، فحش گو اور بازاری و سوقیانہ زبان والا نہیں ھوتاـ
    مسند احمد و ترمذی باسناد صحیح

    اے اللہ کے بندو ! روزے کے اس تربیتی اثر اور پہلو کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہیۓ اور یہی عقل و دانش کی شان اور اھل بصیرت کا منہج و طرز عمل ہے کیونکہ زبان کی آفتیں اور اسکے اضرار و نقصانات بہت ہی خوف ناک ہیں اور انہی کا انجام خطرناک ہے جس سے ڈرنا چاہیۓ ـ اس کے نتیجہ میں بلائيں آتی ، بیماریاں جڑ پکڑتی اور دواء نایاب ھوتی ہے اور باھم بغض و عداوت پیدا ھوتے ہیں اور کبھی کبھی نوبت بغض و عدوات پر آ جانے کے بعد شفاء کی امید کا چراغ ہی گل ھو جاتا ہے ـ

    اے اللہ کے بندو ! اس سلسلہ میں آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد کافی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا تھا جب انھوں نے بڑے تعجب سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا تھا ـ [ کیا اپنی باتوں پر بھی ھمارا مواخذہ ھو گا ؟ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا :
    اے معاذ ! تیری ماں تجھے گم پاۓ ـ لوگوں کو انکے جہنم میں منہ کے بل یا فرمایا : ناک کے بل ـــ اگر انکی زبان سے نکلے کلمات کے نتیجہ میں نہ ڈالا گیا تو پھر کس وجہ سے جھونکا جائیگا ـ ؟
    مسند احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ــ باسناد حسن
    لھذا روزے دار مسلمان کو اپنے رب کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے نکلے اس وعدے کو پانے کی کوشش کرنی چاہیۓ جو آپ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے :
    جس نے رمضان کا روزہ اللہ پر ایمان رکھتے ھوۓ اور اسی سے ثواب پانے کی خالص نیت سے رکھا ، اسکے سابقہ تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں ـ
    صحیح بخاری و مسلم

    مسلمان کو چاہیۓ کہ ھمیشہ یہ بات ذھن میں رکھے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق و گناہ کبیرہ ہے جیسا کہ صادق و مصدوق نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی صحیح حدیث میں آیا ہے اور اس فسق سے مراد یہ ہے کہ اسکا یہ فعل اللہ تعالی کے احکام کی نافرمانی اور ان سے سرکشی اور اسکی قائم کردہ حدود سے تجاوز ہے ـ ایسے فعل سے اسکا ارتکاب کرنے والا خود اپنے آپ پر کھلا ھوا ظلم کرتا ہے اور وہ یوں کہ وہ اپنی زبان کو لعن طعن ، فحش گوئ اور سوقیانہ کلام کرنے پر لگاتا ہے جو کہ اس کے لۓ حلال نہیں ہے اور نہ ہی اخوت اسلامی کے حقوق اس بات کی اجازت دیتے ہیں ـ جن حقوق اخوت میں اللہ تعالی نے برکت فرمائ ہے اور مومنوں کو اسی وصف سے متصف کیا ہے ـ چنانچہ ارشاد الہی ہے :
    بیشک مومن باہم بھائی بھائی ہیں
    ( الحجرات : 10)
    اور اللہ تعالی نے اسی اخوت میں نقص پیدا کرنے ، اسکی صفائ و ستھرائ کو گدلا و گندا کرنے اور اسکی توھین و بے حرمتی کرنے والوں پر سخت نکیر کی ہے ـ

    اور اسی طرح ہر مسلمان کو یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ روزے کی حالت میں ان غلاظتوں سے اپنی زبان کو گندا کرنا بہت ہی برا فعل ، شدید منکر عمل اور انتہائ حرام حرکت ہے ـ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سلسلہ میں خصوصا ھدایت فرمائ ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    روزہ ڈھال ہے ـ تم میں سے جب کسی کا روزہ ھو تو اسے چاہیۓ کہ بدزبانی اور شور وغوغا یا غل غپاڑہ نہ کرے ، اگر اسے کوئ دوسرا شخص گالی دے یا گلے پڑے تو اس سے کہہ دے : میں روزے سے ھوں ، میں روزے سے ھوں ـ
    صحیح بخاری و مسلم

    یہ کہنا کہ میں روزے سے ھوں اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو یہ باور کرواۓ کہ میں روزے سے ھوں تاکہ اسکےنفس میں جو شر سر اٹھا رہا ہے اس کا جوش ٹھنڈا پڑ جاۓ اور سامنے والے مسلمان کو بھی یاد دلاۓ کہ میں روزے سے ھوں ، شائد اسے بھی یہ سن کر کچھ رحم آ جاۓ اور جس برے ارادے سے وہ اٹھا ہے اس سے وہ باز آ جاۓ اور جو دشنمی نکالنے کیلۓ وہ سامنے آیا ہے وہ اس سے رک جاۓ ـ

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ان اعلی ہدایات و تعلیمات میں اپنے نفس کے گھوڑے کو لگام دینے اور برائ کا جواب برائ سے دینے کا بہترین علاج موجود ہے ، اسی طرح ان ھدایات نبویہ میں زبان کو جہالت ، گالی گلوچ ، اور لڑائ جھگڑوں سے لگام دینے کا طریقہ بھی ہے کیونکہ معمولی لڑائیاں ہی بعد میں عداوت و دشمنی ، بغض و نفرت اور باھمی فساد و بگاڑ کا باعث بنتی ہیں ـ

    اسی طرح ان ھدایات نبویہ میں یہ چیز بھی پائ جاتی ہے کہ روزے کا فریضہ ایک بڑا موقع ہے کہ آدمی اس میں مجاھدہء نفس کی عادت ڈال لے اپنے نفس کا تزکیہ کر لے اور ان روزوں کے شب و روز میں روزے دار یہ اچھی عادت ڈال لے اور اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی نرم انداز سے ان عادات کو اپنانے کی طرف متوجہ کرے ، نہ کہ ان پر تشدد کر کے انھیں اس طرف مائل کرے ـ اور اس ماہ میں اگر وہ ان امور کی عادت ڈال لیں گے تو آئندہ وقت کیلۓ یہ انکا زاد راہ اور اندوختہ سفر بن جاۓ گی اور ساتھ ہی ساتھ یہ اس بات کی واضح نشانی بن جاۓ گی کہ روزہ اپنی اصل غرض و غایت اور فلسفہ یعنی تقوی تک پہونچا دیتا ہے ـ

    جس کا تذکرہ کرتے ھوۓ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
    اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کۓ گۓ ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کۓ گۓ تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ ، یہ گنتی کے چند دن ہیں ، تم میں سے جو شخص مریض یا مسافر ھو وہ دوسرے دنوں میں ( چھوٹے ھوۓ روزوں کی ) گنتی پوری کر لے اور جو لوگ طاقت رکھتے ہیں وہ مسکین کو کھانا کھلا کر فدیہ دیں اور اگر کوئ شخص نیکی کرنے میں سبقت کرے تو یہی اس کے لۓ بہتر ہے لیکن تمھارے حق میں بہتر کام روزہ رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ھو تو ـ

    اے اللہ کے بندو ! اس ماہ مبارک کے روزے جیساکہ اللہ نے ان کا حکم فرمایا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بیان فرمایا ہے یہ دراصل ایک انتہائ مؤثر پیغام ہے جو دلوں اور عقلوں پر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے لھذا امت پر واجت ہے کہ وہ اس پیغام کو دنیا کے سامنے اللہ تعالی کی مکمل اطاعت کی واضح دلیل بنا کر پیش کریں اور اللہ کے احکام کی اطاعت اور اسکے نواہی سے اجتناب کی برھان بنا‏‏ئیں اور اس پیغام کو اپنی تمام محبوب ترین چیزوں پر اولیت و ترجیح دیں ـ اسی کے ذریعے اپنے نفوس کا تزکیہ کریں اور درجات کمال میں ترقی پائيں اور تعلقات و روابط کی استواری سے اخوت اسلامی کے رشتے کو مزید مضبوط کریں اور امت اسلامیہ کے افراد میں باھم رحم و کرم اور الفت و محبت کی فضاء قا‏‏ئم کریں ـ

    اے اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس پیغام کو زندہ و مؤثر انداز سے دنیا تک پہونچانے کیلۓ اس کے تحفظ و سلامتی کیلۓ ہر قسم کی چارہ جوئ کرو ـ
    اسی کے ذریعے اپنے بندوں میں سے اللہ تعالی جسے چاہتا ہے ھدایت سے نوازتا ہے اور وہ بڑا حکمت و خبر رکھنے والا ہے ـ
    سبحان ربک رب العزة عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین
    خطبہ الشیخ / اسامہ الخیاط
    امام المسجد الحرام

  8. #8
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default وہ حالات جن میں روزہ نہ رکھنا مباح ہے

    السلام علیکم

    درج ذیل سطور میں ان حالات کا ذکر ہے جن میں ایک مسلمان کیلیۓ روزہ نہ رکھنا باعث گناہ نہیں
    "بیماری اورمرض"

    مرض یا بیماری اسے کہتے ہیں
    جوبندہ کو صحت سے نکال کر
    کسی علت میں ڈال دے ۔
    ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی
    کہتے ہيں کہ
    اہل علم کا اجماع ہے کہ مریض
    کے لیے روزہ چھوڑنا جائزو
    مباح ہے اس کی دلیل اللہ
    تعالی کا فرمان ہے :
    "اورجوکوئي مریض ہویا مسافر
    وہ دوسرے ایام میں گنتی مکمل
    کرے"
    سلمہ بن اکوع رضي اللہ تعالی
    عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ
    آیت نازل ہوئي :
    " اورجواس کی طاقت رکھتےہیں
    وہ ایک مسکین کے کھانے کا
    فدیہ دیں" تو روزہ چھوڑنا
    چاہتا وہ روزہ نہ رکھتا بلکہ
    اس کے بدلے میں فدیہ دے دیتا
    تھا ، حتی کہ اس کے بعد والی
    آیت نازل ہوئي یعنی اللہ
    تعالی کا فرمان :
    "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس
    میں قرآن مجید نازل کیا گيا
    جولوگوں کو ہدایت کرنے والا
    ہے اورجس میں ہدایت اورحق
    وباطل کی تمیز کی نشانیاں
    ہیں ، تم میں سے جو شخص اس
    مہینہ کوپائے اسے روزہ رکھنا
    چاہیۓ ، ہاں جومریض ہویا
    مسافر اسے دوسرے دنوں میں یہ
    گنتی پوری کرنی چاہیۓ "
    تواس نے پہلی آيت کو منسوخ
    کردیا ، لھذا وہ مریض جسے
    روزہ رکھنے سے مرض کی زيادتی
    کا خدشہ ہو یا پھر بیماری سے
    شفایابی میں تاخیر ہونے کا
    ڈر ہو یا کسی عضو کے خراب
    ہونے کا خطرہ ہو تو اس کے لیے
    روزہ چھوڑنا جائزبلکہ سنت
    ہے ۔
    اوراس کا روزہ رکھنا مکروہ
    ہوگا کیونکہ ہوسکتا ہے اسے
    ہلاک کردے اس لیے اس سے بچنا
    ضروری ہے ، پھر یہ بھی ہے کہ
    مرض کی شدت اس کے لیے روزہ
    چھوڑنے کوجائز کردیتی ہے ،
    لیکن اگر صحیح شخص بھی
    تھکاوٹ اورشدت کا خطرہ محسوس
    کرے تو اس کے لیے روزہ چھوڑنا
    جائز نہيں ، کہ جب اسے صرف
    تھکاوٹ کی شدت حاصل ہوتو
    روزہ چھوڑنا جائز نہیں ۔

    * سفر *

    جس سفرمیں روزہ ترک کرنے کی
    رخصت ہے اس میں مندرجہ ذيل
    شروط پائي جانی چاہیيں

    ا - طویل سفر جس میں نماز قصر
    کی جاسکتی ہو ۔
    ۲ مسافراپنے سفر میں اقامت
    کی نیت نہ کرے ۔
    ۳ - جمہورعلماء کہتے ہيں کہ
    اس کا سفر کسی معصیت اورگناہ
    کے لیے نہ ہو ، بلکہ کسی صحیح
    غرض کے لیے ہو ۔
    اس لیے کہ سفر میں روزہ نہ
    رکھنا رخصت اورتخفیف ہے لھذا
    گناہ کے لیے سفر کرنے والا اس
    کا مستحق نہيں کیونکہ اس کا
    سفر گناہ پر مبنی ہے ، جیسا
    کہ کوئي شخص ڈاکہ ڈالنے کے
    لیے سفر کرے ۔
    سفر کی رخصت کا انقطاع :
    تووجوہات کی بنا پر بالاتفاق
    رخصت ختم ہوجاتی ہے :
    اول : مسافر جب اپنے شہر میں
    واپس آجائے ، اورشہرمیں داخل
    ہو جائے جہاں اس کی اقامت
    ہے ۔
    دوم : جب مسافر مطلقا اقامت
    کی نیت کرلے ، یا ایک جگہ پر
    مدت اقامت کی نیت کرلے
    جورہنے کے قابل ہو ، تواس سے
    وہ مقیم ہوجائے گا جس کی وجہ
    سے وہ نماز پوری ادا کرے گا
    اورروزہ بھی رکھے اس کے لیے
    روزہ چھوڑنا جائز نہيں
    کیونکہ سفر کا حکم ختم ہوچکا
    ہے ۔

    * حمل اوردودھ پلانا *

    فقھاء کرام اس پر متفق ہیں کہ
    حاملہ عورت اوردودھ پلانے
    والی دونوں ہی رمضان میں
    روزہ چھوڑ سکتی ہيں لیکن ایک
    شرط کے ساتھ کہ اگر انہیں
    اپنے آپ یا بچے کے بیمار ہونے
    کا خدشہ ہو یا پھر بیماری کے
    زيادہ ہونے یا ضررپہنچنے
    اورہلاک ہونے کا خطرہ ہو ۔
    ان دونوں کے روزہ چھوڑنے کی
    دلیل یہ ہے کہ :
    اورجوکوئي مریض ہو یا
    مسافر اسے دوسرے دنوں میں
    گنتی پوری کرنی ہوگي
    اس مرض سے مراد مرض کی صورت
    یا عین مرض مراد نہيں ، اس
    لیے جس مريض کو روزہ ضرر نہيں
    دیتا اس کے لیے روزہ چھوڑنا
    جائز نہيں ، لھذا یہاں پر مرض
    کا ذکر اس سے کنایہ تھا کہ
    جسے روزہ ضرر دے اوریہ مرض کے
    معنی میں ہی ہے جویہاں پر
    پایا گيا ہے اس لیے وہ دونوں
    اس رخصت میں شامل ہوں گی
    اورروزہ نہيں رکھیں گی ۔
    ان دونوں کے لیے اس رخصت پر
    عمل کرتےہوئے روزہ چھوڑنے کی
    دلیل :
    انس بن مالک کعنبی رضی اللہ
    تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ
    وسلم نے فرمایا :
    ( یقینا اللہ تعالی نے مسافر
    سے روزہ اورآدھی نماز کم
    کردی ہے اورحاملہ دودھ پلانے
    والی عورت سے روزہ )

    * بڑھاپا *

    بڑھاپے میں مندرجہ ذيل شامل
    ہیں : شيخ فانی یعنی جس کی
    قوت بالکل ختم ہوچکی ہو یا
    پھر وہ فنا ہونے کے قریب ہو ،
    اورروزانہ ہی کمزوری کی طرف
    جارہا ہو ، اور وہ مریض جس کے
    شفایاب ہونے کی امید ہی نہ
    ہو ، اوراس کی صحت سے ناامیدی
    پیدا ہوچکی ہو ۔
    اوراس میں بوڑھی عورت بھی
    شامل ہے ۔ مندرجہ بالا کے
    روزہ چھوڑنے کی دلیل اللہ
    تعالی کا فرمان ہے :
    اورجواس کی طاقت نہيں
    رکھتے وہ بطور فدیہ ایک
    مسکین کو کھانا دیں
    ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہ
    کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ
    نہيں بلکہ یہ بوڑھے مرد
    اوربوڑھی عورت کے لیے ہے
    جوروزہ رکھنے کی طاقت نہ
    رکھیں تواس کے بدلہ میں ہر دن
    ایک مسکین کو کھانا
    کھلائيں ۔


    *پیاس اوربھوک کی شدت *

    جسے بہت زيادہ بھوک یا پیاس
    نڈھال کردے وہ بھی روزہ
    افطار کرلے گا اوراپنی ضرورت
    کے مطابق کھالے لیکن اسے
    باقی سارا دن کچھ نہيں کھانا
    پینا چاہیۓ ، اوربعد میں اس
    دن کی قضاء ادا کرے گا ۔
    علماء کرام نے بھوک اورپیاس
    کے ساتھ دشمن سے متوقع یا
    یقینی مقابلہ میں کمزوری کے
    خوف کو بھی ملحق کیا ہے لھذا
    غازی کا جب ظن غالب ہو یا پھر
    یقین ہو کہ دشمن سے لڑائي
    اورمقابلہ ہوگا اوروہ روزہ
    رکھنے کی وجہ سے کمزوری کا
    خوف محسوس کرے اوروہ مسافر
    بھی نہيں تواس کے لیے جنگ سے
    قبل روزہ چھوڑنا جائز ہے ۔

    * اکرہ اورجبر *

    اکراہ کسی شخص کو دھمکی یا
    اسلحہ کے زور سے کسی فعل کے
    کرنے یا پھر کسی ناپسندید
    فعل کو ترک کرنے پر ابھارا
    جائے ۔ وعیرہ

    اللہ تعالی ہمیں رمضان کے روزے رکھنے استطاعت عطا فرمائیں
    آمین ثم آمیں

  9. #9
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default روزے کی اہمیت و فضیلت

    مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 458 مکررات 0
    روزے کی اہمیت و فضیلت
    اسلام کے جو پانچ بنیادی ارکان ہیں ان میں روزے کا تیسرا درجہ ہے گویا روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے اس اہم رکن کی جو تاکید اور بیش از بیش اہمیت ہے اسے ماہرین شریعت ہی بخوبی جان سکتے ہیں روزہ کا انکار کرنے والا کافر اور اس کا تارک فاسق اور اشد گنہگار ہوتا ہے چنانچہ در مختار کے باب مایفسد الصوم میں یہ مسئلہ اور حکم نقل کیا گیا ہے کہ ولہ اکل عمدا اشہرۃ بلا عذر یقتل ، جو شخص رمضان میں بلا عذ علی الاعلان کھاتا پیتا نظر آئے اسے قتل کر دیا جائے۔
    روزہ کی فضیلت کے بارے صرف اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ بعض علماء نے اس اہم ترین اور باعظمت رکن کے بے انتہا فضائل دیکھ کر اس کو نماز جیسی عطیم الشان عبادت پر ترجیح اور فضیلت دی ہے اگرچہ یہ بعض ہی علماء کا قول ہے جب کہ اکثر علماء کا مسلک یہی ہے کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے اور اسے روزہ پر بھی ترجیح و فضیلت حاصل ہے مگر بتانا تو صرف یہ ہے کہ جب اس بات میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ نماز افضل ہے یا روزہ ؟ تو اب ظاہر ہے کہ نماز کے علاوہ اور کوئی بھی دوسرا عمل اور دوسرا رکن روزے کی ہمسری نہیں کر سکتا۔

  10. #10
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default جو شخص شب قدر کی سعادت سے محروم رہا

    مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 468 مکررات 0
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے لئے یہ مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات (یعنی شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لہٰذا جو شخص اس رات کی سعادت سے محروم رہا کہ اسے پوری رات یا کم سے کم رات کے کچھ حصوں میں بھی جاگنے اور عبادت خداوندی میں مشغول ہونے کی توفیق نہ ہوئی تو وہ ہر سعادت و بھلائی سے محروم رہا۔ اور یاد رکھو شب قدر کی سعادت سے حرمان نصیب ہی محروم ہوتا ہے۔ (ابن ماجہ)

    تشریح
    ارشاد گرامی تمہارے لئے یہ مہینہ آیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کا مقدس و بابرکت مہینہ دین و دنیا کی سعادتیں اور بھلائیاں اپنے دامن میں لئے آ گیا لہٰذا اس کے آنے کو غنیمت جانو دن میں روزے رکھ کر اور رات میں عبادت خداوندی یعنی تراویح و تلاوت قرآن اور تہجد وغیرہ میں مشغول ہو کر اس مہینے کی برکتیں ور سعادتیں حاصل کرو، حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ لیلۃ القدر کی سعادتوں سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو سعادت و بھلائی کے معاملے میں بد نصیب ہوتا ہے اور جسے عبادت کا ذوق نہیں ہوتا

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •